پیر، 21 اپریل، 2014

Geo in Trouble.

ISI Director Asim Bajwa has categorically said that ISI is a dignified and respected wing of Pak Army and having Key role in country defense line. He called the allegation on ISI very shameful and wowed to investigate all the aspects of the developing story.


 پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل عاصم باجوہ نے واضح کیا ہے کہ آئی آیس آئی ایک باوقار اور معتبر ادارہ ہے جس پر الزامات گمراہ کن اور افسوسناک ہیں ۔ ان الزامات سے جگ ہنسائی ہوئی ہے ۔ تمام پہلوﺅں کا جائزہ لیا جارہا ہے ، بے جا الزامات ناقابلِ برداشت ہیں ، غلط بات برداشت نہیں کریں گے ، بے بنیاد الزامات پر قانونی چارہ جوئی کی جائے گی ۔ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کی قیادت کو موجودہ حالات کا ادراک ہے ۔صحافت کی آزادی اور جمہوریت بھی ملک کے دفاع کا حصہ ہے ،۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم پاک فوج کیخلاف پراپیگنڈے پر آوازاُٹھانے پر میڈیا کےشکر گذار ہیں ۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے حامد میر پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی کارروائی شروع کردی ہے اور اس ضمن میں سیکرٹری داخلہ نے سپریم کورٹ کو مراسلہ بھیج دیا ہے جس میں چیف جسٹس سے کمیشن کیلئے تین جج نامزد کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔ یہ کمیشن اکیس روز میں کارروائی مکمل کرکے اپنی رپورٹ مرتب، حملہ آوروں اورحقائق کی نشاندہی کرے گا ۔دوسری جانب پاک فوج نے کمیشن کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی دہرائی ہے اور ایک بار پھر حامد میر پر حملہ کی مذمت کی ہے اور یہ حملہ شرپسندوں کی کارروائی قرادیا ہے
Thanks for Visiting Pashto Times.



listen our online Radio FM 100 Rokhan and enjoy your leisure time.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share the article you on social media with your kind and respected friends. We Pashto Times present the best of contents about Pashto History, Pashto Poetry, Pashto Literature, Pashto Books, Pashto watan, Pashto Personalities, Pashto politics, history of the region, biographies of well known and noted Iconic persons around the world. Pashto Times or Khatirnama surely tries to translate world most read and viewed article to Pashto or Pukhto language so our Pashto speakers friends can read it easily.