Skip to main content

Bacha Khan, Israel, Arab And Palestine. Zama Zhwand Aw Jedujehad.

Bacha Khan, Israel, Arab And Palestine. Zama Zhwand Aw Jedujehad. Pashto Pedia Book Info

باچاخان بابا کی اسرائیل بننے سے بائیس سال پہلے فلسطینیوں کوسبق آموزنصیحت

1926

بیت المقدس (یروشلم) میں میں گهومتاتها معلومات لیتا اور هوٹلوں میں عربوں کے ساتهہ فلسطین اور عربوں کے مستقبل پر بحث کرتا. ایک دن چند فلسطینیوں سے بحث هورہی تهی.میں نے کہا کہ دیکهو یہ آپ لوگ بہت بڑی غلطی کررهے هیں کہ یہودیوں کو اپنی زمینیں بھیچ رہے ہو .اور یہودی اس زمین کو آباد کر لیتے هیں یہ کام آپ لوگ خود کیوں نہیں کرتے میں نے یہاں جو زمین آباد دیکهی ہے جہاں خوبصورت بنگلہ ،باغیچہ ،اور پانی کا انتظام هو وہ زمیں یہودی کی ہوتی هے اور جو زمین بنجر ہوتی هے وہ مسلمان کی هوتی هے.یہودیوں نے فلسطین میں چهوٹے چهوٹے خوبصورت گاوں بسائے اور بسا رهے هیں لیکن آپ عرب غفلت کی نیند سو رهے هیں.ان میں سے ایک عرب نے کہا کہ یہ چودهویں صدی آخری صدی ہے .ہم اپنی زمینیں یہودیوں کو اسلیئے فروخت کررهے هیں کہ وہ ان زمینوں کو آباد کرلیں اور اب آخری صدی ہے اس کے بعد تو امام مہدی آئے گا اور یہ ساری زمینیں دوبارہ مسلمانوں کی هو جائے گی.تب مجهے اندازہ هوا کہ مولوی نے پشتونوں کی طرح عربوں کو بهی امام مہدی کے انتظار میں بٹهایا هے.وہ اتنے بے علم تهے کہ امام تو چهوڑوں جب پیغمبروں کا ساتھ قوم نے نہیں دیا وہ بهی اپنی مقصد میں کامیاب نہیں هوئے.اب کبهی کبهی خیال آتا هے کہ فلسطین چلا جاؤں اور ان عربوں سے پوچهوں کہ وه چودهویں صدی تو گزر گئ وہ زمینیں کس کی هوئی یہودیوں کی یا مسلمانوں کی .جو قوم اپنی مفادات اور سرزمین کی حفاظت نہیں کرتی وہاں ظلم کی حکومت قائم هو جاتی هے


 ایک دن میں بیت المقدس سے باہر گھومنے کیلئے نکلا تو راستے میں ایک عرب نوجوان ملا مجھے تھوڑی تھوڑی عربی زبان آتی تھی میں نے اُن کے ساتھ باتیں شروع کی اور اُن سے کہا کہ یروشلم نے تو بہت ترقی کی نئے نئے سڑک انگریزوں نے بنائے نئی نئی آبادیاں کررہے ہیں اُس نوجوان نے مجھے غور سے دیکھا کچھ کہنا چاھتاتھا لیکن چُپ ہوگیا مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔میں نے اُسے کہا کہ چُپ کیوں ہوئے تو اُس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ ھندی ہے میں کہا کہ آخر آپ کا مطلب کیاہے؟اُس نے کہا کہ ھندی بہت خراب لوگ ہیں اُن کا کام سوائے مخبری کے اور کچھ نہیں ہوتا اس سارے ملک میں ھندوستانیوں کو لوگ بہت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔یہ کہنے میں وہ نوجوان حق بجانب تھا اس لئے کہ جنگ عظیم کے دوران اِن لوگوں کے ساتھ ھندوستانیوں اور ھندوستان کے فوج نے جو ظلم کیا اسکی سزا اللہ تعالٰی اُنہیں دے گا


 ھندوستانی فوج کی اکثریت مسلمان تھی میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کو کم از کم یہ بتاسکتا ہوں کہ میں مُخبر نہیں۔تو اُس نوجوان نے کہا کہ نئے نئے سڑکوں اور آبادیوں کا ہم کیاکرینگے ہم اور ہمارا ملک روز بروز غربت کی طرف نیچھے آرہاہے ۔اِسلئے کہ تُرک قسطنطنیہ کے خزانے سے پیسے یہاں خرچ کرتے تھے اور انگریز ہمارے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں اور ہمارے مال ودولت کو ولایت بمنتقل کر رہے ہیں اسکے بعد اُس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ جو کچھ ہم نے تُرکوں کے ساتھ کیا اب اللہ تعالٰی ہمیں اُس ناشکری کی سزا دے گا اب ہم تُرکوں کا بہت ارمان کررہے ہیں لیکن وقت گزر چکا ہے اللہ تعالٰی ہمیں معاف فرمائیں اور اِن ظالموں کے پنجوں سے آذادی دلائے یہی حال ملک شام کا تھا




Bacha Khan, Israel, Arab And Palestine. Zama Zhwand Aw Jedujehad. Pashto Pedia Book Info. Pashto Times, Pashto Khabar, Info Blogs In Pashto. Pukhto, Watan, Ghazal, Kitabuna, Book Summery.


Comments