Skip to main content

Posts

Books to read about Afghanistan wars. Yousaf Anwar

Books to read about Afghanistan wars. Yousaf Anwar  افغانستان کے عوام پر کیا گزری لازمی ہے کہ ہم سب اس بارے میں گزشتہ پچاس برسوں کے دوران ہونے والے واقعات اور المیات کے بارے میں تاریخی حقائق کا مطالعہ فرمائیں  حالانکہ درج ذیل کتاب کے پہلے ایڈیشن شائع ہونے کے بعد پڑھ لیا تھا لیکن اب صورتحال مختلف ہونے کے باوجود دوبارہ مطالعہ کر رہا ہوں  اس کے علاؤہ دیگر کتابیں ڈھونڈ رہا ہوں  میرے لاڈلے دہشت گرد پروفیسر  Muhammad Ismail  کی مہبربانی سے درج ذیل کتب مل گئی ہیں: Afghanistan  The Bear Trap  By  Brig. Mohamed Yousaf & Mark Adkin  The Afghanistan File  By  Prince Turki Alfaisal AlSaud  The Tragedy of Afghanistan  By  Raja Anwar  The Search for Peace In Afghanistan  By  Barnett R. Rubin  The Fragmentation of Afghanistan  By  Barnett R. Rubin  The Wrong Enemy  By  Carlotta Gall  اس سلسلے میں  احمد رشید کی مشہور کتاب  Taliban  ڈھونڈ رہا ہوں یہ سب کتابیں می...
Recent posts

مفتی منیر شاکر کی زندگی

 حاجی نامدار آفریدی کا تعلق خیبر ایجنسی کے وادی تیراہ سے تھا، سن 2003ء میں سعودی عرب سے واپس آنے کے بعد خیبر ایجنسی میں اُس نے "امر باالمعروف و نہی عن المنکر" کے نام سے ایک تنظیم بنائی، جس کا مقصد شریعت کا نفاذ، معاشرتی برائیوں کا خاتمہ اور سماجی نظام کو اسلامی قوانین کے ماتحت کرنا بتایا گیا۔ حاجی نامدار کے تحریک پر افغان طالبان کے طرزِ فکر کے اثرات نمایاں تھے۔ تنظیم نے مقامی تنازعات کے فیصلے کرنے، جرائم کے خلاف کارروائی کرنے اور اپنی طرز پر عدالتی نظام چلانے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو ہم خیال بنانے کےلئے ایک ایف ایم ریڈیو بھی کھولا جس پر شریعت کے نام پر پروپیگنڈہ اور اسلام کی سخت گیر تشریح کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو دھمکایا بھی جاتا تھا۔ اُن دنوں مفتی منیر شاکر کو فرقہ ورانہ خیالات رکھنے کی وجہ سے کُرم ایجنسی سے نکالا گیا تھا۔ حاجی نامدار نے مفتی منیر شاکر کو خیبر ایجنسی میں اپنے ہاں پناہ دی اور اُنہیں اپنے ریڈیو کا نگران بنایا۔ مفتی منیر شاکر نے ریڈیو پر شریعت کے نام پر پروپیگنڈہ کرنے اور جذباتی تقاریر سے بہت کم عرصے میں مقامی لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ اُن دنوں خیبر کے ...

ساکا اور پشتون: تاریخ، حقیقت اور تحقیق کی روشنی میں ایک غیر جانب دار جائزہ۔

 ساکا اور پشتون: تاریخ، حقیقت اور تحقیق کی روشنی میں ایک غیر جانب دار جائزہ۔ جب بھی وسط ایشیا، افغانستان اور برصغیر کی قدیم تاریخ کا ذکر ہوتا ہے تو ایک نام بار بار سامنے آتا ہے: ساکا (Saka)۔ یہ وہ خانہ بدوش ایرانی النسل اقوام تھیں جنہوں نے تقریباً نویں صدی قبل مسیح سے پانچویں صدی عیسوی تک یوریشیائی میدانوں، وسط ایشیا، باختر، سیستان اور شمالی برصغیر کی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ گھڑ سواری، تیراندازی، جنگی مہارت اور وسیع ہجرتیں ان کی پہچان تھیں۔ آج بھی ایک اہم سوال زیرِ بحث رہتا ہے: کیا موجودہ پشتون براہِ راست ساکا قوم کی اولاد ہیں؟ اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ اس کا کوئی قطعی تاریخی، لسانی یا جینیاتی ثبوت موجود نہیں۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ساکا اقوام نے اس خطے کی تاریخ، ثقافت اور آبادی پر اثرات چھوڑے، اور انہی اثرات کے ماحول میں بعد کے ایرانی النسل گروہوں، بشمول پشتونوں، کی تشکیل ہوئی۔ ساکا کون تھے؟ قدیم فارسی کتبوں میں انہیں سکا (Sakā)، یونانی مؤرخین نے ساکائی (Sakai) اور ہندوستانی روایات میں شک (Śaka) کہا۔ یہ سکیتھیائی (Scythian) دنیا کی مشرقی شاخ تھے اور ان کی زبانیں مشر...

برطانوی سلطنت کا افیون کا کالا کاروبار: بنگال کا "افیون کیپیٹل"، جارج اورویل کے والد، اور افیون جنگوں کی اصل

  برطانوی سلطنت کا افیون کا کالا کاروبار: بنگال کا "افیون کیپیٹل"، جارج اورویل کے والد، اور افیون جنگوں کی اصل کہانی تعارف برطانوی سامراج کا ذکر آتے ہی اکثر ریلوے، عدالتی نظام، انگریزی تعلیم اور نوآبادیاتی انتظامیہ کی بات کی جاتی ہے، لیکن اس تاریخ کا ایک نہایت تاریک باب بھی ہے جس پر نسبتاً کم گفتگو ہوتی ہے۔ یہ باب افیون (Opium) کی عالمی تجارت، کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر اس کے تباہ کن اثرات، اور سامراجی منافع خوری کی داستان بیان کرتا ہے۔ 18ویں اور 19ویں صدی میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد ازاں برطانوی حکومت نے ہندوستان میں افیون کی کاشت، پیداوار اور برآمد کو ایک منظم سرکاری صنعت میں تبدیل کر دیا۔ اس تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی برطانوی سلطنت کی معیشت کا ایک اہم ستون بن گئی۔ برطانوی راج کا "افیون ڈیپارٹمنٹ" بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ برطانوی ہندوستان میں باقاعدہ Opium Department موجود تھا، جو انڈین سول سروس کے تحت کام کرتا تھا۔ اس محکمے کی ذمہ داریوں میں شامل تھا: کسانوں سے پوست کی کاشت کروانا افیون کی پیداوار کی نگرانی معیار کی جانچ سرکاری خریداری...

تساوی تاریخی ایران و بلژیک در جام جهانی ۲۰۲۶؛ حماسه یوزها مقابل شیاطین سرخ

تساوی تاریخی ایران و بلژیک در جام جهانی ۲۰۲۶؛ حماسه یوزها مقابل شیاطین سرخ جام جهانی ۲۰۲۶ در گروه G خود شاهد یکی از شگفت‌انگیزترین، تاکتیکی‌ترین و دراماتیک‌ترین مسابقات تاریخ فوتبال آسیا بود. تیم ملی فوتبال ایران در یک تقابل نفس‌گیر به مصاف بلژیک، یکی از قدرت‌های برتر فوتبال جهان و رتبه ۱۰ رنکینگ فیفا رفت و موفق شد با یک نمایش شاهکار و دفاعی منسجم، حریف پرآوازه خود را با تساوی ۰-۰ متوقف کند. این نتیجه نه‌تنها جدول گروه را کاملاً پیچیده کرد، بلکه تحسین تمام کارشناسان بين‌المللی را برانگیخت. آیا ایران در حد و اندازه بلژیک بود؟ تقابل دارا و ندار در مستطیل سبز بر روی کاغذ و طبق پیش‌بینی تمام تحلیل‌گران، بلژیک شانس ۱۰۰ درصدی پیروزی بود. شیاطین سرخ با داشتن ستارگان چند صد میلیون دلاری شاغل در بزرگترین باشگاه‌های اروپا مانند کوین دی بروینه، روملو لوکاکو و تیبو کورتوا، یک غول بی‌شاخ‌ودم به نظر می‌رسیدند. در طرف مقابل، ایران هرچند ستاره‌های باانگیزه‌ای داشت، اما از نظر ارزش اسکواد و تجربه بین‌المللی در سطحی کاملاً متفاوت قرار داشت. با این حال، فوتبال بار دیگر نشان داد...

Can You Listen to XM Satellite Radio in Pakistan? (Complete Guide & Best Alternatives)

 Can You Listen to XM Satellite Radio in Pakistan? (Complete Guide & Best Alternatives) Radio technology has evolved dramatically over the decades. From the classic shortwave bands to modern digital broadcasting, radio enthusiasts are always on the lookout for premium audio content. If you are a radio hobbyist living in South Asia, or a traveler visiting the region, you might have wondered: **Can you listen to XM Satellite Radio (SiriusXM) in Pakistan?** In this comprehensive guide, we will break down how satellite radio works, why geographical boundaries limit its reach, and the best legal workarounds and alternatives to enjoy high-quality international broadcasts from Pakistan. What is XM Satellite Radio? XM Satellite Radio (now merged and known as **SiriusXM**) is a premium American satellite radio service. Unlike traditional AM/FM radio that relies on localized terrestrial towers, SiriusXM broadcasts high-digital-quality audio directly from geostationary satellites orbiting...

US Iran MOU Signed Digitally. MOU All Points in Pashto.

 US Iran MOU Signed Digitally. MOU All Points in Pashto. د امریکا او ایران تر منځ په لاندې مادو هوکړه شوې: لومړۍ ماده: د امریکا متحده ایالات، د ایران اسلامي جمهوریت او د هغوی متحدین په روانه جګړه کې دا تفاهم‌لیک لاسلیکوي، څو په ټولو جبهو، د لبنان په ګډون د پوځي عملیاتو سمدستي او دایمي پای اعلان کړي. دواړه لوري ژمنه کوي چې له دې وروسته به د یو بل پر ضد هېڅ جګړه او یا پوځي عملیات نه پیلوي، د زور ګواښ او کارونې څخه به ډډه کوي او د لبنان ځمکنۍ بشپړتیا او ملي حاکمیت به تضمینوي. وروستۍ هوکړه به په ټولو جبهو، د لبنان په ګډون د جګړې د دایمي پای او د دې مادې د نورو احکامو تایید وکړي. دویمه ماده: د امریکا متحده ایالات او د ایران اسلامي جمهوریت ژمنه کوي چې د یو بل ملي حاکمیت او ځمکنۍ بشپړتیا ته به درناوی کوي او د یو بل په کورنیو چارو کې به لاسوهنه نه کوي. درېیمه ماده: د امریکا متحده ایالات او د ایران اسلامي جمهوریت ژمنه کوي چې په ۶۰ ورځو کې به خبرې اترې ترسره کړي او وروستۍ هوکړې ته به ورسېږي. دا موده د دواړو لورو په رضایت غځېدلی شي. څلورمه ماده: د دې تفاهم‌لیک له لاسلیک وروسته به د امریکا متح...

نجیب اللہ بطور خاد ایجنسی کے سربراہ

 # ثور انقلاب: قسط 5 —  ڈاکٹر نجیب اللہ بطور  خاد ایجنسی کے سربراہ  (1980 تو 1985)   ڈاکٹر نجیب اللہ کو خاد کا پہلا سربراہ منتخب کرنے کے پیچھے سوویت یونین کی گہری اسٹریٹجک، سیاسی اور ذاتی وجوہات تھیں۔ سوویت یونین کے نزدیک خاد کے تمام باقاعدہ اعلیٰ حکام کے لیے پرچمی ہونا اور پارٹی نظریات سے مخلص ہونا لازمی تھا تاکہ کابل میں سوویت مشن کے سیاسی و ریاستی مفادات کی وفاداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ نے سوویت افواج کی آمد کے بعد پرچمیوں کے اس 'ایکٹیوسٹ' گروپ کی قیادت کی تھی جس نے 'کام سے انٹیلی جنس کے امور اپنے ہاتھ میں لیے تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر بہا اور کے جی بی کے مشیروں کے ساتھ مل کر سوویت خفیہ ایجنسی کے طرز پر خاد کا کثیر الجہتی اور وسیع تنظیمی ڈھانچہ خود ڈیزائن کیا تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ اس نظام کو چلانے کے لیے موزوں ترین انتخاب تھے۔ نجیب اللہ میں یہ صلاحیت موجود تھی کہ وہ چیکا کے بانی فیلکس دزیرژینسکی کے ان سخت گیر اور بے رحم جنگی اصولوں پر عملدرآمد کروا سکیں جہاں انصاف کے بجائے دشمن کا مکمل خاتمہ مقصود ہوتا ہے۔ بڑھتی ہوئی عسکری مزاحمت اور کابل کے اندرو...

Urdu jokes

 ‏مریض کمر درد لے کر ڈاکٹر کے پاس پہنچا۔ ڈاکٹر نے پوچھا اتنا شدید درد کیسے شروع ہوا، آیا کوئی چوٹ آئی۔؟؟ مریض بولا، "میں موبائل فون سروس سنٹر پر رات بھر ڈیوٹی کر کے صبح سحری وقت سے پہلے گھر پہنچا۔ بیڈ روم سے کچھ مشکوک آوازیں سنائی دیں۔ مجھے شک ہوا۔ میں بھاگ کر بیڈ روم میں گھسا۔ وہاں میری بیوی کے سوا کوئی نہیں تھا۔ میں نے تیزی سے بالکونی سے نیچے جھانکا۔ ایک آدمی کپڑے پہنتا بلڈنگ سے باہر کو بھاگا جا رہا تھا۔ میں نے تیزی سے فریج اٹھا کر نیچے اس پر دے ماری۔ یوں کمر کو درد شروع ہو گیا۔" وہ ابھی موجود تھا کہ ایک اور مریض پہنچا۔ اس کی حالت ایسی تھی جیسے کسی گاڑی سے ٹکرا گیا ہو۔ ڈاکٹر نے فوراً اسے ایمرجنسی میں ڈالا اور حادثہ کی نوعیت پوچھی۔ مریض بولا، "صبح دفتر وقت سے پہلے پہنچنا تھا۔ جو نہی سحری جاگا بھاگم بھاگ الٹے سیدھے کپڑے پہنتا اپارٹمنٹ سے نکلا ہی تھا کہ جانے کہاں سے میرے اوپر ایک فریج آ گری۔" ڈاکٹر ابھی پریشان ہو ہی رہا تھا کہ ایک اور مریض جو انتہائی بھیانک حالت میں تھا، پہنچا۔ ڈاکٹر نے پوچھا کیا ہوا تو بولا، "کچھ نہیں، بس فریج میں بیٹھا تھا کہ کسی نے فریج اٹھا ...

Sardar Anayatullah Khan, Brother of Amir Amanalullah Khan

 امیر امان اللہ خان کے بعد، ان کے بھائ  افغانستان کے امیربن گئے تھے اس تصویر میں  سردار عنایت اللہ خان وطن سے نکلنے کے وقت۔ 1929ء  کابل  دکھائے گئے ہے  ماخذ:پاکستان کی وزارت دفاع کی ویب سائٹ غازی امان اللہ کی جگہ سردار عنایت اللہ کو امیر بنانے کا مطالبہ شنواری اور خوبانی باغی کررہے تھے جو بروقت نہیں مانا گیا جسکی وجہ سے رفتہ رفتہ بچہ سقہ کی قوت میں اضافہ ہوتا گیا آخروقت میں غازی امان اللہ کے جانے کے بعد انکو امیربنایاگیامگر پھر بات نہیں بنی باغی کابل تک پہنچ چکے تھے غالب امکان ہے کہ سردار عنایت اللہ خان کا یہ فرار افغان اور برطانوی تاریخ میں فضائی انخلا کا پہلا آپریشن تھا، جس میں 586 افغان حکام کو 84 پروازوں میں ملک سے نکالا گیا۔   ان آپریشنز کی قیادت سر ایولاچپمین، نامی انگریز افیسرکے ذمے تھی، اور سردار عنایت اللہ خان کے طیارے کا نام "وِکٹوریا" تھا۔   دوسری تصویر سردار عنایت اللہ خان کی ہے... سیف لودھین سے بہ اضافہ وتصحیح