دا څنګه ازادي ده (یہ کیسی آزادی ہے؟)
مین لینڈ پاکستان، سیلاب، قدرتی آفت یا سلو وائلنس
By Ali Arqam
جس طرح مرد مومن ہر ذی روح کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے، کیا اس کو کاٹ کر کھایا جاسکتا ہے؟
بار بی کیو یا کڑاہی بنائی جا سکتی ہے یا نہیں؟
حلال حرام کا سوال ہو تو ایکسپورٹ تو کیا ہی جاسکتا ہے
کچھ اسی طرح، ہمارا مقتدر ٹولہ مضافات کے ان خطوں کو یہاں آباد ہر ذی روح کی نفی کرکے صرف وسائل کے لینس سے دیکھتا ہے
یہ سیلاب، قدرتی آفات اور ماحولیاتی تباہی محض ایک دن کا حادثہ نہیں، یہ برسوں اور دہائیوں پر محیط ہے اور دراصل غالب طاقتور گروپوں، ان کی طاقت اور گرفت کا اظہار کرتے سماجی سیاسی اداروں یا اس کی منضبط یا مسلط صورت یعنی ریاست کی عدم توجہ یا غلط ترجیحات کا نتیجہ ہے۔
ماہرِ ماحولیات اور ادیب راب نکسن اپنی کتاب سلو وائیلینس
(Slow Violence and the Environmentalism of the Poor)
میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کے کمزور طبقات پر اثرات کو زیر بحث لاتے ہیں، ان کے مطابق تشدد کی کچھ صورتیں تو فوری نوعیت کی اور واضح طور پر عیاں ہوتی ہیں، جیسے جنگی کاروبار بنام دہشت گردی و انتہا پسندی وغیرہ، لیکن ایک تشدد ایسا بھی ہوتا ہے جو دھیرے دھیرے، برسوں میں وقوع پذیر ہوتا ہے اور زیادہ تر غریب اور کمزور طبقات پر پڑتا ہے، یہ تشدد زہریلی فضاؤں، آلودہ پانی، ایٹمی فضلے، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی کے ذریعے انسانی زندگیوں کو تباہ کرتا ہے۔
نکسن کے مطابق یہ تشدد ایک طرح کی ڈیفرڈ ڈسٹرکشن ہے ایسی تباہی جو فوری طور پر نہیں ہوتی مگر وقت کے ساتھ انسانی زندگیاں، ماحول، اور سماجی ڈھانچے کو چیر پھاڑ کر رکھ دیتی ہے۔ لیکن اس کا تذکرہ میڈیا اور ریاستی بیانیوں میں کم ہی جگہ پاتا ہے کیونکہ اسے کوریج دینا کاروباری مفادات، سرمایہ دار طبقات سے جڑی منفعت اور مارکیٹ کی ریٹنگز کی دوڑ کیلئے سود مند نہیں سمجھا جاتا اور اس کی زد میں آنے والے خطوں کو سرمایہ دارانہ اور ریاستی طاقتیں قربان گاہ
(Sacrifice Zones)
کے طور پر استعمال کرتی ہیں
مین لینڈ پاکستان سے دور اس کے شمالی علاقہ جات اور پھر پختونخوا کے اکثریتی اضلاع جنگی تشدد، ان تجربات کی اور سٹریٹجک مفادات کی قربان گاہیں تو ہیں ہی، کلائمیٹ کا پروفائل بھی اس میں شامل کرلیں
ضروری نہیں کہ براہِ راست بندوق کی نالی، مارٹر گولے یا بارود برسانے کی صورت میں تشدد ہو، بلکہ ریاستی اور معاشی ڈھانچوں کی ترجیحات کی نوعیت، ان خطوں کے بارے میں طرز عمل اور عوام سے برتے جانے والے روہے سے بھی اسے طاری کیا جاتا ہے، (جیسے یہ وسائل کیا آپ جہیز میں ساتھ لے کر آئے ہیں)
جب ریاست اپنی پالیسیوں اور وسائل کی ایکسٹریکشن اور ان کی تقسیم میں مستقل طور پر کچھ خطوں کے ساتھ امتیازی برتاؤ کرے، جب ترقی کے منصوبے شہری مراکز اور ان کی آبادیوں کو فیضیاب کریں لیکن بونیر، چترال، شانگلہ، سوات، مہمند، اکثر جنوبی اضلاع، اور پورے شمالی ریجن کو صرف وسائل کی آنکھ سے دیکھیں، عوام، ان کے مفادات کسی ترجیح کا حصہ نہ ہوں تو ایسا سست رو تشدد بظاہر دکھائی نہیں دیتا
سڑکوں اور راستوں کی بدتر حالت (مقامی بندوبست چیئر لفٹس، کمزور پلوں وغیرہ پر انحصار)، پختہ سڑکوں اور پلوں کی عدم موجودگی، نکاسی آب کا ناقص نظام، صحت اور تعلیم کی انتہائی بنیادی نوعیت کی سہولیات کی عدم دستیابی، ہنگامی صورتحال کی اطلاعات اور حفاظتی انتظامات سے محرومی، پھر مقامی لوگوں کی فیصلہ سازی میں برائے نام یا بڑی حد تک عدم شمولیت، یہ سب مل کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جو برسات اور برساتی نالوں میں طغیانی کو انسانی المیے میں بدل دیتی ہے۔
ہم یہ رپورٹس پڑھتے ہیں کہ دوہزار پانچ کے زلزلے کے متاثرہ علاقے آبادکاری کے نام پر بنائے اداروں کے ہاتھوں کس طرح تاراج ہوتے رہے ہیں، بحالی کے منصوبے فائلوں میں کہیں گم ہوجاتے ہیں اور ترقیاتی منصوبے بھی ایسے ڈیزائن کیے جاتے ہیں جن کا محور براہ راست یہ علاقے نہیں بلکہ ان علاقوں کے وسائل یا ایگزوٹک لوکیشنز تک رسائی ہوتا ہے، تاکہ شہری مراکز کا کنزیومر وہاں آکر اپنی بچتیں خرچ کرے، بھلے ایسا انفراسٹرکچر مقامی لوگوں کو ان کے ذریعہ معاش، زرعی زمینوں، جنگلات، پانی سے محروم کرے، جیسے سوات ایکسپریس وے کا اسی کلومیٹر منصوبہ پچاس کے لگ بھگ گاؤں کو دریا کنارے اپنی زرخیز زمینوں سے محروم کرے گا۔ جیسے ہر چند سال بعد بائی پاس روڈ کے نام پر کھیتوں پر چڑھائی ہوتی ہے اور کنزیومر ہراڈکٹس کے نئے مالز اور مارکیٹیں بن جاتی ہیں
پاکستان کا وفاقی بندوبست نا انصافی کی جن صورتوں کو ادارہ جاتی تحفظ فراہم کرتا ہے ان میں ایک ماحولیاتی ناانصافی بھی ہے، جس طرح وسائل کی تقسیم میں مرکز ہمیشہ بڑے شہری مراکز کو ترجیح دیتا ہے۔ مضافات میں سڑک بہہ جائے یا پل ٹوٹ جائے تو اسے دوبارہ بنانے میں دہائیاں لگتی ہیں، لیکن شہری مراکز میں چند ماہ میں اربوں روپے کے منصوبے مکمل ہو جاتے ہیں۔
یہ فرق محض معاشی نہیں بلکہ ایک طرح کا ماحولیاتی امتیاز ہے، جسے بعض ماہرین ’’ایکو لوجیکل اپارتھائیڈ
(Ecological Apartheid)
بھی کہتے ہیں، یعنی وسائل کی تقسیم اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات میں طبقاتی اور جغرافیائی بنیادوں پر امتیاز برتنا، یعنی شہری مراکز کے لیے جدید انفراسٹرکچر کے منصوبے، مگر مضافاتی خطوں کے لیے کچھ نہیں
دوبارہ سے اس حقیقت کا اعادہ کرتے چلیں کہ ماحولیاتی تباہیاں محض فطرت کا جنون نہیں بلکہ انسانی جنون کا نتیجہ ہیں۔ عالمی سطح پر اشرافیہ نے زمین کے ساتھ جو کچھ کیا، پاکستان میں یہ اثرات دوہری شکل اختیار کرتے ہیں، ایک طرف عالمی سرمایہ دارانہ تاراجی ہے، دوسری طرف ریاستی ناانصافی اور وفاقی غفلت اور لاتعلقی
یہ سارے مضافاتی خطے، جہاں آفات کی رفتار اور تسلسل اور ریاستی توجہ اور معاونت میں وسیع خلا موجود ہے، یہ نیکرو پالیٹکس (موت کی سیاست) کا ایک اور ورژن ہے جس میں بنا گولی چلائے، کوئی مارٹر گولہ گرائے خاموشی سے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کچھ زندگیاں قابلِ حفاظت ہیں اور کچھ زندگیاں قربانی کے لائق
کیا مقتدر ٹولے کبھی ان مضافات کو محض بفر زون یا وسائل کے ذخیرے کے بجائے ایک زندہ جیتے جاگتے لوگوں پر مشتمل سماج سمجھے گی؟
شاید ہی وہ یہ سب سوچتے ہوں، اس ٹولے کے نمائندے تو بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے ہرکاروں کے ساتھ انہی آفت زدہ خطوں کے عوام کے ہیروں تلے دبے معدنی وسائل کے معاہدوں کی خبر کے ساتھ اولڈ فوکسز جیسے ایکسپریشنز لیے فوٹو شوٹس کرواتے رہیں گے
اس لیے ہمارے ان خطوں کے عوام، سیاسی کارکنوں اور سیاسی جماعتوں کو خود کو اس ایکویشن میں شامل کرنا ہوگا، پالیسی اور حکمت عملی کے راڈار پر خود کو لانا ہوگا، اپنے بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کی تحریکوں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے ماحولیاتی انصاف کا بھی علمبردار بننا ہوگا، یہ ہماری شناخت، ہمارے وجود اور بقا کا سوال ہے
#DaSangaAzadiDa


Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.