حکیم بابر اور صائمہ کیس کا مکمل پوسٹ مارٹم حکیم بابر اور صائمہ کیس: روایتی حکمت بمقابلہ جدید میڈیکل سوشل میڈیا پر حالیہ "حکیم بابر اور صائمہ کیس" نے جہاں عوام کی توجہ حاصل کی، وہیں یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ ہمیں اپنی صحت کے لیے کس طریقہ علاج پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ حکیم بابر کا حکمت کی جانب واپس بلانے کا نظریہ اپنی جگہ، لیکن اس واقعے نے ایک تلخ حقیقت کو بھی آشکار کیا ہے۔ جب حکیم صاحب خود زہر خوانی (poisoning) کا شکار ہوئے، تو وہ طبی امداد کے لیے کسی حکمت کے مرکز کے بجائے جدید ہسپتال اور مستند ایلو پیتھک (Allopathic) ڈاکٹروں کے پاس گئے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایمرجنسی اور پیچیدہ طبی مسائل میں جدید سائنس، کلینیکل ٹرائلز اور ٹیسٹ شدہ ادویات ہی انسانی جان بچانے کا سب سے محفوظ ذریعہ ہیں۔ ہمیں اپنی ثقافتی ورثے اور حکمت کی قدر کرنی چاہیے، مگر صحت جیسے حساس معاملے میں جدید طبی سہولیات سے استفادہ کرنا نہ صرف عقلمندی ہے بلکہ ہماری ذمہ داری بھی ہے۔ The Hakeem Babar & Saima Case: Traditional Wisdom vs. Modern Medical Science The viral ...