نام کتاب: پشتون اور نسلیات ہندوکش
مصنف: سعد اللہ جان برق
صفحات 544
قیمت: 800 روپے
اس کتاب کو آپ بنیادی طور پر بشریاتی یا اینتھروپولوجیکل جائزہ کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ اس میں مصنف پشتون نسلیات کو تلاش کرتے کرتے انسانی نوع تک پہنچتا دکھائی دیتا ہے۔
میں چونکہ ادب، فلم، ثقافت اور کسی حد تک سیاسیات کے مطالعے تک رہتا ہوں اس لیے اس کتاب کا مطالعہ میرے لیے کچھ انوکھا تھا لیکن اس کا دائرے اتنا وسیع تھا کہ میں اسے پڑھتا ہی چلا گیا۔
سعد اللہ نے اس کتاب کو ابواب 85 میں تقسیم کیا ہے اور کتاب کے شروع ہی میں ہی انھوں نے بڑی دلچسپ بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے: میں کیونکہ ایک دیہاتی کاشتکار ہوں اس لیے عادت سے ہو گئی ہے کہ جب کوئی درخت اکھاڑنا ہوتا ہے تو ایک وسیع اور دور دور تک پھیلا ہوا گڑھا کھودتا ہوں۔ اس سے کام بھی آسان ہو جاتا ہے اور جڑوں کی صورت میں اچھی خاصی لکڑی بھی حاصل ہوتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ کن کن اقسام کے درخت اپنی جڑیں کس کس طرح پھیلاتے ہیں۔
ذرا سا اور آگے چل کر وہ کہتے ہیں: انسان اور نباتات بھی اوپر جا کر آپس میں مل جاتے ہیں۔ دونوں ہی کے پیدا ہونے اور بڑھنے اور تولد تناسل کا طریقہ کافی ملتا جلتا ہے۔
اس کی مزید تفصیل آپ کتاب میں پڑھ سکتے ہیں لیکن کچھ باتیں میں آپ کو بتانے کو کوشش کرتا ہوں کیونکہ یہ باتیں بہت رائج تصورات کو چیلنج کرتی ہیں۔
میں یہاں ان کی کتاب کے مختلف ٹکڑے یہاں نقل کر رہا ہوں۔ زبان میں تھوڑا بہت ردو بدل ہو سکتا ہے لیکن یہ فرق آپ پڑھتے ہوئے خود دور کر سکتے ہیں۔
سنسکرت: انگریزوں کے دور میں قائم کی جانے والی ایشیاٹک سوسائٹی کے سربراہ ولیم جونز نے ایک لیکچر میں یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ سنسکرت میں جرمن، اطالوی، لاطینی، اور یونانی زبانوں کی سی خصوصیات ہیں۔ اس کے بعد تحقیق کی گئی اور نتیجہ نکالا گیا کہ ان سب زبانوں کی ماں وہ زبان ہے جو آریاؤں کے اجداد ’وروس‘ اپنے آبائی وطن میں بولتے تھے۔
سندھ، ہندوکش: سین کے معنی پشتو میں دریا کے ہیں۔ جس سے سیند، سندھ اور سندھو کی شکلیں نکلی ہیں۔ سین ہی سے سیندوکش بنا یعنی وہ بلندیاں یا پہاڑ جن جہاں سے دریا نکلتے ہیں۔ یہی سیندوکش ہندوکش میں تبدیل ہوا۔
ہندوستان کے مقامی: کول اور دراوڑ بھی مقامی نہیں تھے اور وہ بھی آریاؤں یا اساکوں کی طرح خیبر سے آئے تھے۔ ہند تہذیب و تمدن کے اصل بانی کول تھے جن کی رکھی ہوئی بنیادوں پر درواڑوں نے مضبوط عمارت تعمیر کی۔ ہند کے اصل باشندے کون تھے؟ یہ سوال جواب طلب ہے۔
آریا اور اساک: آریا دراصل دو گروہ تھے۔ ایک گروہ شہری تھا اور دوسرا صحرائی اور خانہ بدوش۔ خانہ بدوش اساک تھے۔ اصل آریاؤں کے مخالف۔ لفظ آریا کے معنی کیا ہیں یہ واضح نہیں ہے۔ جو معنی اس کے کیے جاتے ہیں: اصیل، نجیب، شریف، بہادراور پاک طینت وغیرہ تو یہ ہر حملہ آوور اور بالا دست اپنے آپ کو کہتا ہے۔ یہی معنی اس لفظ کو نازی نظریات کے تحت کیے گئے۔
پشتون و یہودی: کنعانی یا فونیقی مکمل طور پر تجارت پیشہ تھے اور تمام اطوار کے مالک تھے، وہ نفع کمانے کے لیے سب کچھ جائز سمجھتے تھے۔ وہ تجارت میں رائج تمام بے ایمانیوں کے بانی تھے اور انھی سے یہ خصوصیت یہودیوں کو منتقل ہوئیں۔ یہود اور بنی اسرائیل کی یہی قومی صفت انھیں پشتونوں سے الگ کرتی ہے۔ پشتون کبھی تجارت میں ملوث نہیں رہے وہ تجارت کو ذلیل پیشہ سمجھتے تھے اور سپاہ گر تھے۔
پشتون نسل: پشتونوں کو ایک نسل یا صرف ایک جد کی اولاد نہیں مانا جا سکتا۔
Pashto Times

Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.