برطانوی سلطنت کا افیون کا کالا کاروبار: بنگال کا "افیون کیپیٹل"، جارج اورویل کے والد، اور افیون جنگوں کی اصل کہانی تعارف برطانوی سامراج کا ذکر آتے ہی اکثر ریلوے، عدالتی نظام، انگریزی تعلیم اور نوآبادیاتی انتظامیہ کی بات کی جاتی ہے، لیکن اس تاریخ کا ایک نہایت تاریک باب بھی ہے جس پر نسبتاً کم گفتگو ہوتی ہے۔ یہ باب افیون (Opium) کی عالمی تجارت، کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر اس کے تباہ کن اثرات، اور سامراجی منافع خوری کی داستان بیان کرتا ہے۔ 18ویں اور 19ویں صدی میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد ازاں برطانوی حکومت نے ہندوستان میں افیون کی کاشت، پیداوار اور برآمد کو ایک منظم سرکاری صنعت میں تبدیل کر دیا۔ اس تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی برطانوی سلطنت کی معیشت کا ایک اہم ستون بن گئی۔ برطانوی راج کا "افیون ڈیپارٹمنٹ" بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ برطانوی ہندوستان میں باقاعدہ Opium Department موجود تھا، جو انڈین سول سروس کے تحت کام کرتا تھا۔ اس محکمے کی ذمہ داریوں میں شامل تھا: کسانوں سے پوست کی کاشت کروانا افیون کی پیداوار کی نگرانی معیار کی جانچ سرکاری خریداری...
تساوی تاریخی ایران و بلژیک در جام جهانی ۲۰۲۶؛ حماسه یوزها مقابل شیاطین سرخ جام جهانی ۲۰۲۶ در گروه G خود شاهد یکی از شگفتانگیزترین، تاکتیکیترین و دراماتیکترین مسابقات تاریخ فوتبال آسیا بود. تیم ملی فوتبال ایران در یک تقابل نفسگیر به مصاف بلژیک، یکی از قدرتهای برتر فوتبال جهان و رتبه ۱۰ رنکینگ فیفا رفت و موفق شد با یک نمایش شاهکار و دفاعی منسجم، حریف پرآوازه خود را با تساوی ۰-۰ متوقف کند. این نتیجه نهتنها جدول گروه را کاملاً پیچیده کرد، بلکه تحسین تمام کارشناسان بينالمللی را برانگیخت. آیا ایران در حد و اندازه بلژیک بود؟ تقابل دارا و ندار در مستطیل سبز بر روی کاغذ و طبق پیشبینی تمام تحلیلگران، بلژیک شانس ۱۰۰ درصدی پیروزی بود. شیاطین سرخ با داشتن ستارگان چند صد میلیون دلاری شاغل در بزرگترین باشگاههای اروپا مانند کوین دی بروینه، روملو لوکاکو و تیبو کورتوا، یک غول بیشاخودم به نظر میرسیدند. در طرف مقابل، ایران هرچند ستارههای باانگیزهای داشت، اما از نظر ارزش اسکواد و تجربه بینالمللی در سطحی کاملاً متفاوت قرار داشت. با این حال، فوتبال بار دیگر نشان داد...