Saturday, 3 May 2014

Updates about Musharaf Cases.

Updates
مقامی عدالت اسلام آباد نے عبدالرشید غازی قتل کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو 22 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے آج کی استثنی کی درخواست منظور کرلی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آئندہ سماعت پر پیشی سے متعلق کوئی عذر قبول نہیں ہوگا، جب کہ سابق صدر کی بریت کی درخواست پر وفاق اور مدعی کو نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔ مقامی عدالت میں عبدالرشید غازی کیس کی سماعت ہوئی، سماعت ایڈیشنل سیشن جج واجد علی نے کی۔ کیس کی سماعت میں سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے ان کے وکیل میجر (ر)اختر شاہ پیش ہوئے۔ آج ہونے والی سماعت میں عدالت نے سابق صدر کی جانب سے دائر تینوں درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے سابق صدر کو 22 مئی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا، اس موقع پر عدالت کا کہنا تھا کہ سابق صدر کی آئندہ سماعت پر پیشی سے متعلق کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر مستقل استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ سماعت کے دوران سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل میجر (ر)اختر شاہ کا کہنا تھا کہ سابق صدر مشرف کا لال مسجد آپریشن سے کوئی تعلق نہیں، پولیس نے حالات خراب ہونے پر انتظامیہ کو خط لکھا تھا۔اختر شاہ کا مزید کہنا تھا کہ انتظامیہ نے وزارت داخلہ سے مدد طلب کی، وزارت داخلہ نے حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ٹرپل ون بریگیڈ کو طلب کیا،انتظامیہ نے خود علاقہ ٹرپل ون بریگیڈ کے حوالے کیا۔بریت کی درخواست سے متعلق مشرف کے وکیل ایڈووکیٹ اختر شاہ کا کہنا تھا کہ بریت کی درخواست کے ساتھ دستاویزات بھی منسلک کی ہیں، پرویز مشرف کو چالان میں خانہ نمبر دو میں رکھا گیا، اگر ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد نہ ہوں تو اسے خانہ نمبر دو میں رکھا جاتا ہے، دو چالان جمع ہوئے لیکن پولیس کو کوئی شہادت نہ مل سکی، جس پر عدالت نے بریت کی درخواست پر وفاق اور مدعی کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔
Thanks for Visiting Pashto Times, The most visited and rated Pashto Times.



No comments:

Post a Comment