Skip to main content

Posts

Word Khan origin and historical evolution in Urdu

 کلام اکبر سیال غږ خالد خان  خان" لفظ کی حقیقی تاریخ ۔۔۔۔ خان کا لفظ موجودہ زمانے میں اکثر مشرقی ممالک مثلا افغانستان , پاکستان, وسطی ایشیا, ایران, ہندوستان اور ترکی میں بکثرت استعمال ہوتا ہے. اس لفظ کے بارے میں مختلف علماء اور مورخین نے بہت کچھ لکھا ہے اور اپنی رائے پیش کی ہے جن میں سے چند ایک کا ہم یہاں زکر کیے دیتے ہیں: نفسینی ڈکشنری کے مولف لکھتے ہیں کہ  " خان ترک زبان کا لفظ ہے اور چین, ترکستان و تاتارستان کے بادشاہوں کا لقب ہے جس کے معانی امیر, رئیس اور بیگ کے ہیں نور اللغات میں خان لفظ کی یہ تعریف بیان ہوئی ہے " یہ لفظ قدیم ایام میں ترکستان کے بادشاہوں کا لقب تھا لیکن موجودہ زمانے میں امراء و رووساء کے مابین مشہور ہے." امریکی دائرہ المعارف کے مطابق: " خان ابتدائی ادوار میں ترکستان میں کاروان یا قافلے کے سربراہ کو کہتے تھے. بعدا یہ لفظ مشرقی ایشیائی ممالک کے سربراہان کے لیے مستعمل رہا." خان صد فیصد ترکوں کا لقب ہے, اگر ہم تاریخ پر غور کریں تو خان کا لفظ اولین دفعہ ترک بن یافث کی پانچھویں پشت پر "باقوی خان" کے نام میں ملتا ہے جس کے بعد ان کی...
Recent posts

29 سالہ انتظار ختم۔ عبد الجبار کہ میرٹ پر تعیناتی

 29 سالہ انتظار ختم، عبدالجبار کی میرٹ پر عارضی تعینات منقول  استا محمد کے عبدالجبار کی داستانِ صبر و امید، کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کا میرٹ پر مبنی اقدام  عبدالجبار نے 1997ء میں پٹواری کا کورس مکمل کیا تھا۔ دورانِ کورس ان کے والد کا انتقال ہوگیا، تاہم تدریسی عمل اور امتحانات کی مجبوری کے باعث وہ اپنے والد کا آخری دیدار بھی نہ کرسکے۔ والد کی جدائی کے صدمے کے ساتھ انہوں نے پٹواری کی ڈگری حاصل کی، مگر سرکاری ملازمت کا خواب پورا ہونے میں 29 سال لگ گئے اس دوران عبدالجبار نے ملازمت کے حصول کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں، مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگائے اور طویل انتظار و مشکلات کا سامنا کیا، تاہم امید کا دامن نہیں چھوڑا گزشتہ روز عبدالجبار ضلع استا محمد سے کمشنر نصیرآباد ڈویژن کے دفتر پہنچے۔ وہ عارضی بنیادوں پر ہونے والے انٹرویوز کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے آئے تھے۔ مالی مشکلات کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے پاس استا محمد سے ڈویژنل ہیڈکوارٹر تک سفر کے لیے موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلوانے کے بھی پیسے نہیں تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی کی سونے کی بالی فروخ...

Arabs at war in Afghanistan" by Mustafa Hamid

 سوویت یونین کے دسمبر 1979ء میں افغانستان پر حملے سے قبل عرب دنیا میں رُونما ہونے والے متعدد سیاسی و مذہبی واقعات نے ایسے حالات پیدا کیے  جنہوں نے عرب نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو افغانستان میں نام نہاد جہاد کی جانب راغب کیا اور پشاور کو عالمی جہادی گڑھ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسرائیل کے ہاتھوں عرب ریاستوں کی پے در پے شکستیں، مصر کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا اور اسلام پسند تنظیموں کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن، حافظ الاسد کی شامی حکومت کا اخوان المسلمین پر شدید تشدد، اسرائیل کا لبنان پر حملہ، خانۂ کعبہ پر مسلح گروہ کا قبضہ، جنوبی یمن میں کمیونسٹ حکومت کا قیام اور ایران میں آیت اللہ خمینی کا انقلاب، اِن تمام واقعات نے عرب نوجوانوں میں سیاسی و مذہبی بے چینی کو گہرا کیا۔  چنانچہ افغانستان میں سوویت یونین کے قبضے کے خلاف ایک بین الاقوامی پراکسی جنگ کے آغاز نے اِن جذبات کو عملی رخ دیا اور اپنے ممالک کے سیاسی و سماجی نظام سے نالاں متعدد عرب نوجوان پشاور پہنچے جہاں انہوں نے افغانستان جانے اور اس جنگ میں حصہ لینے کے لیے اپنے ڈیرے ڈال لیے۔ بے نظیر بھٹو کی پہلی دور حکومت میں سا...

Babrak Khan Zadran. A Hero of Afghan War.

 افغانستان میں زمانہ قدیم سے ایک فتوت وجانبازی کی بنیاد پر ایک طبقہ پالوچ/ښپه لوڅ يعنې ننگے پیروالاپایاجاتاتھا  یہ لوگ جانبازی دکھانے کےلئے ہرحدتک جاتے تھے جس میں ہاتھ میں انگارے پکڑنا ایک عام مظاہرہ ہوتاتھا جس میں گوشت تک پگھل جاتا مگر انکے منہ سے اف نہیں نکلتا تھا ببرک خان جدران پکتیا کے اسردار بھی پالوچ تھے.  انکی تصویر عموما لیاقت علی خان کے قاتل کے طور پر پیش کی جاتی ہے مگر یہ 1925میں امان اللہ غازی حکومت کے خلاف ایک بغاوت کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے تھے  ببرک خان زدران  کو امانی دور میں لوگ "پالوچ جنرل" کہتے تھے۔  وہ ہمیشہ ننگے پاؤں رہتا تھا۔ ایک دن وہ امیر امان اللہ خان کے دربار میں آیا تو امان اللہ خان نے اس سے پوچھا:   "تم بڑے پکتیا کے مشہور سردار ہو، ننگے پاؤں کیوں گھومتے ہو؟"   اس نے جواب دیا: "میں قوم کا سردار ہوں اور جب میری قوم کے لوگ ننگے پاؤں گھومتے ہیں تو میں اپنے آپ کو جوتا پہننے کا حق نہیں دیتا!" ببرک خان، مزاک خان زدران کا بیٹا تھا جو 1862ء میں خوست میں رہتا تھا۔ اس وقت سرحدوں پر انگریزوں کے خلاف مزاحمت شروع ہو چکی تھی...

سانس بند کرنے والے دیسی مہینے بھادوں کا آغاز 16 اگست سے

 سانس بند کرنے والے دیسی مہینے بھادوں کا آغاز 16 اگست سے ہو گا۔ حبس والی گرمی 15 ستمبر تک جاری رہے گی۔۔ *بھادوں کی حیرت انگیز معلومات* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 16 اگست سے شروع ہونے والا پنجابی مہینہ بھادوں اور اُسکی دلچسپ روایات بھادوں پنجابی اور نانک شاہی کیلنڈر کا چھٹا مہینا ہے جو ساؤن کے بعد آتا ہے اور آٹھویں انگریزی مہینے اگست کی 16 تاریخ سے ستمبر کی 15 تاریخ تک رہتا ہے اور اس مہینے کے 31 دن شمار کیے جاتے ہیں۔ بھارتی اور پاکستانی پنجاب میں ساؤن اور بھادوں بارشوں کے مہینے ہیں جس میں مُون سُون کی بارشیں ہاڑ یعنی جون اور جولائی کی شدید گرمی کے بعد گرمی کا زور توڑ دیتی ہیں اسی لیے بھادوں کو پنجاب میں اچھے موسم والا مہینہ جسکی گرمی برداشت کے قابل ہوتی ہے تصور کیا جاتا ہے۔  "بھادوں بارش کا مہینہ انتہائی خوبصورت مہینہ ہے اور ساؤن اور بھادوں رحمت والے مہینے ہیں جس میں بادل نیچے اُترتا ہے اور تیز بارش برساتا ہے جس سے پانی اور زمین شہد سے بھر جاتے ہیں اورخالق زمین پر گھومتا ہے”۔ روایات میں ہے کہ پنجابی کے 12 مہینوں کے نام گیاراں بھائیوں (ویساکھ، جیٹھ، ہاڑ، ساون، اسو، کتک، م...

Bakht e Rahman of Swat.

 لوگ شیکسپیئر کی بات کرتے ہے ۔۔جس نے انگریزی کو نہ صرف 1700 نںے الفاظ دییے ۔۔بلکہ بہت سب کچھ دیا ۔۔ تو دوسری طرف پشتو زبان کا عظیم ترین ڈرامہ نگار، شاعر، فلسفی، صوفی، نثر نگار، essayist، ماہر اقتصادیات فلکیات نفسیات و لسانیات، لوگوں کے دل کا اکلوتا بادشاہ، دل جلے، دل زخمی، دل اجھاڑ ، دل خوشگوار، دل خوش فہم( The great bakhti Rehman )  بختی رحمان  لوگوں کے درمیان شہرت رکھنے والا ہے ۔۔ بختي رحمان... د خپلو لفظونو خاوند نوټ: دا ليکنه صرف د مزاح دہ پارہ  ده. دہ علمی آؤ تحقیقی کار سرہ یی تعلق نشتہ △ ډبل بېډ (انگریزی Double Bed) → (دہ درینجیدلو کٹ) △ بې‌وفا →( لوغڑنہ چرګه) △ ډرون کیمرہ → (پلاسٹیکی سيزه‌کې) △ قهقهه وهل →( شېشنېدل) △ د پوليسو ګاډی →( پيپسي کولا ګاډی) △ بہترینہ خبری کول→ (پېنسي کړي مېلس) △ اخوا دېخوا →( انګه پېچه) △ بہترین جواب → (شوړه کړی جواب) △ قابل بچی → (مغوړی) △ بېکاره انسان →( لوړ پوکې) △ مشهوره ښځه →( آپړې دوپړې شانه ترور) △ د پنجاب علاقہ → (صابونۍ خاوره) △ شور جوړول او خلک تنګول →( بازار ګرمي) △ اخوا دیخوا→( اړته پڑته) △ لوفر د امير پلار نازولی زوی → ...

Books to read about Afghanistan wars. Yousaf Anwar

Books to read about Afghanistan wars. Yousaf Anwar  افغانستان کے عوام پر کیا گزری لازمی ہے کہ ہم سب اس بارے میں گزشتہ پچاس برسوں کے دوران ہونے والے واقعات اور المیات کے بارے میں تاریخی حقائق کا مطالعہ فرمائیں  حالانکہ درج ذیل کتاب کے پہلے ایڈیشن شائع ہونے کے بعد پڑھ لیا تھا لیکن اب صورتحال مختلف ہونے کے باوجود دوبارہ مطالعہ کر رہا ہوں  اس کے علاؤہ دیگر کتابیں ڈھونڈ رہا ہوں  میرے لاڈلے دہشت گرد پروفیسر  Muhammad Ismail  کی مہبربانی سے درج ذیل کتب مل گئی ہیں: Afghanistan  The Bear Trap  By  Brig. Mohamed Yousaf & Mark Adkin  The Afghanistan File  By  Prince Turki Alfaisal AlSaud  The Tragedy of Afghanistan  By  Raja Anwar  The Search for Peace In Afghanistan  By  Barnett R. Rubin  The Fragmentation of Afghanistan  By  Barnett R. Rubin  The Wrong Enemy  By  Carlotta Gall  اس سلسلے میں  احمد رشید کی مشہور کتاب  Taliban  ڈھونڈ رہا ہوں یہ سب کتابیں می...

مفتی منیر شاکر کی زندگی

 حاجی نامدار آفریدی کا تعلق خیبر ایجنسی کے وادی تیراہ سے تھا، سن 2003ء میں سعودی عرب سے واپس آنے کے بعد خیبر ایجنسی میں اُس نے "امر باالمعروف و نہی عن المنکر" کے نام سے ایک تنظیم بنائی، جس کا مقصد شریعت کا نفاذ، معاشرتی برائیوں کا خاتمہ اور سماجی نظام کو اسلامی قوانین کے ماتحت کرنا بتایا گیا۔ حاجی نامدار کے تحریک پر افغان طالبان کے طرزِ فکر کے اثرات نمایاں تھے۔ تنظیم نے مقامی تنازعات کے فیصلے کرنے، جرائم کے خلاف کارروائی کرنے اور اپنی طرز پر عدالتی نظام چلانے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو ہم خیال بنانے کےلئے ایک ایف ایم ریڈیو بھی کھولا جس پر شریعت کے نام پر پروپیگنڈہ اور اسلام کی سخت گیر تشریح کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو دھمکایا بھی جاتا تھا۔ اُن دنوں مفتی منیر شاکر کو فرقہ ورانہ خیالات رکھنے کی وجہ سے کُرم ایجنسی سے نکالا گیا تھا۔ حاجی نامدار نے مفتی منیر شاکر کو خیبر ایجنسی میں اپنے ہاں پناہ دی اور اُنہیں اپنے ریڈیو کا نگران بنایا۔ مفتی منیر شاکر نے ریڈیو پر شریعت کے نام پر پروپیگنڈہ کرنے اور جذباتی تقاریر سے بہت کم عرصے میں مقامی لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ اُن دنوں خیبر کے ...

ساکا اور پشتون: تاریخ، حقیقت اور تحقیق کی روشنی میں ایک غیر جانب دار جائزہ۔

 ساکا اور پشتون: تاریخ، حقیقت اور تحقیق کی روشنی میں ایک غیر جانب دار جائزہ۔ جب بھی وسط ایشیا، افغانستان اور برصغیر کی قدیم تاریخ کا ذکر ہوتا ہے تو ایک نام بار بار سامنے آتا ہے: ساکا (Saka)۔ یہ وہ خانہ بدوش ایرانی النسل اقوام تھیں جنہوں نے تقریباً نویں صدی قبل مسیح سے پانچویں صدی عیسوی تک یوریشیائی میدانوں، وسط ایشیا، باختر، سیستان اور شمالی برصغیر کی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ گھڑ سواری، تیراندازی، جنگی مہارت اور وسیع ہجرتیں ان کی پہچان تھیں۔ آج بھی ایک اہم سوال زیرِ بحث رہتا ہے: کیا موجودہ پشتون براہِ راست ساکا قوم کی اولاد ہیں؟ اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ اس کا کوئی قطعی تاریخی، لسانی یا جینیاتی ثبوت موجود نہیں۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ساکا اقوام نے اس خطے کی تاریخ، ثقافت اور آبادی پر اثرات چھوڑے، اور انہی اثرات کے ماحول میں بعد کے ایرانی النسل گروہوں، بشمول پشتونوں، کی تشکیل ہوئی۔ ساکا کون تھے؟ قدیم فارسی کتبوں میں انہیں سکا (Sakā)، یونانی مؤرخین نے ساکائی (Sakai) اور ہندوستانی روایات میں شک (Śaka) کہا۔ یہ سکیتھیائی (Scythian) دنیا کی مشرقی شاخ تھے اور ان کی زبانیں مشر...

برطانوی سلطنت کا افیون کا کالا کاروبار: بنگال کا "افیون کیپیٹل"، جارج اورویل کے والد، اور افیون جنگوں کی اصل

  برطانوی سلطنت کا افیون کا کالا کاروبار: بنگال کا "افیون کیپیٹل"، جارج اورویل کے والد، اور افیون جنگوں کی اصل کہانی تعارف برطانوی سامراج کا ذکر آتے ہی اکثر ریلوے، عدالتی نظام، انگریزی تعلیم اور نوآبادیاتی انتظامیہ کی بات کی جاتی ہے، لیکن اس تاریخ کا ایک نہایت تاریک باب بھی ہے جس پر نسبتاً کم گفتگو ہوتی ہے۔ یہ باب افیون (Opium) کی عالمی تجارت، کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر اس کے تباہ کن اثرات، اور سامراجی منافع خوری کی داستان بیان کرتا ہے۔ 18ویں اور 19ویں صدی میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد ازاں برطانوی حکومت نے ہندوستان میں افیون کی کاشت، پیداوار اور برآمد کو ایک منظم سرکاری صنعت میں تبدیل کر دیا۔ اس تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی برطانوی سلطنت کی معیشت کا ایک اہم ستون بن گئی۔ برطانوی راج کا "افیون ڈیپارٹمنٹ" بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ برطانوی ہندوستان میں باقاعدہ Opium Department موجود تھا، جو انڈین سول سروس کے تحت کام کرتا تھا۔ اس محکمے کی ذمہ داریوں میں شامل تھا: کسانوں سے پوست کی کاشت کروانا افیون کی پیداوار کی نگرانی معیار کی جانچ سرکاری خریداری...