بہت سی بیماریاں دراصل بیماریاں نہیں بلکہ بڑھاپے کی قدرتی علامتیں ہیں۔ بیجنگ کے ایک اسپتال کے ڈائریکٹر نے بزرگوں کے لیے پانچ قیمتی مشورے دیے ہیں: *"آپ بیمار نہیں ہیں، آپ صرف بوڑھے ہو رہے ہیں۔"* بہت سی چیزیں جنہیں آپ بیماری سمجھتے ہیں، دراصل جسم کے بڑھاپے کی علامتیں ہیں۔ 1. یادداشت کی کمزوری یہ الزائمر نہیں بلکہ دماغ کا خود حفاظتی نظام ہے۔ خود کو خوفزدہ نہ کریں۔ یہ دماغ کے بڑھنے کی علامت ہے، بیماری نہیں۔ اگر آپ صرف چابی یا چیزیں کہاں رکھی ہیں بھول جاتے ہیں مگر بعد میں ڈھونڈ لیتے ہیں، تو یہ ڈیمنشیا نہیں۔ 2. چلنے میں سستی یا لڑکھڑاہٹ یہ فالج نہیں بلکہ پٹھوں کی کمزوری (Degeneration) ہے۔ علاج دوائی نہیں بلکہ حرکت ہے۔ جتنا ہو سکے چلیئے، متحرک رہیئے۔ 3. نیند نہ آنا (انسومنیا) یہ بیماری نہیں بلکہ دماغ کا اپنی رفتار بدلنا ہے۔ عمر کے ساتھ نیند کے اوقات بدل جاتے ہیں۔ نیند کی گولیاں بار بار استعمال کرنا خطرناک ہے، اس سے گریزکیجیئے، اس سے یادداشت کمزور ہونے اور دماغی نقصان کا خطرہ بڑھتا ہے۔ بزرگوں کے لیے بہترین نیند کی دوا سورج کی روشنی ہے — دن میں دھوپ لیں اور مقررہ وقت پر سونے جاگنے کی...
کمانے کے 15 اٹل اصول کمانا (Earning) کوئی فن نہیں، یہ ایک میکانزم ہے۔ دنیا آپ کو اس لیے پیسے نہیں دیتی کہ آپ "اچھے" ہیں یا "ضرورت مند" ہیں۔ دنیا آپ کو پیسے تب دیتی ہے جب آپ اس کے منہ سے نوالہ چھیننے کی صلاحیت رکھتے ہوں یا اس کی کوئی ایسی مشکل حل کریں جس کے لیے وہ تڑپ رہی ہو۔ یہ ہیں کمانے کے 15 بے رحمانہ اور اٹل اصول 1-آپ کو آپ کی محنت کے نہیں، آپ کی "ویلیو" کے پیسے ملتے ہیں۔ یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے کہ "محنت کرو تو پیسہ ملے گا"۔ ایک مزدور 12 گھنٹے پتھر توڑ کر بھی غریب رہتا ہے۔ پیسہ "مشکل کام" کا نہیں، "نایاب کام" کا ملتا ہے۔ اپنی ویلیو (Value) بڑھائیں، محنت نہیں۔ 2-وقت بیچنا بند کریں، پروڈکٹ بیچیں۔ اگر آپ گھنٹوں کے حساب سے کماتے ہیں (تنخواہ)، تو آپ کی کمائی کی ایک حد (Cap) ہے۔ امیر وہ ہوتا ہے جو سوتے ہوئے بھی کمائے۔ ایسا سسٹم، پروڈکٹ یا اثاثہ بنائیں جو آپ کے وقت کا محتاج نہ ہو۔ 3-گمنامی (Anonymity) غربت ہے۔ اگر دنیا نہیں جانتی کہ آپ کون ہیں اور کیا کرتے ہیں، تو آپ کبھی امیر نہیں ہو سکتے۔ "جو دکھتا ہے، وہ بکتا ہے...