Skip to main content

Pashtuns, Before And After Partition of India. Urdu Article

 Pashtuns, Before And After Partition of India. Urdu Article 

By Laiba Yousafzai

ایک مختصر سا جائزہ 

پشتون اور پاکستان آزادی کے بعد سے ۔۔۔

ڈھال بھی ہم ۔۔۔۔۔تلوار بھی ہم ۔۔۔۔۔۔اور غدار بھی ہم۔۔۔



1947

 میں پاکستان آزاد ھوا ۔ ۔۔ ایک آزاد ریاست میں جہاں مسلمان ایک آزاد فضا میں سانس لے سکیں ۔ جہاں انکی عبادت گاھیں محفوظ ھوں ۔۔ جہاں انکو مکمل آزادی ھو ۔

لیکن ۶۶ سال ، ۵ مہینے ، اور 17 دن گزرنے کے باوجود پشتون قوم حالت جنگ میں ھیں


1948/1949

 میں  UNCIP کے فیصلے کے بعدپشتونوں کو جہاد کے نام پر کشمیر بھیج دیا گیا 


(اور یہی وجہ ھے اج کشمیری سب سے زیادہ نفرت پشتون قوم سے کرتے ھیں اور یہ وہاں جانے کے  بعد انسان کو پتہ چلتا ھے ۔غالباً ان میں سوات اور وزیرستان کے لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی)

اور غیور پشتون کشمیر کالگ بھگ  زیادہ تر حصہ لے چکے تھے۔ اور اگے بڑھ رھے تھے ۔کہ لیاقت علی خان نے ان کو وہاں سے واپس بلا کر جیلوں میں بند کر دیا

( یاد رھے کی جب  لیاقت علی خان  کولیاقت باغ میں مارا گیا تو اکبر خان نامی ادمی کو ارمی نے گولی ماری تھی اور کہا گیا کہ اس ادمی نے لیاقت علی خان کو انتقام کے طور پر گولی ماری تھی 

پر اسکے بعد 1965 میں جب انڈیا پاکستان پر قبضہ دیکھنے کا خواب دیکھنے لگا توایوب خان نے پشتون علاقوں میں پرجوش تقریریں کی اور کہا کہ مجھے ایسے پشتون نوجوانوں کی ضرورت ھے۔ جن کی شادیاں نہ ھوئی ھوں ۔ تو اسوقت صوابی سے صرف چار سو نوجوان تیار ھوئے تھے 



 اور اس طرح اس نے پورے پختون خوا سے بہت سے نوجوانوں کو جمع کر اس نے 1965 کے جنگ میں ٹینکوں کے آگے لٹا دیا ۔اور کود کش کے طور پر استعمال کیا ۔ مگر تاریخ میں اس اعزاز پاکستان کے پنجاب کے فوجیوں کو دیا جاتا ھے ۔ کہ انھوں نے اتنہ بہادری سے قربانیاں دی تھی ۔ ( اسی  طرح پشتونوں میں جہاد کے لئے خود کش کا تصور بھی اس دن سے شروع ھوا)

1971 میں جب بنگلہ دیش کے لوگوں نے گورنمنٹ سے ازادی کے لئےبغاوت کی ۔ تو پاکستانی حکومت نے ان باغیوں کو کچلنے کے لئے پاک فوج کے ساتھ پشتونوں کو بھی بھیجا ۔جنکو بعد میں پوچھا بھی نہیں گیا ۔کہ زندہ ھیں کہ مرگئے ھیں 


پھر 1979 میں جب رشیا نے افغانستان پر حملہ کیا ۔ تو پاک فوج اور 

isi

 نے پشتونوں کو جہاد کے نام پر افغانستان بھیجا 

 جنکو امریکہ سپورٹ کر رھا تھا


وہاں رشیا جیسی طاقت جو اسوقت کا سپر پاور کہلاتا تھا ۔ پشتونوں نے اسکو پاش پاش کیا ۔اور جنگ جیتنے کے بعد ان مجاہدین کو پاک فوج نے باڈر بھی کراس کرنے نہیں دیا ۔اور جنھوں نے باڈر کراس کرنے کی کوشش کی ۔ انکو باڈر پر ہی پاک فوج نے گولیاں مار دی 


اس کے بعد شملہ اتحاد اور چھوٹی بڑی قوتوں کے بعد امریکہ کے موجودہ جنگ میں بھی ہمیں (پشتونوں ) ہی چن لیا  گیا۔ اور اس وقت سے آج تک پشتون مسلسل لڑایئاں لڑ رھا ھے ۔جس میں لاکھوں کی تعداد میں شہید ھو ئے ۔ کوئی مجاہد کے نام پر ۔ تو کوئی طالب کے نام پر ، تو کوئی عام شہری کے حثیت سے  



آج جو لوگ قوم کو صیحح رستہ دکھا رھے ھیں ۔ اور پشتونوں کے ہاتھوں سے بندوق چھین کر ان کو قلم تھما رھے ھیں ۔انکو امریکہ کا وفادار اور ملک کا غدار کہا جا رھا ھے ۔ 


آج بھی مذاکرات کے نام پر ہمیں دھوکہ دیا جارھا ھے ۔یعنی یہ تماشہ ابھی بند ھونے والا نہیں ۔ابھی ہمارے خون سے انکی پیاس نہیں بجھی ۔اگر آج ہم نہیں بولے تو شاید ہی ہمارے آنے والی نسلیں ہمیں معاف کر سکیں ۔ اور شاید ہماری نسلیں ہی نہ رھیں ( خدانخواستہ کیونکہ پشتونوں کی نسل کشی جس بےدردی سے جاری ھے 


 آگ اور خون کی جو کھیل پشتوں علاقوں میں پچھلے ایک دہائی سے پختون خوا اور تین دہایئوں سے افغانستاں کے پشتوں علاقوں میں کھیلا جا رھا ھے ۔ مستقبل میں اگ کا یہ کھیل ہر پشتون کے گھر تک پہنچ جائے گا ۔ لگتا ھے پم سب اپنی اپنی باری کا انتظار کر رھے ھیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لائبہ یوسفزئی

By Laiba Yousafzai. 2014

Pashto Times. Urdu blogs

Pashtuns, Before And After Partition of India. Urdu Article

Comments