Saturday, 2 July 2016

Amjad Saddiqi, A Man of Great Courage.

 Article by Sayad Khesro Jan.

امجد صدیقی صاحب آخر اتنا حوصلہ.. تحریر: سید شاہ خسرو جان

میں نہیں مانتا… کہ ایسا بھی ھوتا ہے..مگر کیا کرے کبھی کبھی یہ زندگی ہمیں ماننے پر مجبور کردیتی ہے، کہ ہاں ایسا بھی ھوتا ہے.. نظر جن کے خدا پر ھو ارادے جن کے پختہ ھو … طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے.. میں تو محترمہ منیبہ مزاری صاحبہ کی زندگی،جدوجھد اور جو مقام انہوں نے معاشرے میں حاصل کیا ہے ان سے بہت متاثر تھا،باوجود اس کے کہ وہ اپنے جسم کا آدھا حصہ کھوبیٹھی ہے. لیکن انکے مسلسل جدوجھد لازوال حوصلہ جس نے ان کو ملینز لوگوں میں ایک منفرد اور خوبصورت مقام دلایا.. اب میں نے تاریخ کے دریچے پڑھے کہا تھے کہ مجھ پر ایک عجیب انکشاف ھوا،کہ سید صاحب اس کرہ ارض پر ایسے ایسے لوگ رہ رہے ہیں، جن کو طوفان اور آندھے راستہ چھوڑ دیتے ہیں.. وہ کسی بھی صورت میں ھار ماننے والے نہیں ھوتے. انکے تو زندگی ھار کے گلے میں ھار ڈالنے کیلئے کافی ھوتی ہے. اس کائنات میں اللہ نے ایسے لوگ پیدا کی ہے، جن کو دیکھ کر مایوسی چھٹ جاتی ہے، مسکان ابھر آتی ہے، سفید زلفے کھالے ھوجاتے ہیں، اسیری عشق کی اسیری بن جاتی ہے اور دل گنگنانے لگ جاتا ہے.. کی ابھی تو زندہ رہنا بھی زندہ دلی سے ہے.. وہ کیسے لوگ تھے یارب جنہوں نے پالیا تجھ کو ہمیں تو ھوگیا دشوار ایک انسان کا ملنا جناب امجد صدیقی صاحب ایک ایسا پیٹریاٹک پاکستانی ہے، جن کے بارے الریاض شہر کے رھنے والے ھو یا پاکستان میں ان کے جاننے والے ھو وہ بیک وقت اور بیک آواز یہی کہہ رہے ہیں کہ امجد صاحب (ہمیں تجھ سے پیار ہیں).. امجد صدیقی صاحب کے ولادت سرگودھا میں ھوئی.. بچپن سے پڑھائے کے بے حد شوقین تھے. اور کلاس میں ہمیشہ سب کے نگاہ کا مرکز رہتے.. تعلیم جاری رکھا اور کامرس میں گریجویشن کے بعد ایک بینک میں ملازمت اختیار کرلی. امجد صاحب کے ذہانت کو مدنظر رکھ کر سعودی عرب کے ایک بینک نے ان کو اپنے ہاں ملازمت اختیار کرنے کی پیشکش کی جسے امجد صدیقی صاحب نے قبول کیا اور سعودی عرب شفٹ ھوگئے.. زندگی کا پہیہ بخوبی اپنے طرف جارہا تھا کہ ایک دم سے اس پہیے کو بریک لگ گئی.. امجد صدیقی صاحب کے ساتھ 25 دسمبر 1981 کو پیش آنے والے واقعے نے ان کے زندگی کے خوابوں کو کسی اور طرف دھکیل دیا تھا.. جس میں ان کی ریڑھ کی ھڈی مکمل تباہ ھوچکی تھی.. ھوش میں آئے تو ڈاکٹر صاحب کے زبان سے بے اختیار نکلا میرا بس چلے تو میں آپ کو شوٹ کردو،کیونکہ آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے ساتھ کیا ھوا ہے ،اور درست جو کہہ رہے تھے،کیونکہ امجد صدیقی صاحب کے جسم کا 3/4 حصہ مکمل طور پر خراب ھوچکا تھا.. لیکن امجد صدیقی صاحب نے ھمت نہیں ہاری.. جب تکلیف سے باھر نکلے اور تھوڑی سی نارمل زندگی میں آئے. تو دوبارہ سے ملازمت کا آغاز کیا.. اب ان کے پاس وہ چمک دمک نہیں تھی. نہ وہ گاڑی تھی جس میں وہ باسانی کسے کے مدد کے زریعے پہنچ جاتے.. امجد صدیقی صاحب وہیل چیر کے زریعے روزانہ اپنے دفتر جاتے اور اسے کے ذریعے واپس آتے.. چونکہ بینک ان کے گھر سے 13 کلومیٹر دور تھا اسلیے وہ صبح 4 بجے اٹھتے 3 گھنٹوں میں اسے چیر کے ذریعے مختلف راستوں سے ہوکر گزرتے اور ایک گھنٹہ اپنے ڈیوٹی ٹائم سے پہلے پہنچ جاتے.. وقت گزرتا رھا.. اور امجد صدیقی صاحب کچھ اور کرنے کے سوچ میں مگن تھے. آخر کار امجد صدیقی صاحب اس بینک کے ملازمت کو خیر آباد کہہ گئے.. اور دوسرا راستہ اختیار کیا.. اب امجد صدیقی صاحب ایک بینکر سے ایک چھوٹے سے بزنس کے طرف آگئے تھے اور وہ چھوٹا سا بزنس تھا تولیا بیچنے کا… امجد صدیقی صاحب اپنے وہیل چیر کے ذریعے اپنے ٹانگوں کے اوپر مختلف تولیے کے اقسام کو رسی سے باندھتا اور مارکیٹ لیکر جاتا.. وقت کے ساتھ ساتھ اللہ نے امجد صدیقی صاحب کو اس بزنس میں خوب کامیابی دی.. اور اب یہ کام کافی بڑھ چکا تھا.. اس ہمت نے امجد صدیقی صاحب کے اندر مزید حوصلہ پیدا کیا اور ایک فیکٹری کا بنیاد رکھا. کام میں مزید ترقی کے بعد دوسری فیکٹری لگائی اور پھر یہ سلسلہ جاری رھا.. اس وقت امجد صدیقی صاحب پاکستان اور سعودی عرب میں ایک progressive buisness man کے نام سے جانے جاتے ہے.. اور مختلف سربراھان مملکت سے مل چکا ہے. دنیا کے 52 ممالک کے دورے کرچکا ہے. اور ساتھ ہی ساتھ امریکہ کے طرف( 1 in Million ) کا ایوارڈ بھی وصول کرچکا ہے.. اس وقت امجد صدیقی صاحب بہت سارے فلاحی اداروں کے ساتھ وابسطہ ہے، اور جب بھی وطن عزیز کے اوپر کوئی برا وقت آتا ہے،تو امجد صدیقی صاحب ہمیشہ بڑھ چڑ کر حصہ لیتے ہے.. ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا.. امجد صدیقی صاحب آج کے دور کے ہر انسان کیلئے ایک سبق ،مشعل راہ ،رہبر اور ایک کھلا کتاب ہے.. جس نے ہر ناکامی اور غم کو کبھی یہ حوصلہ نہیں دیا کہ وہ ان کے راستے میں روکاوٹ بنیں.. امجد صدیقی میں خراج تحسین کے ساتھ ساتھ آپ کو سیلوٹ پیش کرتا ہو.. اللہ آپ کو لمبی زندگی، خوشی اور راحت بخشی.. ہمیں فخر ہے اپ پر…. خوش قسمتی یہ ہے امجد صدیقی صاحب سے سے میری کافی دل لگی ہے اور میں جب بھی ان سے ملتا ھو تو دلی سکون ملتا ہے..

No comments:

Post a Comment