Thursday, 8 May 2014

Read This before going to Non Muslim Countries.

Here is the detailed report in Urdu.
سعودی عرب کے ایک مذہبی پیشوا نے  غیرمسلم ممالک میں مسلمانوں کے سفر کو حرام قراردینے کا فتویٰ جاری کردیاہے اور کہاہے کہ کافروں کے ملک میں مرنیوالے مسلمان جہنمی ہیں ۔یہ بیان جیل میں قید القائدہ کے اراکین کی اصلاح پر مبنی سعودی پروگرام میں شامل شیخ عبداللہ السالم نے لندن سے شائع ہونے والے اخبار میں دیا جسے  ایک خاتون کالم نگار نے  ”انتہا پسند بیکٹیریا“ قرار دیا ہے۔سعودی عالم نے اپنے فتوے میں کہاکہ  انہیں خوف ہے کہ جو لوگ کافروں کی سرزمین پر انتقال کر جاتے ہیں وہ جہنم میں جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شدید ضرورت اور شرائط کے سوا بیرون ملک سفر شریعت میں حرام ہے۔شیخ السالم نے کہا کہ ان شرائط میں سب سے پہلی تو یہ ہے کہ بیرون ملک جانے والے شخص کو مضبوط مومن ہونا چاہیئے اور یہ رعایت ذاتی خواہشات کے لیے نہیں بلکہ مذہبی کاموں کے لیے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جس شخص کو اندیشہ ہو کہ وہ حرام کاموں میں ملوث ہوسکتا ہے، تو اس کو شدید ضرورت کے علاوہ بیرون ملک سفر نہیں کرنا چاہیئے۔شیخ نے اخبار کو بتایا کہ خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ مسلمان کافروں کے ساتھ زندگی گزاریں، دیگر مسلم ممالک کا سفر اتنا قابلِ اعتراض نہیں ہے۔تعلیمی اور کاروباری مقاصد کے لیے بھی غیر مسلم ممالک میں جانے سے گریز کرنا چاہییے۔ان کے الفاظ تھے کہ انتہائی ضرورت کے سوا کاروبار اور تعلیم کی غرض سے کافروں کی سرزمین کا سفر حرام ہے۔اسی اخبار کو مکہ کی مذہبی پولیس کے سابق سربراہ شیخ احمد بن قاسم الغامدی نے بتایا کہ سفر میں سب کے لیے ہی فوائد اور مواقع موجود ہیں، ان میں امام اور مذہبی پیشوا بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سفر سے ذہنی وسعت پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے قرآن کی آیت کا حوالہ دیا جس میں ایسے لوگوں کی تعریف کی گئی ہے، جو سفر کرتے ہیں اور زمین کو دریافت کرتے ہیں۔سعودی عرب کی ایک معروف کالم نگار بدریہ البشر نے شیخ السالم کے بیان کو انتہا پسند بیکٹیریا قرار دیا۔اپنے اداریے میں بدریہ البشر نے لکھا کہ شیخ السالم کا یہ تبصرہ شاہ عبداللہ کے سکالرشپ پروگرام کا ایک منظم حملہ ہے، جس کے ذریعے ہزاروں طالبعلموں کو ہر سال اپنی اعلٰی تعلیم مکمل کرنے کے لیے مغربی ممالک میں بھیجا جاتا ہے۔بدریہ نے یاد دلایا کہ اس سکالرشپ پروگرام نے سعودی مملکت میں کچھ شدت پسندوں کو پریشان کر رکھا ہے، جو سمجھتے ہیں کہ تعلیم یافتہ سعودی ان کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ لاکھوں کی تعداد میں سعودی شہری جن میں حکام اور مذہبی شخصیات بھی شامل ہیں ہر سال لندن، سپین اور آسٹریلیا سمیت مختلف مقامات کا سفر کرتے ہیں۔
Pashto Times. The most visited website for Pashto Poetry and literature.




No comments:

Post a Comment