Sunday, 9 November 2014

First Bike run on electricity in Pakistan.

TAZ Pakistan have introduced motor bike which could be run on Electricity. The bike is considered and declared environment friendly.

 پاکستان میں پہلی مرتبہ ماحول دوست الیکٹرک بائکس متعارف کرادی گئی ہیں۔ بائکس متعارف کرانے والی کمپنی TAZ ٹریڈنگ کا دعویٰ ہے کہ چینی ساختہ الیکٹرک بائکس عام موٹربائکس کے مقابلے میں 90فیصد کم قیمت پر سفری سہولت فراہم کریں گی۔
جدید ڈیزائن اور سہولتوں سے آراستہ ان بائکس سے 15روپے کے خرچ سے 100کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا جاسکتا ہے۔ الیکٹرک بائکس کی تعارفی تقریب کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کمپنی کے نمائندوں وقاص احمد اور محسن نیازی نے بتایا کہ پاکستان کا مستقبل الیکٹرک بائکس ہیں اور آئندہ پانچ سال میں الیکٹرک بائکس پاکستان کی روایتی کمبسشن موٹرسائیکلوں کی جگہ لے لیں گی۔
ان بائکس کی رننگ کاسٹ عام بائکس سے 90فیصد کم ہے اسی طرح روایتی بائکس پر اٹھنے والے مینٹی نینس اخراجات کی بھی 95فیصد تک بچت ہوتی ہے جبکہ کاربن کا اخراج نہ ہونے کی وجہ سے یہ بائکس آلودگی میں 95فیصد تک کمی کا ذریعہ ہیں۔
پاکستان میں الیکٹرک بائکس میں سب سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں دلچسپی لے رہی ہیں اسکوٹی اسٹائل کی بائکس خواتین کے لیے انتہائی موزوں ہیں جن کی انتہائی رفتار 60کلو میٹر فی گھنٹہ ہے اب تک ای بائکس کی آزمائشی ڈرائیو کی رجسٹریشن میں خواتین کا تناسب 40فیصد ہے اسی طرح ابتدائی طور پر لاہور اور فیصل آباد میں فروخت ہونے والی ای بائکس میں 40فیصد بائکس کی خریدار بھی خواتین ہیں۔
محسن نیازی نے کہا کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے ہوم ڈلیوری سسٹم، کوریر کمپنیوں اور فاسٹ فوڈ ریسٹورانٹس کی آئوٹ ڈور سروس سمیت پولیس پٹرولنگ کے لیے ای بائکس آئیڈیل ہیں جن میں پٹرول، لبریکنٹس کی بچت کے ساتھ ریچارجنگ بیٹری کے ذریعے کاروباری لاگت میں نمایاں کمی کی جاسکتی ہے۔

ای بائکس کی وہیکل رجسٹریشن اور وہیکل ٹیکس کی بھی ضرورت نہیں ایکسائز ڈپارٹمنٹ نے بائکس کو 50 سی سی سے کم ہونے کی بنا پر رجسٹریشن سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ کمپنی اگلے مرحلے میں پاکستان میں ای بائکس کا اسمبلی پلانٹ لگانے کی خواہش مند ہے۔ بائکس کے تعارفی پروگرام میں آزمائشی سواری کا بھی اہتمام کیا گیا شہریوں کی بڑی تعداد نے اہل خانہ کے ہمراہ ساحل سمندر پر تعارفی تقریب میں شرکت کی۔
Pashto Times.

No comments:

Post a Comment