Skip to main content

Who are Pathans. Book Review history

سماجی شخصیت جناب عشرت علی خان داؤدزئ صاحب کی تاریخی اور تحقیقی تصنیف پٹھان کون کی “وجہ تسمیہ” پر مشتمل ہے۔ جسے اکتوبر 2012 میں ادراک پبلیکیشنز نے شائع کیا۔ پٹھان نامہ کے قارئین کے لیۓ اسے من و عن شائع کیا جا رہا ہے۔ آخری دو  پیراگراف جن کا تعلق کتاب کی تحقیق تصنیف اور اشاعت میں مدد اور تعاون کرنے والی شخصیات کے ناموں پر مشتمل تھا اسے غیر ضروری سمجھ کے حذف کیا گیا ہے۔ اس موضوع پر راقم اپنے خیالات جذبات تحقیق اور تحریر کو فی الحال محفوظ رکھتا ہے۔ اور کسی مناسب وقت پر اظہارِ خیال کا ارادہ رکھتا ہے۔

۔ ” اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں یوں ذکر کیا ہے” ہم نے تمہیں قبیلوں میں اس لیۓ تقسیم کیا تاکہ تم پہچانے جا سکو” گویا قوم قبیلے خاندان ،  پاڑے، خیل، تمن، گوت اور شاخیں اس لیۓ وجود میں آئیں، کہ باہمی پہچان یا شناخت قائم رہ سکے۔ یاد رہے صرف پہچان یا شناخت۔ یہ نہ ہو کہ اس شناخت کو فخروغرور اور کِبرو نَخوت کا ذریعہ بنا لیا جاۓ۔ اس قسم کی پہچان جس میں حسب و نصب شناخت ہو معاشرے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ سماج میں زندہ رہنے اور اپنی پہچان کرانے کے لیۓ انسان بہت سی باتوں کا سہارا لیتا ہے۔ کبھی وو نسلی اتحاد میں پناہ تلاش کرتا ہے تو کبھی لسانی، کبھی علاقائ تو کبھی مذہبی گویا آپس میں جڑے رہنے اور میل جول بھڑانے کے کئ طریقے اس نے ایجاد کر لیۓ ہیں تاکہ پہچانا جاسکے۔”۔

معاشرے کی اکائیوں کو ایک کرنے کے بہت سے ذرائع ہیں جیسا کے کہیں نسل مختلف ہوتی ہے لیکن زبان ایک جب کے کہیں زبان مختلف ہوتی ہے اور نسل ایک، کہیں علاقہ مختلف ہوتا ہے مگر مذہب ایک اور کہیں مذہب مختلف ہوتا ہے لیکن علاقہ ایک، یوں باہمی اشتراک اور میل جول کا عمل آگے بڑھتا اور مضبوط ہوتا رہتا ہے۔ میرا تعلق پٹھانوں کے قبیلے داؤدزئ سے ہے، اب سے کئ تین،  سوا تین سو سال پہلے ہمارے جدِ امجد میر عبدالرحیم خان، پشاور کے شمال سے نکل کر شاہ جہان پور صوبہ اتر پردیش میں رہائش پزیر ہوۓ اور پھر وہیں کے ہورہے آہستہ آہستہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُس علاقے کا رہن سہن اور بولی تو اپنالی لیکن نسلی اعتبار سے ہر قسم کی کھوٹ سے مبرّا پٹھان ہے۔

میرے کتاب لکھنے کی اصل وجہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ممتاز و مشہور کرکٹر شاہد خان آفریدی کے منہ سےبھارتی کرکٹ کا کامینٹیٹر ہارشا بھوگلے کے سامنے ادا کیا ہوا وہ جملہ مُعترضہ ہے جو اُس نے مشہور بھارتی کرکٹر عرفان پٹھان کے سامنے کہا تھا اور جسے اب پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ youtube

مجھے اس جملے میں تفاخر کم اور کج فہمی زیادہ محسوس ہوئ۔ اُس کا کہنا تھا کہ ” میں عرفان پٹھان کو پٹھان نہیں مانتا اِس لۓ کہ اُسے پشتو زبان نہیں آتی”۔ چونکہ میں خود پٹھان ہوں جو پشتو یا پُختو زبان سے نابلد ہےلیکن ساتھ ہی پٹھان ہونے کا دعویٰ بلکہ شجرہ بھی موجود ہے۔ شاہد آفریدی کا یہ جملہ سن کر سوچا کہ اس طرح اور اس معیار پر نہ تو سندھ میں بسنے والے درّانی پورے اترتے ہیں اور نہ ہی سرہندی، نہ جوناگڑھ کے خان جی اور نہ بھوپال کے نواب، نہ ردہیل کھنڈکے ردہیلے جنھیں ایک عالمَ ہی نہیں خود پٹھان موّرخ اور تاریخ دان بھی پٹھان مانتے ہیں نہ پنجاب کے ککے زئ، نہ فرخ آباد کے بنگش اور آفریدی، نہ علی گڑھ کے شیروانی نہ خرجے اور بلند شہر کے برنی، نہ راجھستان کے ناغڑ نہ ٹونک کے سالارزئ پٹھان۔ کیونکہ اِن میں سے اب بہت سوں کو پشتو زبان نہیں آتی جب کے یہ بات بلکل طے ہے کہ ان کے آباؤاجداد یہی زبان بولتے تھے۔

دوسری طرف پشاور اور کوئٹہ میں بسنے والے دوسری زبان اور نسل کے لوگ پشتو باآسانی اور روانی سے بولتے ہیں تو کیا صرف اسی خوبی پر انھیں پٹھان تسلیم کرلیا جاۓ؟ شاید ایسا ممکن نہ ہو۔

ہندوستان کے مختلف علاقوں میں بسنے والے پٹھان جب اُن علاقوں میں آباد ہوۓ تو وہاں کی ثقافت میں ڈھل گۓ اور اُن علاقوں کی بولیوں کو اپنا لیا۔ یہ اِس لۓ بھی ہوا کہ اب سے دو، تین سو سال قبل ذرائع مواصلات اس قدر جدید نہیں تھے ہزاروں کلو میٹر کا سفر طے کرکے اپنے آبائ علاقوں کا دورہ کرنا یہ اُن سے تال میل رکھنا اتنا آسان نہیں تھا۔ جو لوگ ایک دفعہ کسی لشکر یا تجارتی قافلے کے ساتھ دور دراز علاقوں میں چلے جاتے پھر ایسا ہوتا کے اُن میں سے دو چار کسی علاقے میں رہ جاتے اور وہیں کی بودوباش اختیار کرلیتے۔ بعد میں اُن کے ناموں کے ساتھ نسلی شناخت ہی باقی بچتی تھی یا پھر جس جگہ یا محلوں میں وہ رہتے تھے اُن محلوں کے نام اُن کی شناخت قائم رکھتے تھے۔ ہندوستان میں زیادہ تر پٹھان محلوّں کے نام کڑہ، کوئلہ، گڑھی، گڑھیا، ٹولہ جیسے ناموں پر ہوتے تھے۔ جن علاقوں میں پٹھان بڑی تعداد میں رہتے وہاں ثقافتی طور پر بھی کچھ فنونِ لطیفہ خاص طور پر شاعری کی اقسام مثلاٗ پٹہ چار بیتہ لوبہ وغیرہ مقامی رنگ میں سنائ یا دکھائ دیتی تھیں۔ ہندوستانی پٹھانوں کے رسم و رواج شادی بیاہ گیتوں اور شاعری میں پٹھانی رنگ صاف جھلکتا ہوتا تھا۔

اس طرح جب کچھ کم فہم لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ انسان کو اپنی نسلی یا قبیلے کی زبان کچھ نہ کچھ ضرور آنا چاہیے تب ان کی کم عقلی پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے اور اس سلسلے میں یہ مثال دی جا سکتی ہے کہ وہ پٹھان یا ان کے علاقوں میں رہنے والے جو خود کو شاہ یا سیّد کہلواتے ہیں ظاہری طور پر تو عرب ہوۓ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہیں اپنی نسلی یا آبائ بولی آتی ہے جو اس فارمولے کے مطابق یقینا۫ عربی ہونا چاہیے. مجھے یقین ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہوگا۔ اس سلسلے کی ایک اور دلیل اس طرح ہے کہ خود پٹھانوں میں بہت سوں بلکہ بڑے بڑے فلسفیوں اور عالموں کا کہنا ہے، کہ پشتون بنی اسرائیل کے اُن قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں جو کبھی اپنے دوسرے قبیلوں سے بچھڑ گۓ تھے۔ اِس تناظر کے بارے میں دیکھا جاۓ تو پٹھانوں کو ھیبریو  یعنی عبرانی زبان ضرور آنا چاہیے۔ گویا بہت سے تاریخ دانوں کے خیال میں وہ اسرائیلی ہیں مگر عبرانی زبان سے دور بلکہ بہت دور۔

تمام دلیلوں اور دعوؤں کا مطلب یہ قطعاً نہیں ہے کہ کسی کو ضرورتاً قائل کیا جاۓ۔ لیکن حقعقت بحرحال یہی ہے جو بیان کی گئ ہے ہندوستان میں ایسے بہت سے علاقے ہے جہاں پٹھان آباد ہیں۔ ان کے ساتھ رہنے والی دوسری اقوام یا نسلیں انہیں خان صاحب یا پٹھان بھائ کہتیں ہیں اور انہیں نسلاً پٹھان تسلیم کرتی ہیں۔ ایسی مثالیں اور ثبوت موجود ہیں جب خود انگریزوں نے ہندوستان میں بہت سے پٹھان خاندانوں کو سندیں دیں اور جاگیریں عطا کیں ۔ان سندوں پر بڑے بڑے الفاظ میں لکھ کر تسلیم کیا کہ اُن کا تعلق فلاں افغانی یا پٹھانی قبیلے سے ہے۔ پٹھان جن علاقوں میں آباد تھے اور اب بھی ہیں ان میں روہیلکھنڈ کا علاقہ (جس میں شاہ جہاں پور، پیلی، بھیت، مراد آباد، بدایوں، بجنور، اُمروہہ، اور بریلی شامل ہیں) اور ضلع فرخ آباد، ضلع بلند شہر، ضلع علی گڑھ، ٹونک ،جاوڑہ، ملیر کوٹلہ، جونا گڑھ ماناودر، بڑودہ، پالن پور، مظفر نگر، بھوپال، بانٹو اور کوروالی شامل ہیں۔

جب کبھی کراچی میں پٹھان اور مہاجروں کے درمیان نسلی فسادات ہوتے ہیں تو دل بہت کڑھتا ہے۔ ساری لڑائ جگھڑے میں پٹھان ھی پٹھانوں سے متصادم نظر آتے ہیں، اس لۓ کہ ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں میں بہت سے نسلی طور پر پٹھان ہیں وہ چاہے گورنر عشرت العباد خان ہوں یا ایٹم بم کے خالق عبدالقدیر خان۔ مشہور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی ہوں، یا مشہور مزاح گو شاعر عنایت علی خان ، جن کا ایک شعر کمال اور حسبِ حال ہے۔

             خود ہی خنجر بدست ہوں ہر دم                                    اور خود ہی لہولہان بھی ہوں

میری مشکل عجیب مشکل ہے                                   میں مہاجر بھی ہوں اور پٹھان بھی ہوں

اِن سب باتوں کو جانتے اور کم فہم لوگوں کے اعتراضات اور نکتہ چینوں کو سامنے رکھتے ہوۓ دل نے کہا کہ اس سلسلے میں کوئ قدم یا پھر قلم اُٹھانا چاہۓ۔ ایسا تحقیقی کام جس میں پٹھانوں کے بارے میں معلومات ہوں خاص طور پر اُن پٹھانوں کے متعلق جو غیر پٹھان علاقوں میں بستے ہیں یا پھر عرصے سے وہاں رہ کر اپنی زبان اور کسی حد تک ثقافت بھی بھول گۓ ہیں۔ کچھ جگہوں پر تو یہ اپنی شناخت تک کھو چکے ہیں جیسے کراچی میں رہنے والے مہاجر پٹھان جونا گڑھ میں رہنے والے بابی پٹھان یا پھر بہار میں رہنے والے سوری پٹھان۔

یوں تو پٹھانوں کی تاریخ، جغرافیے، ابتدا، ثقافت، مذہب اور معیشت پر دنیا بھر کے لکھاریوں نے بہت کام کیا ہے خاص طور پر انگریزوں نے بر صغیر جنوبی ایشیا کی جس نسل یا قوم پر سب سے زیادہ تحقیق کی اور کتابیں لکھی وہ پٹھان قوم ہی ہے۔ ان کے علاوہ حافظ رحمت خان، خان روشن خان، فارغ بخاری اور دوسرے قلم کاروں، مؤرخوں، اور سیاحوں نے پٹھانوں پر قلم اُٹھایا ہے اور بہت سی معلومات جمع کی ہیں۔ میں نے بھی دوسروں کی معلومات اور کچھ اپنی جمع کردہ معلومات سے استفادہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کارِ خیر میں اپنا بھی حصہ ڈال سکوں۔ خاص کر پٹھانوں کے لۓ جنہیں نسلی طور پر تیزی سے بھلایا اور اُن کا مذاق اُڑایا جارہا ہے۔ آج بہت سے نیگرو جو اصل میں افریقی ہیں اپنے علاقے کی بولیاں نہیں جانتے جب کے پوری دنیا میں بستے ہیں۔ وہ بولی کوئ بھی بولیں مگر دنیا انہیں نیگرونسل کا ہی گردانتی ہے، چناں چہ نسلی اور لساّنی بحث کو سمیٹتے ہوۓ کوشش کروں گا کہ کچھ معلومات لوگوں تک پہنچاؤں جو ان کے لۓ نئ اور دلچسپ ہوں۔ خاص طور پر ہندوستان کے اصلی پٹھانوں کے بارے میں جن کے آباؤاجداد نے اُس وقت ہجرت کی اور کفروالحاد کی جنگ میں اپنے گھروں سے سیکڑوں ہزاروں میل دور جا کر جنگوں میں حصہ لیا اور علاقوں کو فتح کیا جب کہ آج کے بڑا بول بولنے والے پٹھانوں کے اجداد پہاڑوں میں چھپ کر ہندوستانی پٹھانوں کے اجداد کو دشمنوں کے علاقوں میں جاتے ہوۓ دیکھ کر ہی خوف سے لرزنے لگتے تھے۔

ہندوستان میں بسنے والے پٹھانوں نے نا مساعدحالات دشمنوں کی زبردست یلغار اور اپنی محدود تعداد کے باوجود خود کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ بہت سی علاقائ اور دو دفعہ پورے ملک کی سلطنت بھی حاصل کی۔ میرے کتاب کے لکھنے کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ میں صرف پشتو زبان بول کر اپنے آپ کو دلیر اور نڈر کہلوانے کے بجاۓ لوگوں کے سامنے اصل حقائق اور تصویر پیش کروں تاکہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ وہ کون لوگ ہیں جو اصل میں دلیر بھی ہیں اور نسل میں پٹھان بھی۔   سرچ و تحریر و پشتو ترجمہ میاں علی نواز مدے خیل گنیار تھانہد ټولنیز شخصیت ښاغلي عشرت علي خان داودزي تاریخي او څیړنیز کار د پټان کون د "واج تسمیا" پر بنسټ لیکل شوی دی.  د اډرک پبلیکشن لخوا د 2012 په اکتوبر کې خپور شوی.  دا د پټان نومې لوستونکو لپاره خپریږي.  وروستي دوه پاراګرافونه چې د هغه اشخاصو نومونه لري چې د څیړنې ، لیکوالۍ او خپرولو کې د همکارۍ او همکارۍ په توګه غیر ضروري بلل شوي دي.  راقم اوس مهال په دې اړه خپل افکار ، احساسات ، څیړنه او لیکنه ساتي.  او په مناسب وخت کې د خبرو کولو اراده لري.

 .  الله سبحانه وتعالی په خپل کتاب کې یادونه کړې ، "موږ تاسو په قومونو ویشلي دي چې تاسو پرې پوه شئ." دا داسې بریښي چې یو قوم ، قوم ، کورنۍ ، کلی ، خیل ، تمان ، ګوت او څانګه د یو بل د پیژندلو لپاره رامینځته شوي.  یا شناخت ساتل کیدی شي.  یوازې هویت په یاد ولرئ.  دا شناخت باید د غرور او غرور سرچینې په توګه ونه کارول شي.  دا ډول پیژندنه ، چې ښه تاسیس شوی شناخت لري ، د ټولنې لخوا هم اړین دی.  د دې لپاره چې په ټولنه کې د ژوندي پاتې کیدو لپاره او د خپل هویت پیژندلو لپاره ، یو څوک باید ډیری شیانو ته مخه وکړي.  ځینې ​​وختونه هغه په ​​قومي وحدت کې پناه لټوي ، ځینې وخت په ژبني ، ځینې وخت سیمه ییز ، ځینې وختونه مذهبي ، لکه چې هغه د پیژندلو لپاره د اړیکې او ټولنیز کیدو لپاره ډیری لارې ایجاد کړي دي. "

 د یوې ټولنې د یووالي لپاره ډیری لارې شتون لري ، لکه بیلابیل نسلونه ، مختلف ژبې ، مختلف ژبې ، مختلف نسلونه ، مختلف سیمې ، مختلف مذهبونه ، مختلف مذهبونه ، مګر مختلف سیمې.  پدې توګه ، د متقابل عمل او تعامل پروسه دوام لري او لا قوي کیږي.  زه د پټانانو د داودزي قبیلې سره تړاو لرم. درې یا درې سوه کاله دمخه زموږ پخوانۍ میر عبدالرحیم خان د پیښور شمال پریښود او د اترپردیش په شاه جهانپور کې میشته او وروسته ورو ورو انتقال شو.  د تیریدو سره ، د ساحې د ژوند او بولیو لاره غوره شوې ، مګر په اخلاقي لحاظ ، پټان د هر ډول نیمګړتیاو څخه پاک دی.

 زما لپاره د دې کتاب لیکلو اصلي دلیل دا اعتراض دی چې د پاکستان د کریکټ مشهور لوبغاړی شاهد خان افریدي د هندي کرکټر مبصر هریشا بھاګل په وړاندې د مشهور هندي کرکټر عرفان پټان مخې ته او چې اوس دی  هم لیدل کیدی شي.  یوټیوب

 ما پدې جمله کې لږ ویاړ او ډیر غلط فهمۍ احساس کړه.  "زه عرفان پټان ته پټان نه ګ .م ځکه چې هغه په ​​پښتو نه پوهیږي ،" هغه وویل.  ځکه چې زه پخپله یو پټان یم چې د پښتو یا پښتو ژبې نه پوهیږم مګر په ورته وخت کې د پټان دعوی شتون لري بلکه نسلي دی.  د شهید افریدي د دې بیان په اوریدو وروسته ، هغه فکر وکړ چې نه دراني او نه د سرهيندي ، نه د جوناګړه خانجي ، نه د بهوپال نواب ، او نه د راحیل خند راډیل چې نه عالم دی ، دغه معیار پوره کولی شي.  حتی پخپله د پشتون مورخین او مورخین پخپله په پټانانو باور نلري ، نه د پنجاب کاکز ، نه د فرخ آباد د بنګش او افریدي ، نه د علیګر شیرواني ، نه خارج او برني د بالینشهر ، نه د سالارزی پټان پټان پټان یا د راجستان ټانک.  ځکه چې ډیری یې نور په پښتو خبرې نه کوي کله چې دا یقیني شي چې د دوی پلرونو دا خبرې کولې.

 له بلې خوا ، په پیښور او کویټه کې د نورو ژبو او نژادونو خلک په پښتو ژبه په اسانۍ او رواني ژبه خبرې کوي ، نو ایا دوی باید یوازې په دې وړتیا کې د پټان په توګه وپیژندل شي؟  دا ممکن ممکن نه وي.

 د هندوستان په بیلا بیلو سیمو کې میشت پشتان ، کله چې دوی په دې سیمو کې میشته شول ، خپل کلتور ته یې وده ورکړه او د دې سیمو بولی یې غوره کړه.  دا هم ځکه دی چې دوه یا درې سوه کاله دمخه د مخابراتو وسیلې دومره عصري ندي. د زرګونو کیلومترو سفر کول دومره اسانه نه و چې د یو چا اصلي ټاټوبیو ته لاړ شئ او له دوی سره تعقیب ولرئ.  هغه خلک چې یوځل لښکر یا سوداګریز کاروان سره لیرې پرتو سیمو ته تلل نو بیا د دوی څلور یا څلور تنه به په یوه ټاکلي سیمه کې پاتې شي او هلته استوګنځي اختیار کړي.  وروسته ، یوازې قومي شناخت د دوی نومونو سره پاتې شو ، یا د هغه ځایونو یا ګاونډیو نومونو چې دوی پکې ژوند کاوه خپل شناخت وساتي.  په هندوستان کې د پټانانو ډیری محلا د کارا ، کویلا ، ګاري ، ګرهیا او تولا په نومونو وې.  په هغه سیمو کې چې پټانان په لوی شمیر کې اوسیږي ، په کلتوري ډول ځینې ښکلي هنرونه ، په ځانګړي توګه د شعر ډولونه لکه پټه چار بیټا لوبا ، او نور په سیمه ایزو رنګونو کې اوریدل شوي یا لیدل شوي.  د هندي پشتنو رواجونه د واده په سندرو او شعرونو کې په ښکاره ډول منعکس شوي وو.

 په دې توګه کله چې یو څه لږ عاقل خلک استدلال کوي چې یو څوک باید د خپل قوم یا قبیلې په ژبه یو څه پوه شي ، نو د دوی د عقل نشتون یوازې افسوس کولی شي او پدې برخه کې یو مثال ورکول کیدی شي.  پټان یا هغه خلک چې د دوی په سیمو کې اوسېږي چې ځانونه شاه یا سیاه بولي. ظاهرا. عربان شوي دي.  اوس پوښتنه دا ده چې ایا دوی خپل قومي یا د قبیلوي ژبې پوهیږي ، کوم چې د دې فورمول له مخې باید عربي وي.  زه ډاډه یم چې د دې پوښتنې ځواب هیڅ دی.  په دې برخه کې یو بل دلیل دا دی چې ډیری ځانونه پټانان ، بلکې لوی فیلسوفان او پوهان هم وايي چې پښتانه د بني اسراییلو له قومونو سره تړاو لري چې یو وخت له نورو قبیلو څخه جلا شوي وو.  پدې شرایطو کې ، پټان باید په عبراني پوه شي.  ډیری مورخین فکر کوي چې دوی اسراییل دي ، مګر د عبراني ژبې څخه لرې دي.

 ټول استدلال او ادعاوې دا ضروري ندي چې د یو چا قانع کړي.  مګر حقیقت دا دی چې په هندوستان کې ډیری سیمې شتون لري چیرې چې پټانان اوسیږي.  نور قومونه یا ریسان چې ورسره ژوند کوي هغه خان خان یا پټان بھائی بولي او هغه د پټان په توګه پیژني.  مثالونه او ثبوتونه شتون لري کله چې انګرېزانو پخپله هندوستان کې ډیرو پټان کورنیو ته سندونه او جاګیرونه ورکړل ، دوی په دې سندونو کې په لویو ټکو لیکلي او دا یې منلې چې دوی د ځینې افغان یا پټان قوم پورې اړه لري.  په هغه سیمو کې چې پټانان وو او اوس هم میشته دي د روهیل کھنډ (پشمول شاه جهانپور ، پیل ، بهټ ، مراد آباد ، بدون ، بیجنور ، عمروه ، او بریلي) او فرخ آباد ولسوالۍ ، د بولانشهر ولسوالۍ ، ولسوالۍ شامل دي  پدې کې عليګر ، ټانک ، جووره ، ملیر کوټلا ، جوناګره ، ماناودر ، بروده ، پلن پور ، مظفر نگر ، بھوپال ، بنتو او کورولي شامل دي.

 هرکله چې په کراچۍ کې د پښتنو او مهاجرینو تر منځ توکمیز تاوتریخوالي موجود وي ، نو دا زړه بښونکی دی.  د جګړې په جریان کې ، پټانان د پښتنو سره په توپیر کې دي ، ځکه چې ډیری هغه څوک چې پاکستان ته کډوال شوي په توکمیزه توګه پټان دي ، که والي عشرت العباد خان وي یا د اټوم بم رامینځته کونکی ، عبدالقدیر خان.  دا مشهور کامیډین مشتاق احمد یوسفي وي ، یا نامتو مزاح نگار ، عنایت علي خان ، چې د هغه یو شعر کامل او کامل دی.

              اجازه راکړئ هر وخت پخپله خنجر شم او اجازه راکړئ چې ځان وینې وګrstم

 زما ستونزه عجیب ده. زه هم کډوال او پټان یم

 پدې ټولو شیانو پوهیدل او د لږ هوښیار خلکو اعتراضونو او نیوکو ته په پام سره ، زړه وویل چې پدې برخه کې باید یو څه ګام یا قلم واخیستل شي.  د څیړنې کار چې د پټانانو په اړه معلومات لري په ځانګړي توګه هغه پټانان چې په غیر پټان سیمو کې ژوند کوي یا د اوږدې مودې لپاره دلته ژوند کولو وروسته خپله ژبه او کلتور هیر کړي.  په ځینو ځایونو کې ، دوی حتی خپل شناخت له لاسه ورکړی ، لکه بابي پټان ، یو ماهجیر پټان چې په کراچۍ کې اوسیري پټان ، چې په بهار کې اوسیږي.

 په دې توګه ، د ټولې نړۍ لیکوالو د پټانانو تاریخ ، جغرافیه ، اصل ، کلتور ، مذهب او اقتصاد په اړه ډیر کار کړی ، په ځانګړي ډول نسل یا قوم چې انګلیس یې څیړنه کړې او د سویلي آسیا برصغیر کې یې خورا ډیر کتابونه لیکلي.  دا یو ملت دی.  د دوی تر څنګ حافظ رحمت خان ، خان روشن خان ، فره بخاري او نورو لیکوالانو ، تاریخ لیکونکو او سیاستوالو په پښتنو لیکلي او ډیر معلومات راټول کړي دي.  ما هڅه کړې چې د نورو معلوماتو او ځینې معلومات چې ما راټول کړي دي وکاروئ ، ترڅو زه وکولی شم پدې کار کې برخه واخلم.  په ځانګړي ډول د پښتنو لپاره چې په زیاتیدونکي ډول توکمیز هیر شوي او سپکاوی کیږي.  نن ورځ ، ډیری نیګروز چې په اصل کې افریقایي دي د دوی د سیمې ډیالوګ نه پوهیږي کله چې دوی په ټوله نړۍ کې ژوند کوي.  مهمه نده چې دوی څه وايي ، نړۍ دوی نیګران ګ considي ، نو زه به هڅه وکړم چې نژادي او ژبني بحثونه لنډ کړم ترڅو یو څه معلومات ورسوم چې دوی ته نوي او په زړه پوري دي.  په ځانګړي توګه د هندوستان اصلي پټانانو په اړه چې پلرونه یې په هغه وخت کې مهاجر شوي او په سلګونو زره میله لرې د کافر الاحد په جنګونو کې برخه اخیستې او سیمې یې فتح کړې پداسې حال کې چې د نن ورځې لوی خبرې کونکي پښتان دي.  کله چې د هندي پښتنو پلرونه د دښمن خاورې ته تلل ولیدل نو د هندي پښتانو اثار په غره کې پټ شول او په ویره کې ډوب شول.

 په هند کې میشته پشتان نه یوازې د نامناسبه دښمنانو برید او د دوی محدود شمیر سربیره ځانونه ژوندي ساتلي ، بلکه ډیری سیمې یې تر لاسه کړي او دوه ځله د ټول هیواد امپراتورۍ.  زما د کتاب لیکلو اصلي هدف خلکو ته د واقعیت حقایق او انځور وړاندې کول دي ، د دې پرځای چې یوازې د پښتو په ویلو سره ځان ته زړور او ویران وښایم ترڅو دوی پوه شي چې څوک څوک واقعیا زړور دي.  په ریس کې هم پټانان شتون لري.  میا علي نواز مدهخېل ګینار   لخوا پلټنه ، لیکنه او پښتو ژباړه


Comments