Skip to main content

یہ بچے ہمارے ہیں

اءے ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھے جہاں غربت نہ ہو ، جہالت نہ ہو ،معاشی ناہمواری کا نام نہ ہو ، ہر پاکستانی بچے  کی ہاتھ مین بلا تفریق مزہب ،رنگ،جنس،علاقہ قلم اور کتاب ہو اور ہر ایک کو اپنے صلاحیتون کے اظہار کے یکسان اور نا قابل تقسیم مواقع موجود ہو۔ جبری مشقت اور بچون کی مزدوری کی لعنت کا خا تمہ ہو۔ کھیل کود اور تعلیم جو ہر بچے کا بنیادی انسابی حق ہے اور ریاست کی اولین زمہ داری کہ وہ اس حق تک ہر ایک کی رساءی اور یکسان استفادہ کو یقینی بناءے تاکہ انتہاہ پسندی ، دھشت گردی اور جہالت کا خاتمہ ممکن ہوسکے اور وطن عزیز میں بسنے والے لوگ انسان کا روپ دھارکر انسان کی طرح جینا سیکھ سکے اور جی سکے۔ بچوں سے مشقت لینا ایک ایسے وقت مین جب انسان زھنی اور مادی ارتقاء اور ساءینسی ایجادات کے بدولت فضاء کو مسخر کرنے کی کامیا ب کوشش کرچکا ہے انتہاءی باعث شرم ہے اور من الحیث القوم ہم سب کے لےء لمحہ فکریہ کہ بقول اقبال ہماری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانو ں میں۔۔۔۔۔

 

Comments