Saturday, 23 August 2014

ISIS Demands for Aafia Sadiqui release.

ایک امریکی اخبار نے لکھاہے کہ عراق اور شام میں سرگرم جنگجو تنظیم ISISنے امریکی صحافی جیمز فولی کی رہائی کے لیے بھاری تاوان کے علاوہ پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا جس کے بعد امریکہ نے جیمز فولی کی ہلاکت کے جرم کی باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے۔
’ گلوبل پوسٹ ‘ نے مسٹر فولی کے ورثا کی اجازت سے ا ن کے والدین کو 12 اگست کو ISIS کی طرف سے ملنے والی آخری ای میل شائع کی ہے جس کے مطابق دولت اسلامیہ نے امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت دوسرے ’مسلمان قیدیوں‘ کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
داعش(ISIS)نے جیمز فولی کے والدین کو ای میل میں لکھا تھا کہ آپ کو نقدی کے بدلے اپنے قیدیوں کی رہائی کے کئی مواقع دیے گئے ، مسلمان قیدیوں بالخصوص ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بدلے قیدیوں کی رہائی کی پیشکش بھی کی ہے لیکن آپ نے بہت جلد یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ اس میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
گلوبل پوسٹ کے سربراہ نے کہا ہے کہISIS نے ان کے لیے کام کرنے والے صحافی جیمز فولی کی رہائی کے لیے 13 کروڑ 20 لاکھ ڈالر امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔
یادرہے کہ صحافی جیمز فولی کو نومبر 2012ءمیں اغوا کیا گیااورISIS نے رواں ہفتے کے اوائل میں ان کا سر قلم کرنے کی ویڈیو جاری کردی تھی۔
دریں اثنا امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے کہا ہے کہ امریکہ کو جتنے بھی خطروں کا سامنا کرنا پڑا ،ISIS ان میں سب سے بڑا خطرہ ہے اور اسے شام اور عراق دونوں جگہوں پر لازمی طور پر شکست دینا ہوگی۔اُنہوں نے کہاکہ ISISکواپنا نظریہ بہت عزیز ہے، ان کی سٹریٹیجک اور ٹیکٹیکل فوجی طاقت ترقی یافتہ ہے اور خوفناک حد تک مالدار ہیں۔
جیمز فولی کے قتل کی ویڈیو میں شدت پسندوں نے شمالی عراق میں ان کے خلاف فضائی حملے نہ رکنے کی صورت میں ایک اور امریکی مغوی رپورٹر کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے جس کے باوجود موصل کے قریب امریکی فضائی حملے جاری رہے ہیں
Thanks for visiting Pashto Times

No comments:

Post a Comment