Wednesday, 16 April 2014

No More Negotiations, Taliban to fight against Government.

Tehrik Taliban Pakistan ( TTP) denied to extent ceasefire and announced to fight against government of Pakistan while Prime Minister of Pakistan Mr. Mian Muhammad Nawaz Sharif has called meeting of National Security Council in which All chief of Staff of Pakistani forces along with Defense Minister Khawaja Asif will participate.
Taliban have denied to extend the ceasefire as Shahid Ullah Shahid claimed that government has failed to fulfill the pledges they were assured for peace talks.

طالبان نے حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے کیلئے کی جانے جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ ہے جبکہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں مسلح افواج کے حکام اور وزیردفاع و خارجہ بھی شرکت کریں گے ۔ اس اجلاس میں ملکی سلامتی کو درپیش مسائل ، طالبان سے مذاکرات ، ان میں پیش رفت ، حکمتِ عملی اور دوسرے اہم امور پر غور کیا جائے گا جبکہ سیکیورٹی ادارے طالبان سمیت ملک کو مختلف حوالوں سےدرپیش خطرات کے بارے میں بریفنگ دیں گے اور حکمتِ عملی پر بات کریں گے ۔ طالبان کا کہنا ہے کہ چالیس روزہ جنگ بندی کے دوران ان کے خیال کے مطابق کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوسکی پھر بھی مذاکرات کا عمل جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن جنگ بندی میں مزید توسیع نہیں ہوگی۔ طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کا کہنا ہے کہ جنگ بندی خلوص نیت کے ساتھ کی گئی تھی لیکن حکومت نے وعدے پورے نہیں کئے ،میرانشاہ میں جنگ بندی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ، ہمارے پچاس سے ساٹھ ساتھی شہید کردیےگئے، دو سوے زائد  گرفتار کیے گئے ۔ دوسری جانب تحریکِ طالبان مہمند ایجنسی نے ایک بار پھر مذاکرات کو ڈھونگ قراردیدیا ہے اور کہا ہے کہ مذاکرات سے شریعت کے نفاذ کا مقصد پورا نہیں ہوگا ۔ مبصرین کے مطابق اب طالبان اور حکومتی کمیٹی کے مذاکرات کا عمل بند ہوتا نظر آنا شروع ہوگیا جبکہ یہ صورتحال پہلے سے دکھائی دے رہی تھی لیکن حکومتی شخصیات مذاکرات کا عمل جاری رکھنے کوترجیح دے رہی تھیں حالانکہ مذاکراتی عمل کے دوران بھی دہشت گردی کے واقعات جاری رہے ۔اس کے برعکس  طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کا کہنا ہے کہ سیز فائر کی مدت گزرے6 دن ہوگئے ہیں لیکن ان کی طرف سے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے کا کوئی عمل نہیں ہوا ، ہم مذاکراتی عمل سنجیدگی سے جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔

No comments:

Post a Comment