Sunday, 10 July 2016

Matiullah jan writes corruption in Timergar District Jail..







اکتوبر کو حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد جب وزیراعظم نواز شریف ایک مرقتبہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تو بہت سے لوگ ایک لیڈر سے تاریخی تقریر کی توقع کر رہے تھے۔ایسی تقریر کی توقع جو ذوالفقار علی بھٹو نے بطور قیدی ماضی کی سپریم کورٹ کے سامنے کی تھی۔ مگر نواز شریف صاحب نے تقریر میں گلہ کیا کہ انہیں ایسے کمرے میں بند رکھا گیا ۔ جہاں مکھیاں، مچھر اور خطرناک حشرات الارض کی بہتات تھی اور سورج کی روشنی کو روکنے کے لیے کھڑکیوں کے شیشوں پر اخبارات چسپاں کر دیے گئے تھے۔ شاید یہی فرق تھا ذوالفقار علی بھٹو اور میاں نواز شریف میں۔ قید وبند کی ان ’’تکالیف ‘‘کا سامنا اور اس کا ذکر آصف علی زرداری بھی کرتے رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے علاوہ عمران خان اور ان کی تحریک انصاف جیل اور قیدیوں کی صورت حال سے ذاتی طور پر اتنے واقف نہیں رہے اور شائد یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ملک کی دوسری جیلوں کی طرح خیبر پختونخواہ میں بھی جیلوں میں قیدی ملزمان اور جرائم پیشہ افراد کو ان کے الزامات اور جرائم کی سزا کے علاوہ جینے کی سزا بھی باقائدگی سے مل رہی ہے۔ ہر عید پر جب تمام امت مسلمہ خاص کر کہ پاکستانی مسلمان خوش رہنا اور خوش دکھائی دینا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں تو بہت سے دوسرے طبقوں کی طرح ہماری جیلوں کے قیدی یہ مذہبی فریضہ اس خشوع و خضوع کے ساتھ ادا نہیں کر پاتے۔اس کی ایک مثال تبدیلی کے دعویدار صوبہ خیبرپختونخواہ کی ڈسٹرکٹ جیل تمیر گرہ ہے جہاں تھانہ اوچ لوئیر دیر سے تعلق رکھنے والا ایک قیدی محمد جان کسی نہ کسی طریقے سے حالات سے آگاہ کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالتا رہتا ہے۔7 فروری 2016 کو نوائے وقت میں شایع شدہ ایک تحریر کے ذریعے اس کی مختصر کہانی بیان کی تو اس پر کچھ نئے مقدمات بنا کر جیل میں ڈال دیا گیا۔ سگے بھائیوں کے ساتھ جائیداد کے مقدمے میں اس کا وکیل مخالف پارٹی سے مل گیا تو بار کونسل میں شکایات پر مقامی وکلا نے اس کی مزید وکالت سے بھی انکار کر دیا ہے۔اس شکایت کا بھی کچھ نہیں ہوا۔ نشہ بیچنے کے پرانے مقدمات کئی سال چلتے رہے لیکن فیصلہ نہ آیا۔ مگر حال ہی میں چند پرانے مقدمات ختم کر کے نیا مقدمہ بنا کر اسے ڈسٹرک جیل تمیر گرہ میں دوبارہ قید کر دیا گیا ہے۔ اور پھر وہی پرانا سلسلہ شروع ہو گیا ہے یعنی کہ اب کئی ماہ سے جج کے سامنے پیش کئے بغیر تاریخ لی جا رہی ہے اور پھر ایک دن جب اچانک جج کے سامنے پیش کر دیا گیا تو اس نے جیل کے اندر خوراک اور علاج کی سہولیات کے فقدان کے علاہ جیل کے عملے کے مظالم سے متعلق سب کچھ کہہ دیا۔ مگر بظاہر منصفیں بھی اپنے روزے اور اپنی عید کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔ بقول محمد جان جیل کا عملہ پیسے لینے کے باوجود اس کی شوگر کی بیماری کی دوا بھی لا کر نہیں دیتا جب کہ بااثر ملزمان بغیر بیماریوں کے ہی جیل کے اسپتال میں آرام دہ زندگی گزارتے ہیں۔ اس کا الزام ہے کہ اس پر تشدد کر کے اس کے دو دانت توڑے گئے۔ رمضان کے مہینے میں افطار اور سحری کے لیے خوراک نہیں دی گئی اور پھر عید کے دنوں میں اسے جیل کی چکی میں بندکر دیا گیا۔ اس کو خدشہ ہے کہ جیل کا عملہ اس کا علاج کرانے کی بجائے اسے جان سے مار دے گا۔ اللہ جانے یہ الزامات کس حد تک درست ہیں مگر گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل ڈسٹرک جیل تیمرگرہ کے اندر کی جوکہانی سننے کو مل رہی ہے بطور صحافی اسے تحریر کرنے پر مجبور ہوں۔ خیبر پختونخواہ کی ’’ماڈل پولیس‘‘ اور تبدیلی کی دعویدار اور صوبے کی حکمران تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو انصاف اور اسلام کے معیار کے مطابق قیدیوں کے ساتھ سلوک کی توفیق نہیں ہو رہی ۔ محترم سراج الحق کا تعلق بھی لوئر دیر سے ہے اور ان کے علاقے کا یہ قیدی جب اپنی خوراک یا دوائی کے واسطے جیل کے عملے کو 100 یا 50 روپے دیتا ہے تو پھر سراج صاحب کا پورے ملک میں کرپشن کے خلاف ٹرین مارچ یا غریب نادار افراد کی بہبود کے لیے ان کی جماعت کا چندہ مہم چلانا کیا معنی رکھتا ہے۔ ویسے سراج صاحب کی جماعت اس شخص کی کہانی سے بخوبی واقف ہے اور گزشتہ تحریر پر ناراضگی کا اظہار بھی کر چکی ہے۔ اسی اظہار کے بعد ہی محمد جان پر نئے مقدمات بھی بنائے گئے تھے۔ یہ تو ایک قیدی کی ایک کہانی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملکی قوانین اور سپریم کورٹ کے ان فیصلوں کے مطابق قیدیوں سے سلوک کیا جائے جو جیل اصلاحات سے متعلق از خود نوٹس کی کاروائیوں میں جاری کیے گئے ۔ تبدیلی صرف چند بڑے شہروں کی پولیس کو چمکتی وردیاں پہنا کر انکی تصاویر کے ذریعے نہیں لائی جاسکتی ۔ اگر سراج الحق صاحب اور عمران خان صاحب ایک رمضان اور ایک عید رضاکارانہ طور پر خیبر پختونخواہ کی جیلوں میںگزاریں تو پھر انکو معلوم ہو گا کہ تبدیلی کی دال کس بھاؤ بکتی ہے ۔ایک طرف تو یہ مبینہ منشیات فروش ہے تو دوسری طرف اس ملک کے آئین سے سنگین غداری کا ملزم جسے کمرکی تکلیف کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی باقاعدہ اجازت دی گئی۔ محمد جان لندن جانے کی اجازت نہیں بلکہ محض اپنے شوگر کے مرض کی دوائی مانگتا ہے۔ کیا چوہدری نثار یا خیبر پختونخواہ کے بااختیار اور آزاد آئی جی پولیس اس تمام معاملے کی تحقیقات کروا کر پورے صوبے میںقیدیوں کے قانونی حقوق کو یقینی بنائیں گے؟ ایسے کئی محمد جان ہونگے جن کے خلاف پرانے مقدامات میں کئی سال سے کوئی فیصلہ نہ ہونے کے باعث انہیں ختم کیا گیا اور پھر نئے مقدمات اور نئے گواہ پیدا کر کے انہیں قید میں رکھنے کا جواز بنایا گیا۔ منشیات فروشوں کے مقدمات کو تو جلد از جلد نمٹانا چاہیے۔ معاشرے سے نشے کی لعنت ختم کرنے کا یہ طریقہ نہیں کہ معمولی سطح پر ایسے کاروبار میں ملوث افراد کو مقدمات بنا کر طویل عرصے تک قید میں رکھا جائے اور جب کئی سال تک مقدمے کا فیصلہ نہ ہو تو پہلا مقدمہ ختم کر کے نیا مقدمہ بنا دیا جائے ۔ یہاں بڑے بڑے سمگلر تو دندناتے پھرتے ہیں ۔ مگر مبینہ طور پر پڑیا بیچنے یا پھر خود استعمال کر نے والے بہت سے محمد جان عدالتی فیصلوں سے پہلے ہی عبرت کا نشان بنا دئیے جاتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس جائیداد کی تقسیم جیسے معاملات میں اثر انداز ہونے کے لیے جھوٹے مقدمات بنا کر فریق نہ بنے۔ دائرشدہ مقدمات میں مقامی ججز صاحبان تاریخ دینے سے پہلے تمام ملزمان کی پیشی کو یقینی بنائیں اور ان کے مقدمات جلد نمٹائیں تاکہ ملزمان اپیل کا حق بھی استعمال کر سکیں۔ جیل کا عملہ قیدی حضرات کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کرے اور ان کی خوراک اور علاج کو یقینی بنائے۔ جیل کا دورہ کرنے والے مجسٹریٹ حضرات ذاتی طور پر قیدیوں سے ملیں اور محض جیل کے افسران سے ملاقات کے بعد واپس نہ چلے جائیں ۔قیدیوں سے بد سلوکی اور جھوٹے مقدمات بنانے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کی جائے ۔ جیلوں کے لیے مختص بجٹ کے درست استعمال کو یقینی بنایا جائے اور ان کی گنجائش میں اضافے کے لیے مزید تعمیرات وقت کی ضرورت ہے ۔غریب اور نادار ملزمان کو مفت وکیل فراہم کرنے کے لیے بار کونسلوں کو بھی محض کاغذی کاروائیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے ۔ ملک بھر میں منشیات کے مقدمات اور ان سے پیش رفت کے متعلق ایک جائزہ اور نگران کمیشن بھی وقت کی ضرورت ہے تاکہ اس خطرناک قانونی ہتھیار کے غلط استعمال کو روکا جاسکے۔ تمام صوبائی حکومتوں کو منشیات فروشوں اور منشیات کے عادی افراد میں تفریق کرتے ہوئے ان کے علاج معالجے کی سہولتوں کے لیے بجٹ میں اضافہ کرنا چاہیے۔آخر میں محض اتنا کہ سیاست دانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ علاج کے لیے لندن اور دبئی تو جا سکتے ہیں مگر سزا کی صورت میں جیلیں یہی ہیں۔

No comments:

Post a Comment