حکیم بابر اور صائمہ کیس کا مکمل پوسٹ مارٹم حکیم بابر اور صائمہ کیس: روایتی حکمت بمقابلہ جدید میڈیکل سوشل میڈیا پر حالیہ "حکیم بابر اور صائمہ کیس" نے جہاں عوام کی توجہ حاصل کی، وہیں یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ ہمیں اپنی صحت کے لیے کس طریقہ علاج پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ حکیم بابر کا حکمت کی جانب واپس بلانے کا نظریہ اپنی جگہ، لیکن اس واقعے نے ایک تلخ حقیقت کو بھی آشکار کیا ہے۔ جب حکیم صاحب خود زہر خوانی (poisoning) کا شکار ہوئے، تو وہ طبی امداد کے لیے کسی حکمت کے مرکز کے بجائے جدید ہسپتال اور مستند ایلو پیتھک (Allopathic) ڈاکٹروں کے پاس گئے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایمرجنسی اور پیچیدہ طبی مسائل میں جدید سائنس، کلینیکل ٹرائلز اور ٹیسٹ شدہ ادویات ہی انسانی جان بچانے کا سب سے محفوظ ذریعہ ہیں۔ ہمیں اپنی ثقافتی ورثے اور حکمت کی قدر کرنی چاہیے، مگر صحت جیسے حساس معاملے میں جدید طبی سہولیات سے استفادہ کرنا نہ صرف عقلمندی ہے بلکہ ہماری ذمہ داری بھی ہے۔ The Hakeem Babar & Saima Case: Traditional Wisdom vs. Modern Medical Science The viral ...
سویت افغان جنگ کے دوران سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی، جی ائی ڈی کے سربراہ رہنے والے پرنس ترکی الفیصل اپنی کتاب "دی افغان فائل" میں لکھتے ہے کہ جب سویت یونین نے افغانستان پر حملہ کرلیا تو پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق نے کچھ دنوں بعد آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اختر عبدالرحمان کو مجاہدین کےلئے مالی اور عسکری مدد حاصل کرنے کےلئے ریاض بھیجا۔ جنرل اختر نے ریاض میں دو دن گزارے، بادشاہ شاہ خالد اور ولی عہد شاہ فہد سے ملاقات کی اور ہم نے فوراً مدد دینے کا فیصلہ کیا۔ پرنس ترکی الفیصل مزید رقمطراز ہے کہ جنرل اختر کے ریاض سے واپس جانے کے دو دن بعد میں نے اپنے چیف آف سٹاف احمد بدیب کو دو صندوقوں میں دو ملین ڈالرز نقد لئے ہوئے اسلام آباد بھیجا۔ یہ رقم 100 کے نوٹوں میں تھی، کل 20,000 نوٹ۔ رقم کو نقد بھیجنے کی وجہ یہ تھی کہ شروع سے ہم، پاکستانی اور امریکن یہ نہیں چاہتے تھے کہ افغان مجاہدین کےلئے ہماری امداد کا سراغ لگایا جاسکے۔ اور تمام 100 کے نوٹ بھیجنے کی وجہ یہ تھی کہ ہم سب کو معلوم تھا کہ 100 کے نوٹ مجاہدین کےلئے خاص کشش رکھتی تھی۔ کتاب میں مزید لکھا ہے کہ احمد بدیب ڈالرز سے بھرے صندوقوں ...