Tuesday, 21 May 2013

PTI should have eyes on future by Nasrat Javid

nusrat.javeed@gmail.com
دُنیا بھر میں انتخابات ہیجانی کیفیات کو جنم دیتے ہیں۔ اسی لیے انتخابات کے نتائج آ جانے کے فوری بعد سیانے سیاستدان اپنے تمام تر تحفظات کے باوجود انھیں تسلیم کر لیا کرتے ہیں۔ حقیقی یا مبینہ دھاندلیوں کے بارے میں بہت شور مچایا جائے تو اسے ایک تحریک کی صورت دے کر نئے انتخابات مانگنا پڑتے ہیں۔ مگر پاکستان جیسے ملکوں میں دھاندلی کے خلاف تحریکیں نئے انتخابات نہیں دیتیں۔ 1977 والا مارشل لاء آجاتا ہے۔ ہمارے کچھ سیاپا فروش اینکرز 11 مئی کے انتخابات کے بارے میں جتنا مرضی واویلا مچا لیں۔ اس وقت ہمارے عوام کی اکثریت ویسے بھی کوئی تحریک چلانے کے لیے تیار نہیں ہو گی۔ وہ ذہنی طور پر نواز شریف کو پاکستان کا تیسری مرتبہ وزیر اعظم دیکھنے کے لیے بالکل تیار تھے۔
ان کی شدید خواہش ہو گی کہ میاں صاحب اپنے عہدے کا حلف اُٹھانے کے بعد فوری طور پر لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نبرد آزما ہونے کے لیے دن رات کام کریں۔ گرمی کی اس شدت میں وہ تھوڑی بہت ریلیف کو بھی کافی جانیں گے۔ عمران خان کی تحریک انصاف کو اتنی شاندار کامیابی دلوانے کے بعد خیبر پختونخوا کے لوگ اس جماعت کی بنائی صوبائی حکومت سے بہتر کارکردگی کی اُمید لگائے بیٹھے ہیں۔ تحریک انصاف نے اپنی تمام تر توانائیاں اس جانب مبذول نہ کیں تو انھیں دور رس تناظر میں بہت نقصانات اُٹھانے پڑیں گے۔ کراچی کے مخصوص حالات کی روشنی میں تحریک انصاف کے کارکنوں کا جوش و غصہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ایسے میں زہرہ بی بی کا پراسرار قتل نظر انداز کرنا بھی بہت مشکل ہے اور اپنے تمام تر تجربے کے باوجود الطاف حسین جیسے کہنہ مشق سیاستدان بھی اپنے مسلسل بیانات اور رویے کے ذریعے کوئی زیادہ مددگار ثابت نہیں ہو رہے۔
حقیقی سیاسی لیڈر مگر وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے کارکنوں اور مداحین کے جذبات سے بلند تر ہو کر سوچ سکے۔ جنرل ضیاء الحق نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے والد کو پھانسی لگایا تھا۔ ان کی جماعت کے سیکڑوں کارکنوں کو جیلوں میں اذیتیں پہنچائیں گئیں۔ بر سر عام کوڑے مارے گئے۔ اس سب کے باوجود ان کی بڑی خواہش تھی کہ ان کی جماعت 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں کسی نہ کسی صورت حصہ ضرور لے۔ ایم آر ڈی میں بیٹھے رہنمائوں نے مگر ان کی بات نہ مانی۔ مجھے بہت سارے معتبر راویوں نے بتایا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کو جب ایم آر ڈی کے فیصلے کی خبر ملی تو وہ بہت خوش ہوئے۔ ان انتخابات میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے محترمہ کی جماعت 1988 کے انتخابات میں قطعی اکثریت نہ حاصل کر پائی۔ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب سیاسی طور پر اس کے ہاتھ سے نکل گیا اور ابھی تک پیپلز پارٹی اس صوبے میں اپنے حلقہ اثر کے حوالے سے بہت کمزور ہے۔
تحریک انصاف کو اس نقصان سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اس کے کارکنوں نے احتجاجی موڈ کو برقرار رکھا تو کراچی میں مکمل انتشار اور خانہ جنگی کے مناظر نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔ ایسے مناظر جمہوری لوگوں کی ہرگزمدد نہیں کرتے۔ ہمیشہ اس ریاستی ادارے کو جو سب سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے اس امر پر مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ امن و امان بحال کرنے کے نام پر اقتدار پر مکمل قبضہ کر لے۔ ایک پاکستانی کی حیثیت میں ہمیں اس بات پر فخر کرنا چاہیے کہ دہشت گردی کی تمام تر کارروائیوں اور دھمکیوں کے باوجود ہمارے عوام کی اکثریت نے 11 مئی کے انتخابات میں بھر پور حصہ لیا۔ ان ہی انتخابات کی بدولت تحریک انصاف نے پڑھے لکھے اور خوشحال گھرانوں کی خواتین اور نوجوانوں کو سیاسی عمل میں جوشیلی شرکت کے لیے انسپائر کیا۔ برسوں سے تقریباََ جامد نظر آتے سیاسی منظر نامے میں ایسے لوگوں کی جذباتی شرکت لمحاتی کیفیات کی اسیر ہو کر رہ گئی تو پاکستان آگے نہیں بڑھ پائے گا۔
لوگوں کو شاید یاد نہ رہا ہو مگر میں آج بھی بڑے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ 1977 کے انتخاباتی عمل کے دوران اصغر خان اور ان کی تحریکِ استقلال نے اتنی بڑی تعداد میں نہ سہی مگر ہمارے ملک کے پڑھے لکھے خوش حال لوگوں کی نمایاں تعداد کو سیاسی عمل کی طرف راغب کیا تھا۔ دھاندلی کے خلاف چلائی جانے والی تحریک میں شدت آنے کے ساتھ ساتھ مگر سیاسی قوت ان مذہبی جماعتوں نے حاصل کر لی جو نظام مصطفیٰ کے نفاذ کے پرچارک بن بیٹھے تھے۔ جنرل ضیاء ان ہی قوتوں کی وجہ سے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد 11 سال تک اس ملک کے آمرانہ حکمران رہے اور پڑھا لکھا متوسط طبقہ مایوس ہو کر گھر بیٹھ گیا یا اپنے اپنے دھندوں میں مصروف ہو گیا۔ بارہا اس کالم میں کراچی کا تذکرہ ہوتا رہا ہے۔
میں اصرار کرتا رہا کہ وہاں کے پڑھے لکھے لوگوں کی اکثریت اب نسلی یا لسانی سیاست سے بالاتر ہو کر کسی ایسی جماعت کی متلاشی ہے جو اس شہر کی معاشی حالت کو بہتر اور جمہوری حکمرانی کے ذریعے بحال کرنے کے بعد ترقی کی منزلوں پر ڈال سکے۔ نواز شریف اور ان کی جماعت نے اس پہلو پر زیادہ توجہ نہیں دی اور تحریک انصاف نے عمران خان کی کرشماتی شخصیت کے تحت اس خلاء کو پُر کر دیا۔ 2013کے انتخابی عمل کے دوران پی ٹی آئی نے جو قوت پکڑی ہے اسے بچا کر اس شہر کے دیگر حلقوں اور طبقات تک پھیلانا ہو گا۔ مگر یہ صرف اسی صورت ممکن ہے کہ تحریک انصاف ہیجانی کیفیات سے نکل کر موثر تنظیم سازی میں مصروف ہو جائے۔ اس نے خود کو منظم کر لیا تو آیندہ کے عام انتخابات کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگلے چند ماہ بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات اسے کراچی میں ایک صاف ستھری، بہتر اور معاشی ترقی کی جانب بڑھتی ایک طاقتور مقامی حکومت بنانے میں بہت مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment