Skip to main content

میں چاہتا ہوں. سعادت حسن منٹو

میں چاہتا ہوں کہ عورتیں سڑکوں پر کھڑی ہو کر سگریٹ پئیں، سگریٹ کے دھوؤں سے چھلے بنا کر پاس آتے جاتے لڑکوں کے منہ پر چھوڑیں. وہ پان کھائیں، گٹکھا کھائیں اور بے پرواہ ہوکر تھوكیں اور سڑکوں اور دیواروں کو اپنی تھوک سے سرخ کر دیں. وہ پان کی دکانوں پر بیٹھیں، آنے جانے والوں کو تاڑیں..

میں چاہتا ہوں کہ عورتیں باتیں کریں کہ فلاں آدمی کا بیٹا بڑا حرامی ہے وہ باتیں کریں کہ فلاں آدمی کے داماد کا پہلے کسی لڑکی سے چکر تھا شادی سے پہلے ہی Virginity لوز کردی ہوگی.... وہ مردوں کے لباس کی باتیں کریں، ان کے چال چلن کی، کردار کی. وہ کہیں کہ فلاں آدمی سالہ لوز كریكٹر کا ہے سالے کے پتلون کی زپ ہمیشہ نظر آتی رہتی ہے.

میں چاہتا ہوں کہ عورتیں موٹی موٹی گالیاں دیں؛ گالیاں دیں باپ کی، بھائی کی، بیٹے کی یا ایسی ہی کوئی گندی گالی جو مردوں کی مردانگی پر ضرب ہو...

میں چاہتا ہوں کہ عورتوں بھی بیت الخلاء جانے والے مردوں کو سیٹی ماریں، میں چاہتا ہوں کے عورتیں بھی بیت الخلاء جائیں تو دیواروں پر ویسی ہی بھدی گالیاں اور نمبر لکھ آئیں جیسے مرد لکھتے ہیں. لڑکوں کو بدنام کرنے کے لئے وہ بھی بسوں کی سیٹوں پر اور باتھ رومز میں لڑکوں کا نام لکھیں ساتھ میں اسکا نمبر لکھیں اور ساتھ ریٹ لکھا ہو کہ یہ سالا ایک رات کا اتنا لیتا ہے.

میں یہ سب چاہ سکتا ہوں پر ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ عورتیں کبھی ایسا نہیں کرینگی.. کیونکہ عورت مرد جتنی گھٹیا نہیں.

#منٹو


Comments