Monday, 20 May 2013

محسن نقوی کا ایک شاہکار غزل سب کے نام کرتاہوں

ضدو سمیت کھبی دل کو چھوڑنا ہوگا۔
یہ ایٴنہ کسی پتھر پہ توڑنا ہوگا
یہی نہیں کہ ہیمں توڑکر گیا ہے کوءی
اُسے بھی خود کو بہت دیر جوڑنا ہوگا
تُلی ہوءی ہے بہت سرکشی پہ ھجر کی رُت
یہ رت رہی تو کہی سر ہی پھوڑنا ہوگا
طلب کو تو نہ ملے گا تو اور بہت لوگ
کسی طرف تو یہ طوفان بھی موڑنا ہوگا
کبھی متاع سفر تھا جو دل رُبا محسن
خبر نہ تھی اسے رستے میں چھوڑنا ہوگا
محسن نقوی

No comments:

Post a Comment