Skip to main content

توپ عمرا خان جندولی

یہ وہی انپڑ ہ پختون ہے جو انگریز دور میں 
بندوق پستول سے لے کر توپ تک بنانے کی صلاحیئت رکتہے تہے انگریز ان ہنرمندوں کی صلاخئیت پر حیران تہیں نہ تو انکے پاس جدید مشینری تہی اور نہ ہی جدید اوزار پہر بہی یہاہ کے کاریگر یورپ کے کاریگروں کے اعلی ا سازوسامان جدید مشینوں کا مقابلہ ہتوڑے دیسی ساخت زنبور مہٹی کی بہٹی اور بکرے کی کہال کی دھونکی سے کرتے ہوئے یورپ کے مقابلے کا اسلحہ تیار کرتے ۔ ۔ قدیم زمانے میں تیرا ہ میں تیراہی تلوار بنای جاتی تہی جو ایرانی تلواروں سے کسی صورت کمتر نہیں تہی مرزا خان نامی کاریگر اس زمانے کا مشہور تہا مغل دور کی لمبی بندوقیں ڈھال وغیرہ بہی یہاہ بنتی تہیں پہلے اسلحہ سازی کا مرکز کوہاٹ تہا لیکن انگریزوں کے اسلحہ ایکٹ کے نفاز نے کوہاٹ میں اسلحہ سازی کی صنعت کو دھچکا لگا اور کوہاٹ سے کاریگروں نے کارخانے درہ ادم خیل منتقل کیے کوہاٹ جنگل خیل سے صنوبراستاد ہمیش گلا استاد اور سعید استاد نے درہ میں ورکشاف قائم کیے درہ کے محمد بخش نامی استاد بہت مشہور تہا اپ نے بیشتر کاریگروں کو یہ کام سکہایا اپ کے ورکشاف پر ١٠٠کاریگر کام کرتے تہیں ١٩٠٢ میں درہ میں خانی میلہ ۔ شیرین میلہ زڑہ میلہ اور کاریگر میلہ چار ورکشاف قائم تہے جہاہ منفورڈ اور ماٹنی ہنری بندوقیں تیار کرتے تہے چیف کمشنر ڈین نے ١٩٠٢ میں دو بندوقیں یہاہ سے مرکزی حکومت بجوائیں اور یہاہ اسلحہ سازی کی ترقی سے حکومت کو آگا کیا حکومت نے چیف کمشنر ڈین کےرپورٹ کی روشنی میں کالو نامی ایک سرکاری مستری درہ ادم خیل بہیجا کالو نے تصدیق کی کہ یہ کاریگر دیسی سازوسامان کی مدد سے اسلحہ تیار کرتے ہیں افغانستان کے لیے بہی یہاہ اسلحہ تیار کیا جاتا انگریز نے یہاہ کی اسلحہ سازی کو لیگل شکل دینے کی کوشش کی لیکن بعض وجوہات کی بناہ پر یہ ممکن نہ ہوا یہاہ ہر قسم کا اسلحہ تیار ہونے لگا انگریز سرکار نے کئ بار ان کارخانوں پر پابندی عائد کی لیکن یہ روزگار چلتا رہا یہاہ بم بہی بنائے جاتے ١٩٢٦میں انگریز سرکار اور درہ کی افریدیوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت بموں کی تیاری ممنوع قرار دے دی گئ درہ کے علاوں جمرود اور عالم گودر میں بہی اسلخہ سازی کے کارخانے قائم تہے١٩٣٧میں انگریز نے اس صنعت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا14جولائ 1937کو شملہ میں وائسرائے ہند کی زیر صدارت اعلی سطح کا ایک اجلاس ہوا جس میں درہ ادم خیل عالم گودر اور جمرود میں اسلحہ سازی کے کارخانوں کو بند کرنے کا فیصلہ ہوا لیکن اس فیصلے پر عمل درامد ممکن نہ ہو سکا زیر نظر تصویر عالم گودر کارخانے کی ہے جہاہ اس مستری نے عمراخان جندول کے لیے ایک عظیم اشان توپ بنایا تہا جو انگریز نے منڈہ قلعہ فتح کرنے کے بعد مردان منتقل کیا اور جنگ میں فتح کی یادگار بنا کر یادگار کے سامنے رکھ دیا جو عمرا خان توپ سے مشہور ہوا جو بعد میں انگریزوں نے لندن میوزئم لے جاکر دو ا نگریزی توپ یادگار کے سامنے رکھ دیے جو آج تک موجود ے اور عمرا خان توپونہ کے نام سے مشہور ہے ((ریسرچر ہیسٹوریئن فر ہاد علی خاور))


Comments