مریض کمر درد لے کر ڈاکٹر کے پاس پہنچا۔ ڈاکٹر نے پوچھا اتنا شدید درد کیسے شروع ہوا، آیا کوئی چوٹ آئی۔؟؟ مریض بولا، "میں موبائل فون سروس سنٹر پر رات بھر ڈیوٹی کر کے صبح سحری وقت سے پہلے گھر پہنچا۔ بیڈ روم سے کچھ مشکوک آوازیں سنائی دیں۔ مجھے شک ہوا۔ میں بھاگ کر بیڈ روم میں گھسا۔ وہاں میری بیوی کے سوا کوئی نہیں تھا۔ میں نے تیزی سے بالکونی سے نیچے جھانکا۔ ایک آدمی کپڑے پہنتا بلڈنگ سے باہر کو بھاگا جا رہا تھا۔ میں نے تیزی سے فریج اٹھا کر نیچے اس پر دے ماری۔ یوں کمر کو درد شروع ہو گیا۔" وہ ابھی موجود تھا کہ ایک اور مریض پہنچا۔ اس کی حالت ایسی تھی جیسے کسی گاڑی سے ٹکرا گیا ہو۔ ڈاکٹر نے فوراً اسے ایمرجنسی میں ڈالا اور حادثہ کی نوعیت پوچھی۔ مریض بولا، "صبح دفتر وقت سے پہلے پہنچنا تھا۔ جو نہی سحری جاگا بھاگم بھاگ الٹے سیدھے کپڑے پہنتا اپارٹمنٹ سے نکلا ہی تھا کہ جانے کہاں سے میرے اوپر ایک فریج آ گری۔" ڈاکٹر ابھی پریشان ہو ہی رہا تھا کہ ایک اور مریض جو انتہائی بھیانک حالت میں تھا، پہنچا۔ ڈاکٹر نے پوچھا کیا ہوا تو بولا، "کچھ نہیں، بس فریج میں بیٹھا تھا کہ کسی نے فریج اٹھا ...
امیر امان اللہ خان کے بعد، ان کے بھائ افغانستان کے امیربن گئے تھے اس تصویر میں سردار عنایت اللہ خان وطن سے نکلنے کے وقت۔ 1929ء کابل دکھائے گئے ہے ماخذ:پاکستان کی وزارت دفاع کی ویب سائٹ غازی امان اللہ کی جگہ سردار عنایت اللہ کو امیر بنانے کا مطالبہ شنواری اور خوبانی باغی کررہے تھے جو بروقت نہیں مانا گیا جسکی وجہ سے رفتہ رفتہ بچہ سقہ کی قوت میں اضافہ ہوتا گیا آخروقت میں غازی امان اللہ کے جانے کے بعد انکو امیربنایاگیامگر پھر بات نہیں بنی باغی کابل تک پہنچ چکے تھے غالب امکان ہے کہ سردار عنایت اللہ خان کا یہ فرار افغان اور برطانوی تاریخ میں فضائی انخلا کا پہلا آپریشن تھا، جس میں 586 افغان حکام کو 84 پروازوں میں ملک سے نکالا گیا۔ ان آپریشنز کی قیادت سر ایولاچپمین، نامی انگریز افیسرکے ذمے تھی، اور سردار عنایت اللہ خان کے طیارے کا نام "وِکٹوریا" تھا۔ دوسری تصویر سردار عنایت اللہ خان کی ہے... سیف لودھین سے بہ اضافہ وتصحیح