Saturday, 23 March 2019

پائیدار ترقی کے اھداف کا ایجنڈا 2030 اور ضلع دیر لوئر

پائیدار ترقی کے اھداف کا ایجنڈا 2030 اور ضلع دیر لوئر

تحریر وترتیب۔ اکبرخان تیمرگرہ
 

پائیدار ترقی کے اھداف کا ایجنڈا 2030 تک کے لئے تجویز کیا گیا ضلع دیر کے حوالے سے جائزہ کچھ یوں ہے شعوری آگاہی کے حوالے سے محسوس کیا گیا کہ پائیدار ترقی کے اھداف کے حوالے سے اب تک کوئی موثر،بڑے پیمانے کی منظم اور مربوط مہم نہیں چلائی گئی جس سے زیادہ لوگوں کی آگاہی ممکن ہوسکے۔ قوانین،پالیسیاں اور قواعد وضوابط کے ضمن میں آئین پاکستان ملک کی سب سے اھم دستاویزہے۔اس اھم دستاویز کی دفعات کے زیر اثر ملکی طرزحکمرانی اور ذیلی قوانین کی راہ نکلتی ہے۔

SDGs کے تناظر میں اس کے ابواب بنیادی حقوق اور پالیسی انتہائی اھمیت کے حامل ہیں۔اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کا دائرہ کار بڑھنے کے ساتھ باہم مسابقت کا مثبت رجحان سامنے آیا۔ مفاد عامہ کے قوانین کی منطوری اور نفاذ کا سلسلہ شروع ہوا اور جاری ہے۔کچھ قوانین کا یہاں ذکر کرنا لازم ہے کیونکہ ان قوانین کاایک مثبت اثر پائیدار ترقی کے اھداف ۔ان میں آئین کی دفعہ 19 کے تحت پبلک باڈی کے متعلق معلومات کا حق، 25الف کے تحت تعلیم کا حق، خواتین کے تحفظ کے قوانین،بچوں کے تحفظ کا قانون، عوامی خدمات تک رسائی کا حق،مقامی حکومت کا نظام کے علاوہ ماحولیات اور آفات سے نمٹنے کے قوانین اور عوامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے قوانین میں بہتری لاکر بہتر حکمرانی اور انسانی زندگی کا معیار بلند اور باوقار بنانے میں مدد ملی ہے یہاں کچھ سرکاری قوانین اور پالیسیاں جیسےآرمڈ فورسز ان ایڈ اف سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس،براہ راست ٹیکسیشن جیسے کسٹمز، انکم ٹیکس،ویلتھ ٹیکس سے استثناء کے برخلاف بالواسطہ ٹیکسیشن جیسے جی ایس ٹی عائد کیا جانا مراعات یافتہ طبقات کو فائدہ دیتا ہے۔ اب انفارمیشن ٹکنالوجی کے ذریعے معلومات انتظام میں مزید بہتری لائی جارہی ہے۔

مقامی سطح پر محکمہ شماریات کا نہ ہونا سرکاری اداروں کی معلومات کو اپ ڈیٹ کرنے اور قابل اعتبار بنانے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔مالیاتی اقدامات کا طریقہ کار ضلع دیر میں صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح صوبائی فنانس کمیشن آبادی، پسماندگی، کمزور تعمیراتی ڈھانچے اور رسائی کے فارمولے کے مطابق حکومتی تر جیحات کو مد نظر رکھتے ہوئے مالی رقوم کی تخصیص کرتا ہے۔ 

سیاسی اثر و نفوذ سالانہ ترقیاتی منصوبہADP تجویز کرنے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ADPکے منصوبہ جات کے لئے مختص رقوم بروقت دستیاب نہیں ہوتیں۔ضمنی بجٹ میں کٹوتیاں کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے۔ یا تاخیر سے رقوم کا اجراٗ منصوبے کی لاگت میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے یا منصوبے کا حجم کم کردیا جاتا ہے۔پی ایس ڈی پی کے مطابق ضلع دیر میں کے تحت چکدرہ تا دیر سڑک کی پختگی کیPSDPکے چالیس میگا واٹ کے کوٹو ھائیڈل پاور پلانٹ پر کام جاری ہے۔ اسی طرح گئی۔لیکن سڑک کی مجوزہ اپ گریڈیشن کا اب تک پی سی ون بھی نا بن سکا 

جدت:صوبائی حکومت کے کچھ اقدامات ضلع دیر میں جدت کے حامل ہیں ان میں سب سے بنیادی اقدام مقامی حکومت کا نظام ہے جس کی سب سے زیریں سطح پر دیہی یا محلہ کونسل کا قیام ہوا جو پہلے اس سے کئی گنا بڑی سطح پر یونین کونسل ہوا کرتی تھی۔ اس طرح سے زیادہ نچلی سطح پر لوگوں کی شمولیت ممکن ہوئی اور ساتھ ہی مالیات کی تخصیص بھی دیہی سطح پر آگئی۔ اس کے بعد جو منصوبہ بندی کا دائرہ بھی انتہائی مقامی سطح تک محدود ہوگیا جس کے ذریعے فوائد ان لوگوں یا علاقوں کو بھی ملے جو پہلے توجہ سے محروم رہے یا نظر انداز ہوتے رہے تھے۔اس نظام کی افادیت مزید اس وقت اجاگر ہوئی جب پالیسی صوبائی حکومت کی تر تیب دی گئی پالیسی کیمونٹی ڈریون لوکل ڈیولپمنٹ ( سی ڈٰی ایل ڈی )پر عملدرآمد یورپی یونین کی مالی اعانت سے 2015کے وسط سے شروع ہوا۔جن 6 اضلاع کو اس منفرد نوعیت کی پہل کاری کے لئے چنا گیا اس میں ضلع دیر لوئر شامل تھا۔شراکتی ترقی کے اصول کو اپنایا گیا۔

رقوم کی تقسیم دیہی محلہ کونسل کی بنیاد پرصوبائی فنانس کمیشن ۔ اس پالیسی کے مطابق نے آبادی کی بنیاد پر کی گئی سی ڈٰی ایل ڈی کی پالیسی کا بنیادی مقصد کیمونٹی کو اپنے مسائل کے حل کا اھل بنانا۔ منصوبے کے تمام مراحل نشاندہی، تشکیل اور ترتیب، عملدرآمد، نگرانی و جائزہ سمیت منصوبوں کا انتظام، مرمت اور پائیداری میں کیمونٹی کا کردار اور ذمہ داری کلیدی اھمیت رکھتی تھی۔ جبکہ حکومت اور دیگر حصہ دار مفید نتائج کے حصول میں کیمونٹی کے بیرونی سہلکار اور معاون تھے ۔سی ڈٰی ایل ڈی کے 15%رقوم خواتین کے لئے مختص ہیں۔عوامی خدمات تک رسائی کے قانون اپنی نوعیت کی جدت تھی لوگوں کے حقوق حکومتی اداروں کے ذمے خدمات کا تعین،ان تک رسائی کا طریقہ کاراور فوری ذمہ دار، وقت نامہ کا واضح تعین کیا گیا۔ غفلت کے مرتکب سرکاری اھلکاروں کے خلاف شکایت فورم اور سزا و جزا کا نظام سامنے آنے سے شفافیت، جوابدہی اور اچھی حکمرانی و انتظام کاری کے امکانات بڑھے۔ 

ایسے قوانین اور طریقہ کار سے جہاں شہریوں کی واقفیت و آگاہی اور خدمات تک رسائی میں اضافہ ہوا وہیں سرکاری اھلکاروں میں احساس ذمہ داری بڑھا۔مشکلات اور چیلنجز: مشکلات اور چیلنجز کا بین السطور ذکر ہوچکا ہے اور ان کے حل کی تجاویزدی گئی ہیں پائیدار ترقی کے اھداف کے پورا کرنے کی راہ میں کم علمی، محدود فنی و تکنیکی صلاحتیں،تعصبات اور تفریق کے مختلف پہلو، محدود وسائل، وژن کا فقدان،سلامتی کے مسائل اور سماجی شعبے کو نظر انداز کرنا،عسکریت اور انتہا پسندی،دھشت گردی کے اثرات،نامنسب رویے اور غیر ذمہ دارانہ طرزعمل، تحقیق کی کمی، نئے ڈسپلن کا تعلیمی ادروں کا نا قبول کرنا،) کے سپشلائزیشن کے مواقع نا ہوناہے۔نگرانی،تجزیہ و جائزہ اور رپورٹنگ کا نظام ھمارے ھاں انتہائی کمزور ہے خوش آئند ہے کہ سرکاری اداروں کو احساس ہوچلا ہے کہ ان کو ازسر نو اپنے تجزیئے کے اشارئیے ترتیب دینے چاھئیے۔مقداری پیمانوں کے ساتھ ساتھ معیاری پیمانوں پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہوگی

No comments:

Post a Comment