کرد (Kurds) تقریباً 3 سے 4 کروڑ افراد پر مشتمل ایک نسلی گروہ ہیں جو زیادہ تر ترکی، عراق، ایران اور شام میں آباد ہیں۔ یہ ایک ایسی زبان بولتے ہیں جو فارسی (Persian) سے ملتی جلتی ہے، اور ان کی اکثریت سنی مسلمان ہے۔ 1920 کی دہائی میں ہونے والے بین الاقوامی معاہدوں کے نتیجے میں کردوں کی سرزمین کو نئے بننے والے ممالک کے درمیان تقسیم کر دیا گیا، جس کی وجہ سے کردوں کو اپنی الگ ریاست نہیں مل سکی۔ گزشتہ ایک صدی کے دوران کرد گروہوں نے ان چاروں ممالک میں خودمختاری یا آزادی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ ترکی: ترکی کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد کردوں پر مشتمل ہے۔ ایک کرد مسلح تنظیم PKK (کردستان ورکرز پارٹی) 1984 سے ریاست کے خلاف لڑ رہی ہے، اور اس تنازعے میں اب تک 40 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عراق: عراق کے شمال میں کردوں نے ایک نیم خودمختار علاقہ قائم کر رکھا ہے جس کی اپنی حکومت ہے، تاہم تیل کی آمدنی اور دیگر مسائل پر عراق کی مرکزی حکومت کے ساتھ کشیدگی رہتی ہے۔ شام: شام کی خانہ جنگی کے دوران 2014 سے کرد جنگجوؤں نے داعش کے خلاف امریکہ کے ساتھ مل کر لڑائی کی اور 2026 تک شما...
پاک افغان تعلقات: پہلی قسط پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات آغاز ہی سے تناؤ اور کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اس موضوع پر بہت پہلے لکھنے کا ارادہ تھا لیکن ناسازئ طبع کی وجہ سے وقت نہ مل سکا۔ آج اس سلسلے کی پہلی قسط پیشِ خدمت ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ ان مسائل کی جڑ کہاں ہے، یہ کب شروع ہوئے اور ان کے پیچھے محرکات کیا تھے۔ 1946ء کے صوبائی انتخابات ہوئے تو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔ اسمبلی کی کل 50 نشستوں میں سے کانگریس کے پاس 30 جبکہ مسلم لیگ کے پاس 17 سیٹیں تھیں۔ ڈاکٹر خان صاحب، جو باچا خان کے بڑے بھائی تھے، صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ بنے۔ اسی دوران 3 جون 1947 کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے تحت ہندوستان کی دو ریاستوں میں تقسیم کا فیصلہ ہوا۔ اس منصوبے میں مختلف صوبوں اور شاہی ریاستوں کے لیے الحاق کے الگ الگ طریقے وضع کیے گئے تھے۔ صوبہ سرحد اور سلہٹ کے لیے استصوابِ رائے (ریفرنڈم) کا راستہ اختیار کیا گیا، جہاں عوام کے پاس صرف دو آپشن تھے: پاکستان میں شمولیت یا بھارت میں شمولیت۔ باچا خان اور خدائی خدمتگاروں کا موقف یہ تھا کہ ریفرنڈم کے سوالات بہت محدود ہیں۔ ...