Friday, 25 April 2014

Don,t know about the attackers. Hamid Mir claims.

Hamid Mir of Geo denied that he know some thing about the planner behind the attack on him.
 قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے سینئر صحافی حامد میر نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرادیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ حملہ آور کو نہیں جانتے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق حامد میر نے جہاز میں سوار ہونے سے لیکر ہسپتال پہنچنے تک کی روئیداد سنا دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جب فائرنگ ہوئی تو میں گاڑی میںلیٹ گیا اور ڈرائیور کوہسپتال چلنے کیلئے کہا کیونکہ مجھے پیٹ اور دائیں کندھے میں تکلیف محسوس ہو رہی تھی جبکہ اسی دوران میں نے اپنے ساتھیوں کو ٹیلی فون پر حملے کے بارے میں پیغام بھیجا۔جیو نیوز کے مطابق پولیس کی تفتیشی ٹیم نے حامد میر کا تفصیلی بیان ریکارڈ کرلیا ہے۔بیان میں حامد میر کی کراچی ایئرپورٹ آمد، حملہ اور اسپتال پہنچائے جانے تک تفصیل شامل ہے۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن اور دیگر افران پر مشتمل پولیس کی تفتیش ٹیم نے حامد میر کا تفصیلی بیان ریکارڈ کرلیا ہے،حامد میر نے پولیس کی تفتیش ٹیم کو لگ بھگ ایک گھنٹے تک طویل بیان رکارڈ کرایا،بیان میں حامد میر کی کراچی ایئرپورٹ پر آمد، حملہ اور ہسپتال پہنچائے جانے تک تفصیل شامل ہے،حامد میر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گاڑی میں ایئر پورٹ سے نکل کر جناح برج کے قریب پہنچا تو اچانک گولیوں کی آواز آئی، گاڑی کا شیشہ ٹوٹا تو پیٹ میں تکلیف محسوس ہوئی، حامد میر نے بیان میں کہا کہ گاڑی کے ڈرائیور نے مجھے شدید زخمی حالت میں آغا خانہ ہسپتال پہنچا دیا، صرف اتنا یادہے کہ مجھے سٹریچرپر لٹایا گیا،اس کے بعد کچھ یاد نہیں،حامد میر کا پولیس کی تفتیش ٹیم کو دیا جانے والا بیان دوصفحات پر مشتمل ہے،پولیس کی تفتیش ٹیم نے دفعہ 161اور162کے تحت حامد میرکا بیان ریکارڈ کیا۔یاد رہے کہ

حامد میر ہفتے کی شام نامعلوم افراد کی جانب سے کی گئی فائرنگ کے بعد زخمی ہوگئے تھےاور واقعہ کے ایک گھنٹے کے اندر ہی جیوٹی وی نے افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف گھنونے پروپیگنڈہ کا آغاز کردیا تھا۔ جیوٹی وی نے عامر میر کے حوالے سے پاک فوج کے خلاف الزامات لگائے تھےلیکن اب حامد میر کی جانب سے دیا گیا بیان مختلف ہے

No comments:

Post a Comment