تواریخ حافظ رحمت خانی میں لکھا ہے کہ (قریب ۱۵۰۸ء میں) جب قبیلہ یوسف زئی بہ سرکردگی ملک احمد باجوڑ میں دلازاک سے نبرد آزما تھے۔ اور دلازاک اور یوسف زئی کا سخت مقابلہ تھا۔ تو ملک سرخابی بن شموتر کلائی جو اس وقت قبیلہ کا ایک نامور سردار تھا۔ اپنا لشکر لے کر لمغان سے یوسفزیوں کی امداد کے لئے پہنچا اور ہیبو سردار دلازاک کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ سمجھ سکا۔ بالآخر نوبت بجنگ رسید، قریب تھا کہ یوسف زئی شکست کھانے لیکن ملک سرخابی بن شمو نے اپنے لشکر کو للکارا جس کے نتیجے میں ہیبو کو پائندہ تر کلانی ککی زئی نے تلوار سے مارا اور برہان ترکلانی ککی زئی نے ہیبو کے بھائی جہان شاہ کی گردن ماری اور سر تن سے الگ کر دیا۔ مختصر یہ کہ دلازاک قوم کے دونوں سردار ہیبو اور جہان شاہ ککی زئیوں کے ہاتھوں مارے گئے اور دلازاک کا لشکر شکست کھا کر بھاگنے پر مجبور ہوا۔ ککی زئی سردار اور ملک سرخابی سالارزئی اپنے لشکر سمیت سارا علاقہ باجوڑ یوسفزئی کے قبضہ میں دے کر لمغان واپس چلے گئے۔ اور جاتے وقت یوسفزئی ملکان کوکہہ گئے کہ یہ ملک باجوڑ تمہارے لئے فتح کیا اس پر اب اطمینان سے رہو ہم اپنے وطن واپس جا رہے ہیں ملک صرخابی کی وفات کے بعد سربراہ قبیلہ اس کا بھائی مٹہ نامزد ہوا اور غوریاخیل کی جنگ میں وہ دو سو گھوڑ سواروں قبیلہ اس کا بھائی مٹہ نامزد ہوا اور غوریا خیل کی جنگ میں وہ دو سو گھوڑ سواروں سمیت یوسفزیوں کی امداد کے لئے بمقام شیخ تپور، خان گجو کے پاس آیا تھا اور اس نے جنگ میں بہت اخلاص اور بہادری کا مظاہرہ کیا تھا۔ خان گجو حکمران خشی نے ترکانڑیوں کے اخلاص اور بہادری کی بہت تعریف کی ہے۔
سرچ علی نواز مدے خیل گنیار تھانہ ملاکنڈ
Urdu History
Malak Ahmad baba
History of Yousafzai
Pashto Times
History of Pashtuns

Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.