ملاکنڈ پیڈیا ۔ نواب دیر شاہ جہان کی مغربی پاکستان میں نمائندے بھیجنے پر رضامندی۔ مئ 1957. اخبار دی گزٹ (19 جنوری) نے صفحۂ اول پر ایک خصوصی رپورٹ شائع کی، جس میں قابلِ اعتماد ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ نوابِ دیر شاہ جہان نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ اپنی ریاست سے دو ارکان کو مغربی پاکستان اسمبلی کے لیے منتخب کروائیں گے۔ رپورٹ میں یاد دلایا گیا کہ نوابِ دیر ماضی میں مغربی پاکستان کے لیے ون یونٹ کے منصوبے کے حوالے سے کسی حد تک مخالفانہ رویہ رکھتے تھے۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے پہلے کبھی یہ یقین دہانی نہیں کرائی تھی کہ وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کریں گے۔ لیکن حال ہی میں، جب صدر میجر جنرل اسکندر مرزا Iskander Mirza نے گزشتہ ہفتے ریاستِ دیر Dir کا دورہ کیا، تو اس کے بعد نواب نے ایک واضح بیان جاری کیا، جس میں یقین دہانی کرائی کہ وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی غیر مشروط حمایت کریں گے۔ صدر اسکندر مرزا کے 13 جنوری 1957 کو ریاستِ دیر کے دورے کی کچھ مزید تفصیلات اب سامنے آئی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر صدر کی جانب سے نواب کو دی گئی امداد نے حکومتِ ...
سوشلسٹ حکومت کے خلاف بغاوت فورئ نہیں ہوئی جب خلق وپرچم وجود میں آئے تو یونیورسٹی میں اس کے تدارک کیلئے نوجوانان مسلمانان کے نام سے حبیب اللہ نیازی ڈاکٹر عمر عبدالقادر توانا گلبدین حکمتیار جیسے سٹوڈنٹ آور شریعت فیکلٹی کے پروفیسر برہان الدین ربانی عبدالرسول سیاف جو بعد میں عبد الرب رسول سیاف بنا۔ جبکہ تحریکی مواد منہاج الدین گیح جو گیح نامی اخبار کے مدیر اعلی تھے کے ذریعے مودودی اور حسن البنا کے تحاریر پشتو درئ میں ترجمہ کرکے مہیا کیا گیا یہ ظاہر شاہ کا آخری دور تھا بعد میں داود خان حکومت کے خلاف مسلح مذاہمت شروع ہوئی تھئ جس کی ابتداء ڈاکٹر عمر نے پنج شیر سے کئ ترہ کئی دور میں امین نے کنڑ میں قتل عام کیا جس میں تین ہزار مرد قتل کیے گئے جوابا شیخ جمیل الرحمن کی سربراہی میں کنڑ سے سوشلسٹ انقلابی رجیم کے خلاف بغاوت کی ابتداء ہوئیدسمبر 1979 میں سوویت یونین نے اسی ہزار فوج کے ساتھ افغانستان پر چڑھائی کی کابل پر قبضہ کیا اور حفیظ اللہ امین کو مار کر ببرک کارمل کو حکومت دی روس کا مقصد گرم پانیوں تک پہنچنا تھا اس کا اگلا نشانہ پاکستان کا صوبہ بلوچستان تھا تاکہ بحیرہ عرب تک راستہ...