Skip to main content

Inventor of Printing Press. Urdu Info blog about Johann Gutenberg

Who Invented Printing Press? Urdu Bio


چھاپہ خانے کاموجد,جوہن گٹن برگ

Johann Gutenberg

ولیم ہارٹ

جوہن گٹن برگ کو چھاپہ خانہ کاموجد قرار دیا جاتا ہے۔ اصل میں اس نے یہ کیا کہ پہلے سے زیر استعمال متحرک چھاپے کو اس انداز میں بہتربنایا کہ اس سے بڑی تعداد میں اور زیادہ درستی کے ساتھ طباعت کا عمل ممکن ہوا۔ کوئی ایجاد مکمل طورپر کسی ایک ہی فرد کے ذہن سے برآمد نہیں ہوتی، ظاہر ہے کہ چھاپہ خانہ بھی ایسی ہی ایک ایجاد ہے۔ سانچے کی چھپائی کے تحت بننے والی مہریں اور مہردار انگوٹھیاں ازمنہ قدیم سے زیراستعمال تھیں

 گٹن برگ سے کئی صدیاں پہلے چین میں سانچے کی چھپائی کاطریقہ رائج تھا جبکہ868ء کے قریب وہاں طبع ہونے والی ایک کتاب بھی دریافت ہوئی ہے۔ مغرب میں بھی گٹن برگ سے پہلے اس تمام عمل سے لوگ آشنا تھے۔ سانچے کی چھپائی سے کسی ایک کتاب کے بہت سے نسخے تیار کرنا ممکن تھا۔ اس طریقہ کارمیںالبتہ ایک قباحت تھی کہ ہرنئی کتاب کے لیے ہر بار لکڑی کے ٹکڑوں یا تختوں کاایک مکمل نیا سانچہ تیار کرنا پڑتا تھا۔ بہت زیادہ تعداد میں کتابیں چھاپنے کے لیے یہ طریقہ کار ناقابل عمل تھا۔ عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ گٹن برگ کی اہم ایجاد متحرک سانچوں کا چھاپہ خانہ ہے، جبکہ متحرک چھاپہ خانہ چین میں گیارہویں صدی عیسوی کے وسط میں پی شیگ نامی ایک شخص نے ایجاد کیا تھا۔ اس کے حروف مٹی سے بنائے جاتے تھے جو پائیدار نہیں ہوتے تھے، تاہم چین اور کوریا کے افراد نے اسی میں بہتری کی کئی ایک صورتیں پیدا کیں۔ گٹن برگ سے پہلے کوریا میں دھاتی حروف استعمال ہونے لگے تھے۔ پندرہویں صدی کے اوائل میں ہی کوریا کی حکومت چھپائی کے حروف کی تیاری کے لیے ایک بڑی صنعت کی داغ بیل ڈالی جا چکی تھی۔ اس کے باوجود پی شیگ کے بارے میں یہ تصور کرنا بے جا ہوگا کہ وہ کوئی اثرانگیز فرد تھا۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یورپ نے متحرک حروف طباعت کا طریقہ چین سے نہیں سیکھا تھا بلکہ اپنے طورپر اسے ایجاد کیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ متحرک حروف کی چھپائی کا طریقہ کار کبھی چین میں مقبول عام کی سند حاصل نہیں کرسکا، موجودہ زمانے میں یورپ سے جدید طباعتی نظام مستعار لینے کے بعد چین میں اس کااطلاق عام ہوا۔جدید طباعتی نظام کے چار بنیادی عناصر ہیں۔ اول متحرک حروف کاطریقہ کار جس میں حروف کوجوڑنے اورترتیب دینے کا عمل شامل ہے


 دوم طباعتی مشین۔ 
سوم 
عمدہ طباعتی روشنائی اور چہارم ایک عمدہ مواد یعنی کاغذ جس پرچھپائی ہوتی ہے۔ خود تسائی لون سے کئی سال پہلے چین میں کاغذ ایجاد ہوچکا تھا اور گٹن برگ کے دورسے پہلے ہی مغرب میں اس کا عام استعمال شروع ہو گیاتھا۔ یہ طباعتی طریقہ کار کا واحد عنصرتھا، جو تیار حالت میں گٹن برگ کو دستیاب ہوا


باقی تین اجزا پربھی بہرطور کسی نہ کسی حد تک کام ہوچکا تھا۔ گٹن برگ نے اس میںمتنوع انداز کی بہتریاں پیدا کیں۔ مثال کے طورپر اس نے حروف کے لیے ایک موزوں کھوٹ ملی دھات تیار کی۔ حروف کی ٹکڑیوں کوصحیح طورپر باہم مربوط کرنے کے لیے ایک سانچہ، چکناہٹ والی طباعتی روشنائی اورطباعت کے لیے موزوں ’’کل‘‘ بھی تیار کی۔ تاہم گٹن برگ کا من حیث المجموع کام اس کے انفرادی اضافوں سے کہیں زیادہ بڑاہے

وہ اس لیے زیادہ اہم ہے کیونکہ اس نے طباعت کے تمام اجزا کومؤثر پیداواری نظام میں یکجا کردیا۔ پہلے سے موجود دیگر تمام ایجادات کے برعکس طباعت میں بڑی مقدار میں پیداوار کی گنجائش موجودتھی۔یہ ایک رائفل، تیر اور کمان کی نسبت کہیں زیادہ مؤثر ہتھیار ہے۔ ایک طبع شدہ کتاب ایک ہاتھ سے لکھی ہوئی کتاب کی طرح اہم ہے۔ طباعت کا اصل فائدہ پیداوار کے حجم میں اضافے کی صورت میں تھا۔ گٹن برگ کی ایجاد کسی پرانے طریقہ کار کا احیا نہیں تھی نہ ہی یہ اضافوں کے ایک سلسلہ کی صورت میں تھی بلکہ یہ ایک مکمل پیداواری عمل تھا

 گٹن برگ کی سوانح حیات کے بارے میں ہماری معلومات نہایت کم ہیں۔ ہم اتنا جانتے ہیں کہ وہ 1400ء کے قریب جرمنی میں منیز شہر میں پیدا ہواتھا۔ طباعتی فن میں اس نے اسی صدی کے قریب وسط میں یہ اضافے کیے، جبکہ اس کا معروف کارنامہ ’’ گٹن برگ انجیل‘‘ تھی جو1454ء کے لگ بھگ منیز میں ہی طبع کی گئی۔ یوں لگتا ہے کہ وہ ایک اچھا کاروباری نہیں تھا۔ وہ اپنی ایجاد سے کبھی زیادہ دولت اکٹھی نہ کرسکا۔ وہ متعدد مقدمات میں گھرگیا جن میں سے ایک مقدمہ اس کی اپنی مشین سے اپنے شراکت کار جوہن فوسٹ کے حق میں دست بردار ہونے کی صورت میں منتج ہوا۔ وہ 1468ء میں منیز میں فوت ہوا۔ تاریخ عالم پر گٹن برگ کے اثرات کا ایک خاکہ ہم بعد کے برسوں میں چین اور یورپ میں ہونے والی ترقی کے باہمی تقابل سے حاصل کرسکتے ہیں۔ گٹن برگ کی پیدائش کے وقت دونوں علاقے تکنیکی طورپر برابر ترقی یافتہ تھے

 تاہم جدید طباعتی نظام کی ایجاد کے بعد یورپ کی ترقی سریع الرفتار ہوگئی۔ جبکہ چین میں، جہاں سانچے کی چھپائی کا طریقہ کار ہی برتا جاتا رہا، ترقی کی رفتار نسبتاً سست رہی، یہ کہنا شاید ایک مبالغہ ہو کہ طباعتی ترقی ہی وہ اصل محرک تھا جس نے یہ امتیاز پیدا کیا، یہ ایک اہم سبب ضرور تھا


جدید زمانہ کی انقلابی ترقی کو جاری کرنے میں گٹن برگ کی ایجاد نے ایک اہم عنصر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا۔یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اگر الیگزینڈر گراہم بیل موجود نہ بھی ہوتا، ٹیلیفون بہرکیف پھر بھی ایجاد ہوجاتا۔بلکہ شاید عین اسی دو ر میں ایجاد ہوتا، یہی بات متعدد دیگر ایجادات کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ گٹن برگ کے بغیر جدید طباعتی نظام کی ایجاد اغلباً نسلوں تک مؤخر رہتی۔

Comments