Skip to main content

Misri khan Yousafzai, Pukhtunkhwa Ruller

‎علی اصغر المعروف مصری خان سالارزئی ایک بلند مرتبے والہ قابل اور دوراندیش  یوسفزئی پختون تھے ۔ جو گجو خان کی وفات پر قوم نے حکمران پختونخوا تسلیم کیا اپ یوسفزئی قوم مضبوط ترین حکمرانوں میں ایک تھے۔ اپ نے زبردست حکمرانی کی اور پختونخوا کی حدود کو وسعت دی اپ نے جگہ جگہ آب پاشی کے لیے ڈیم بنائے اور سرخدی علاقعوں میں قلعے اور چوکیوں کی تعمیر کی اپ نے چچھ کو مرکز بنا کر بہت سے اصلاحات  کیے تمام علاقعوں کو تپہ جات میں تقسیم کیے جو آج تک قائم ہے اپ کی حکمرانی کا دور پختونوں کی خوشخالی اور ترقی کا دور ثابت ہوا یہ وہ زمانہ تہا جب شیر شاہ سوری  کے خاندان کی حکمرانی کا سورج زوال پزیر تہا اور مغل دوبارہ تخت ہندوستان حاصل کر نے میں مصروف تہے  مصری خان ہندوستان کے طاقتور ترین افغان سرداروں میں سے ایک تہا- اپ کے والد کانام محمد بابا تھےاور اپ کے بڑے چچا کانام حسن خان تھا اور ان کےاولاد حسن خیل سے مشہور ہوے جو علاقہ  سالارزئی بونیر  میں آباد ہے۔ مصری خان کے دوسرے چچا کانام دولت خان تھے جن کے اولاد دلوخیل سے مشہور ہوے جو کہ علاقہ سلارزئی بونیر اور برکانا شانگہ میں آباد ہے - مصری خان کے کافی چچا زاد بھائی تھے جن میں ایک کانام سباک خان بن دولت خان (دلوخیل ) تھے۔ سباک خان کے دو بیٹے تھے بڑا بیٹا عبدالغفار خان اور چوٹا بیٹا میرداد خان تھے۔ عبدالغفار خان جو کہ علاقہ کانا میں برکانا میں آباد ہوے اور اللہ نے ان کو دو بیٹے دیے ایک عبدالجلیل خان اور دوسرا عبداللہ خان تھے۔یہ وہ وقت تھا جب چاروں طرف مصری خان سالارزئی کے حکومت کے چرچے تھے اور مغل بھی اپ کی طا قت سے خوف زدہ
‎ تھے۔ لیکن مغلوں نے اپ کے ساتھ بظاہر تعلقات دوستانہ استوار  رکہے اور آخر کار اس غظیم سردار  کو سازش کی تخت زھر دے کر ہلاک کر دیے گئے۔ اپ کی وفات سے یوسفزئ ریاست کو زبرست نقصان پنچ گی اور نئ قیادت ایک سنگین اور مشکل مسلہ بن گئ یہ عظیم حکمران پختونخوا  ۔ ۔ سخاکوٹ میں اسودہ خاک گمنامی کی اندھیرو ں می غرق اپنی قوم کی بےحسی پر  نوخہ خواں ہے


Comments