Monday, 7 April 2014

Protest against Drone Attacks in Pakistan.

A group of Human rights activists and artists have planned a strange type of protest against drone in Peshawar Pakistan. 
A large size of Poster has been placed in open field which is easily visible even from satellite and drone. Basic Human Rights Foundation organization has put this poster. The name of the girl in the poster is not mentioned yet it is believed that she lost her parents and two siblings in a drone attack in South Waziristan last year. 
The organization aims to sensitize the drone operators that the killed because of drone attacks are not insects and are equally human beings as the operators are. 
The group of artists say that the local people responded well to this campaign and they help in this mission to end drone attacks. They hope that this move will sensitize the drone operator and policy makers to rethink this killing strategy. 
Pashto Times report. 

آرٹسٹوں کے ایک گروپ نے ڈرون حملوں کے خلاف آگاہی بڑھانے کے لئے خیبر پختونخواہ میں ایک کھیت میں ایک پوسٹر لگایا ہے جس کا سائز اس قدر بڑا ہے کہ اسے ڈرون طیاروں یا سیٹلائٹ سے با آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ ’بنیادی انسانی حقوق کے لئے فاؤنڈیشن‘ کے نام سے جانے والی اس تنظیم کی جانب سے پوسٹر پر موجود بچی کا نام نہیں بتایا گیا لیکن تنظیم کے مطابق اس کے والدین اور دو بہن بھائی ڈرون حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس پوسٹر کا مقصد ڈرون آپریٹروں کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ کیڑے مکوڑوں کو نہیں بلکہ انسانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ آرٹسٹوں کے اس گروپ کا کہنا ہے کہ انہیں مقامی لوگوں کی جانب سے بے پناہ پزیرائی ملی ہے اور اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مقامی افراد کے جزبے اور محنت کا بہت ہاتھ ہے۔ انہیں امید ہے کہ یہ ڈرون آپریٹروں کو سوچنے پر مجبور کر دے گا اور پالیسی سازو کے لئے بھی اس معاملے پر از سرِ نو غور کرنے میں مدد گار چابت ہو گا۔

No comments:

Post a Comment