Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Computers

World Most Seen Picture. Most Viewed Wallpaper Bliss by Charles

World Most Seen Picture. Most Viewed Wallpaper Bliss by Photographer Charles O Rear 1996. دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی تصویر دنیا کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی تصویر نہ کسی مصور نے تخلیق کی ہے، نہ کمپیوٹر پر بنائی گئی ہے، نہ کسی کرنسی نوٹ پر چھپی ہوئی ہے اور نہ کسی کتاب کا سرورق بنی ہے۔ اس تصویر کا نام 'بلس' ہے۔ بہت سے لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتے کہ کسی تصویر کو ایک ارب افراد پہچان سکتے ہیں۔ لیکن جب وہ خود اس تصویر کو دیکھتے ہیں تو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا۔ یہ تصویر امریکی فوٹوگرافر چارلز اورئیر نے جنوری 1998  میں کھینچی تھی۔ وہ کیلی فورنیا کے شہر سینٹ ہیلینا میں اپنے گھر سے ناپا ویلی جا رہے تھے جو سان فرانسسکو کے شمال میں واقع ہے۔ ان کا ارادہ اپنی گرل فرینڈ ڈیفنی سے ملنے کا تھا، جن سے بعد میں انھوں نے شادی کرلی۔ انھیں دنوں ایک طوفان وہاں سے گزرا تھا اور بارشوں کی وجہ سے موسم حسین اور منظر دلفریب تھا۔ سونوما ہائی وے سے گزرتے ہوئے چارلز کو ہریالی سے ڈھکی پہاڑی دکھائی دی اور انھوں نے گاڑی روک کر اپنے پرانے کیمرے سے چند تصاویر بنالیں۔ ان کے پاس مامیا آر زیڈ

Pakistan VS Indian Youth. Molvis VS Tech Start Ups. Uzair Salar

Pakistan VS Indian Youth. Molvis VS Tech Start Ups. Uzair Salar گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور طارق جمیل اور رفیق اختر کے لیکچر کروا رہی ہے، نسٹ یونیورسٹی حماد صافی سے لیکچر دلوا رہی ہے۔ ادھر بھارتی طلباء ان عظیم نابغوں سے محروم اپنے سپیس پروب کو چاند پر پہنچا چکے ہیں اور گوگل، ٹویٹر، آئی بی ایم، ماسٹرکارڈ، مائیکروسافٹ، شےنیل، ایڈوب،  سمیت درجنوں عالمی کمپنیوں کے سی ای اوز بن چکے ہیں، پچاس سے زائد انڈین طلبا سٹارٹ اپ بزنسز کے ذریعے انڈیا میں رہتے ہوئے کھرب پتی ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر کی عمر پینتیس سال سے بھی کم ہے۔ کوئی ایسا طریقہ نہیں ہو سکتا یہ ننھے اور بڈھے سارے پروفیسر انڈین یونیورسٹیوں کو دے کر بدلے میں بنارسی ساڑھیاں لے لی جائیں یا حیدرآبادی جھمکے؟ Pakistan VS Indian Youth. Molvis VS Tech Start Ups. Uzair Salar. Hammad Safi Lectures In NUST Islamabad And Tariq Jameel Bayan In Lahore University. Indian Youth And IT Experts In Google, Twitter, IBM, Master Card, Microsoft. Urdu Comparison Of Pakistani Youth VS Indian Youth. Pashto Pedia Timez.

First Computer Virus Developed By Two Pakistani Brothers. Basit Alvi & Amjad Alvi

 First Computer Virus Developed By Two Pakistani Brothers. Basit Alvi & Amjad Alvi دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس لاہور کے دو بھائیوں نے بنایا تھا  دہائیاں قبل ان 2 بھائیوں  باسط علوی اور امجد علوی  نے  دراصل سافٹ ویر پائریسی کے خلاف اپنی جنگ کا آغاز کیا تھا اور ان کا ہتھیار بنا ۔۔۔ دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس۔ یہ 1986 کی بات ہے جب امریکا کی ڈیل وئیر یونیورسٹی کے طالبعلموں کو کمپیوٹر کے استعمال میں عجیب علامات کا سامنا ہوا، جیسے عارضی طور پر میموری ختم ہوجانا، سست ڈرائیو اور دیگر۔ اور اس کی وجہ دنیا کا پہلا پرسنل کمپیوٹر وائرس بنا جسے اب برین کے نام سے جانا جاتا ہے جو میموری کو تباہ کرنے کے ساتھ ہارڈ ڈرائیو کو سست اور بوٹ سیکٹر میں ایک مختصر کاپی رائٹ میسج چھپا دیتا۔   باسط علوی اور امجد علوی نے جب دنیا کا پہلا وائرس  تیار کیا تھا ان  کی عمریں اس وقت 17 اور 24 سال تھیں اور وہ لاہور میں کمپیوٹر کی دکان چلارہے تھے۔  جب انہیں پتہ چلا کہ ان کے صارفین ان کے تحریر کردہ سافٹ وئیر کی غیر قانونی کاپیاں آگے بڑھا رہے ہیں تو انہوں نے جوابی وار کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے برین نامی وائرس تیار کیا 

CNC Machines Prices and Assembling In Pakistan. Urdu Tech

CNC Machines Prices and Assembling In Pakistan. Urdu Tech blog By Spider.   غیر ملکی پاکستانیوں سے کیسے اربوں ڈالر چھاپ رہے ہیں آجکل ہر بندہ  CNC  مشین لگا رہا ہے جو مارکیٹ میں 40 ہزار سے لے کر  20 لاکھ روپے تک بیچی جا رہی ہے  CNC  مشین 3 حصوں پر مشتمل ہے ایک کارڈ جس میں اسکی پروگرامنگ ہوتی ہے جو اگر پارٹس میں خریدیں تو صرف چند ہزار میں مل جاتی ہے اور یہی کارڈ پوری  CNC مشین کا سب سے ضروری حصہ ہے اسے کسی بھی  5 ہزار والے کیمپوٹر کے ساتھ لگا کر سارے کام لئے جا سکتے ہیں دوسرا حصہ اس کا فریم ہے جو کسی بھی خراد اور ویلڈنگ والے سے انتہائی سستے داموں بنوایا جا سکتا ہے اس میں 3 یا 4 اطراف ایکسس لگے ہوتے ہیں جو آسانی سے بن سکتے ہیں اس کا تیسرا سب سے اہم حصہ سپنڈل یا موٹر یا عام الفاظ میں ڈرل ہوتی ہے جو اسے سافٹویئر ہدایت دیتا ہے وہ وہاں سے بٹ کے ذریعے کٹنگ یا کھدائی کرتی جاتی ہے Cnc  مشین کو چلانا اور اپریٹ کرنا گرافکس ڈیزائنر کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے کیونکہ آٹو کیڈ، اڈوبی السٹیٹر چلانے والے اسے 2 گھنٹوں میں چلا سکتے ہیں یہ چند ہزار روپے کی مشین پاکستان کو 14 لاکھ روپے میں فروخت کی جا رہی ہے ب