جمعہ، 12 جون، 2020

کرونا کے متعلق اپ کے سوالات اور ماہرین کے جوابات



اگر آپ کرونا سے متاثر ہوچکے ہیں تو آپ کے خوفزدہ ہونے والی علامت صرف ایک ہے۔۔۔ سانس لینے میں دقت ۔اگرچہ اس میں بھی بہت کم لوگوں کے سیریس ہونے کا امکان ہے۔ لیکن زیادہ پریشانی کا شکار ہوں تو ایک ایکسرے آپکی بیماری کو واضح کرنے کیلئے کافی ہے۔۔
آپ کو کتنا تیز بخار ہے یا پھر کس قدر کمزوری ہے۔ نقاہت کا شکار ہیں یا پھر آپکا جسم درد سے بار بار ٹوٹ رھا ہے۔ سونگھنے کی حس کمزور ہوگئی یا منہ میں ذائقہ نہیں آرھا۔۔ یہ سب علامات چند دن میں ٹھیک ہوجائیں گی۔ ان شاءاللہ

اگر کوئی ایک بار وائرس کا شکار ہوگیا تو اسے دوبارہ یہ بیماری نہیں لگے گی۔۔
لیکن جیسے خسرہ کا ٹیکہ لگنے کے باوجود کچھ بچوں میں خسرے کی علامات آجاتی ہیں۔۔ جیسے چکن پاکس ہونے کے بعد بھی کچھ مریضوں میں دوبارہ علامات دیکھنے کو ملتی ہیں۔۔ ایسے ہی کرونا سے بھی کوئی شخص دوبارہ متاثر ہوسکتا ہے۔۔ لیکن بیماری کی شدت انتہائی کمزور ہوگی

کرونا سے متاثرہ مریض میں بروفن کے استعمال سے بیماری کے بڑھنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔۔ بخار میں پیرا سیٹامول کو ہمیشہ ترجیع دی جاتی ہے کہ اس کا زیادہ دن تک استعمال محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ معدے کے مسائل کم سے کم ہوتے ہیں۔ بروفن سمیت درد کی دوسری ادویات استعمال کی جاسکتی ہیں۔ لیکن ڈاکٹر کے مشورے سے

ماسک کی وجہ سے ہونے والے کسی ایک حادثے کو بنیاد بنا کر اس کی افادیت اور اہمیت پر سوالیہ نشان نہیں اٹھائے جا سکتے ہیں۔ماسک پہننا مشکل کام ضرور ہے لیکن اس کے لگاتار استعمال سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ ہاں! دوڑتے وقت یا پھر ایکسرسائز کے دوران پہننے سے گریز کریں۔

اگر آپکو بتایا جاتا ہے کہ وائرس چھپن ڈگری تک زندہ رہ سکتا ہے یا جسم سے نکل کر پانچ فٹ دور تک پہنچ کر بھی نہیں مرتا ہے یا پھر کپڑے پر چوبیس گھنٹوں کے بعد بھی زندہ رہ سکتا ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہر وائرس اتنی برداشت رکھتا ہے۔۔ یہ زیادہ سے زیادہ برداشت ہے۔۔اور یاد رکھیں وائرس کو زندہ رہنے کیلئے انسانی رطوبت اور سازگارماحول درکار ہوتا ہے اور جسم سے باہر نکلتے ہی وہ کمزور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اور جتنی دیر جسم سے باہر رہے گا اس کی نقصان پہنچانے کی صلاحیت کم ہوتی چلی جائے گی۔۔
اس وجہ سے بار بار کہتا ہوں اتفاقا وائرس لگ جائے تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن وائرس لینے خود نہ جائیں۔کیونکہ اتفاقا لگنے والا وائرس عموما کمزور ہوتا ہے۔

عام فلو اور کرونا کے فلو کے درمیان فرق ڈھونڈنا کافی مشکل ہے۔ لیکن اب تک جو علامات دیکھنے میں آرہی ہیں ان کے مطابق چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں بعد کرونا کے فلو میں ناک اور گلے میں خشکی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ منہ سوکھنے لگتا ہے۔ ناک کی سونگھنے کی حس کمزور ہونے لگتی ہے۔ منہ کا ذائقہ خراب ہونے لگتا ہے۔۔ سردی کا احساس اور جسم میں درد عام فلو کی بنسبت زیادہ ہوتا ہے۔۔عام فلو میں ناک بہنے لگتا ہے اور عموما گلے میں ریشہ گرنے کی شکائیت شروع ہوجاتی ہے۔۔ جبکہ کرونا کے فلو میں ناک خشک ہوجاتا ہے اور ناک گلے اور سانس کی نالی کی رطوبتیں نارمل سے بھی کم ہوجاتی ہے۔ بلکہ کچھ مریضوں کے الفاظ ہیں کہ کرونا سے صحت یاب ہونے کے بعد ان کا دائمی نزلہ ٹھیک ہوگیا ہے۔

وائرس سے ہونے والی انفیکشن کو کئی بار جسم کا دفائی نظام اس قدر تیزی سے قابو پاتا ہے کہ شدید علامات چند گھنٹوں میں ختم ہوجاتی ہیں۔ اس لیئے اپنی ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر علاج کے حوالے سے حتمی نتائج اخذ کرنے سے گریز کریں۔۔
یہی وجہ ہے کہ وائرس کے خلاف جتنی بھی ادویات مارکیٹ ہوئی ہیں۔ ان کے بارے یقین سے نہیں کہا جاتا کس حد تک موثر ثابت ہونگی۔۔ کیونکہ اس بات کا تعین کرنا کہ دوائی کے اثرات ہیں یا پھر جسم کی قوت مدافعت۔ ایک بہت مشکل فیصلہ ہے۔۔۔
ثنامکی کے بارے کسی کو یہ نہیں معلوم کہ یہ وائرس کے خلاف کام کرتی ہے یا پھر پھپھڑوں کی متاثرہ صلاحیت کو بہتر بناتی ہے؟ وائرس کو مارتی ہے یا قوت مدافعت بڑھاتی ہے؟ جب ایک دوائی کے بارے بنیادی معلومات ہی دستیاب نہیں تو اس کے بارے کوئی بھی حتمی بات کردینا قبل از وقت ہوگا۔
سانس کو بہتر کرنا، پھپھڑوں کی مدد کرنا اور کرونا کے خلاف لڑنا دو الگ الگ باتیں ہیں۔

ماسک کے حوالے سے ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ این 95 ماسک کے سوراخ 300 نینو میٹر ہوتے ہیں۔ جبکہ وائرس کا سائز 60 سے 160 نینو میٹر ہوتا ہے۔اگر این 95 کا یہ حال ہے تو ایک عام ماسک وائرس کو کیسے روک سکتا ہے۔؟
وائرس کبھی قطار بنا کرجسم سے باہر نہیں نکلتا۔ اور نہ ہی تنہا جسم سے باہر زندہ رہ سکتا ہے۔ بلکہ جسم کی رطوبتوں کے چھوٹے چھوٹے قطروں کی شکل میں جسم سے باہر نکلتا ہے۔ جہاں ہر قطرے میں ہزاروں سے لاکھوں کی تعداد تک وائرس ہوسکتا ہے۔اور یوں قطروں کا سائز عموما دو ہزار نینو میٹر سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔۔۔ اس لیئے ایک عام سرجیکل ماسک بھی اسی فیصد تک وائرس کو روک لیتا ہے۔۔

چلتے چلتے پلازمہ ڈونیشن کے حوالے سے۔۔

خون کے دو حصے ہوتے ہیں۔۔ سرخ خلیئے، سفید خلیئے اور پلیٹلیٹس مل کر خون کا ایک حصہ بناتے ہیں اور دوسرے لیکوئیڈ حصے کا نام پلازمہ ہے۔۔خون کے پچپن فیصد اس حصے میں جسم کی ضرورت کی ہر چیز ہوتی ہے۔۔ جیسے پروٹین، ہارمومز، نمکیات خون کو جمانے والے اجزا جسم کے دفاعی نظام والی انٹی باڈیز وغیرہ۔۔
جب ہم کسی وائرس سے متاثر ہوتے ہیں تو جسم اس وائرس کے خلاف انٹی باڈیز بناتا ہے۔ جو وائرس کے جسم سے چلے جانے کے بعد بھی پلازمہ میں موجود ہوتی ہیں۔۔ اب اگر یہ انٹی باڈیز ہم پلازمہ سے نکال کر کسی مریض کے اندر منتقل کریں گے تو اس کی قوت مدافعت ایک دم سے بڑھ جائے گی اور اس کے ٹھیک ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے اور بیماری کا دورانیہ کم جائے گا۔۔۔

ڈاکٹر مبشر سلیم

کرونا
ایک سوال جو بار بار پوچھا جا رھا ہے۔۔

اگر آپ یا آپ کے گھر کے کسی فرد میں کرونا کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ توبیمار کو گھر میں الگ کر دینے کا اب کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ بیماری کی علامات وائرس لگنے کے چار دن سے چودہ دن بعد سامنے آتی ہیں۔ اور اس دوران وہ سب کو لگ چکا ہوتا ہے۔۔

اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔بس اتنی سی احتیاط کرلیں کہ یہ پوری فیملی کسی دوسرے گھر جائے اور نہ کسی دوسری فیملی کو اپنے گھر آنے دے۔۔
اگر آپ کے گھر کا فرد کسی دوسرے شہر گیا ہوا تھا اور وہاں اسے کرونا کی علامات ظاہر ہوگئی ہیں تو اسے اب وہیں رکنا چاہیئے۔

گھر میں اکیلی فیملی رہ رہی یا جوائنٹ فیملیز۔۔
ایک اصول سمجھ لیں بیماری ظاہر ہونے کے بعد جو جہاں ہے وہاں رک جائے۔اور اس اصول کو اپنا لیں۔۔
ہم بیماری کو روک نہیں سکتے ہیں لیکن اس کے پھیلائو کو سلو کر سکتے ہیں۔۔

زندگی کے معمولات جاری رکھیں۔ ماسک کے ساتھ گھر سے باہر جائیں۔ ضروری سامان خریدیں۔۔اپنی فیملی کے ساتھ خوب وقت گزاریں۔
بس اپنی سوشل لائف منقطع کر دیں۔دوستوں اور رشتہ داروں سے ایک ماہ کیلئے دور ہوجائیں۔۔

اس میں کوئی شک نہیں باوجود احتیاط کے لوگوں کو وائرس لگ رھا ہے۔ اور لگ بھگ ہر شخص کو لگ جانا ہے۔۔ لیکن اس کو خود منتقل کریں اور نہ اس کو جاکر لیکر آئیں۔ جو احتیاط ہم کر سکتے ہیں اتنی کرتے رہیں ۔
اور یہ ہماری اخلاقی ذمہداری ہے۔

ڈاکٹر مبشر سلیم

میری اس مشورے سے بہت سے ڈاکٹر اتفاق نہیں کریں گے ۔کیونکہ ان کے خیال میں سائنسی اصولوں کے خلاف ہے۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم حالت جنگ میں ہیں۔ ہم نے ہر ممکن کوشش سے اپنے نقصان کو کم کرنا ہے۔اس کیلئے ہر وہ لائحہ عمل اپنانا ہوگا کہ جو قابل عمل ہو۔ جس وائرس کو ہم بارڈر پر نہیں روک سکے جس کو ہم شہروں میں داخلے سے نہیں روک ، جس کو ہم پھیلنے سے نہیں روک سکے۔۔ اور ایسے بے شمار لوگ متاثر ہوئے جنہوں احتیاط بھی مکمل کی۔۔ لیکن پھر بھی متاثر ہوگئے۔۔ تو ان کو ایک ہی گھر میں آئسولیٹ کرنے سے کیسے روک سکتے ہیں؟ میرا یہ نقطہ ہے کہ ہم اسکو چھوٹے کیبن بنا کرروکیں۔۔ یا ان کیبن کے ذریئے سلو کریں۔۔۔

مضبوط قوت مدافعت ضروری کیوں؟

کوئی بھی وائرس جب جسم میں داخل ہوتا ہے تو اس کے بعد جہاں وائرس اپنی کاپیاں بنانا شروع کر دیتا ہے۔ اور تیزی سے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہیں پر جسم کا دفاعی نظام اس پر قابو پانے کوشش شروع کر دیتا ہے۔۔۔ اب اگر دفاعی نظام اس کو اپنی کاپیاں بنانے سے پہلے ہی نکال باہر کرے تو آپکو علامات بھی نہیں ملتی ہیں اور آپ تندرست ہوجاتے ہیں۔۔۔

اور اگر وائرس زیادہ داخل ہوجائے اور جسم کے دفاعی نظام کو اس پر قابو کرنے میں کچھ وقت لگ جائے تو آپ کو بخار درد کھانسی جیسی علامات آنا شروع ہوجاتی ہیں۔۔ اب اگر دفاعی نظام وائرس پر قابو پا لیتا ہے تو دو چار گھنٹوں سے لیکر چند دن میں آپکی علامات ختم ہوجاتی ہیں۔۔ لیکن اگر دفاعی نظام اس پر قابو پانے میں یکسر ناکام ہوجائے تو پھر مریض کے سیریس ہونے سے لیکر موت تک کے نتائج سامنے آتے ہیں۔۔

اب جتنا کم وائرس جسم میں جائے گا ۔۔ جسم کا دفاعی نظام اتنا جلد اور آسانی سے وائرس پر قابو پائے گا۔۔ اس لئے بار بار ماسک کی اہمیت کو بیان کیا جاتا ہے۔

جونہی وائرس جسم میں داخلے کی کوشش کرتا ہے ۔
جسم کا دفاعی نظام فورا کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔۔
ہمارا دفاعی نظام دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔۔ ایک روایتی ہتھیاروں سے مسلح نظام۔ جونہی کوئی جسم میں داخل ہونی کوشش کرتا ہے تو یہ نظام روایتی اسلحے کی مدد سے اس پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔
اور اس سے قطع نظر وائرس کا نقصان پہنچانے کا انداز کیا ہے اور وہ کتنا خطرناک ہے ، اسے جسم سے نکالنے کی اپنی سی کوشش کرتا ہے۔

دوسرا حصہ پہلے دشمن کی نقصان پہنچانے کی صلاحیت کا اندازہ لگاتا ہے اور پھر اس کے مطابق اسلحہ تیار کرکے اس کو مارنے کی کوشش شروع کرتا ہے۔ اور ساتھ ساتھ
جسم کے کچھ دوسرے نظاموں کو مدد کیلئے بلاتا ہے جو براہ راست تو کچھ نہیں کرتے لیکن دشمن کے خلاف ہتھیار بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

اس دوران جسم کا دفاعی نظام دشمن کو پہچان کر اسکا ایک کوڈ بنا کر میزائل یعنی انٹی باڈیز ٹیگ کرکے جسم میں جمع کرتا جاتا ہے ۔ ۔۔ تاکہ اگر وہ وائرس دوبارہ کبھی حملہ آور ہو تو خودکار نظام کے تحت اس کو اندر ہی نہ آنے دیا جائے۔۔ جس کو ہم ویکسینیشن یا امیونٹی کہتے ہیں۔۔ ۔۔

اس سارے دورانئے میں جراثیم اپنے اپنی تعداد بڑھانے میں لگا رہتا ہے ۔۔ اور جسم کا نظام اس کو مارنے کی ہر تدبیر ڈھونڈتا رہتا ہے۔۔۔
فیصلہ کن جنگ کے بعد جو جیت جاتا ہے ۔ نتیجہ یا تو ہماری بیماری کی شکل میں سامنے آتا اور مریض مسائل کا شکار ہوکر ہسپتال جا پہنچتا ہے یا پھر علامات خود بخود ختم ہوجاتی ہیں۔ اور انسان صحت یاب ہوجاتا ہے۔۔۔

اس لیئے اپنے آپ کو اس وائرس کے خلاف تیار کریں اور اپنی قوت مدافعت کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دیں۔۔ آج نہیں تو کل اس نے آپ تک پہنچ جانا ہے۔ لیکن خیال رہے اس کو لینے خود نہ جائیں۔ غیر ضروری گھر سے مت نکلیں۔ ماسک کو لباس کا حصہ بنا لیں۔

ڈاکٹر مبشر سلیم

جمعرات، 11 جون، 2020

کنفیوشس کے مشہور اقوال

توجہ کا مرتکز کرنا (focus)



کنفیوشس (Confucius) چین کا معروف فلسفی، حکیم اور عالم گزرا ہے۔ اس کی اخلاقیات پر مبنی تعلیم نے نہ صرف چین بلکہ جاپان، کوریا اور مشرق بعید میں زبردست پزیرائی حاصل کی۔

تقریباً 3 ہزار سے زائد افراد اس کے شاگرد رہے اور 70 سے زائد طالبعلموں نے بطور دانشور شہرت پائی۔ (لون یو ) اس کی شہرہ آفاق تصنیف ہے۔ 479 قبل مسیح میں اس معلم اخلاقیات کا انتقال ہوا۔

اس کے اقوال جیمز آرویر نے چینی سے انگریزی میں شائع کیے ہیں۔

اس کتاب میں ایک قول نقل ہوا ہے کنفیوشس کا۔

" دو خرگوشوں کا پیچھا کرنے والا کبھی ایک بھی خرگوش نہیں پکڑ سکتا"

آج ہم میں سے زیادہ تر لوگ یہی کررہے ہیں دو اور کبھی کبھار شاید 3 یا 4 خرگوش بھی پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں نتیجہ کیا نکلتا ہے، تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور ایک بھی خرگوش ہاتھ نہیں آتا۔

اپنی زندگی میں سے غیر اہم اور غیر ضروری چیزیں (خرگوش) نکالدیں، صرف ایک چیز (ایک خرگوش) کا انتخاب کرلیں اور اس کے پیچھے ڈوڑ پڑیں اپنی پوری توجہ ایک ہدف پر رکھیں اسی کے لیے اسٹریٹیجی بنائے

اپنی پوری صلاحیتوں کو یکجا کردیں اپنا ہدف حاصل کرنے کےلئے اسی کو سوچیں اسی کے بارے میں پڑھیں اسی کی مشق کریں اور اسی کے خیالات میں گم رہیں،

آپ کو آپ کی منزل تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا، تھوڑے ہی دنوں میں آپ کو احساس ہوجائیگا کہ آپ اس سے پہلے کیوں ناکام ہوتے رہے بس فوکس فوکس اور فوکس یہی کامیابی کی کلید ہے جو سمجھ گیا اس نے خرگوش پکڑھ لیا جو نا سمجھے ساری زندگی خرگوشوں کا پیچھا کرتا رہے ہاتھ کچھ نہیں لگے گا اپنی ساری توانائی ضائع کربیٹھے گا۔

(تحریر عامر پٹنی)

منگل، 9 جون، 2020

Pashto funny Tapay about Petrol



زما په ټول فیس بک سلام دے
دا می کلام دےچی پټرول به چرته وینه

پټرول ارزان شو ښه ونشو،
الله دي نه کړي چي بجلي ارزانه شینه


خدای دی بوتل پټرول نصیب که
زه درتلے نشمه دعا درته کوومه

زما پټرول پټرول جانانه 
درته بوتل بوتل کیدم ګزار دی کړمه

پټرول پۀ ټول کلي کښې نشته
دسمال راواخله اوښکي پاکې کۀ مئنه

ما سه نژدي نژدي روان ئې 
تا به زما سره پېټرول لیدلې وینه 

پټرول کۀ غيب دې بیا به راشي
بیا به را نۀ شي د جاهلو حکومتونه 

ښۀ ده چې مړ ورپسې نۀ يم 
رانه لېټر پېټرول پۀ لاري واغوختنه 

پیټرول پۀ شان د مسافر شو 
بلها موده اوشوه چې نۀ ئې اوينمه 

ماله بازار کښې غاړه راکړه 
د پېټرول پمپ ته غمازان راغلي دينه 


خداى به مې زړه له تانه تور کړې
بيا که پيټرولو باندې لامبی څه دی کړمه

تۀ د پېټرولو تپوس نۀ کړي
زۀ به پريان پۀ ځان تر کمي راولمه 

ستا د واړي خولګۍ نه ځار شم 
تا د پېټرولو سوال کاو مئین دې کړمه 

پیټرول چې نه وي سلام نه وي
 پیټرول چې ویني بیا سلام ده کور نه کړينه

ټهګې دې وکړه ټهګه یاره 
پیټرول دې يوړه تش بوتل دې پریخودمه 

په پټرول پمپ کی یار نوکر دی
لکه افسر دی سلام هم نه قبلوینه

راشه زما سره یاري کړه
 دهر یوپمپ نه به پیټرول تاله راوړمه 

لېونتوب څنګه وي جانانه
 د روح افزا پۀ ځاے پېټرول درله راوړمه

جانانہ سہ کانی دی اوکڑی 
غیگ کی زما او پیٹرول دریم کلی تہ اوڑینہ

پیټرول پۀ تلو راتلو کمیږي 
مۀ تۀ راځه او نۀ به زۀ درځم مینه


کہ پہ ٹینکرو پیٹرول راوڑے 
خدائیگو کہ درکڑمہ د سرو شونڈو سرونہ 

بوتل تہ ګوری خوشحالیږی
راتہ خکاریږی جانان تیل موندلی دینه

نور به دې نوم په خوله وانخلم!
کۀ راته روړي د پيټرلو ډک ډرامونه

که تۀ نواب د پاکستان شې 
چې پېټرول نه وي حمایت دې نۀ کوومه 


پہ تادئ ہیس نہ کیگی یارہ 
زۀ دې پیټرول شم چې مې اوکړي ارمانونه 

ديدن پۀ لس اربه کېږي
ما پۀ ليټر پېټرول جانان پۀ غېږه که نه

پټرول به ډېر شې خداے دې ډېر کېږي 
نۀ دې ډېريږي د یوتهیانو محفلونه 


زما  یی ھعہ انداز خوخ دے۔
چی بوتل واخلی پہ پیٹرولو پسی زینہ۔


بوتل تہ گوری خوشالیگی ۔
راتہ خکاریگی یار پیٹرول موندلی دینہ۔

زما نصیب کی پیٹرول نشتہ۔
ما د وطن پمپونہ ٹول کتلی دینہ۔

ستا لونگین پہ سینہ پروت دے۔
پہ ما عریب تری د پیٹرولو بوی رازینہ۔

تہ د چارگل عمونہ ژاڑی۔
زہ پہ پیٹرولو پسی شنہ لوخڑہ شومہ۔

بوتل پہ لاس درتہ ولاڑ یم،
یا پٹرول راکہ، یا روخست راکہ چی زمہ

سلام دی راغے تہ رانلی 
وابہ دی نخلم بے پیٹرولو سلامونہ

مالہ تری خپلہ برخہ راکہ۔
تا پہ ٹپکہ کی نن پیٹرول راوڑوی دینہ۔

زما خاعلی عمران خانہ۔
مونگ دی پیٹرولو پسی ڈیر زلیلہ کڑونہ۔

اتوار، 7 جون، 2020

پروفیسر شوکت علی ایک روشن ستارہ


روشن ستارے۔

پروفیسر شوکت علی ، ایک شخصیت ایک تعارف

اس علاقے میں شاید ہی کوئی تعلیم یافتہ  بندہ  ہو جو پروفیسر صاحب کو نہیں جانتا ہو۔  تعلیمی حلقوں اور فزکس کی سمجھ بوجھ رکھنے والے احباب میں آپ کو  باباے  فزکس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔  پروفیسر شوکت علی ایک طویل عرصے سے تعلیم کی شمع روشن کیے جارے ہیں اور پختونوں کی سرزمین کو اپنی علم  کی روشنی اور ساینسی سوچ سے فیض یاب کر رہے ہیں۔  

فزکس جو ایک ایسا مضمون ہے جسے کم ہی لوگ اسکے اصل روح میں سمجھتے ہیں۔ پروفیسر شوکت علی اسکے کانسپٹ سے پوری طرح روشناس ہیں اور اگر  آپ گھنٹوں تک سر کے کلاس میں بیٹھے رہیں آپ کو بوریت کبھی بھی محسوس نہیں ہوگی کیونکہ موصوف   پروفیسر صاحب ان چند پروفیسرز میں سے ہیں جنہوں نے سوال و جواب کی ہمیشہ حوصلہ افزایی کی ہے اور اس دقیق مضمون کو اسانی سے سمجھانے کا ہنر بہتر طور پر جانتے ہیں۔ 

پروفیسر شوکت علی ایک انتہایی خوش مزاج اور ملن سار انسان ہیں۔  آپ فزکس کے علاوہ بہت سارے شعبوں میں مہارت  اور دسترس کے ساتھ دلچسپی رکھتے ہیں اور حقیقی طور پر ایک جینیس اور  بانٹلیکچول قرار دیے جاسکتے  ہیں۔ چلتے چلتے   باتوں ہی باتوں میں آپ کو خبر بھی نہیں ہوگی اور آپ  موصوف سے بہت کچھ سیکھ چکے ہونگے ۔

پروفیسر شوکت علی کی اور بڑی خاصیت یہ ہے کہ آپ میں زرہ برابر بھی تکبر  ، انا اور غرور کا شایبہ تک نہیں ہیں۔ آپ بڑوں کے ساتھ بڑے اور چھوٹوں کے ساتھ چھوٹوں کی طرح برتاو کرتے ہیں اور یہی عمل اپ کو ہر دلعزیز شخصیت بناتی ہے۔  میں کیی بار سر کو کلاس فور ملازمین کے ساتھ انکی کرسیوں پہ بیٹھا دیکھ چکا ہوں۔  پروفیسر شوکت علی چونکہ ایک خاندانی انسان ہیں اسلیے اپنی خاندانی روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر کسی کو عزت دیتے ہیں۔  
پروفیسر شوکت علی ان خوبیوں کے ساتھ ساتھ ایک بہترین، بہادر اور نڈر  ایڈمنسٹریٹر ہیں۔  کیی اداروں میں اپنے وصولی موقف سے پیچھے نہ ہٹنے کی وجہ سے مخصوص پوسٹ سے ہاتھ بھی دھونا پڑا پر اپنے موقف پہ ڈٹے رہیں۔  
تعلیم کے میدان میں آپ بڑ ے عھدوں پر فایز رہیں جن میں سے چند کا میں ذکر کرنا یہاں  ضروری سمجھتا ہو تاکہ تاریخ کے لیے محفوظ اور قاریین کو یاد ہو۔ 

1) آیی بی سی سی یعنی چیئرمین انٹر بورڈ  کمیٹی فار آل پاکستان۔  اس کمیٹی میں پاکستان کے تمام تعلیمی بورڈز ، ٹیکسٹ بک بورڈز، آغا خان ایجوکیشن بورڈ، فیڈرل بورڈ اور ٹیکنیکل بورڈز آپ کے نیچے کام کر رہے تھے۔  
2) چیئرمین مالاکنڈ بورڈ۔
ان عھدوں پہ رہتے ہوئے اپنے بے شمار اصلاحات لانے کی کوشش کی جن میں سے چند آپ کے ساتھ شیر کرنا چاہونگا۔ ۔
پیپر کے پیٹرن کو تبدیل کیا، یعنی رٹے والے پیپر کو کنسپچول  بنایا کافی حد تک


امتحانات پہ نگرانی کیلیے بہترین لوگوں کا انتخاب کیا اور ویجیلنس کمیٹیاں  بنایی۔  

  بہت سارے بے ایمان انویجلیٹرز کو بلیک لسٹ کیا۔  

3) ایڈوائزر پبلک سروس کمیشن رہے۔

4) ممبر بورڈ اف ڈائریکٹر آغا خان یونیورسٹی کرا چی 

5) پرنسپل جی پی جی سی تیمرگرہ 

6) اسکے علاوہ آپ انٹرمیڈیٹ کے فزکس کیلیے کتابیں بھی لکھ چکے ہیں اور اور جنرل کتابوں میں آپ کی مشہور تصنیف "ایک پیغام عالم اسلام کے نام" سے ہے۔  

سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ نے ایمانداری کا دامن ہاتھ سے کبھی چھوٹنے نہ دیا۔   آپ پہ ایک دھیلے کی کرپشن کا الزام نہیں۔  کرپشن کے معاملے میں اپنے پاکستان کے کسی بھی سسٹم کو چیلنج کیا ہے کہ اگر کسی نے ایک پیسے کی کرپشن ثابت کر دی تو انعام کے طور پر انھیں 10 لاکھ دینے کو تیار ہیں۔  
حال ہی میں آپ بطور پرنسپل گورنمنٹ کالج دیر اپر رہیں جہاں محدود وقت میں اپ نے کالج کیلئے بے پنا ہ کام کیا جنکا پورا علاقہ،  سٹاف اور طلبا  معترف ہیں۔ 
حال ہی میں آپ کو پرنسپل گورنمنٹ کالج تیمرگرہ تعینات کیا گیا ہے جو کہ ایک اس کالج کیلیے ایک بہترین فیصلہ، تحفہ  اور خوش قسمتی ہے۔  
امید ہے آپ اپنے تجربے اور صلاحیت کو بروے کار لاتے ہوئے کالج کو ترقی کی نیی انچاییوں تک پہنچا دینگے۔  
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب 
یہ تو چلتی ہیں تو تجھے اونچا اڑانے کیلیے

ہمیں بجاطور پر اپنے استاد اور دیر کے اس روشن ستارے پر فخر ہیں اور دعاگو ہیں کہ خداوند کریم اپ کو لمبی زندگی اور تعلیمی خدمات کو جاری وساری رکھنے کے لیے بہترین صحت اور استعداد دے۔ امین 

تحریر۔ صحافی عمران
ترتیب و تدوین ۔ سمیع اللہ خاطر

Pashto Ghazal, Rizwanullah Shamal

ددی غزل انتخاب د رضوان الله شمال ده کتاب رڼا بانګ څخه شوے.ملګرو سره ي شریک کړۍ.

ہفتہ، 6 جون، 2020

دیر کی شاہی ریاست یا نوابی ریاست دیر

دیر اگست 1947 تک شمال مغربی سرحدی صوبے کے اندر برطانوی ہند کے ساتھ وابستہ ایک چھوٹی مسلم ریاست تھی جب انگریزوں نے برصغیر کو چھوڑ دیا  تو کچھ مہینوں تک یہ ریاست  1948  تک غیر متعلقہ علاقہ تھا  جب تک سنہ 1948 مین اس نے پاکستان کے نئے ڈومینین سے الحاق کو قبول کرلیا ۔ 

1969 
میں جب اس کو پاکستان میں شامل کیا گیا تو ریاست کے طور پر دیر غیر متعلقہ  وجود خود بخود ختم کر دیا گیا۔ یہ علاقہ یعنی ریاست دیرجو  ایک لمبے عرصے تک دنیا اور دنیاوی سیاست وترقی سے اوجھل تھا ، تقریبا، 5،282 کلومیٹر 2 (2،039 مربع میل)  پر مشتمل ہے اور آج پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں شامل  ہے۔ اج کل یہ اپر دیر اور لوئر دیر کے نام سے دو اضلاع تشکیل دیتا ہے۔

ریاست کا بیشتر حصہ دریائے پنجکورہ کی وادی میں پڑا ہے جو ہندوکش کے پہاڑوں سے نکلتا ہے اور چکدرہ کے قریب دریائے سوات سے ملتا ہے۔ جنوب مغرب میں چھوٹے علاقوں کے علاوہ ، دیر ایک درہم برہم ، پہاڑی علاقہ ہے جس کی چوٹی چوٹیوں کے ساتھ شمال مشرق میں 5000،000 میٹر (16،000 فٹ) اور آبی شاخوں کے ساتھ 3،000 میٹر (9،800 فٹ) تک ہے ، اور مشرق میں سوات کے ساتھ اور افغانستان اور چترال مغرب اور شمال میں واقع ہے۔ 

ابتدائی زمانہ 

دیر کانام اس کی اصل بستی ایک گاون دیر سے لیا ہے جو اج اپر دیر میں واقع اور ضلعی صدر مقام ہے اور جسے حکمران کے محل کا محل وقوع  بھی کہا جاتا ہے۔( دیر کی نام اور وجہ تسمیہ پر اس بلاگ پر ایک علیحدہ مضمون اس بلاگ پر ایندہ دنوں میں شایع کیا جایے گا)۔

دیر کے آس پاس کے علاقوں کو ان کی موجودہ نسلی اکثریت یعنی پختونوں نے 14 ویں صدی کے آخر سے آباد کیا تھا۔ پختون متعدد قبیلوں (خیلوں) میں تقسیم ہے اور اکثر ایک دوسرے سے لڑتے رہتے تھے۔ یہ قبیلے جنہوں نے اس زون پر فتح حاصل کی وہ یوسف زئی (پائندہ خیل ، سلطان خیل ، اوساخیل ، ناصردھن خیل) اور ترکالانی  دیر کا علاقہ یوسف زئی کے ملیزائی زیلی  قبیلے نے سولہویں صدی میں آباد کیا تھا ، جس نے اس علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا یا پچھلے باشندوں کا تعاقب (باجوڑ میں دلزاک؛ جندول؛ پنجکوڑہ کے مشرق سے آنے والے علاقوں سے میڈن اور سواتیان) اور اس قبیلے کے اندر سب سے نمایاں حصہ پا ئندہ خیل اور سلطان خیل بن گیا۔ 

17 ویں صدی تک ، پایندہ خیل  کے ایک حصے نے وادی نیہاگ درہ کے کوہن گاؤں سے آنے والوں نے چترال اور افغانستان کے تجارتی راستوں پر قبضہ کرلیا۔ 

پہلا حکمران خان

کہا جاتا ہے کہ یہ سلطنت 17 ویں صدی میں ایک پختون قبیلے کے رہنما اخوند بابا (جسے اخوندالیاس بھی کہا جاتا ہے) کے ذریعہ ایک مسلمان راجواڑے  کے طور پر قائم کیا تھا اور اس کے بعد اس کی اولاد نے حکمرانی کو توسیع دی۔ پائندہ خیل کے سرکردہ گھرانے کے ایک فرد ، مولا الیاس کو  مذہبی خوبیوں کی وجہ سے روحانی پیشوا کے طور پر پہچانا جاتا تھا اسلیے  انہیں اخوند (فارسی زبان میں "عالم") کا خطاب حاصل کیا۔ اپنے کرشمے کی بدولت  اخوند  الیاس نے ملیزئی قبیلے میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا اور دیر گاؤں کی بنیاد رکھی۔
اس کے جانشین قیادت کو برقرار رکھنے اور اس میں توسیع کرنے میں کامیاب ہوگئے  جنہوں نے ایک  خودمختار سیاسی وجود کو جنم دیا جو بالآخر شاہی ریاست بن چکی تھی۔

جندول کا راج اور قلعہ
عمرا خان اف جندول جسے انگریز مصنف اور سابق برطانوی وزیراعظم نے افغان نپولین کی نام سے یاد کیا ہے  نے قلعہ کے اندر اپنے بھائی کو مارتے ہوئے اقتدار سنبھالا اور جندول کے خان کی حیثیت سے کامیاب ہوکر اقتدار پر براجمان ہوگیا۔ 

سلطان عالم خان (عمر 80 سال) کے مطابق  "عمراخان نے قلعہ کے اندر اپنے اصلی بھائی امان اللہ خان  کو مار ڈالا  عمرا  خان جندولی کو  پہلے اس کے بڑے بھائی نے جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور کیا تھا اور یہ اس کی ملازمہ کی مدد سے بدلہ لینے کے لئے آیا تھا س کی مدد اس نے اقتدار  سنبھالی۔ 

اونچی زمین کی تزئین پر  جندول کے قلعے کی شکل کی ایک بڑی عمارت 1960 میں نواب زادہ شہاب الدین خان (جندول خان کے نام سے مشہور) ، شاہ جہان خان (دیر کے نواب) کے بیٹے نے تعمیر کی تھی۔

یہ قلعہ باجوڑ کے سرحدی علاقے کے ساتھ چاروں سمتوں کو حکمت عملی سے کنٹرول کرتا ہے ، جو افغانستان سے متصل ہے۔

1881 میں دیر کے حاکم  محمد شریف خان  کا جندول کے خان عمرا خان نے پیچھا کیا جنھوں نے دیر ، سوات اور ملاکنڈ کے علاقے کو فتح کیا تھا تاہم  1895 میں جب عمرا خان کی افواج ملاکنڈ کے قریب ایک برطانوی فورس کا محاصرہ کررہی تھیں تومحمد شریف خان نے اپنے فوجیوں کو چترال مہم امداد میں آنے والی برطانوی امدادی فوج میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مہم کے دوران شریف خان نے برطانوی حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا کہ تعاون ، مالی امداداور راہداری  کے بدلے میں چترال جانے والی راہ کو کھلا رکھا جائے۔انگریزوں نے آخر کار جنگ جیت کر افغان نپولین خان عمراخان  کو  افغانستان جلاوطن کردیا۔ ان کی مدد کے صلہ کے طور پر  انگریزوں نے  شریف خان کو سارا دیر اور نچلے سوات  کا علاقہ بھی اختیار و اقتدار میں دے دیا ۔ 

حکمران نواب
موٰرثی  نواب،  نواب بہادر کا  لقب (مختصر طور پر نواب)  محمد شریف خان کو انگریزوں  نے 1897 میں عطا کیا تھا اور اسے شریف کے سب سے بڑے بیٹے اورنگزیب بادشاہ خان (جس کا نام چھاڑا ( گونگا)نواب کہا جاتا ہےنے حاصل کیا تھا  جس نے 1904 سے 1925 کے درمیان حکومت کی تھی۔
 1906 میں اس کا چھوٹا بھائی ، میان گل جان (منڈا خان)  نے محمد شریف کے سابقہ ​​اتحادی ، سید احمد خان ، خان اف باڑوہ  کے تعاون سے اقتدار کو فتح کرنے کی بیکاراور ناکام  کوشش کی۔ 1913 میں ایک دوسری کوشش کو کامیابی کا تاج پہنایا گیا  لیکن بہت ہی کم وقت کے لئے  کیونکہ 1914 میں اورنگ زیب نے دیر پر ح دوبارہ حکمرانی حاصل کی۔نیز محمد شریف کے دوسرے بیٹے محمد عیسیٰ خان نے 1915 کے ارد گرد خان اف باڑوا کے ساتھ اتحاد کرکے دیر تخت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن اورنگ زیب اس بار بھی حکمرانی کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔

اورنگ زیب کی وفات پر 1925 میں  یہ اعزاز ان کے بڑے بیٹے محمد شاہ جہاں خان کو دے دیا گیا  جو نوابان دیر میں سب سے زیادہ مشہور  ہے  اور جسے برطانوی حکومت کی مکمل اشیر باد حاصل تھی ۔ نواب شاہ جہان خان نے اپنے بھائی عالم زیب خان   کو اقتدار سنبھالنے کی کوششوں کی وجہ سے 1928 میں جلاوطن کیا گیا تھا۔


 شاہ جہاں خان انگریز کے وفادار تھے جنہوں نے انہیں 1933 میں KBE (برطانوی سرکاری خطاب) نامزد کیا۔1947 میں ،جہان خان نے ہندوستان کے خلاف   کشمیر کی جنگ میں اپنی فوج کو پاکستان کی حمایت کے لئے بھیجا ،اور 1948 میں اپنی سلطنت کو پاکستان کے نئے تسلط کے ساتھ متحد کردیا۔نواب شاہ جہان نے اپنے بیٹے محمد شاہ خان خسرو کو بھی جانشین یعنی ولی عہد  اور دوسرے بیٹوں (شہاب الدین خان اور محمد شاہ) کو مختلف صوبوں کے گورنر نامزد کیا

پاکستان کے ساتھ دیر کا باقاعدہ الحاق و انضمام۔ 

 فروری 8 194 کو دیر نے پاکستان کی نئی تشکیل شدہ مسلم ریاست سے خودمختارانہ الحاق کی پاسداری کی ۔  ابتدائی طور پر پاکستان کی زندہ بچ جانے والی ریاستوں میں سے ایک کی حیثیت سے جاری رہا۔ نواب  مرحوم کی سیاست اور حکومت  کو سخت گیر، جابرانہ،  رد عمل پر مبنی  اور سخت کہا جاتا ہے۔


طالوی ماہر بشریات فوسکو مرائینی جنہوں نے سنہ   1959میں ہندوکش کی طرف ایک مہم کے دوران ریاست کا دورہ کیا تھا نے نواب  شاجہان خان (جو اس وقت تقریبا64سال کے تھے)  کو ایک ظالم رہنما  قرار دیا جو لوگوں کو اظہار راءے کی ازادی سے انکار کے علاوہ بنیادی انسانی حقوق دینے سے بھی قطعی انکاری شخص تھا۔ کوئی بھی تقریر اور ہدایات کی آزادی ، بس چند پسندیدہ مشران اور ملکان کے ساتھ ملکر  علاقے پر  بلا شرکت غیرے حکومت کرنا اور  اپنے حرم کے لیے کسی بھی لڑکی یا عورت کے لئے اس کا قبضہ کرنا۔ ماریینی نے اسکولوں ، گٹروں اور پکی سڑکوں کی کمی اور صرف ایک برایے نام   زیر تعمیر اسپتال کی موجودگی کو بھی دیکھا اور لکھا ہے۔ ان کے خیال اور رایے میں نواب کا منفی طور پر سوات کے ولی سے مقابلہ کیا گیا  جس کی آزادانہ سیاست نے اس کی ریاست کو جدید دور میں داخل ہونے دیا یعنی والی سوات ایک متعدل ، ترقی پسند اور صلح جو حکمران تھے  اور نواب دیر سے اسکا تقابل کرنا منطقی طور پر غلط اور بے جا ہے۔ 
نواب دیر کے اس سخت گیر ، ظالمانہ اور عوام دشمن پالیسیوں کے نتیجے میں  ازادی اور اپنے حقوق کے لئے بالآخر بغاوتیں شروع ہوگئیں۔ 1959 میں ایک دبے ہوئے بغاوت کی اطلاع ماریینی کے  ڈایری  میں بھی  ملتی ہے۔1960 میں ایک اور بغاوت کے نتیجے میں 200 فوجی ہلاک ہوئے اور نواب کو پریس کے خیال میں انتہایی کمزور کردیا تھا۔ جنرل یحییٰ نے اکتوبر 1961  کوشا جہان خان کو جلاوطن کرنے اور ریاست دیر کو باقاعدہ طور پر  شامل کرنے  کا فیصلہ کیا ۔ 
  ان کا تخت اکتوبر 1961 میں ان کے بڑے بیٹے ، محمد شاہ خسرو خان ​​کے پاس چلا گیا ، جو ہندوستان میں تعلیم یافتہ اور پاک فوج کے ایک میجر جنرل تھے تاہم  دیر کی موثر حکمرانی کو پاکستانی حکومت کے پولیٹیکل ایجنٹ نے لیا تھا۔ نواب شاہ جہان سنہ 1968 کو لاہور میں جلاوطنی کی حالات میں وفات کرگیے۔ 

کچھ سال بعد ، 28 جولائی 1969 کو ، دیر ریاست کو پاکستان میں شامل کرلیا گیا ، اور اس نے اپنے سیاسی وجود کو ختم کردیا۔پاکستان کے بیشتر دوسرے شہزادوں کی طرح اسی وقت ، نوابوں کی شاہی حیثیت کو 1972 میں ختم کردیا گیا تھا۔ 

ترجمہ وتخلیص۔
سمیع اللہ خاطر

جمعہ، 5 جون، 2020

خان شہید عبدالصمد خان، ایک تعارف

عبد الصمد خان اچکزئی (7 جولائی 1907 - 2 دسمبر 1973) جو عام طور پر خان شہید (خان شہید) اور بلوچی گاندھی کے نام سے جانا جاتا ہے ، [1] اس وقت کے برطانوی ہندوستان کا ایک پشتون قوم پرست اور سیاسی رہنما تھا.

  انہوں نے صوبہ بلوچستان انجمنِ وطن بلوچستان کی بنیاد رکھی ، جسے انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا گیا تھا۔

مجھے بتایا جاتا ہے کہ میں 7 جولائی 1907 کو گلستان ، ضلع کوئٹہ کے گاؤں عنایت اللہ کاریز میں پیدا ہوا تھا اور آج 2 جولائی 1959 تک وہاں رہتا ہوں ، جبکہ میں یہ لائنیں ڈسٹرکٹ جیل ملتان میں لکھتا ہوں۔" ] اس طرح عبدالصمد خان اچکزئی ، خان شہید کی سوانح عمری کا آغاز ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے لوگوں کو عقیدت سے جانتے ہیں۔ انہوں نے زندگی کے اوائل میں اپنے والد کو کھو دیا۔

 اس کا اور اس کے بھائی عبدالسلام خان کی پرورش دلبرہ نے کی۔ اچکزئی نے ابتدائی تعلیم گھر ہی میں حاصل کی اور کلاسیکی پشتو ، عربی اور فارسی نصوص پر عبور رکھتے تھے۔ انہوں نے مقامی مڈل اسکول میں داخلہ لیا اور اسکالرشپ حاصل کرکے ایک ممتاز طالب علم ثابت ہوا۔

انہوں نے اپنی تعلیم  درمیانے درجے سے گریجویشن تک  جیل میں مکمل کی اور اپنے ناخواندہ جیل ساتھیوں کو تعلیم دی۔ جیل میں اپنے سالوں کے دوران ، اس نے تفسیر لکھ کر مختلف کتابیں '' آزادی کا مستقبل '' اردو میں ترجمہ کیا اور مولانا شبلی نعمانی کی سیرت ان- خان نے پختو میں لکھا۔ خان نے ایک سوانح حیات "زمانہ جوند او جووندون" (میری زندگی کا طریقہ) بھی تین جلدوں میں تصنیف کی۔

کیریئر

آزادی ، جمہوریت اور اپنے عوام کے لئے مساوی آئینی حقوق کی جدوجہد کے نتیجے میں انہوں نے اپنی بالغ زندگی کا نصف سے زیادہ حصہ برطانوی ہندوستان اور پاکستان کی مختلف جیلوں میں گزارا"۔ عبد الصمد خان اچکزئی کو مئی 1930 میں پہلی بار قید میں رکھا گیا تھا ، قبل ازیں اسے حکمرانوں نے مسجد کے گاؤں والوں کو لیکچر دینے پر متنبہ کیا تھا۔

اپنی سیاسی جدوجہد میں اس نے 30 مئی 1938 کو انجمن  وطن کی بنیاد رکھی .خان شہید اگرچہ ہندوستان میں برطانوی استعمار کے خلاف اتحاد میں رہے لیکن ان کی قیادت والی انجمنِ وطن کو کبھی بھی انڈین نیشنل کانگریس میں ضم نہیں کیا گیا جس نے تقسیم ہندوستان کی مخالفت کی۔  

1947
 میں  پاکستان کی تشکیل کے بعد  انہوں نے "وار پشتون" تحریک کی بنیاد رکھی بعد میں وہ پاکستان کے سب سے بڑے ترقی پسند اتحاد میں ضم ہوگئے  جو نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) بن گیا کیونکہ وہ پاکستان میں پشتون متحد جغرافیائی اکائی کے ماننے والا تھا۔ پشتونوں کی سرزمین کو صوبہ بلوچستان میں ضم کرنے کے بعد کے ساتھ الگ الگ راستے بن گئے جس نے پشتون ، بلوچ ، سندھی ، سرائیکی ، بنگالی اور پنجابیوں کے قومی یونٹ بنانے کے لئے نیپ کے منشور کی خلاف ورزی کی۔ 

انہوں نے اپنی زندگی کے آخری چار سال (1969–1973) ، جیل سے باہر اپنی سیاسی زندگی کا سب سے طویل دور عالمی حق رائے دہی کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے ، بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں ایک فرد ایک ووٹ کے لئے صرف کیا جہاں صرف سرکاری جرگے کے ممبران معاملات کے فیصلے کیا کرتے تھے۔ عبد الصمد خان اچکزئی مساوات پر یقین رکھتے تھے اور وہ خواتین کے حقوق کے سخت حامی تھے. 1970 میں عام انتخابات میں خواتین کے ووٹروں کے اندراج کے لئے متنازع قانون کو چیلنج کیا تھا۔

دسمبر 1973 میں اپنے قتل کے وقت وہ بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن تھے۔ صمد خان کے انتقال کے بعد ، ان کے بیٹے انجینئر محمود خان اچکزئی پارٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 

ادبی زندگی

عبد الصمد خان اچکزئی نے عربی حروف کو چھوڑ کر بایزید روشن پشتو اسکرپٹ میں اصلاح کی جس کا ان کے ساتھی پشتون بھی تلفظ نہیں کرسکتے تھے ، اور جس طرح اس کی تلفظ کی جاتی ہے اسی طرح پشتو کی اسکرپٹ رکھنے کا حامی تھا۔

اگرچہ عبد الصمد خان اچکزئی عربی ، فارسی ، انگریزی ، اردو ، بلوچی اور سندھی زبانوں پر کمانڈ رکھتے تھے لیکن وہ اپنی مادری زبان پشتو کو سب سے زیادہ پسند کرتے تھے اور قوم پرست جدوجہد میں اس کی بنیادی اہمیت پر یقین رکھتے تھے۔ 

انہوں نے متعدد کتابوں کا ترجمہ پشتو میں کیا جن میں مولانا ابوالکلام آزاد کا ترجمان القرآن ، شیخ سعدی کا گلستانِ سعدی اور ڈاٹسن کارٹو کا مستقبل اور ’شبلی نعمانی کی سیرت النبی‘ شامل ہیں۔
 عبد الصمد خان اچکزئی نے 1938 میں کوئٹہ سے صوبہ کی تاریخ کا پہلا اخبار "استقلال" شائع کرنے میں کامیابی حاصل کی لاقے میں ہندوستانی پریس ایکٹ کی توسیع کے لئے اپنی 7 سال کی سخت جدوجہد کے بعد اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ خطے کا ایک سرخیل صحافی تھا۔


خان شہید کی کہانی خود ان کی زبانی.


عبد الصمد خان نے جیل میں اپنی یادداشتیں لکھنا شروع کیں ، انھوں نے سن 1907 میں اپنی پیدائش کی مدت کو 1952 میں ڈسٹرکٹ جیل ، لاہور میں سزا سنانے کے سلسلے میں لکھا۔ اصل میں پشتو میں لکھا گیا ، 'زمہ ژوند او جوندون' یعنی میں اور میری زندگی  کے عنوانات خان عبدالصمد خان کی پیدائش سے شروع ہوتی ہے اور قارئین کو جلدی سے اپنے آباؤ اجداد کی  تک لے جاتا ہے۔
 انہوں نے اپنے دادا عنایت اللہ خان ، بوستان خان کے بیٹے اور آخر کار برکوردار خان سے ان کے کنبہ کے بانی سرپرست کا تعارف کرایا۔

وہ لکھتے ہیں: "برخوردار خان کے زمانے سے ہمارے آبا و اجداد قومی افغان عدالت اور حکومت سے منسلک رہے اور وہ بظاہر تعلیم یافتہ اور عدالتوں اور حکمرانی کے طریقوں سے عبور تھے…. یہ متعلق ہے کہ برخوردار خان موجودہ افغانستان کے بانی احمد شاہ بابا (درانی) کے ہم عصر تھے۔ "ان کے طرز تحریر سے بھی زیادہ ، صمد خان کے مذہب ، جرگے ، منشیات کی لت ، پیڈو فیلیا اور اس کے پیارے پختون اور پختون معاشرے کی خلاف ورزی کی دیگر مصائب سے متعلق غیر محفوظ خیالات قارئین کو اگلے صفحے پر جلدی کرنے پر مجبور کرتے ہیں"۔

سن 1928 میں میری شادی ہوئی۔ خان عبد الصمد خان لکھتے ہیں ، "شادی کرنا ایک ایسا کام تھا جو میں نے بھی کرنا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ کئی سالوں سے میں شادی کی گہری اور دیرپا قدر اور معنی کو نہیں سمجھتا تھا۔" "اس کی یادیں اسی طرح کے غیر متوقع ذاتی انکشافات سے بھری ہوئی ہیں ، جن کا ذکر عام طور پر پختون پر نہیں کیا جاتا ہے

زاما ژوند او ژوندون (میری زندگی گذارنے کے طریقے) کو صمد خان کے بیٹے محمد خان اچکزئی نے انگریزی میں نقل کیا ہے  جنہوں نے 2013 سے 2018 تک گورنر بلوچستان کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ 

محمد خان اچکزئی کو اپنے والد کی تحریر کی ترجمانی میں ترجمہ کرنے میں سات سال سے زیادہ کا عرصہ لگا۔ انگریزی میں ہشت پشتو۔ بعدازاں ، اصلی پشتو ایڈیشن کا ترجمہ اعلی درجے کے سفارتکاروں ، مسٹر واسلی ایوشوکو اور ڈاکٹر غلام سرور نے بھی یوکرائنی زبان میں کیا۔

ترتیب،سمیع اللہ خاطر