پاک افغان تعلقات: پہلی قسط پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات آغاز ہی سے تناؤ اور کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اس موضوع پر بہت پہلے لکھنے کا ارادہ تھا لیکن ناسازئ طبع کی وجہ سے وقت نہ مل سکا۔ آج اس سلسلے کی پہلی قسط پیشِ خدمت ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ ان مسائل کی جڑ کہاں ہے، یہ کب شروع ہوئے اور ان کے پیچھے محرکات کیا تھے۔ 1946ء کے صوبائی انتخابات ہوئے تو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔ اسمبلی کی کل 50 نشستوں میں سے کانگریس کے پاس 30 جبکہ مسلم لیگ کے پاس 17 سیٹیں تھیں۔ ڈاکٹر خان صاحب، جو باچا خان کے بڑے بھائی تھے، صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ بنے۔ اسی دوران 3 جون 1947 کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے تحت ہندوستان کی دو ریاستوں میں تقسیم کا فیصلہ ہوا۔ اس منصوبے میں مختلف صوبوں اور شاہی ریاستوں کے لیے الحاق کے الگ الگ طریقے وضع کیے گئے تھے۔ صوبہ سرحد اور سلہٹ کے لیے استصوابِ رائے (ریفرنڈم) کا راستہ اختیار کیا گیا، جہاں عوام کے پاس صرف دو آپشن تھے: پاکستان میں شمولیت یا بھارت میں شمولیت۔ باچا خان اور خدائی خدمتگاروں کا موقف یہ تھا کہ ریفرنڈم کے سوالات بہت محدود ہیں۔ ...
If your father or mother is above 67, please pause and read this slowly. At that age, life begins to feel different for them. The world moves faster, but their bodies move slower. The things they once did effortlessly now require effort. Their strength is not what it used to be, and even if they don’t say it, they feel it. What they need now is not pressure. Not stress. Not arguments about money or past mistakes. They need stability. They need reassurance. They need to feel safe. If they have savings, protect it. This is not the stage for risky investments or “let’s try this opportunity.” It is the stage for preservation. Capital safety matters more than high returns. Peace of mind matters more than profit. If they depend on you financially, don’t see it as a burden. See it as a privilege. The same hands that once carried you are now weaker. The same voices that defended you now speak softer. Support them with dignity, not pity. And beyond money, give them something deeper. Call t...