Skip to main content

قائد اعظم ؒ پر دیوبند مولویوں کےفتویٰ

 قائد اعظم ؒ پر دیوبند مولویوں کےفتویٰ

 

دیوبندی مفتی کفایت ﷲ دہلوی صاحب کے مطابق قائد اعظم شیعہ اور جدت پسند ہونے کی وجہ سے صرف نام کے مسلمان تھے ۔


چنانچہ مولانا عطا اللہ بخاری نے جہاں مولانا آزاد کے غیر متعصب سیاسی موقف کو نقل کیا وہاں گاہے گاہے اپنی مخالفت کی اصلی وجہ بھی بیان کی۔ 


 مولانا صاحب کے الفاظ میں  محمد علی، غضنفر  علی اور دوسرے علی نام والے لوگ نیا ملک  اس لیے نہیں بنا رہے کہ اس کو ہمارے حوالے کر دیں۔1940ء کی دہائی کی سیاسی گہما گہمی میں   مسلمان عوام فسادی علما سے دور ہو گئے 


لیکن جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار نے  اپنے تئیں فرقہ وارانہ آگ لگانے کی کوششوں کو جاری رکھا۔قائد اعظم ؒ کے چودہ نکات اور گول میز کانفرنسوں کے نتیجے میں مسلم لیگ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کے طور پر سامنے آ رہی تھی لیکن مجلس احرار اور جمعیت علمائے ہند نے مسلم لیگ کے خلاف گھٹیا مہم چلائی۔ 


قائد اعظم کی مرحومہ زوجہ رتی جناح، جنہوں نے شادی سے پہلے اسلام قبول کیا تھا اور جن کی وفات کے بعد ان کو شیعہ طریقے سے بمبئی کے خوجا اثنا عشری قبرستان میں دفن کیا گیا تھا، 


کو جمعیت علمائے ہند نے کافرہ کہنا شروع کیا۔مولانا حسین احمد مدنی نے "سول میرج اور لیگ" کے عنوان سے ایک پمفلٹ شائع کیا جس میں قائد اعظم پر الزام لگایا کہ انہوں نے سول میرج ایکٹ کے مطابق ایک غیر مسلم عورت سے شادی کی تھی، 


جس کے جواب میں مسلم لیگ نے محترمہ رتی جناح کے قبول اسلام کے ثبوت شائع کیے۔ یہ سب ایسے ماحول میں ہو رہا تھا جب کانگریس اور جمعیت کے کئی مسلم ارکان نے ہندو خواتین سے شادیاں کر رکھی تھیں۔ مثال کے طور پر جمعیت علمائے ہند کے رکن بیرسٹر آصف علی نے بنگالی ہندو خاتون، محترمہ ارونا ،سے شادی کر رکھی تھی جو کبھی مسلمان نہ ہوئیں ۔ 


باچا خان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب نے ایک انگریز خاتون، جو علیٰ الاعلان غیر مسلم تھیں،  سے شادی کر رکھی تھی 


اور ان کی بیٹی نے ایک سکھ لڑکے سے"سول میرج ایکٹ" کے تحت  شادی کی تھی۔ وہ چونکہ کانگریس کے اتحادی تھے اس لیے مولانا مدنی نے ان کی  شادیوں  پر کوئی اعتراض نہ کیا۔بعد ازاں جب مولانا آزاد کی زوجہ فوت ہوئیں تو مسلم لیگ کے نوجوانوں نے لوگوں کو ان کے جنازے میں شرکت سے باز رہنے کا کہہ کر اس توہین کا بدلہ لیا، یہ بھی ایک غیر اخلاقی حرکت تھی لیکن پھر بھی وہ کانگریسی علما جتنے نہ گرے کہ کافرہ کہتے۔


مجلس احرار کے  مولانا  مظہر علی اظہر نے مولانا مدنی کے اسی پروپیگنڈے کو ہی  آگے بڑھاتے ہوئے  اپنی ٹوٹی پھوٹی شاعری میں  قائد اعظم کو کافر اعظم  کہا:۔


اک کافرہ کے واسطے اسلام کو چھوڑا

یہ قائد اعظم ہے کہ  کافر اعظم ؟


مولانا مودودی  نے قائد اعظم کو رجل فاجر اور احمقوں کی جنت کا بانی قرار دیا لیکن تحریک خلافت اور لکھنؤ کے فسادات کے ڈسے ہوئے مسلمان ان پر دوبارہ اعتماد کرنے کی غلطی نہیں کر سکتے تھے۔ 


1944ء میں مہاتما گاندھی قائد اعظم ؒ سے مذاکرات کرنے بمبئی آ ئے تو قائد اعظم ؒ نے 7 ستمبر کو حضرت علی ؑ کے یوم شہادت کی وجہ سے ملاقات سے معذرت کی اور مذاکرات 9 ستمبر کو شروع ہوئے۔ اس بات پر لکھنؤ میں مجلس الاحرار کے رہنما مولانا ظفر الملک بھڑک اٹھے اور قائد اعظم ؒ کو کھلا خط لکھ کر کہا:۔


"مسلمانوں کا 21 رمضان سے کوئی لینا دینا نہیں، یہ خالص شیعہ دن ہے۔ اسلام کسی قسم کے سوگ کی اجازت نہیں دیتا۔ در حقیقت اسلام کی روح اس قسم کے یہودی تصورات کے بالکل خلاف ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ خوجا کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں جو ایک شیعہ گروہ ہے، لیکن آپ کو مسلمانوں پر ایک شیعہ عقیدہ تھوپنے کا کوئی حق نہیں... 


قائد اعظم ؒ نے اس خط کے جواب میں لکھا:۔


"یہ شیعہ عقیدے کی بات نہیں، حضرت علی ؑچوتھے خلیفہ بھی تھے۔ اور میں جانتا ہوں کہ حقیقت میں اکیس رمضان کا دن اکثر مسلمان، شیعہ سنی اختلاف سے بالاتر ہو کر مناتے ہیں۔ مجھے آپ کے رویے پر تعجب ہوا ہے.. 


محترمہ فاطمہ جناح اور دینا جناح قائد اعظم کی تدفین کے موقعے پر غم سے نڈھال ہیں

محترمہ فاطمہ جناح اور دینا جناح قائد اعظم کی تدفین کے موقعے پر غم سے نڈھال ہیں

اس واقعے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ قائد اعظم ؒ کی مذہبی آزادی کا بھی احترام نہیں کرتے تھے، ان کے غم و خوشی کے ذاتی جذبات کو بھی اپنی سوچ کے تابع کرنا چاہتے تھے۔ 


فرنگی محل لکھنؤ سے اہلسنت نے آپ کو خط لکھ کر مولانا ظفر الملک کی اس حرکت کی مذمت کی اور آپ کو مکمل حمایت کا یقین دلایا   اگست 1941ء کو لاہور میں جماعت اسلامی کا قیام عمل میں آیا۔ مولانا مودودی اگرچہ روایتی فرقہ پرست عالم  نہیں تھے مگر اپنی جماعت اسلامی کے پیغام کو قبول نہ کرنے والوں کو نام نہاد مسلمان سمجھتے تھے۔ 


اس طرح جماعت اسلامی بھی ایک قسم کا فرقہ بن گئی۔  البتہ  جماعت اسلامی محدود تعداد مگر  منظم  ارکان  کا حامل   فرقہ ہے، جس کو انگریزی زبان میں کلٹ کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ 1944ء میں لاہور کے نواحی قصبے امرتسر میں تنظیم اہل سنت  کے نام سے ایک شیعہ مخالف دیوبندی جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 26اکتوبر 1946ءکو مولانا شبیر احمد عثمانی نے جمعیت علمائے اسلام قائم کی جو مسلم لیگ کے متوازی سیاسی جماعت تھی،


کیونکہ دیوبندی علما محمد علی جناح کے جدید نظریات پر مبنی تصورپاکستان کو غلط سمجھتے تھے  جب قائد اعظم نے 11 اگست 1947ء کی تقریر میں ریاست کی نظر میں سب شہریوں کوبلا تفریق مذہب مساوی قرار دیا تو 1 ستمبر 1947ء کو مولانا شبیر احمد عثمانی نے اخبارات میں ایک بیان جاری کیا جس کا ایک ایک لفظ قائد اعظم کی اس تقریر کی مخالفت پر مبنی تھا یوں ایک سرد جنگ شروع ہو گئی۔ پاکستان کے قیام سے پہلے ہی دیوبندی علما نے شیعوں کی نماز جنازہ پڑھنے کو حرام قرار دے رکھا تھا اور مولانا شبیر احمد عثمانی بھی شیعوں کے لیے یہی سوچ رکھتے تھے لہٰذا قائد اعظم کی پہلی نماز جنازہ گورنر ہاؤس میں ان کے اپنے مسلک کے مطابق پڑھی گئی مگر جب عوام میں نماز جنازہ پڑھانے کی باری آئ تو حکومت نے مولانا شبیر احمد عثمانی کو طلب کیا تاکہ بعد میں جنازہ پڑھنے والوں کے خلاف کوئی فتنہ کھڑا نہ ہو سکے۔ 


اس کے باوجود "فتاویٰ مفتی محمود" میں شیعہ حضرات کا جنازہ نہ پڑھنے کے فتووں ذیل میں قائد اعظم کے شیعہ ہونے کی وجہ سے علامہ شبیر احمد عثمانی کی طرف سے ان کا جنازہ پڑھنے کو گناہ قرار دیا گیا ہے  جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں پڑھائی تو انہوں نے اپنے فتووں سے رجوع کرنے کی بجائے ایک خواب سنا کر سوال کو ٹال دیا۔دوسری طرف دیوبندی علما مولانا نور الحسن بخاری، مولانا دوست محمد قریشی، مولانا عبد الستارتونسوی دیوبندی وغیرہ نے پاکستان بھر میں شیعہ مخالف جلسے کیے اور لوگوں کو فسادات کے لیے اکسایا۔ لہٰذا قیام پاکستان کے بعد  ہی شیعوں پر حملے شروع ہو گئے.......

Liaqat H. Merchant, “Jinnah: A Judicial Verdict”, East and West Publishing Company, Karachi (1990).


Jinnah Papers, second series, volume XI (1 August 1944-31 July 1945); page 174

#طوسی

Comments