سابق آئی جی پنجاب پولیس اور ڈائریکٹر آئی بی حاجی حبیب الرحمن کے انٹرویو میں کئے گئے انکشافات: ایک جج دونوں پارٹیوں سے پیسے لیتا تھا لیکن فیصلہ انصاف پر کرتا تھا۔ ہارنے والے کے پیسے واپس کر دیتا تھا۔ طاہرہ سید کو کھر نے فون کیا، آپ لندن جا رہی ہیں، میں بھی لندن جا رہا ہوں۔ اس نے جواب دیا: آپ جتنی مرضی کوشش کر لیں میں آپ کے قابو نہیں آ سکتی۔ مشرف کے ساتھ نواز شریف کی ڈیل میں مجید نظامی اور میں شامل تھے۔ پاکستان سٹیل ملز کا چیئرمین عثمان فاروقی ہر مہینے زرداری کو ایک کروڑ پہنچاتا تھا۔ قومی اتحاد کی ایجی ٹیشن اور بھٹو کی پھانسی کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ تھا۔ @ ایجی ٹیشن کے دوران مولانا مودودی کے نام 30 لاکھ کا غیر ملکی چیک میں نے پکڑا۔ جماعت اسلامی کے دو اہم آدمی ہمارے لیے انٹیلی جنس کرتے اور پیپلز پارٹی کے تین جیالے بھی۔ کوثر نیازی تنخواہ پر کام نہیں کرتے تھے۔ کوئی کام کروا لیتے تھے۔ مولانا غلام غوث ہزاروی ہم سے پانچ سو روپیہ مہینہ لیتے تھے۔ جب میں نہیں پہنچاتا تھا خود لینے کے لیے آجاتے۔ کام کا بندہ وہی ہوتا ہے جو تھوڑی بہت مخالفت ...
نورستان (سابقہ کافرستان) پر امیر عبدالرحمٰن خان کے دور میں ہونے والے مظالم اور تاریخی حقائق تاریخ کا دامانِ زیست انسانی وحشت، درندگی اور سفاکی کے خونچکاں داستانوں سے بھرا پڑا ہے، لیکن کچھ مظلوم قوموں کی سسکیاں اور ان کا بہتا ہوا خون سیاست اور اقتدار کے مظلم طاقچوں میں اس طرح دفن کر دیا جاتا ہے کہ دنیا کی نگاہیں ان پر پڑ ہی نہیں پاتیں۔ تاہم، تاریخ کے بے باک اور سچے صفحات ان دردناک کہانیوں کو اپنے سینے میں محفوظ رکھتے ہیں۔ ایسی ہی ایک روح فرسا، خونچکاں اور وحشت ناک کہانی افغانستان کے اس بدنصیب خطے کی ہے جسے کبھی کافرستان کہا جاتا تھا—وہ بستی جس کے بے گناہ، پرامن اور معصوم انسانوں کے خون سے دھلا کر اس کا نام نورستان رکھ دیا گیا۔ یہ وہ المیہ ہے جس کے آگے ہلاکو اور چنگیز خان کی بربریت بھی شرمسار نظر آتی ہے۔ ڈیورنڈ لائن کی ڈیل اور خطے کا غصب ہونا یہ کہانی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب 1893ء میں ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ طے پایا۔ انگریز افسران نے اپنے زاتی مفادات کے عوض، مہترِ چترال کے اس تاریخی علاقے کو—جو ہمیشہ سے ایک آزاد اور جداگانہ خطہ رہا تھا—امیر عبدالرحمٰن کے رحم و کرم پر ...