سوویت یونین کے دسمبر 1979ء میں افغانستان پر حملے سے قبل عرب دنیا میں رُونما ہونے والے متعدد سیاسی و مذہبی واقعات نے ایسے حالات پیدا کیے جنہوں نے عرب نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو افغانستان میں نام نہاد جہاد کی جانب راغب کیا اور پشاور کو عالمی جہادی گڑھ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسرائیل کے ہاتھوں عرب ریاستوں کی پے در پے شکستیں، مصر کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا اور اسلام پسند تنظیموں کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن، حافظ الاسد کی شامی حکومت کا اخوان المسلمین پر شدید تشدد، اسرائیل کا لبنان پر حملہ، خانۂ کعبہ پر مسلح گروہ کا قبضہ، جنوبی یمن میں کمیونسٹ حکومت کا قیام اور ایران میں آیت اللہ خمینی کا انقلاب، اِن تمام واقعات نے عرب نوجوانوں میں سیاسی و مذہبی بے چینی کو گہرا کیا۔ چنانچہ افغانستان میں سوویت یونین کے قبضے کے خلاف ایک بین الاقوامی پراکسی جنگ کے آغاز نے اِن جذبات کو عملی رخ دیا اور اپنے ممالک کے سیاسی و سماجی نظام سے نالاں متعدد عرب نوجوان پشاور پہنچے جہاں انہوں نے افغانستان جانے اور اس جنگ میں حصہ لینے کے لیے اپنے ڈیرے ڈال لیے۔ بے نظیر بھٹو کی پہلی دور حکومت میں سا...
افغانستان میں زمانہ قدیم سے ایک فتوت وجانبازی کی بنیاد پر ایک طبقہ پالوچ/ښپه لوڅ يعنې ننگے پیروالاپایاجاتاتھا یہ لوگ جانبازی دکھانے کےلئے ہرحدتک جاتے تھے جس میں ہاتھ میں انگارے پکڑنا ایک عام مظاہرہ ہوتاتھا جس میں گوشت تک پگھل جاتا مگر انکے منہ سے اف نہیں نکلتا تھا ببرک خان جدران پکتیا کے اسردار بھی پالوچ تھے. انکی تصویر عموما لیاقت علی خان کے قاتل کے طور پر پیش کی جاتی ہے مگر یہ 1925میں امان اللہ غازی حکومت کے خلاف ایک بغاوت کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے تھے ببرک خان زدران کو امانی دور میں لوگ "پالوچ جنرل" کہتے تھے۔ وہ ہمیشہ ننگے پاؤں رہتا تھا۔ ایک دن وہ امیر امان اللہ خان کے دربار میں آیا تو امان اللہ خان نے اس سے پوچھا: "تم بڑے پکتیا کے مشہور سردار ہو، ننگے پاؤں کیوں گھومتے ہو؟" اس نے جواب دیا: "میں قوم کا سردار ہوں اور جب میری قوم کے لوگ ننگے پاؤں گھومتے ہیں تو میں اپنے آپ کو جوتا پہننے کا حق نہیں دیتا!" ببرک خان، مزاک خان زدران کا بیٹا تھا جو 1862ء میں خوست میں رہتا تھا۔ اس وقت سرحدوں پر انگریزوں کے خلاف مزاحمت شروع ہو چکی تھی...