Skip to main content

A story of Nawab of Dir

نوابِ دیر شاہ جہان اور اُتمانخیل.. اس کہانی کا راوی شیر محمد اُتمانخیل (تالاش دیر لوئر)  ہے.نوابِ دیر شاہ جہان بُہت بارُغب شخصییت کے مالک تھے. آپکے سامنے کوئی سر اُٹھا کر بات نہیں کر سکتا تھا. ایک دفعہ قبیلہ اُتمانخیل کا جرگہ آپ نے بُلوایا.یہ جرگہ نوے قلعہ میں بُلوایا گیا, اُس وقت علی خواص خیل اُتمانخیل ذیلی شاخ سے تعلق رکھنے والا ملک بخت پور  اس جرگے کی نُمائندگی کر رہا تھا .جرگے کے ملک بخت پور سے نواب شاہ جہان نے مُخاطب ہوکر کہا. 
کہ بخت پور کہ کُچھ کہو. 
بخت پور خاموش رہا. 
نوابِ دیر شاہ جہان نے پھر کہا بخت پور کیوں خاموش ہو کُچھ کہو. 
لیکن ملک بخت پور پھر بھی خاموش رہا. 
تیسری دفعہ نواب شاہ جہان نے پھر کہا بخت پور کُچھ تو بُولو, کیوں خاموش ہو. 
اس بار ملک بخت پُور نے کہا. نواب شاہ جہان یہ سچ ہے آپ کو کسی نے بڑوں کی عزت کرنا نہیں سکھایا. میں آپکے باپ کی جگہ ہو اور آپ مُجھے نام سے پُکار  رہے  ہیں. اسی کے ساتھ ملک بخت پور نے اُتمانخیل جرگے سے کہا کہ چلے یہاں جرگہ میں بڑوں کی عزت نہیں تو ایسا جرگہ کرنے کا کیا فائدہ. جب اُتمانخیل کا جرگہ جانے لگا تو نواب شاہ جہان نے اپنے تحصیلداروں فضل غفور, عبداللّہ جان, گل زرین وغیرہ کو بیجھا کہ اُتمانخیل جرگہ کو منت سماجت کرکے واپس بُلوائے. یہ تھی قبیلہ اُتمانخیل کے جرگے کی شان.


Comments