تہران امریکہ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کس طرح دیکھ رہا ہے۔۔۔؟؟؟ 🔹 ایرانی تیل کے ٹینکروں پر حالیہ امریکی حملوں کے حوالے سے #ایران کی حکمتِ عملی سے وابستہ حلقوں میں ایک دلچسپ بحث جنم لے رہی ہے۔ کچھ لوگ انہیں محض امریکی بحری افواج پر ایرانی حملوں کا بدلہ نہیں مانتے، بلکہ واشنگٹن پر بڑھتے ہوئے عملیاتی (آپریشنل) اور معاشی دباؤ کے ردِعمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ 🔹 دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ امریکی افواج اور اڈوں پر ایران کے مسلسل حملے، اور اس کے ساتھ ساتھ امریکی اتحادیوں—خصوصاً حوثیوں کے ساتھ تصادم میں سعودی عرب—کی بڑھتی ہوئی شمولیت، امریکی فوجی وسائل بالخصوص پیٹریاٹ میزائل جیسے ایئر ڈیفنس انٹرسیپٹرز پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔ اسی وقت، ہرمز اور باب المندب کے اطراف غیر استحکام عالمی توانائیکی منڈیوں پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ 🔹 اس نقطہ نظر سے، ٹرمپ کی جانب سے ایک طرف تناؤ میں اضافہ (ایسکلیشن) اور دوسری طرف سفارتی اشارے دینا کوئی متضاد بات نہیں ہے۔ واشنگٹن جلد از جلد کوئی معاہدہ چاہتا ہے، لیکن پہلے اپنا رعب و دبدبہ (ڈٹرنس) بحال کرنا چاہتا ہے تاکہ کمزور موقف سے مذاکرات نہ کرنے پڑیں۔ 🔹 تاہم، اہم ...
سابق آئی جی پنجاب پولیس اور ڈائریکٹر آئی بی حاجی حبیب الرحمن کے انٹرویو میں کئے گئے انکشافات: ایک جج دونوں پارٹیوں سے پیسے لیتا تھا لیکن فیصلہ انصاف پر کرتا تھا۔ ہارنے والے کے پیسے واپس کر دیتا تھا۔ طاہرہ سید کو کھر نے فون کیا، آپ لندن جا رہی ہیں، میں بھی لندن جا رہا ہوں۔ اس نے جواب دیا: آپ جتنی مرضی کوشش کر لیں میں آپ کے قابو نہیں آ سکتی۔ مشرف کے ساتھ نواز شریف کی ڈیل میں مجید نظامی اور میں شامل تھے۔ پاکستان سٹیل ملز کا چیئرمین عثمان فاروقی ہر مہینے زرداری کو ایک کروڑ پہنچاتا تھا۔ قومی اتحاد کی ایجی ٹیشن اور بھٹو کی پھانسی کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ تھا۔ @ ایجی ٹیشن کے دوران مولانا مودودی کے نام 30 لاکھ کا غیر ملکی چیک میں نے پکڑا۔ جماعت اسلامی کے دو اہم آدمی ہمارے لیے انٹیلی جنس کرتے اور پیپلز پارٹی کے تین جیالے بھی۔ کوثر نیازی تنخواہ پر کام نہیں کرتے تھے۔ کوئی کام کروا لیتے تھے۔ مولانا غلام غوث ہزاروی ہم سے پانچ سو روپیہ مہینہ لیتے تھے۔ جب میں نہیں پہنچاتا تھا خود لینے کے لیے آجاتے۔ کام کا بندہ وہی ہوتا ہے جو تھوڑی بہت مخالفت ...