Skip to main content

Shan Ki Lighting Aur Nawab Siraj Ul Dawla. Urdu Satire On Khan by Samiullah Khatir

Shan Ki Lighting Aur Nawab Siraj Ul Dawla. Urdu Satire On Khan by Samiullah Khatir.

دربار عوام و خواص سے کچاکچ بھرا تھا، عطا کردہ توشہ جات زین تن کئے وزیران با تدبیران، مبہوت چہرے،  شاہی صدر دروازے پر لگی سب کی التجائی منتظر  نگاہیں اور ہر طرف ایک سحرانگیز سکوت طاری تھا پر یہ سکوت کب تک اور کیسے کوئی قائم رکھ سکتا

منادی نے بااواز بلند صدا لگائی ظل سبحانی کا اقبال بلند ہو،  عظمت بنگال و افتاب ہند جلالت الماب سرتاج فرزاندان توحید ، غازی زمان اعلی حضرت علیجا نواب السراج الدولہ دامت برکاتہم تشریف لارہے ہیں

یکایک منظر تبدیل ہوا جلالی انداز سے نواب کی امد پر ہر طرف کس شیر کی امد ہے کہ رن کانپ رہا ہے کا عملی تصویر قرطاس ولایتی کی طرح صاف نظر ارہا تھا

عوام و خواص میں میں کوئی ایسا بشر ڈھونڈنے کو بھی نہ رہا جو لاشعوری طور پر فرشی سلام کے لئے نہ جکھا لیکن برخلاف عادت اج ظل سبحانی تخت طاوس پر تمکنت افروز ہونے کی بجائے سیٹیج کی طرف بڑھے اور کیمرے کی انکھ میں انکھ ڈال کر خالص پنجابی لہجے میں فرمانے لگے


شان کی لائٹنگ،  وڈی گندی لائٹنگ


Shan Ki Lighting Aur Nawab Siraj Ul Dawla. Urdu Satire On Khan by Samiullah Khatir. Urdu Sarcasm, Urdu Satire By Khatir. Pashto Times.


Comments