Sunday, 20 April 2014

What will happen if ISI sue the Geo TV Net work.

Geo TV network alleged ISI chief for shooting its senior Anchor Hamid Mir which is strongly denied by ISI and Pakistan Army.
Senior Urdu Journalist Qudratullah Choudry in Daily Pakistan analysed what could be happened if ISI wana case against Geo TV.
Here is the complete analysis  of Geo and ISI recent war of allegations, in Urdu.
تجزیہ: قدرت اللہ چوہدری
کراچی میں حامد میر پر حملے کے فوری بعد اُن کے بھائی عامر میر کا یہ الزام سامنے آگیا تھا کہ انہوں نے اپنی فیملی اور جیو چینل کی انتظامیہ کو کافی پہلے آگاہ کردیا تھا کہ اگر اُن پر کوئی حملہ کیا گیا تو اس کی ذمے داری آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام پر ہوگی، اس الزام کے سامنے آنے پر فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ نے اِس الزام کی سختی سے تردید کردی تھی، اتوار کے روز سارا دن ملک بھر میں اس حملے کی مذمت کا سلسلہ جاری رہا، جلوس نکالے گئے ،صحافیوں کی تنظیموں نے اس حملے کی مذمت کی اور ملزموں کا سراغ لگا کر اُنہیں قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ماضی میں صحافیوں سمیت اس طرح کے جتنے بھی واقعات پیش آئے، اُن میں بہت کم ایسے تھے جن میں ملزموں کا سراغ مل سکا۔ ایسا ہوتا رہا کہ چند دنوں تک مذمت کے بیانات میڈیا اور اخبارات پر چھائے رہے، مذمت کا سلسلہ بھی جاری رہا، لیکن چند روز بعد کوئی دوسرا واقعہ ہوگیا تو پہلے والا واقعہ پس منظر میں چلا گیا اور نئے واقعے کی مذمت شروع ہوگئی ۔
حامد میر کے معاملے پر بھی اوپر سے نیچے تک مذمت کا سلسلہ جاری ہے، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ،گورنروں،وزراءسمیت ہر کسی نے واقعے کی مذمت کی ہے۔ اب وفاقی حکومت نے ایک قدم آگے بڑھ کر فوری طور پر سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا ہے جس میں ایک عدالتی کمیشن بنانے کی درخواست کی گئی ہے۔یہ کمیشن تین رکنی ہوگا اور تین ہفتوں کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرے گا۔ اس اقدام سے واضح ہے کہ حکومت کو بھی اس واقعے پر تشویش ہے اور وہ بھی تحقیقات کرانا چاہتی ہے کہ اس واردات کے محرکات کیا ہوسکتے ہیں اور کون کون لوگ اس کے پیچھے ہیں، ویسے تو اس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے، اب دیکھناہوگا کہ یہ کہاں تک درست ہے اور کہیں کسی نے شرارت تو نہیں کردی، لیکن اگر ذمہ داری قبول کرنے کی بات درست ہوتو اس کا مطلب یہی لیا جائے گا کہ عامر میر کے خدشات درست نہیں ہیں، بہرحال اس کے لئے تحقیقات کا انتظار کرنا ہوگا۔
 آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ نے حامد میر پر حملے کی تحقیقات کے لئے حکومتی کمیشن کے قیام کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جائے گی، دفاعی اداروں کے خلاف بات کرنا ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہم قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں، قانون کے مطابق چارہ جوئی کی جائے گی ،ڈی جی آئی ایس آئی پر الزامات جھوٹ پر مبنی اور گمراہ کن ہیں، یہ حملہ شر پسندوں کی کارروائی ہے۔ دفاعی ریاستی اداروں پر الزامات کا جواز نہیں بنتا، بے بنیاد الزامات سے جگ ہنسائی ہوئی ہے، انہوں نے کہا مسلح افواج ملک میں آزادی¿ صحافت اور جمہوریت کے استحکام کے لئے مثبت سوچ رکھتی ہیں۔

میجر جنرل عاصم باجوہ نے قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھنے کی بات کی ہے،معلوم نہیں مستقبل میں ایسا کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے یا نہیں، تاہم اگر قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تو پھر یہ پاکستان کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 123اور124اے کے تحت ہوسکتی ہے۔ دفعہ 123میں مملکت کے اداروں کے خلاف جنگ کرنے کو جرم قرار دیا گیا ہے، دفعہ124اے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص الفاظ کے ذریعے سے چاہے وہ لکھے ہوئے ہوں یا زبانی بولے گئے ہوں یا پھر اشاروںکنایوں میں ادا کئے گئے ہوں ، صوبائی یا وفاقی حکومتوں یا اس کے اداروں کے خلاف نفرت پھیلانا یا نفرت پھیلانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ، اس جرم کے تحت سزا عمر قید بھی ہوسکتی ہے اور مزید جرمانہ بھی کیا جاسکتا ہے۔اگرقانونی کارروائی کا فیصلہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے ملزم یا ملزموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی ، یہ ایف آئی آر کوئی بھی درج کراسکتا ہے۔ جس کے اندراج کے بعد تحقیقات ہوگی اور چالان کے بعد معاملہ مجاز عدالت کے سپرد کردیا جائے گا۔ ایک اور پہلو بھی اہم ہے کہ کیا قانونی چارہ جوئی عدالتی تحقیقات سامنے آنے کے بعد ہوگی یا پہلے؟ خیال یہ ہے کہ عدالتی تحقیقات کا انتظار کیا جائے گا، اگر ان تحقیقات میں یہ بات یا یہ ثبوت کو نہیں پہنچتی کہ عامر میرنے جو الزامات لگائے ان میں کتنی صداقت ہے تو پھر قانونی چارہ جوئی آسان ہوجائے گی اور عدالتی فیصلے سے بھی اِسے سپورٹ مل جائے گی، تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ الزام بہت ہی عجلت میں لگا دیا گیا ہے اور معروضی حالات کو بھی پیشِ نظرنہیں رکھا گیا، ابھی تک پولیس میں حملے کے بارے میں کوئی رپورٹ بھی درج نہیں کرائی گئی۔
Thanks for Visiting Pashto Times.




No comments:

Post a Comment