Skip to main content

Posts

ثور انقلاب قسط 171 ٹور انقلاب اور ریڈیو کابل یہ آواز 27 اپریل 1978ء (7 ثور ) کی شام کے وقت میجر اسلم وطنجار کی ہے جو ریڈیو کابل پر نشر ہوئی ، جنہوں نے عسکری انقلابی کونسل کا اعلامیہ پڑھتے ہوئے اعلان کیا تھا: "ہم وطنو، عزیزو! دھیان اور توجہ دیجیے! مسلح فوجی وطنجار کی طرف سے عسکری انقلابی کونسل کا اعلامیہ سنیے۔ تاریخ میں پہلی بار سلطنت، ظلم، استبداد اور نادر خان کے خاندان کے شخصی اقتدار کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور تمام ریاستی اقتدار عوام کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔ تمام حکومتی اختیارات عسکری انقلابی کونسل کے پاس ہیں۔ پیارے ہم وطنو! آپ کو خبر دی جاتی ہے کہ انقلابی کونسل کی جانب سے اعلان کر دیا گیا ہے کہ ہر جگہ انقلابی محافظ تیار کیے جا رہے ہیں۔ انقلابی کونسل کی ہدایات اور احکامات کی پابندی کریں اور جلد از جلد عسکری انقلابی مراکزی ہدایت پر عمل کریں"۔ ابھی سردار داؤد زندہ تھے اور انہوں نے یہ خبر سنی ریڈیو پر سنی اور آگلے دن بچوں سمیت قتل کردیے گئے ۔ افغانستان میں ریڈیو کا قیام اصل میں غازی امان اللہ خان کے دور میں عمل میں آیا تھا، تاہم اسے شیطانی آلہ قرار دے کر بچہ سقہ کے دور میں تباہ کر دیا گیا۔ بعد میں شاہ ظاہر شاہ کے دور میں کابل میں 20 کلوواٹ کا ایک مضبوط ٹرانسمیٹر نصب کیا گیا، جس کے بعد پشتو، دری، اردو، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں باقاعدہ نشریات کا آغاز ہوا۔ 27 اپریل 1978ء کے عسکری انقلاب کے بعد ریڈیو افغانستان صرف خبریں دینے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ وہ ملک کی سیاسی، عسکری اور نظریاتی جنگ کا سب سے بڑا ہتھیار اور مرکزی پلیٹ فارم بن گیا۔ پل چرخی اور بگرام سے اٹھنے والے عسکری دستوں نے صدارتی محل (ارگ) پر حملے کے ساتھ ہی انصاری واٹ پر واقع ریڈیو افغانستان کی عمارت کا گھیراؤ کیا۔ میجر اسلم وطنجار کی قیادت میں بکتر بند گاڑیوں نے اسٹیشن کا کنٹرول حاصل کر کے تمام معمول کے پروگرام اور موسیقی معطل کر دی۔ شام تقریباً سات بجے میجر اسلم وطنجار نے کرنل عبدالقادر کی دیکھ بھال میں تیار کردہ تاریخی پیغام پشتو اور دَری دونوں زبانوں میں پڑھا کہ سردار داؤد کی سلطنت اور خاندانِ آلِ یحییٰ کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور اقتدار ملٹری انقلابی کونسل نے سنبھال لیا ہے۔ اس اعلان سے قبل اور بعد میں مسلسل فوجی مارچ اور انقلابی ترانے نشر کیے گئے تاکہ ہیبت قائم کی جا سکے۔ صدارتی محل کے اندر موجود صدر سردار داؤد خان نے اپنی کابینہ کے ساتھ ریڈیو پر ہی اپنی حکومت کے خاتمے کی خبر سنی اور آخری وقت تک مزاحمت کا فیصلہ کیا۔ نور محمد ترہ کی اور حفیظ اللہ امین کی زیرِ قیادت آنے والی نئی خلقی حکومت نے ریڈیو کو مارکسی و سوسیلسٹ نظریے کی ترویج کا مرکزی آلہ بنایا۔ پارلیمنٹ اور آئین کی عدم موجودگی میں تمام قوانین ریڈیو ہی سے نشر کیے جاتے تھے، جن میں جمہوری جمہوریہ افغانستان کے قیام کا فرمان نمبر 1، دیہی کسانوں کے قرضوں کی معافی کا فرمان نمبر 6، جبری جہیز پر پابندی کا فرمان نمبر 7، اور بڑے زمینداروں کی زمینیں ضبط کرنے سے متعلق فرمان نمبر 8 شامل تھے۔ اخبارات اور ریڈیو کی زبان یکسر بدل کر "زحمت‌کشان" (محنت کش)، "دهقانان"، "بورژوازی"، "امپریالزم"، اور "ضدِ انقلاب" جیسی مارکسی اصطلاحات کو لازمی قرار دے دیا گیا۔ نور محمد ترہ کی کی شخصیت کا سحر قائم کرنے کے لیے انہیں "د خلقو لوئے لارښود" (عوام کا عظیم رہنما)، "رهبر کبیر"، اور "معلم کبیر" کے القابات دیے گئے اور ریڈیو کا ہر بلیٹن ان کے اقوال، سوانح حیات اور لکھی ہوئی کتب کی قرائت سے شروع ہونے لگا۔ انقلاب کے بعد ریڈیو اسٹوڈیو صحافیوں کے لیے بندوق کی نوک پر چلنے والا ایک خوفناک مرکز بن گیا۔ اینکرز کو نرم اور شائستہ انداز سے روک کر بارودی، کرخت اور جاہ جلال والے انقلابی لہجے میں خبریں پڑھنے پر مجبور کیا گیا تاکہ ریاستی ہیبت قائم ہو سکے۔ ترہ کی کے القابات میں معمولی سی غلطی یا لفظ کا چھوٹ جانا حادثہ نہیں بلکہ عمدی تخریب کاری شمار ہوتا تھا۔ اسٹوڈیو کے اندر اگسا کے مسلح اہلکار ہر وقت موجود رہتے تھے، اور غلطی کرنے والے اینکرز کی نوکری سے برطرفی کے علاوہ گرفتاری، پل چرخی جیل منتقلی یا تشدد عام تھا۔ ظاہر شاہ اور داؤد خان کے دور کے پرانے اور سینیئر اینکرز، جیسے زلمی باباکوہی، رضا مائل، حمید مبشر، استاد لعل محمد شیرزاد، شفیقہ حبیبی، اور معصومہ عصمتی پر سنسرشپ لاگو کی گئی اور یرغمال بنا کر خبریں پڑھوائی گئیں۔ 1978ء سے 1980ء کے درمیان ریڈیو کے درجنوں سینیئر صحافیوں، مترجمین اور ٹیکنیشنز، جیسے عبدالرشید لطیف کو استخبارات نے گرفتار کر کے پل چرخی جیل میں ہلاک کر دیا یا وہ مفقود الاثر ہو گئے۔ ستمبر 1979ء میں ترہ کی کے قتل کے بعد حفیظ اللہ امین کے 104 دنوں کے اقتدار میں ریڈیو پر خوف کی ایک نئی لہر آئی۔ ریڈیو سے اعلان کیا گیا کہ ترہ کی شدید بیماری کے باعث انتقال کر گئے ہیں، اور ان کے تمام القابات راتوں رات ختم کر کے حفیظ اللہ امین کو "میر منشی"، "قدرمن رهبر"، اور "فرزندِ صادق خلق" بنا کر پیش کیا گیا۔ امین نے اکسا کو ختم کر کے اپنے بھتیجے اسد اللہ امین کی سربراہی میں 'کام' نامی ادارہ قائم کیا۔ ریڈیو کے نیوز ڈیسک پر اس ادارے کے مسلح اہلکاروں کی منظوری کے بغیر کوئی لفظ نشر نہیں ہو سکتا تھا۔ امین نے عوام میں خوف قائم کرنے کے لیے 12,000 مقتولین کی خبریں اور ریاستی دشمنوں کی گرفتاریوں کے بلیٹن نشر کروائے، جو ان کی مصالحت کے بغیر اصلاحات کی پالیسی کا حصہ تھا۔ 27 دسمبر 1979ء کو سوویت حملے (آپریشن طوفان-333) کے وقت کابل ریڈیو بند ہو گیا، تو ببرک کارمل نے ازبکستان کے شہر تاشقند کے ریڈیو سے ریکارڈ شدہ پیغام کابل ریڈیو کی فریکوئنسی پر نشر کیا اور امین کو فاشسٹ اور سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دے کر اقتدار کا اعلان کیا۔ پرچمی دور کے آغاز کے ساتھ ہی بیانیے میں معتدل تبدیلیاں لائی گئیں۔ سوویت حملے کو انقلابِ ثور کا نیا ارتقائی مرحلہ اور سوویت افواج کو محدود فوجی کمک کہا گیا۔ ریڈیو پر اسلامی شعائر مثلاً تلاوتِ قرآن، اذان، اور جمعہ کے خطبات بحال کیے گئے۔ سرخ پرچم کی جگہ دوبارہ افغان قومی پرچم (سیاہ، سرخ، سبز) کی نشریاتی اہمیت بیان کی گئی اور امین کے دور کے قیدیوں کی معافی کا اعلان ہوا تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔ کابل حکومت اور سوویت کنٹرول کو توڑنے کے لیے افغان مجاہدین نے متبادل میڈیا اپنایا۔ افغانستان کے پہاڑی مورچوں (پنجشیر اور نورستان) سے خچروں پر لادے جانے والے ٹرانسمیٹرز کے ذریعے "رادیو صدای جهاد" جیسے موبائل شارٹ ویو ریڈیوز قائم کیے گئے، جن سے جنگی احوال اور جہادی ترانے نشر ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ رات کی تاریکی میں مساجد، اسکولوں اور گھروں کے نیچے پھینکے جانے والے تحریری پمفلٹ یعنی شب ناموں کے ذریعے کابل حکومت کی سنسرشپ توڑی جاتی، ہڑتالوں کی کال دی جاتی اور سرکاری ملازمین کو تنبیہ کی جاتی تھی۔ افغان عوام نے سرکاری ریڈیو کے بجائے بی بی سی پشتو و دَری، وائس آف امریکہ، اور ریڈیو آزادی پر زیادہ اعتماد کیا۔ بعد میں خاد کے سابق سربراہ ڈاکٹر نجیب اللہ نے 1986ء سے 1992ء کے دور میں ریڈیو کو مارکسی نظریے سے نکال کر قومی آشتی اور ملی مصالحت کا آلہ بنایا۔ بورژوازی جیسے مارکسی الفاظ ختم کر کے مجاہدین کو اشرار کی بجائے برادرانِ ناراض اور مخالفینِ سیاسی کہا گیا۔ نجیب اللہ کی تقاریر کا آغاز بسم اللہ سے ہوتا تھا، اور انہوں نے 1987ء کے لویہ جرگہ، ملک کا نام جمہوریہ افغانستان رکھنے، اور اسلام کو باضابطہ مذہب قرار دینے کی خبریں جوش و خروش سے نشر کروائیں۔ سوویت انخلا کے بعد جلال آباد کی جنگ (1989ء) کے دوران نجیب اللہ کی اثر انگیز تقاریر نے ریڈیو کے ذریعے فوج کا حوصلہ بڑھایا، لیکن اپریل 1992ء میں حکومت کے زوال کے ساتھ ہی 25 اپریل 1992ء کو ریڈیو سے مجاہدین کی آمد کا باضابطہ اعلان نشر ہوا۔ افغانستان میں ریڈیو کا سفر بین الاقوامی نشریات اور تاریخی آرکائیو کے تحفظ کا بھی مرہونِ منت رہا۔ ریڈیو افغانستان کی ایکسٹرنل سروسز کے ذریعے اردو، انگریزی، عربی، روسی، فرانسیسی، جرمن اور بلوچی میں نشریات کی جاتی تھیں۔ اردو سروس کا مقصد پاکستان کے عوام اور بائیں بازو کو افغان زرعی اصلاحات اور پشتون و بلوچ تحریکوں کی حمایت پر ہموار کرنا تھا، جبکہ روسی سروس ماسکو ریڈیو اور ایجنسی 'تاس' کے تعاون سے افغانستان میں موجود سوویت فوجیوں کے لیے روسی ترانے اور سوویت افغان دوستی کا بیانیہ نشر کرتی تھی۔ 1992ء سے 1996ء کی خانہ جنگی میں عمارت پر بمباری سے نایاب ریلز ضائع ہوئے، اور 1996ء میں اسٹوڈنٹس نے ریڈیو کا نام "شریعت ږغ" رکھ کر موسیقی پر پابندی لگا دی اور ہزاروں کیسٹیں توڑ دیں۔ تاہم، عبد الکریم پاکزاد اور تکنیکی عملے نے اپنی جان پر کھیل کر ہزاروں ماسٹر ٹیپس کو اسٹوڈیو کی دیواروں کے پیچھے چھپا کر محفوظ رکھا۔ 2001ء کے بعد امریکی لائبریری آف کانگریس، یورپی یونین اور یونیسکو کی مدد سے ظاہر شاہ، داؤد خان، ترہ کی، امین، اور نجیب اللہ کی تاریخی تقاریر اور استاد سرآہنگ و احمد ظاہر کی نایاب موسیقی کو ڈیجیٹل فارمیٹ اور کلاؤڈ سرورز پر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا گیا۔ اس قسط کی زیادہ تر مواد طلوع نیوز کی ڈاکومنٹری کے مرہونِ منت ہیں۔ تاہم اسلم وطنجار کی وہ مختصر گفتگو کی آواز کے زریعے جو خونی دروازہ کھول دیا تھا وہ آج دہائیوں تک جاری ہے ترتیب باچا نگرام

 Radio Kabul history of 100 years  ثور انقلاب قسط 171 ٹور انقلاب اور ریڈیو کابل  یہ آواز   27 اپریل 1978ء (7 ثور ) کی شام کے وقت میجر اسلم وطنجار کی ہے  جو ریڈیو کابل پر نشر ہوئی ، جنہوں نے عسکری انقلابی کونسل کا اعلامیہ پڑھتے ہوئے اعلان کیا تھا:  "ہم وطنو، عزیزو! دھیان اور توجہ دیجیے!  مسلح فوجی وطنجار کی طرف سے عسکری انقلابی کونسل کا اعلامیہ سنیے۔ تاریخ میں پہلی بار سلطنت، ظلم، استبداد اور نادر خان کے خاندان کے شخصی اقتدار کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور تمام ریاستی اقتدار عوام کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔ تمام حکومتی اختیارات عسکری انقلابی کونسل کے پاس ہیں۔ پیارے ہم وطنو! آپ کو خبر دی جاتی ہے کہ انقلابی کونسل کی جانب سے اعلان کر دیا گیا ہے کہ ہر جگہ انقلابی محافظ تیار کیے جا رہے ہیں۔ انقلابی کونسل کی ہدایات اور احکامات کی پابندی کریں اور جلد از جلد عسکری انقلابی مراکزی ہدایت پر عمل کریں"۔ ابھی سردار داؤد زندہ تھے اور انہوں نے یہ خبر سنی ریڈیو پر سنی اور آگلے دن بچوں سمیت قتل کردیے گئے ۔ افغانستان میں ریڈیو کا قیام اصل میں غازی امان اللہ خان کے دور میں...
Recent posts

Lyrics of Pashto Song Ogora Dab Dab Zama..

 Lyrics of Pashto Song Ogora Dab Dab Zama.. وګوره دبدب زما سل مې پۀ اردل کښې ځي سل مې غلامان دي، سل اسونه پۀ سل لارې ځي سل پکې ریبارې ځي سل مې محلونه دي سل مې برجلونه دي سل پکښې ډالونه دي سل پرې اویزانې کټارۍ دي د غضب زما وګوره دبدب زما سل دي جلادیان پکښې سل دي دورانچیان پکښې سل دي نوکران پکښې سل می لګیدلي خنجرونه پۀ اوربل کښې ځي سل مې په اردل کښې ځي سل دي سهیلۍ زما سل ګډې، چیلۍ زما سل پړي، سیلۍ زما سل مې کيجاوې د سلو سترګو راته دارې ځي سل پکې ریبارې ځي سل مې صفتونه دي سل مې نوبتونه دي سل مې جماتونه دي سل مې شجرې دي، سل کتابه د نسب زما وګوره دبدب زما سل مې سفیرۍ کوي سل زمیندارۍ کوي سل مې نوکرۍ کوي سل مې پۀ قولبو پسې جامبړي پۀ غوبل کښې ځي سل مې پۀ اردل کښې ځي سل مې ماشومانې دي سل پکښې ځوانانې دي سل مې بوډۍ ګانې دي سل مې مخکښې وروستو، سل کم عقلې، سل هوښیارې ځي سل پکښې ریبارې ځې سل پۀ زړۀ زخمونه مې سل سل پرهرونه مې سل قسمه دردونه مې سل ځله غوسېږي زړهٔ نادان دے بې ادب زما وګوره دب دب زما سل یې اداګانې دي سل یې جفاګانې دي سل یې خنداګانې دي سل یې ښائستونه اننګو له پۀ ول ول کښې ځي سل مې پ...

Word Khan origin and historical evolution in Urdu

 کلام اکبر سیال غږ خالد خان  خان" لفظ کی حقیقی تاریخ ۔۔۔۔ خان کا لفظ موجودہ زمانے میں اکثر مشرقی ممالک مثلا افغانستان , پاکستان, وسطی ایشیا, ایران, ہندوستان اور ترکی میں بکثرت استعمال ہوتا ہے. اس لفظ کے بارے میں مختلف علماء اور مورخین نے بہت کچھ لکھا ہے اور اپنی رائے پیش کی ہے جن میں سے چند ایک کا ہم یہاں زکر کیے دیتے ہیں: نفسینی ڈکشنری کے مولف لکھتے ہیں کہ  " خان ترک زبان کا لفظ ہے اور چین, ترکستان و تاتارستان کے بادشاہوں کا لقب ہے جس کے معانی امیر, رئیس اور بیگ کے ہیں نور اللغات میں خان لفظ کی یہ تعریف بیان ہوئی ہے " یہ لفظ قدیم ایام میں ترکستان کے بادشاہوں کا لقب تھا لیکن موجودہ زمانے میں امراء و رووساء کے مابین مشہور ہے." امریکی دائرہ المعارف کے مطابق: " خان ابتدائی ادوار میں ترکستان میں کاروان یا قافلے کے سربراہ کو کہتے تھے. بعدا یہ لفظ مشرقی ایشیائی ممالک کے سربراہان کے لیے مستعمل رہا." خان صد فیصد ترکوں کا لقب ہے, اگر ہم تاریخ پر غور کریں تو خان کا لفظ اولین دفعہ ترک بن یافث کی پانچھویں پشت پر "باقوی خان" کے نام میں ملتا ہے جس کے بعد ان کی...

29 سالہ انتظار ختم۔ عبد الجبار کہ میرٹ پر تعیناتی

 29 سالہ انتظار ختم، عبدالجبار کی میرٹ پر عارضی تعینات منقول  استا محمد کے عبدالجبار کی داستانِ صبر و امید، کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کا میرٹ پر مبنی اقدام  عبدالجبار نے 1997ء میں پٹواری کا کورس مکمل کیا تھا۔ دورانِ کورس ان کے والد کا انتقال ہوگیا، تاہم تدریسی عمل اور امتحانات کی مجبوری کے باعث وہ اپنے والد کا آخری دیدار بھی نہ کرسکے۔ والد کی جدائی کے صدمے کے ساتھ انہوں نے پٹواری کی ڈگری حاصل کی، مگر سرکاری ملازمت کا خواب پورا ہونے میں 29 سال لگ گئے اس دوران عبدالجبار نے ملازمت کے حصول کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں، مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگائے اور طویل انتظار و مشکلات کا سامنا کیا، تاہم امید کا دامن نہیں چھوڑا گزشتہ روز عبدالجبار ضلع استا محمد سے کمشنر نصیرآباد ڈویژن کے دفتر پہنچے۔ وہ عارضی بنیادوں پر ہونے والے انٹرویوز کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے آئے تھے۔ مالی مشکلات کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے پاس استا محمد سے ڈویژنل ہیڈکوارٹر تک سفر کے لیے موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلوانے کے بھی پیسے نہیں تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی کی سونے کی بالی فروخ...

Arabs at war in Afghanistan" by Mustafa Hamid

 سوویت یونین کے دسمبر 1979ء میں افغانستان پر حملے سے قبل عرب دنیا میں رُونما ہونے والے متعدد سیاسی و مذہبی واقعات نے ایسے حالات پیدا کیے  جنہوں نے عرب نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو افغانستان میں نام نہاد جہاد کی جانب راغب کیا اور پشاور کو عالمی جہادی گڑھ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسرائیل کے ہاتھوں عرب ریاستوں کی پے در پے شکستیں، مصر کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا اور اسلام پسند تنظیموں کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن، حافظ الاسد کی شامی حکومت کا اخوان المسلمین پر شدید تشدد، اسرائیل کا لبنان پر حملہ، خانۂ کعبہ پر مسلح گروہ کا قبضہ، جنوبی یمن میں کمیونسٹ حکومت کا قیام اور ایران میں آیت اللہ خمینی کا انقلاب، اِن تمام واقعات نے عرب نوجوانوں میں سیاسی و مذہبی بے چینی کو گہرا کیا۔  چنانچہ افغانستان میں سوویت یونین کے قبضے کے خلاف ایک بین الاقوامی پراکسی جنگ کے آغاز نے اِن جذبات کو عملی رخ دیا اور اپنے ممالک کے سیاسی و سماجی نظام سے نالاں متعدد عرب نوجوان پشاور پہنچے جہاں انہوں نے افغانستان جانے اور اس جنگ میں حصہ لینے کے لیے اپنے ڈیرے ڈال لیے۔ بے نظیر بھٹو کی پہلی دور حکومت میں سا...

Babrak Khan Zadran. A Hero of Afghan War.

 افغانستان میں زمانہ قدیم سے ایک فتوت وجانبازی کی بنیاد پر ایک طبقہ پالوچ/ښپه لوڅ يعنې ننگے پیروالاپایاجاتاتھا  یہ لوگ جانبازی دکھانے کےلئے ہرحدتک جاتے تھے جس میں ہاتھ میں انگارے پکڑنا ایک عام مظاہرہ ہوتاتھا جس میں گوشت تک پگھل جاتا مگر انکے منہ سے اف نہیں نکلتا تھا ببرک خان جدران پکتیا کے اسردار بھی پالوچ تھے.  انکی تصویر عموما لیاقت علی خان کے قاتل کے طور پر پیش کی جاتی ہے مگر یہ 1925میں امان اللہ غازی حکومت کے خلاف ایک بغاوت کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے تھے  ببرک خان زدران  کو امانی دور میں لوگ "پالوچ جنرل" کہتے تھے۔  وہ ہمیشہ ننگے پاؤں رہتا تھا۔ ایک دن وہ امیر امان اللہ خان کے دربار میں آیا تو امان اللہ خان نے اس سے پوچھا:   "تم بڑے پکتیا کے مشہور سردار ہو، ننگے پاؤں کیوں گھومتے ہو؟"   اس نے جواب دیا: "میں قوم کا سردار ہوں اور جب میری قوم کے لوگ ننگے پاؤں گھومتے ہیں تو میں اپنے آپ کو جوتا پہننے کا حق نہیں دیتا!" ببرک خان، مزاک خان زدران کا بیٹا تھا جو 1862ء میں خوست میں رہتا تھا۔ اس وقت سرحدوں پر انگریزوں کے خلاف مزاحمت شروع ہو چکی تھی...

سانس بند کرنے والے دیسی مہینے بھادوں کا آغاز 16 اگست سے

 سانس بند کرنے والے دیسی مہینے بھادوں کا آغاز 16 اگست سے ہو گا۔ حبس والی گرمی 15 ستمبر تک جاری رہے گی۔۔ *بھادوں کی حیرت انگیز معلومات* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 16 اگست سے شروع ہونے والا پنجابی مہینہ بھادوں اور اُسکی دلچسپ روایات بھادوں پنجابی اور نانک شاہی کیلنڈر کا چھٹا مہینا ہے جو ساؤن کے بعد آتا ہے اور آٹھویں انگریزی مہینے اگست کی 16 تاریخ سے ستمبر کی 15 تاریخ تک رہتا ہے اور اس مہینے کے 31 دن شمار کیے جاتے ہیں۔ بھارتی اور پاکستانی پنجاب میں ساؤن اور بھادوں بارشوں کے مہینے ہیں جس میں مُون سُون کی بارشیں ہاڑ یعنی جون اور جولائی کی شدید گرمی کے بعد گرمی کا زور توڑ دیتی ہیں اسی لیے بھادوں کو پنجاب میں اچھے موسم والا مہینہ جسکی گرمی برداشت کے قابل ہوتی ہے تصور کیا جاتا ہے۔  "بھادوں بارش کا مہینہ انتہائی خوبصورت مہینہ ہے اور ساؤن اور بھادوں رحمت والے مہینے ہیں جس میں بادل نیچے اُترتا ہے اور تیز بارش برساتا ہے جس سے پانی اور زمین شہد سے بھر جاتے ہیں اورخالق زمین پر گھومتا ہے”۔ روایات میں ہے کہ پنجابی کے 12 مہینوں کے نام گیاراں بھائیوں (ویساکھ، جیٹھ، ہاڑ، ساون، اسو، کتک، م...

Bakht e Rahman of Swat.

 لوگ شیکسپیئر کی بات کرتے ہے ۔۔جس نے انگریزی کو نہ صرف 1700 نںے الفاظ دییے ۔۔بلکہ بہت سب کچھ دیا ۔۔ تو دوسری طرف پشتو زبان کا عظیم ترین ڈرامہ نگار، شاعر، فلسفی، صوفی، نثر نگار، essayist، ماہر اقتصادیات فلکیات نفسیات و لسانیات، لوگوں کے دل کا اکلوتا بادشاہ، دل جلے، دل زخمی، دل اجھاڑ ، دل خوشگوار، دل خوش فہم( The great bakhti Rehman )  بختی رحمان  لوگوں کے درمیان شہرت رکھنے والا ہے ۔۔ بختي رحمان... د خپلو لفظونو خاوند نوټ: دا ليکنه صرف د مزاح دہ پارہ  ده. دہ علمی آؤ تحقیقی کار سرہ یی تعلق نشتہ △ ډبل بېډ (انگریزی Double Bed) → (دہ درینجیدلو کٹ) △ بې‌وفا →( لوغڑنہ چرګه) △ ډرون کیمرہ → (پلاسٹیکی سيزه‌کې) △ قهقهه وهل →( شېشنېدل) △ د پوليسو ګاډی →( پيپسي کولا ګاډی) △ بہترینہ خبری کول→ (پېنسي کړي مېلس) △ اخوا دېخوا →( انګه پېچه) △ بہترین جواب → (شوړه کړی جواب) △ قابل بچی → (مغوړی) △ بېکاره انسان →( لوړ پوکې) △ مشهوره ښځه →( آپړې دوپړې شانه ترور) △ د پنجاب علاقہ → (صابونۍ خاوره) △ شور جوړول او خلک تنګول →( بازار ګرمي) △ اخوا دیخوا→( اړته پڑته) △ لوفر د امير پلار نازولی زوی → ...

Books to read about Afghanistan wars. Yousaf Anwar

Books to read about Afghanistan wars. Yousaf Anwar  افغانستان کے عوام پر کیا گزری لازمی ہے کہ ہم سب اس بارے میں گزشتہ پچاس برسوں کے دوران ہونے والے واقعات اور المیات کے بارے میں تاریخی حقائق کا مطالعہ فرمائیں  حالانکہ درج ذیل کتاب کے پہلے ایڈیشن شائع ہونے کے بعد پڑھ لیا تھا لیکن اب صورتحال مختلف ہونے کے باوجود دوبارہ مطالعہ کر رہا ہوں  اس کے علاؤہ دیگر کتابیں ڈھونڈ رہا ہوں  میرے لاڈلے دہشت گرد پروفیسر  Muhammad Ismail  کی مہبربانی سے درج ذیل کتب مل گئی ہیں: Afghanistan  The Bear Trap  By  Brig. Mohamed Yousaf & Mark Adkin  The Afghanistan File  By  Prince Turki Alfaisal AlSaud  The Tragedy of Afghanistan  By  Raja Anwar  The Search for Peace In Afghanistan  By  Barnett R. Rubin  The Fragmentation of Afghanistan  By  Barnett R. Rubin  The Wrong Enemy  By  Carlotta Gall  اس سلسلے میں  احمد رشید کی مشہور کتاب  Taliban  ڈھونڈ رہا ہوں یہ سب کتابیں می...

مفتی منیر شاکر کی زندگی

 حاجی نامدار آفریدی کا تعلق خیبر ایجنسی کے وادی تیراہ سے تھا، سن 2003ء میں سعودی عرب سے واپس آنے کے بعد خیبر ایجنسی میں اُس نے "امر باالمعروف و نہی عن المنکر" کے نام سے ایک تنظیم بنائی، جس کا مقصد شریعت کا نفاذ، معاشرتی برائیوں کا خاتمہ اور سماجی نظام کو اسلامی قوانین کے ماتحت کرنا بتایا گیا۔ حاجی نامدار کے تحریک پر افغان طالبان کے طرزِ فکر کے اثرات نمایاں تھے۔ تنظیم نے مقامی تنازعات کے فیصلے کرنے، جرائم کے خلاف کارروائی کرنے اور اپنی طرز پر عدالتی نظام چلانے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو ہم خیال بنانے کےلئے ایک ایف ایم ریڈیو بھی کھولا جس پر شریعت کے نام پر پروپیگنڈہ اور اسلام کی سخت گیر تشریح کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو دھمکایا بھی جاتا تھا۔ اُن دنوں مفتی منیر شاکر کو فرقہ ورانہ خیالات رکھنے کی وجہ سے کُرم ایجنسی سے نکالا گیا تھا۔ حاجی نامدار نے مفتی منیر شاکر کو خیبر ایجنسی میں اپنے ہاں پناہ دی اور اُنہیں اپنے ریڈیو کا نگران بنایا۔ مفتی منیر شاکر نے ریڈیو پر شریعت کے نام پر پروپیگنڈہ کرنے اور جذباتی تقاریر سے بہت کم عرصے میں مقامی لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ اُن دنوں خیبر کے ...