Skip to main content

دہشت و عفریت کو ہیومنائز کرنے اور ان کا سافٹ امیج پیش کرنے کی ایک اور کوشش

 طالبانی دہشت و عفریت کو ہیومنائز کرنے اور ان کا سافٹ امیج پیش کرنے کی ایک اور کوشش


جب افغانستان میں دہشتگردی کو بطور حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے افغان طالبان وہاں لڑ رہے تھے، تو اس وقت افغان طالبان کے جنگی ترانوں اور نظموں پر مبنی کتاب ’طالبان کی شاعری (Poetry of the Taliban) شائع ہوئی جس پر کراچی لٹریچر فیسٹیول میں سیشن بھی ہوا جس میں کوئی پشتون، افغان یا افغان امور پر نظر رکھنے والا ماہر شامل نہیں تھا، اس کتاب کو استاد تقی نے بجا طور پر طالبانی دہشت و عفریت کو ہیومنائز کرنے اور ان کا سافٹ امیج پیش کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

اب پاکستان میں ماحول بدل چکا ہے، طالبان افغانستان میں قابض و مسلط ہیں ان کے بارے میں سرکاری لب و لہجہ تبدیل ہوا ہے، ہوا کے بدلتے رخ کے ساتھ تجزیہ کار و صحافی بھی پرانی ہمدردانہ اصطلاحات بھول کر پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) کیلئے استعمال استعارے کام میں لانے لگے ہیں۔

ایسے میں، بھلا ہو نجم سیٹھی کا، ٹھیٹ کاروباری ہیں، سیاسی ماحول سے منافع کشید کرنے کیلئے مولانا سمیع الحق کے بیانیے کی روٹی لگوانے کیلئے اپنے اشاعتی ادارے کا تندور پیش کردیا ہے اور ایک کتاب چھاپ دی گئی ہے جس میں افغان طالبان کو افغان ریاست کے معماروں کے طور پر پیش کیا جارہا ہے


زیر نظر مضمون استاد محترم سمیع الدین ارمان کا اس کتاب پر پشتو میں لکھے تبصرے کا اردو ترجمہ ہے۔ قوسین میں اضافے میری رائے ہے۔


قبرستان کے بادشاہ: طالبان کے ہاتھوں افغان ریاست سازی


سمیع الدین ارمان، اریانہ، پشاور

23 فروری 2026


یہ کتاب اس ماہ (فروری 2026) میں نجم سیٹھی کے ادارے وینگارڈ (Vanguard) نے شائع کی ہے۔ مصنفین پشاور یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات کے استاد ڈاکٹر عامر رضا اور انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلیجس افیئرز کے بانی و صدر جناب اسرار مدنی ہیں۔

کتاب کا عنوان عین مارکیٹنگ اصولوں کے مطابق رکھا گیا ہے۔ تجارت کے اصول واقعی اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ اچھے خاصے ذکی دماغوں کو بھی اپنے حصار میں لے لیتے ہیں۔ افغانستان جیسے حساس ملک کے لیے “قبرستان” کا استعارہ نہ صرف دل دکھانے والا ہے بلکہ گویا شیرینی میں زہر ملا کر پیش کرنے کی ایک دلفریب “علمی” کوشش بھی ہے۔ (یہ اصطلاح تاریخی حقائق کے برعکس اور افغان تاریخ کو رومینٹیسائز کرتی ہے، جس کے مقاصد سیاسی ہیں)۔


بظاہر یہ اصطلاح افغانستان کی تباہی پر ہمدردی ظاہر کرتی ہے، مگر درحقیقت افغان شناخت کو مسخ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے

افغان ریاست کب بنی؟ کسی ایک گروہ کے جبری و عبوری دور کو ریاست سازی کہنا افغان قومی شناخت اور تاریخی تسلسل کے ساتھ کس نوع کا برتاؤ ہے؟


کتاب کی اشاعت کے اعلان میں ایک مصنف لکھتے ہیں:


“مجھ سے ہمیشہ یہ سوال پوچھا گیا کہ افغانستان کی اپنی تاریخ کیا ہے؟

استادِ محترم مولانا سمیع الحق رحمہ اللہ اکثر یہ شکوہ کرتے تھے کہ افغانوں نے دو عظیم جنگیں (جہاد) لڑیں۔ افغانوں کو اپنی جان دینا آسان مگر اپنی تاریخ لکھنا مشکل لگتا ہے۔


لہٰذا انہوں نے افغانستان کے حوالے سے تاریخ رقم کرنا شروع کی اور روس امریکہ جنگ اور نیٹو جنگ کو مختلف حوالوں سے محفوظ کیا۔ آج بھی میرا دعویٰ ہے کہ طالبان کے حوالے سے تاریخ خود طالبان کے پاس کم اور مولانا سمیع الحق صاحب کے پاس زیادہ تھی۔ گزشتہ بیس سال میں افغان طالبان نے بہت لٹریچر مرتب کیا مگر وہ مزاحمتی طرزِ فکر کا تھا۔


بہرحال مشاہیر بنام مولانا سمیع الحق (افغانستان) ایک ایسا بنیادی حوالہ ہے جس میں افغان جنگ کے کرداروں کے تاریخی خطوط سمیت بہت کچھ موجود ہے۔”


[کتاب کی وقعت اور فکری و علمی رجحان کا اندازہ اس تعارف سے بخوبی ہوجاتا ہے، ظاہر ہے مولانا سمیع الحق کے نقطہ نظر سے کیسی تاریخ لکھی گئی ہوگی]


ایک تو یہ اقتباس مجموعی افغان شناخت کو بالواسطہ طالبان سے جوڑتا ہے، جو تاریخ نگاری کے دعوے کے تناظر میں انتہائی نامناسب رویہ ہے۔ دوسرا یہ کہ اپنے استاد مولانا سمیع الحق کا یہ قول نقل کرنا “افغانوں کو اپنی جان دینا آسان مگر اپنی تاریخ لکھنا مشکل لگتا ہے” صاف ظاہر کرتا ہے کہ مصنفین افغان تاریخ نویسی سے کس حد تک واقف ہیں اور ان کا مطالعہ کس قدر رہا ہے؟


(اگر تھوڑی تحقیق کی ہوتی تو انہیں علم ہوجاتا کہ) افغان مورخین نے نہ صرف اپنی تاریخ محفوظ کی ہے، بلکہ عالمی و علاقائی تاریخ میں بھی نمایاں حصہ ڈالا ہے۔ قدیم دور کو چھوڑ بھی دیں تو ماضی قریب میں علامہ عبدالحئی حبیبی، علامہ عبدالشکور رشاد، فیض محمد کاتب، غلام محمد غبار، احمد علی کہزاد، دوست شینواری اور ڈاکٹر محمد حسن کاکڑ جیسے نام مستند مورخین ہیں جن کی درجنوں تحقیقی تصانیف سند کا درجہ رکھتی ہیں۔


افغانوں نے اپنی تاریخ محفوظ کرنے کے لیے ہر علمی منہج استعمال کیا ہے، تاریخ نگاری، لسانیات، فولکلور، آثارِ قدیمہ، ادب اور سوشل سائنسز، حتیٰ کہ فنونِ لطیفہ میں بھی افغانستان کی تاریخ اور شراکت کو محفوظ کیا۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر عبدالرزاق پالوال، ڈاکٹر حبیب اللہ تگے، انور نومیالے، ڈاکٹر مجاور احمد زیار، عبدالرؤف بینوا، زلمے هیوادمل، حبیب اللہ رفیع، ڈاکٹر زمریالے طرزی اور متعدد علما و فضلاء ہیں جن کے علمی کام کا عالم معترف ہے (ظاہر ہے دارالعلوم حقانیہ ک۔ اگر مصنف کا گلہ یہ ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے اپنی تاریخ نہیں لکھی تو اسے افغان تاریخ نویسی سے منسوب کرنا درست نہیں۔


یونیورسٹی آف نبراسکا کا مرتب کردہ نصاب (جو افغان جہاد کیلئے ذہن سازی کیلئے تھی)، القاعدہ کا پروپیگنڈا مواد، الولاء والبراء کے تکفیری متون اور طالبان ترانوں کو مزاحمتی ادب کہنے میں تو ہمیں شدید تامل ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جن شخصیات کو مصنف نے اپنا بنیادی ماخذ ٹھہرایا ہے، کتاب میں ان کا ایک حوالہ بھی نہیں دیا گیا۔


اسی استاد سمیع الحق کے ساتھ ایک اور “مرد قلندر ” مصنف اجمل خٹک ہیں جن کی پچاس ڈائریاں اب بھی غیر مطبوعہ ہیں، وہ اصل مزاحمتی تاریخ ہیں۔ پشاور سے شائع ہونے والے پشتو اخبار “وحدت” کے کردار سے بھی مکمل طور پر گریز کیا گیا ہے۔ پشتو اخبار کو نظرانداز کرنا کسی حد تک قابلِ فہم ہے، مگر طالبان بیانیہ سازی میں اردو و انگریزی کے اخبار “ضربِ مومن” کے کردار سے چشم پوشی قابلِ برداشت نہیں۔


یہ گریز و چشم پوشی اس قدر سوچے سمجھےانداز میں لیکن تھکے ہوئے انداز میں ہے کہ سقوطِ کابل کی علامت اشرف غنی کو سرسری طور پر یاد کیا گیا ہے۔ سقوط کی من پسند کہانی کو صرف “ملینز آف ڈالر لے کر فرار” کے (عمومی) پروپیگنڈے تک محدود کر دینا اور باقی منظر و پس منظر سے گریز کرنا ایک واضح رجحان کا عکاس ہے۔


کتاب کے صرف دوسرے اور تیسرے ابواب حوالہ جاتی معیار پر لکھے گئے ہیں۔ پہلے، چوتھے اور پانچویں میں نہ فوٹ نوٹس ہیں نہ اینڈ نوٹس۔ صفحہ xiv پر اردو، پشتو اور دری کتب کے سروے کا دعویٰ کیا گیا ہے مگر اردو اور دری کی ایک بھی حوالہ جاتی سند موجود نہیں، پشتو میں بھی صرف عبدالسلام ضعیف کی کتاب (وہ بھی اصل پشتو متن کے بجائے انگریزی ترجمے) کا ذکر ہے اور متن میں کہیں کہیں ایک آدھ نام ہیں اور بس۔

کیا طالبان کو متعارف کرانا اور ان کی مفصل تمہیدی دعوؤں کو تحریر میں لانا اور ساتھ انہیں یہ حق دینا کہ ان میں سے بعض اپنا نام و شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے، عجیب بات نہیں؟


یعنی کتاب میں “طالبان شناخت کا مقدمہ” کے باب میں اصل نام کیوں موجود نہیں؟ حالانکہ مصنفین خود خالد حسینی کی کتاب دی کائیٹ رنر( The Kite Runner) کے فکشن کے کرداروں پر کھل کر سخت تنقید کرتے ہیں، اور خود اپنی اس کتاب کے صفحہ xiii پر لکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ کسی کے نام سے ایسی شہرت منسوب کر دی جائے جو وہ حقیقت میں نہ ہو۔


یہ دعویٰ بذاتِ خود اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ طالبان شناخت کے مقدمے میں اصل کرداروں کی اصل باتیں ان کی حقیقی صورت میں محفوظ کی جاتیں۔ مگر افسوس کہ اس کتاب میں ایسا نہیں کیا گیا۔

یہ کتاب دعویٰ کرتی ہے کہ وہ اوور سمپلِفیکیشن سے کافی آگے نکل گئی ہے، مگر میرے نزدیک یہ اوور سمپلِفیکیشن کا شاہکار ہے۔ کتاب طالبان کو ایک بڑی حقیقت کے طور پر ایسے انداز میں پیش کرتی ہے کہ گویا وہ اپنی ہی مٹی سے جنم لینے والی ایک خالص مقامی تحریک ہیں۔ وہ خود پیدا ہوئے، خود مضبوط ہوئے، خود طاقتور بنے؛ مذہبی وابستگی اور رشوت سے اجتناب نے انہیں بڑھایا، اور وہ کامیاب یا فاتح ہیں، یعنی جب وہ سامنے فاتح نظر آتے ہیں تو پھر اس سے انکار کیسے ہو سکتا ہے؟


اصل بات یہ ہے کہ اتنی پیچیدہ صورت حال کو اتنی سادہ زبان میں بیان کرنا اگر اوور سمپلِفیکیشن نہیں تو اور کیا ہے؟


 کیا جنگ رک جانا، یا جنگ کے بعد کا مرحلہ، یا طریقۂ کار کی تبدیلی لازماً دوسرے فریق کی فتح ہوتی ہے؟ جو مصنفین “فنانشل کولونیل ازم” اور “ڈسپوزیشن” جیسے نظریات سے واقف ہوں، وہ شکست و فتح کا اعلان اتنی آسانی سے کیسے کر سکتے ہیں؟ مقامی دانش کی ایک کہاوت ہے، “جب گڑ سے مر جائے تو زہر کی کیا ضرورت؟


یہ مصلحت پسندی ہے یا علمی مجبوری؟ اگر یہی رویہ ہے تو تحقیق سے زیادہ شاعری اور فکشن معتبر محسوس ہوں گے۔ کبھی احتیاط، کبھی دربار کا جبر، کبھی سرکاری نقطہ نظر، کبھی انتہا پسندوں کا خوف۔

طالبان کی ایک شناخت مغرب نے بنائی ہے، اور کتاب اس پہلو کا بڑی حد تک احاطہ کرتی ہے۔ مگر ان کی ایک اور شناخت پاکستان کی ریاست نے تشکیل دی، ایک شناخت مقامی مخالفین نے بنائی، ایک عوامی سطح پر بنی، اور ایک وہ شناخت ہے جو طالبان نے خود اپنے لیے اپنے اعمال کی بنیاد پر بنائی۔


کتاب کا دعویٰ ہے کہ یہی آخری شناخت اس کی توجہ کا مرکز ہے، مگر ساتھ ہی وہ اس شناخت کے بنیادی محرکات پر زور دیتی ہے، اس دلیل کے ساتھ کہ ان کے بغیر طالبان کے ساتھ درست احاطہ کرنا ممکن نہیں۔

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا!


اس کتاب میں امریکہ اور پاکستان کی ریاستوں کے طالبان کی تشکیل اور ارتقا میں واضح کردار کو نمایاں کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ پاکستان کے طالبان سے تعلق کو کامیاب سفارت کاری کے معنوں میں بیان کیا گیا ہے۔ افغانستان میں پاکستان کی مداخلت کا وہ تصور، جو پورے افغانستان میں ایک بدنام حقیقت سمجھا جاتا ہے، اس سے بھی پہلو تہی محسوس ہوتی ہے۔


طالبان کی شناخت اور ارتقائی مراحل کے باب میں جو اعترافات جنرل پرویز مشرف نے کیے، جن باتوں کی تصدیق ہلیری کلنٹن نے کی، جو وضاحتیں اور تاویلیں جنرل اسد درانی نے پیش کیں، اور جو تشریحات بینظیر بھٹو اور نصیر اللہ بابر پیش کرتے رہے ہیں، اسی طرح موجودہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے بیانات، صحافی نصرت جاوید اور شیراز پراچہ کی تحریریں اور دیگر افراد کی تحقیقات، نیز باچا خان، ولی خان اور اسفندیار ولی خان کی وہ واضح پیش گوئیاں جنہیں ہم آج اپنی آنکھوں سے رونما ہوتا دیکھ رہے ہیں، طالبان کی شناخت کے مقدمے میں ان تمام زاویوں سے تجاہل عارفانہ یا جاہلانہ عرفان سے کام لیا گیا، یا “مجرمانہ خاموشی” اختیار کی گئی یا “دیانتدارانہ گریز” گریز سے کام لیا گیا ہے۔


یہ مصلحت ہے یا احتراز؟ کیا یہ علمی مجبوریوں کا نتیجہ ہے یا تحقیقی اخلاقیات کا تقاضا؟ اگر ایسے جواز حقیقت کو ادھورا بنا دیتے ہیں تو پھر تحقیق پر شاعری اور فکشن کو برتری کیوں نہ ملے؟ کبھی ذاتی احتیاط، کبھی دربار کا جبر، کبھی ریاست کی نگرانی، اور کبھی تلوار سونتے ہوئے دشمن کا خوف۔


د رڼا ناوې! دغه ټولې قصې

ما سره ستا د مينې تور کښې وشوې

(روشنی کی دلہن، یہ سارے ستم، مجھ پر تیری محبت کی تہمت لگا کر کیے گئے)


مصلحت و مجبوری کا سامنا آسان نہیں۔ حدیثِ مبارک میں یوں ہی تو نہیں آیا کہ جابر حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا سب سے افضل جہاد ہے

پہلی اینگلو افغان جنگ کے باب میں بھی پروپیگنڈے کی تہیں بچھائی گئی ہیں، جیسے سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ انگریزوں کے افغان عورتوں/طوائفوں کے ساتھ جنسی تعلقات بڑھ گئے تھے، اور یہی مزاحمت کا بڑا سبب بن گیا، کیونکہ افغان یہ بات کیسے قبول کر سکتے تھے؟


یعنی اس کے پس پردہ کارفرنما تذویراتی یا سٹریٹجک مقاصد و اہداف، سیاسی تدابیر اور جغرافیائی محرکات کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی، جتنی اس ایک عنصر کو دی گئی ہے، [ظاہر ہے فسانے سنانے والوں کو قصوں سے دلچسپی ہے تاریخ سے نہیں]


طالبان کے نظریاتی ڈھانچے پر پورا باب ہے مگر انتہائی سطحی اور علمیت سے خالی۔ اس میں کتاب یہ بحث اس انداز میں پیش کرتی ہے کہ طالبان تو دیوبندی حنفی ہیں، تصوف کو مانتے ہیں، اور ان کے بعض مشاہیر خود سالکین ہیں، گویا وہ اس عام تاثر کی تائید کرتے ہیں کہ تصوف و سلوک سے وابستہ لوگ مسلح جدوجہد نہیں کرتے! یہ کمزور عوامی اور عمومی استدلال ہے۔


کیا وہ کلاسیکی اور قدیم تصوف کی اس مقولے سے بھی ناواقف ہیں کہ “راہب باللیل، فرسان بالنهار”؟ رات کو عابد و زاہد، اور دن کو بہادر شہسوار ۔

کیا انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے اگر “کتاب الزہد” لکھی تو “کتاب الجہاد” بھی انہی کی ہے؟ کیا وہ بنیادی مصادر سے بھی بے خبر ہیں کہ افغان جنگ کی منصوبہ سازی میں غیر مسلح شناخت رکھنے والی صوفی اور تبلیغی جماعتوں کے حلقوں نے کس طریقے سے زمین ہموار کی اور ان کا کیا کردار رہا؟


اس موضوع پر رائس یونیورسٹی کے ڈاکٹر ڈیوڈ کک نے نہایت دلچسپ تحقیقات کی ہیں۔ وہ صوفی روایت اور فدائی تحریکوں کے تاریخی تعلق کو بھی بڑی صراحت سے بیان کرتے ہیں۔


طالبان کے نظریاتی ڈھانچے کے حوالے سے اس باب میں کتاب ایک اور ربط سلفیوں سے جوڑتی ہے، پھر اسے کچھ بنیادوں پر رد بھی کرتی ہے، مگر اس سے آگے بات کرنے کے لیے اس کے کی بورڈ کی انگلیاں جیسے آمادہ ہی نہیں ہوتیں۔ (پشتون علاقوں میں دیوبندیوں اور سلفیوں کی ہائبرڈ صور پنج پیریوں میں طالبان کی حمایت، ٹی ٹی پی کی صفوں میں ان کی شمولیت و نمائندگی ہی دیکھ لیتے)


سچ بات تو یہ ہے کہ القاعدہ اور دیگر اسلامی تحریکوں کی طرح طالبان کی نظریاتی تشکیل بھی مذہبی نصوص یعنی احکام کی خودساختہ تعبیرات پر کھڑی ہے۔ مگر اس باب میں، اپنی تمہید میں ایک الگ زاویہ پیش کرنے کے باوجود، مصنفین ان کے بنیادی نظریاتی مآخذ میں کسی ایک نص کا حوالہ بھی نہیں دیتے۔


 وہ اس جرأت کا مظاہرہ نہیں کرتے کہ کسی نص کی تاویل، رد یا قبول پر بات کریں، طالبان کی نظریاتی ساخت کے ضمن میں ایک اور عمومی عنصر یہ پیش کیا گیا ہے کہ اس میں “پشتونوالی” کا بھی ہاتھ ہے۔


اگرچہ بعد میں وہ اس کی تردید بھی کرتے ہیں، مگر یہ تردید نہ درکار اور مدلل انداز میں نہیں کی گئی۔ پشتونوالی مذہبی بنیادوں سے زیادہ سیکولر اساس رکھتی ہے۔ اس کی سب سے معتبر شہادت پشتو لوک ادب (فولکلور) ہے  مثلاً یہاں میں محض چند پشتو ٹپوں پر اکتفا کرتا ہوں:


د مينې زور راته معلوم شو

کۀ مې هندو پۀ لور مئين شو، ور به ئې کړمه


(محبت کی منہ زوری مجھے خوب معلوم ہوگئی ہے

(اگر کوئی ہندو بھی میری بیٹی کا عاشق نکلا تو میں رشتے سے انکار نہ کروں گا)


مينې دې داسې پامته دار کړم

پۀ مېږي پښه نۀ ږدم چې يار به ئې پاتې شينه


محبت نے مجھے ایسا نرم خو کردیا ہے

کہ چیونٹی پر بھی پاؤں نہیں رکھتا، کہ اس کا یار اکیلا رہ جائے گا


يار مې هندو زۀ مسلمان يم

د يار د پاره درمسال جارو کؤمه


میرا یار ہندو اور میں مسلمان ہوں، اپنے یار کی خاطر میں دھرمشالہ میں جھاڑو لگاتا ہوں


افغان شناخت کے حوالے سے کتاب ک مصنفین میں سے ایک جب امریکہ میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے، تو اس کی ایک مغربی مصنف (ڈاکٹر ولیمز) سے گفتگو ہوئی۔ جو جنرل دوستم کو سراہ رہا تھا، صرف اس لیے کہ اس کا آئیڈیل فلم  مشہور فلم ’گاڈ فادر‘ کا ایک کردار تھا، جبکہ طالبان کو وہ اس لیے برا سمجھتا تھا کہ ان کا آئیڈیل نبی اکرم ﷺ تھا۔


مصنف کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدھا سوال کیا کہ پھر دوستم کو امریکہ کا ویزا کیوں نہیں ملا؟


جواب ملا، کیونکہ وہ جنگی مجرم تھا۔ اس سے بڑھ کر اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ پھر اس نے مصنف سے سوال کیا کہ کیا وہ افغان ہے؟

مصنف نے کہا، ’میں پشاور سے ہوں، سرحد کے اس پار۔


کہتے ہیں اس بات پر ماحول ان کمفرٹیبل ہوگیا، اور اس نے کہا کسی اور دن کافی پر اس بارے میں مزید بات کریں گے


یہ مکالمہ نہایت معنی خیز ہے۔ ایک طرف امریکی مصنف کو افغان شناخت پر کوئی تذبذب نہیں، مگر بنوں سے تعلق رکھنے والا مصنف خود کو اپنی افغان سناخت کو ماننے کے بجائے خود کو پشاور سے بتاتا ہے۔ گویا سرحد کی وجہ سے وہ اپنی افغان شناخت کے سوال پر ہچکچاہٹ کا شکار ہے، اسی لیے وہ صاف “ہاں” یا “نہیں” نہیں کہتا۔ اگر افغان یا طالبان شناخت کی بحث ایسے متذبذب مصنف کے ذریعے پیش کی جائے تو ظاہر ہے اس میں ابہام اور کمزوری پیدا ہونا بعید نہیں۔


کتاب کے آخری باب میں، خواتین کے معطل کردہ حقوق کے حوالے سے بحث واضح اور نمایاں ہے، جو کہ مثبت پہلو ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام کے اقتدار پر شب خون کے اختیار پر کوئی سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا، اور عبوری حکومت کے جعلی اعلان جیسے اہم مسائل پر کوئی تفصیل کیوں نہیں دی گئی؛ اگر ذکر ہے بھی تو محض ایک سطری۔


 کاروباری اور تجارتی پیمانے سے دیکھیں تو موضوعات کا محتاط انتخاب کیا گیا ہے، کیونکہ خواتین کے حقوق پر بحث زیادہ “بکنے والی” اور توجہ طلب بات ہے۔


کتاب کا ایک اہم باب طالبان کے گورننس ماڈل پر ہے، جسے مصنفین نے افغان امارت کی داخلیحرکیات (Internal Dynamics and the Structure of the Emirate) کا عنوان دیا ہے۔ اس باب میں شیڈو گورنمنٹ کی تفصیلات دی گئی ہیں، جس کے ذریعے طالبان نے پچھلے بیس سالوں میں اپنا انتظامی ڈھانچہ قائم رکھا۔ انہوں نے اپنے علاقے کو انتظامی طور پر تقسیم کیا اور ذمہ دار علماء کی کونسلیں اور دیگر مشاورتی شورائیں ترتیب دیں۔


یہ بات جزوی طور پر درست، لیکن مکمل سچائی نہیں ہے۔ یہ شوریٰ اور مشاورتی ڈھانچے صرف طالبان کے نہیں تھے؛ ان میں دیگر ریاستوں کے نمائندے بھی شامل تھے اور ان کی طاقت، اثرات اور وسائل بھی استعمال ہوئے۔ کتاب اس پہلو پر خاموش ہے۔ شاید مصنفین کے پاس مستند حوالہ جات نہیں تھے، لیکن پھر بھی دیگر ذرائع سے حاصل شدہ مشاہدات، مشاہداتی یا سنی گئی معلومات کا ذکر بھی نہیں کیا گیا۔


اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ مکمل اختیار ایک شخص، یعنی امیر کے پاس تھا۔ شاید یہ سچ ہو، لیکن اس کے علاوہ ایک اور خاموشی یا پہلوتہی قابل ذکر ہے: ٹی ٹی پی بھی (نام نہاد) شیڈو گورنمنٹ کا یہی ماڈل استعمال کرتی ہے، انہوں نے بھی حالیہ ماضی میں بھی واضح طور پر اپنے اثرورسوخ کیلئے مختلف علاقوں میں انتظامی تقسیم، کمانڈران اور گورنرز کی تعیناتی اور ذمہ داریوں کی تقسیم کی ہے، اور اسے افغان طالبان کی شیڈو گورنمنٹ کا مماثل قرار دیا ہے، اس ماڈل کی تفصیلات میڈیا ذرائع جیسے “عمر میڈیا” اور دیگر رپورٹس میں بھی دستیاب ہیں۔ (پشتو تحریر میں طالبان کا یہ اعلامیہ انگریزی میں نقل کیا گیا ہے)


یہ اور بہت سی تفصیلات میڈیا میں موجود ہیں، لیکن کتاب کے مصنفین نے اس پہلو پر بات کرنے سے گریز کیا ہے۔ وہ آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم تو افغانستان میں طالبان پر کتاب لکھ رہے ہیں، یہ ہمارا موضوع نہیں، اور یہ جواب بھی امریکی مؤقف کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے: “ہم نے دہشت گردی کے خلاف کام کیا، افغانستان یا طالبان کے مخالف نہیں تھے، ہم تو مذاکرات اور معاملات بھی کر رہے تھے۔”


لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ایک پیر اور اس کے مرید، ایک بیعت کے سالک، ایک یکساں انتظامی مزاحمتی اور منصوبہ بندی کے معاون، ایک مقصد کے پیروکار اور ایک ہی جھنڈے کے تحت کئی سالوں تک لڑے، ایک دوسرے کے ساتھ دین، مشن، خون، ثقافت، زبان، مادی و غیر مادی وسائل اور حوالہ جات میں مشترک مقاصد رکھتے ہوں، اور ان کا ایک کامیاب حکومتی/انتظامی ماڈل ہو، تو پھر (اکیڈمک کام میں) یہ (گڈ اور بیڈ کی) علیحدگی کیسے پیدا ہو سکتی ہے؟ اور یہ (گڈ اور بیڈ کی تقسیم پر مبنی) علیحدہ موضوع کیسے وجود میں آتا ہے؟


یہی وہ سوال ہے جس کا جواب کتاب اور مصنفین پر علمی اور تاریخی لحاظ سے قرض ہے۔


Ali Arqam




Comments