Monday, 5 May 2014

When Human beings eat themselves.

The terrifying sickness when human being tries to eat him/herself is diagnosed in New Yark USA and named as "Lishic Nehyaan".
This is because of certain action of genes in human body where a man tries to eat himself through his tongue, lips and teeth. People sick of this syndrome also try to chew their fingers. Generally this kind of behavior is not too much dangerous but such cases has been revealed when the patients have cut their parts of body, that,s why the sickness is also called Self Cannibalism by social and medical scientists and psychiatrists.
Till Now the doctors re searching did not succeed to thoroughly know the reasons behind this syndrome though some of them think that this is because of Urick acid which tightens the muscles and people do so.





کیا آپ کو اس مرض کے بارے میں معلوم ہے جس سے متاثرہ افراد خود اپنا ہی گوشت کھانے کی کوشش کرتے ہیں یا اپنے جسم کے مختلف حصوں کو دانتوں سے کاٹتے ہیں ۔ اس بیماری کو ’’لشیک نیہان ‘‘کہا جا تا ہے ۔ یہ جنیز کے ایک مخصوص عمل کے ذریعے پیدا ہوتی ہے اور مریض اپنی زبان، ہونٹ اوردانتوں سے کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اسی طرح لوگ انگلیاں چبانے کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔ عام طور پر اس عمل سے لگنے والی چوٹیں بہت خطرناک نہیں ہوتی لیکن ایسے کیسزبھی سامنے آئے ہیں کہ مریضو ں نے اپنی زبان یا انگلیاں چباکر علیحدہ ہی کردیں ۔ اس لئے اسے ’’خود آدم خوری لنڈروم‘‘کے نام سے بھی جانا جا تا ہے ۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ڈاکٹروں کو بھی مکمل طور پر معلوم نہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ۔ چند ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ ’’یورک ایسڈ ‘‘جسم کے ’’سیلز ‘‘ کو تنگ کرتاہے اور لوگ اپنے آپ کو کاٹتے ہیں یا رانوں کو شدید انداز میں کھرچ کر خون نکال لیتے ہیں ۔ ابھی تک اس بیماری کا کوئی علاج دریافت نہیں کیا گیا بلکہ محض اس کے اثرات کو ٹریٹمنٹ کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے
The syndrome might be rightly called the most terrifying sickness till  now.
Pashto TImes

No comments:

Post a Comment