Skip to main content

Posts

سانس بند کرنے والے دیسی مہینے بھادوں کا آغاز 16 اگست سے

 سانس بند کرنے والے دیسی مہینے بھادوں کا آغاز 16 اگست سے ہو گا۔ حبس والی گرمی 15 ستمبر تک جاری رہے گی۔۔ *بھادوں کی حیرت انگیز معلومات* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 16 اگست سے شروع ہونے والا پنجابی مہینہ بھادوں اور اُسکی دلچسپ روایات بھادوں پنجابی اور نانک شاہی کیلنڈر کا چھٹا مہینا ہے جو ساؤن کے بعد آتا ہے اور آٹھویں انگریزی مہینے اگست کی 16 تاریخ سے ستمبر کی 15 تاریخ تک رہتا ہے اور اس مہینے کے 31 دن شمار کیے جاتے ہیں۔ بھارتی اور پاکستانی پنجاب میں ساؤن اور بھادوں بارشوں کے مہینے ہیں جس میں مُون سُون کی بارشیں ہاڑ یعنی جون اور جولائی کی شدید گرمی کے بعد گرمی کا زور توڑ دیتی ہیں اسی لیے بھادوں کو پنجاب میں اچھے موسم والا مہینہ جسکی گرمی برداشت کے قابل ہوتی ہے تصور کیا جاتا ہے۔  "بھادوں بارش کا مہینہ انتہائی خوبصورت مہینہ ہے اور ساؤن اور بھادوں رحمت والے مہینے ہیں جس میں بادل نیچے اُترتا ہے اور تیز بارش برساتا ہے جس سے پانی اور زمین شہد سے بھر جاتے ہیں اورخالق زمین پر گھومتا ہے”۔ روایات میں ہے کہ پنجابی کے 12 مہینوں کے نام گیاراں بھائیوں (ویساکھ، جیٹھ، ہاڑ، ساون، اسو، کتک، م...
Recent posts

Bakht e Rahman of Swat.

 لوگ شیکسپیئر کی بات کرتے ہے ۔۔جس نے انگریزی کو نہ صرف 1700 نںے الفاظ دییے ۔۔بلکہ بہت سب کچھ دیا ۔۔ تو دوسری طرف پشتو زبان کا عظیم ترین ڈرامہ نگار، شاعر، فلسفی، صوفی، نثر نگار، essayist، ماہر اقتصادیات فلکیات نفسیات و لسانیات، لوگوں کے دل کا اکلوتا بادشاہ، دل جلے، دل زخمی، دل اجھاڑ ، دل خوشگوار، دل خوش فہم( The great bakhti Rehman )  بختی رحمان  لوگوں کے درمیان شہرت رکھنے والا ہے ۔۔ بختي رحمان... د خپلو لفظونو خاوند نوټ: دا ليکنه صرف د مزاح دہ پارہ  ده. دہ علمی آؤ تحقیقی کار سرہ یی تعلق نشتہ △ ډبل بېډ (انگریزی Double Bed) → (دہ درینجیدلو کٹ) △ بې‌وفا →( لوغڑنہ چرګه) △ ډرون کیمرہ → (پلاسٹیکی سيزه‌کې) △ قهقهه وهل →( شېشنېدل) △ د پوليسو ګاډی →( پيپسي کولا ګاډی) △ بہترینہ خبری کول→ (پېنسي کړي مېلس) △ اخوا دېخوا →( انګه پېچه) △ بہترین جواب → (شوړه کړی جواب) △ قابل بچی → (مغوړی) △ بېکاره انسان →( لوړ پوکې) △ مشهوره ښځه →( آپړې دوپړې شانه ترور) △ د پنجاب علاقہ → (صابونۍ خاوره) △ شور جوړول او خلک تنګول →( بازار ګرمي) △ اخوا دیخوا→( اړته پڑته) △ لوفر د امير پلار نازولی زوی → ...

Books to read about Afghanistan wars. Yousaf Anwar

Books to read about Afghanistan wars. Yousaf Anwar  افغانستان کے عوام پر کیا گزری لازمی ہے کہ ہم سب اس بارے میں گزشتہ پچاس برسوں کے دوران ہونے والے واقعات اور المیات کے بارے میں تاریخی حقائق کا مطالعہ فرمائیں  حالانکہ درج ذیل کتاب کے پہلے ایڈیشن شائع ہونے کے بعد پڑھ لیا تھا لیکن اب صورتحال مختلف ہونے کے باوجود دوبارہ مطالعہ کر رہا ہوں  اس کے علاؤہ دیگر کتابیں ڈھونڈ رہا ہوں  میرے لاڈلے دہشت گرد پروفیسر  Muhammad Ismail  کی مہبربانی سے درج ذیل کتب مل گئی ہیں: Afghanistan  The Bear Trap  By  Brig. Mohamed Yousaf & Mark Adkin  The Afghanistan File  By  Prince Turki Alfaisal AlSaud  The Tragedy of Afghanistan  By  Raja Anwar  The Search for Peace In Afghanistan  By  Barnett R. Rubin  The Fragmentation of Afghanistan  By  Barnett R. Rubin  The Wrong Enemy  By  Carlotta Gall  اس سلسلے میں  احمد رشید کی مشہور کتاب  Taliban  ڈھونڈ رہا ہوں یہ سب کتابیں می...

مفتی منیر شاکر کی زندگی

 حاجی نامدار آفریدی کا تعلق خیبر ایجنسی کے وادی تیراہ سے تھا، سن 2003ء میں سعودی عرب سے واپس آنے کے بعد خیبر ایجنسی میں اُس نے "امر باالمعروف و نہی عن المنکر" کے نام سے ایک تنظیم بنائی، جس کا مقصد شریعت کا نفاذ، معاشرتی برائیوں کا خاتمہ اور سماجی نظام کو اسلامی قوانین کے ماتحت کرنا بتایا گیا۔ حاجی نامدار کے تحریک پر افغان طالبان کے طرزِ فکر کے اثرات نمایاں تھے۔ تنظیم نے مقامی تنازعات کے فیصلے کرنے، جرائم کے خلاف کارروائی کرنے اور اپنی طرز پر عدالتی نظام چلانے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو ہم خیال بنانے کےلئے ایک ایف ایم ریڈیو بھی کھولا جس پر شریعت کے نام پر پروپیگنڈہ اور اسلام کی سخت گیر تشریح کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو دھمکایا بھی جاتا تھا۔ اُن دنوں مفتی منیر شاکر کو فرقہ ورانہ خیالات رکھنے کی وجہ سے کُرم ایجنسی سے نکالا گیا تھا۔ حاجی نامدار نے مفتی منیر شاکر کو خیبر ایجنسی میں اپنے ہاں پناہ دی اور اُنہیں اپنے ریڈیو کا نگران بنایا۔ مفتی منیر شاکر نے ریڈیو پر شریعت کے نام پر پروپیگنڈہ کرنے اور جذباتی تقاریر سے بہت کم عرصے میں مقامی لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ اُن دنوں خیبر کے ...

ساکا اور پشتون: تاریخ، حقیقت اور تحقیق کی روشنی میں ایک غیر جانب دار جائزہ۔

 ساکا اور پشتون: تاریخ، حقیقت اور تحقیق کی روشنی میں ایک غیر جانب دار جائزہ۔ جب بھی وسط ایشیا، افغانستان اور برصغیر کی قدیم تاریخ کا ذکر ہوتا ہے تو ایک نام بار بار سامنے آتا ہے: ساکا (Saka)۔ یہ وہ خانہ بدوش ایرانی النسل اقوام تھیں جنہوں نے تقریباً نویں صدی قبل مسیح سے پانچویں صدی عیسوی تک یوریشیائی میدانوں، وسط ایشیا، باختر، سیستان اور شمالی برصغیر کی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ گھڑ سواری، تیراندازی، جنگی مہارت اور وسیع ہجرتیں ان کی پہچان تھیں۔ آج بھی ایک اہم سوال زیرِ بحث رہتا ہے: کیا موجودہ پشتون براہِ راست ساکا قوم کی اولاد ہیں؟ اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ اس کا کوئی قطعی تاریخی، لسانی یا جینیاتی ثبوت موجود نہیں۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ساکا اقوام نے اس خطے کی تاریخ، ثقافت اور آبادی پر اثرات چھوڑے، اور انہی اثرات کے ماحول میں بعد کے ایرانی النسل گروہوں، بشمول پشتونوں، کی تشکیل ہوئی۔ ساکا کون تھے؟ قدیم فارسی کتبوں میں انہیں سکا (Sakā)، یونانی مؤرخین نے ساکائی (Sakai) اور ہندوستانی روایات میں شک (Śaka) کہا۔ یہ سکیتھیائی (Scythian) دنیا کی مشرقی شاخ تھے اور ان کی زبانیں مشر...

برطانوی سلطنت کا افیون کا کالا کاروبار: بنگال کا "افیون کیپیٹل"، جارج اورویل کے والد، اور افیون جنگوں کی اصل

  برطانوی سلطنت کا افیون کا کالا کاروبار: بنگال کا "افیون کیپیٹل"، جارج اورویل کے والد، اور افیون جنگوں کی اصل کہانی تعارف برطانوی سامراج کا ذکر آتے ہی اکثر ریلوے، عدالتی نظام، انگریزی تعلیم اور نوآبادیاتی انتظامیہ کی بات کی جاتی ہے، لیکن اس تاریخ کا ایک نہایت تاریک باب بھی ہے جس پر نسبتاً کم گفتگو ہوتی ہے۔ یہ باب افیون (Opium) کی عالمی تجارت، کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر اس کے تباہ کن اثرات، اور سامراجی منافع خوری کی داستان بیان کرتا ہے۔ 18ویں اور 19ویں صدی میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد ازاں برطانوی حکومت نے ہندوستان میں افیون کی کاشت، پیداوار اور برآمد کو ایک منظم سرکاری صنعت میں تبدیل کر دیا۔ اس تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی برطانوی سلطنت کی معیشت کا ایک اہم ستون بن گئی۔ برطانوی راج کا "افیون ڈیپارٹمنٹ" بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ برطانوی ہندوستان میں باقاعدہ Opium Department موجود تھا، جو انڈین سول سروس کے تحت کام کرتا تھا۔ اس محکمے کی ذمہ داریوں میں شامل تھا: کسانوں سے پوست کی کاشت کروانا افیون کی پیداوار کی نگرانی معیار کی جانچ سرکاری خریداری...

تساوی تاریخی ایران و بلژیک در جام جهانی ۲۰۲۶؛ حماسه یوزها مقابل شیاطین سرخ

تساوی تاریخی ایران و بلژیک در جام جهانی ۲۰۲۶؛ حماسه یوزها مقابل شیاطین سرخ جام جهانی ۲۰۲۶ در گروه G خود شاهد یکی از شگفت‌انگیزترین، تاکتیکی‌ترین و دراماتیک‌ترین مسابقات تاریخ فوتبال آسیا بود. تیم ملی فوتبال ایران در یک تقابل نفس‌گیر به مصاف بلژیک، یکی از قدرت‌های برتر فوتبال جهان و رتبه ۱۰ رنکینگ فیفا رفت و موفق شد با یک نمایش شاهکار و دفاعی منسجم، حریف پرآوازه خود را با تساوی ۰-۰ متوقف کند. این نتیجه نه‌تنها جدول گروه را کاملاً پیچیده کرد، بلکه تحسین تمام کارشناسان بين‌المللی را برانگیخت. آیا ایران در حد و اندازه بلژیک بود؟ تقابل دارا و ندار در مستطیل سبز بر روی کاغذ و طبق پیش‌بینی تمام تحلیل‌گران، بلژیک شانس ۱۰۰ درصدی پیروزی بود. شیاطین سرخ با داشتن ستارگان چند صد میلیون دلاری شاغل در بزرگترین باشگاه‌های اروپا مانند کوین دی بروینه، روملو لوکاکو و تیبو کورتوا، یک غول بی‌شاخ‌ودم به نظر می‌رسیدند. در طرف مقابل، ایران هرچند ستاره‌های باانگیزه‌ای داشت، اما از نظر ارزش اسکواد و تجربه بین‌المللی در سطحی کاملاً متفاوت قرار داشت. با این حال، فوتبال بار دیگر نشان داد...

Can You Listen to XM Satellite Radio in Pakistan? (Complete Guide & Best Alternatives)

 Can You Listen to XM Satellite Radio in Pakistan? (Complete Guide & Best Alternatives) Radio technology has evolved dramatically over the decades. From the classic shortwave bands to modern digital broadcasting, radio enthusiasts are always on the lookout for premium audio content. If you are a radio hobbyist living in South Asia, or a traveler visiting the region, you might have wondered: **Can you listen to XM Satellite Radio (SiriusXM) in Pakistan?** In this comprehensive guide, we will break down how satellite radio works, why geographical boundaries limit its reach, and the best legal workarounds and alternatives to enjoy high-quality international broadcasts from Pakistan. What is XM Satellite Radio? XM Satellite Radio (now merged and known as **SiriusXM**) is a premium American satellite radio service. Unlike traditional AM/FM radio that relies on localized terrestrial towers, SiriusXM broadcasts high-digital-quality audio directly from geostationary satellites orbiting...

US Iran MOU Signed Digitally. MOU All Points in Pashto.

 US Iran MOU Signed Digitally. MOU All Points in Pashto. د امریکا او ایران تر منځ په لاندې مادو هوکړه شوې: لومړۍ ماده: د امریکا متحده ایالات، د ایران اسلامي جمهوریت او د هغوی متحدین په روانه جګړه کې دا تفاهم‌لیک لاسلیکوي، څو په ټولو جبهو، د لبنان په ګډون د پوځي عملیاتو سمدستي او دایمي پای اعلان کړي. دواړه لوري ژمنه کوي چې له دې وروسته به د یو بل پر ضد هېڅ جګړه او یا پوځي عملیات نه پیلوي، د زور ګواښ او کارونې څخه به ډډه کوي او د لبنان ځمکنۍ بشپړتیا او ملي حاکمیت به تضمینوي. وروستۍ هوکړه به په ټولو جبهو، د لبنان په ګډون د جګړې د دایمي پای او د دې مادې د نورو احکامو تایید وکړي. دویمه ماده: د امریکا متحده ایالات او د ایران اسلامي جمهوریت ژمنه کوي چې د یو بل ملي حاکمیت او ځمکنۍ بشپړتیا ته به درناوی کوي او د یو بل په کورنیو چارو کې به لاسوهنه نه کوي. درېیمه ماده: د امریکا متحده ایالات او د ایران اسلامي جمهوریت ژمنه کوي چې په ۶۰ ورځو کې به خبرې اترې ترسره کړي او وروستۍ هوکړې ته به ورسېږي. دا موده د دواړو لورو په رضایت غځېدلی شي. څلورمه ماده: د دې تفاهم‌لیک له لاسلیک وروسته به د امریکا متح...

نجیب اللہ بطور خاد ایجنسی کے سربراہ

 # ثور انقلاب: قسط 5 —  ڈاکٹر نجیب اللہ بطور  خاد ایجنسی کے سربراہ  (1980 تو 1985)   ڈاکٹر نجیب اللہ کو خاد کا پہلا سربراہ منتخب کرنے کے پیچھے سوویت یونین کی گہری اسٹریٹجک، سیاسی اور ذاتی وجوہات تھیں۔ سوویت یونین کے نزدیک خاد کے تمام باقاعدہ اعلیٰ حکام کے لیے پرچمی ہونا اور پارٹی نظریات سے مخلص ہونا لازمی تھا تاکہ کابل میں سوویت مشن کے سیاسی و ریاستی مفادات کی وفاداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ نے سوویت افواج کی آمد کے بعد پرچمیوں کے اس 'ایکٹیوسٹ' گروپ کی قیادت کی تھی جس نے 'کام سے انٹیلی جنس کے امور اپنے ہاتھ میں لیے تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر بہا اور کے جی بی کے مشیروں کے ساتھ مل کر سوویت خفیہ ایجنسی کے طرز پر خاد کا کثیر الجہتی اور وسیع تنظیمی ڈھانچہ خود ڈیزائن کیا تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ اس نظام کو چلانے کے لیے موزوں ترین انتخاب تھے۔ نجیب اللہ میں یہ صلاحیت موجود تھی کہ وہ چیکا کے بانی فیلکس دزیرژینسکی کے ان سخت گیر اور بے رحم جنگی اصولوں پر عملدرآمد کروا سکیں جہاں انصاف کے بجائے دشمن کا مکمل خاتمہ مقصود ہوتا ہے۔ بڑھتی ہوئی عسکری مزاحمت اور کابل کے اندرو...