ؕ؞؞؞؞؞؞ۜۜ* ریاست دیر ………==؞؞؞***
دیر کا نام اصل میں دیر قصبہ کی وجہ سے پڑا۔
یہ قصبہ دیر ریاست کا دارلحکومت تھا اور جو آج ضلع دیر بالا کا ضلعی ہیڈکوارٹر ہے۔
دیر پاکستان کا ایک خوبصورت کوہستانی خطہ ہے جو پاکستان کے اضلاع چترال ، سوات ، ملاکنڈ ، باجوڑ ایجنسی اور پاک افغان سرحد کے درمیان واقع ہے ۔
دیر کو گندھارا کی تاریخی حیثیت بھی حاصل ہے جس کے آثار قدیمہ دیر عجائب گھر میں موجود ہیں۔ دیر پاکستان میں ضم ہونے سے پہلے ایک نوابی ریاست تھی جو ریاست دیر کے نام سے جانی جاتی تھی پھر جب پاکستان میں شامل ہوئی تو دیر ریاست کو پختونخوا کا ضلع بنایا گیا جو 1992 ء میں مزید دو اضلاع میں تقسیم ہوا ۔ ایک ضلع دیر زیریں اور دوسرا ضلع دیر بالا ۔
دیر ایک حسین قدرتی خطہ ہے جس کی مثال وادئ کمراٹ ہے ۔
موجودہ دیر کا رقبہ
5,282 کلو میٹر2 (2,039 مربع میل)
آبادی (1998) کے مطابق
1,373,710
ریاست دیر کی اکثریتی زبان پشتو کے علاوہ دیگر زبانیں بھی بولی جاتی ہیں ۔
ریاست دیر کے بڑے قصبے تیمرگرہ اور دیر تھے ۔
ریاست دیر انگریزوں کی پرانی نمک خوار تھی جوکہ انداز ً دو سو برس قبل انگریز سامراج کی اعانت سے قائم ہوئی تھی ۔
پہلے درویشی ، پھر خانی اور پھر نوابی اختیار کی گئی ۔
الیاس اُخون صاحب آخوند خیل جو کہ ایک بزرگ تھے وہ ملیزئی تھے جو کہ یوسف زئی پٹھانوں کی شاخ پائندہ خیل سے تھے ۔ جن سے دیرکے خوانین کا تعلق ہے ۔ یہ دیر کی وادی کے زیریں میں رہتے ہیں ۔ جہاں دیر کا قصبہ واقع ہے ۔
ریاست کے عوام کی زبان پشتو اور ریاست کی سرکاری زبان فارسی تھی ۔
ریاست دیر کا رقبہ 3000 مربع میل ہے اور اس میں عمارتی لکڑی کافی پیدا ہوتی ہے ہر سال دو ہزار درخت لگائے جاتے تھے ۔ اور یہ بڑی اچھی بات ہے۔ اس سے پاکستان کی دولت میں اضافہ ہوتا ہے ۔
@ نواب اول خان محمد شریف خان کو انگریز حکومت نے 1885 ء میں سالانہ دس ہزار مقرر کیے تھے ۔نواب دوئم اورنگزیب کے دور حکومت میں انگریز حکومت نے یہ وظیفہ بڑھاکر پچاس ہزار روپے سالانہ مقرر کر دیا تھا ۔جب 1925ء میں جب دیر کا نواب شاہ جہان بنا تو انگریزحکومت نے وظیفہ بڑھا کر ایک لاکھ روپے مقرر کردیے ، اور اس کے بعد ہر سال کتنی بڑھوتری کی گئی،کسی کو معلوم نہیں ہے۔عام لوگوں کاخیال ہے کہ انگریز حکومت سے ملنے والا وظیفہ عوام سے چھپا دیا گیا تھا لیکن میں اس بات سے متفق نہیں ہوں کیونکہ اس وقت عوام ،نواب دیر کے سامنے اف تک نہیں کہ سکتے تو وظیفے کے بارے میں کیا پوچھتے ۔
الہ ڈھنڈ کے ایک بزرگ جس کا نام اکبر تھا اور جو حکومت پاکستان کے ایک انجینئر کے حثیت سے چکدرہ تا لواری سڑک کی مرمت کے کام کا انچار ج تھا ،نے انکشاف کیا تھا کہ حکومت پاکستان نواب دیر کو لواری ٹاپ سے برف ہٹانے اور سڑک کی مرمت کے لیےچھ لاکھ روپے سالانہ ادا کرتی تھی ۔اس کے علاوہ نواب کے آمدنی کے ذرائع عوام پر جرمانوں کے مد میں ،بسوں کی کرائیوں اور دیر،تیمرگرہ اور چکدرہ کے تیل کے پمپوں سے بھی نواب دیر کو بہت زیادہ آمدن ہوتی تھی ۔ریاست میں نواب نے ہوٹل بھی تعمیر کیے تھے جس سے کافی آمدن ہوتی تھی ۔
* آمدن کے مذید ذرائع
چونگی محصولات
ایرانی سیاح محمود دانشور اپنی تنصیف ؞؞؞
" کافرستان " میں رقم طراز ہے کہ 1951ء میں چکدہ چونگی پر ٹیکس کا ٹھیکہ دولاکھ تیس ہزار کابلی روپوں کے عوض عبدالمجید ٹھیکدار کے پاس تھا ۔ بعد یہ ٹھیکہ چار لاکھ کابلی تک بڑھادیا گیا،اس کے علاوہ بھی بہت سے ٹیکس لاگو تھے جس کے ٹھیکے خال کے بادشاہ محمد ٹھیکدار ، اوچ کے عبدالمجید ٹھیکدار اور چکدرہ کے مجید اللہ ٹھیکدار کے پاس تھے ۔
* منڈیاں
نواب دیر نے مختلف جگہوں پر منڈیا ں بھی بنائی تھی ،دیر خاص، چکدرہ ، تیمرگرہ اور میاں کلے میں واقع منڈیاں بھی ٹھیکے پر دی گئی تھی ۔تیمرگرہ منڈی کے ٹھیکے ملک نظیر محمد سکنہ دیارون ،محمد شاہ خان ملک خیمہ اور ملک سید روز خان سکنہ انڈھیرے کے پاس مختلف اوقات میں رہے تھے
** عشر
ریاست دیر کے آمدن کا سب سے بڑا ذریع عشر تھا ۔فصل تیار کرنے کے بعد کسان اس وقت تک فصل کھلیاں ; وہ جگہ جہاں بھس سے غلہ الگ کیا جاتا ہے ؛؛ (درمند ) سے نہ اٹھاتے جب تک نوا ب دیر کے کارندے جسے محاصل کہا جاتے تھا آکر اس کا وزن کرکے فصل کا دسواں حصہ علیحدہ نہ کرتے ۔ اگر کوئی ہیرا پھیر ی کرتے یا فصل چھپاتے تھے تو اس کا جرم قتل کے جرم کے برابر تھا ۔قتل کرنے پر پانچ سو روپے جرمانہ ادا کرنا پڑتا اور اناج چھپانےپر بھی۔
اس کے علاوہ دیر زیریں کے علاقہ رباط کے اخروٹ کے فی درخت پر دو روپے ٹیکس رائج تھا جس کے بدلے نواب کے سپاہی اخروٹ لے جاتے تھے ۔
** قلنگ ( مالیہ )
قلنگ کے مد میں بھی نواب دیر عوام سے بہت سے پیسے بٹورتے تھے ۔قلنگ کے مد میں تحصیل داران گجر برادری کے بھیڑ بکریا اور کوہستانی قبائل سے دیسی گھی وصول کرتے تھے ۔ ایک دفعہ ایک پاکستانی افسر کے پوچھنے پر نواب دیر نے ان سے کہا تھا کہ "میری ریاست میں اتنا دیسی گھی ہے کہ اس پر پن چکی چلائی جا سکتی ہے "
دیسی گھی مقامی دکان داروں پر فی من دس روپے میں فروخت کیا جاتا تھا ۔ اس کے علاوہ شاہی باغات ، زمینوں کے ٹیکس، گاؤں کی اجارہ داری ، جنگلا ت کے قیمتی درخت اور مقامی مالکان سے قلنگ ( مالیہ ) حاصل کرکے نواب دیر کے خزانے میں جمع ہوتے تھے ۔ ایک اندازے کے مطابق جب نواب دیر کو پاکستانی حکومت نے معزول کیا ۔ تو اس وقت ان کے خزانے میں اربوں روپے تھے جس کو حکومت پاکستان نے اپنے قبضے میں لے لیا اور نواب دیر کے جانشین خسرو کو نواب بنایا گیا ۔ آخری نواب خسرو کی نااہلی کے باعث دیر کے خزانے سے لیا گیا روپیہ دیر کے عوام کی فلاح و بہبود پر خر چ نہ ہو سکے ۔
نواب شاہ جہان جس کا پورا نام سر نواب بہادر
شاہ جہاں خان تھا ۔انگریزوں نے نواب صاحب کو سر کا خطاب عطا کیا تھا ۔نواب شاہ جہان خان اس خطاب کو بڑے فخر سے استعمال کرتے تھے ۔ نواب بڑے مضبوط اور قوی الجثہ تھے ۔
*** مشہور ایرانی سیاح محمود دانشور ایرانی اپنی کتاب "کافرستان " میں نواب کے بارے میں تحریر کرتے ہیں ۔
** وہ باتیں بہت زیادہ کرتے ہیں ۔ مجھے بتایا گیا کہ وہ متواتر تین گھنٹے تک باتیں کر سکتے ہیں ۔ زبان میں بڑی چاشنی ہے اور فارسی خوب بولتے ہیں ۔ وہ جب کسی اجنبی سے گفتگو کرتے ہیں تو یہی کہتے ہیں : ” میں نے دیر کو ایک جنت بنا دیا ہے ۔ یہاں ہر قسم کے انتظامات ہوگئے ہیں ۔ رعایہ بڑی خوش ہے۔ رفاہ عامہ کے لیے اتنی اسکیمیں منظور کر دی گئی ہیں۔ اور اپ یہ بھی جانتے ہیں کہ ریاست دیر کی اہمیت بہت زیادہ ہے ، اس لیے کہ اس کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے “
نواب صاحب اس موضوع پر کئی گھنٹوں بات کرتے ہیں ۔ اور اجنبی صرف ان سے مل کر گھر واپس چلا جائے تو وہ بہت خوش ہوگا ۔ کہ نواب صاحب اپنی رعایا کی بہبود کے لئے کس قدر کام کر رہے ہیں ۔
وہ کام تو بہت کرتے ہیں لیکن اگر کوئی نواب صاحب سے یہ پوچھے کہ آپ کی ریاست میں مدرسے اور اسپتال کے کتنے ہیں ۔ تو فوراً ان کی پیشانی پر بل آجاتے ہیں ۔ وہ ان باتوں کو پسند نہیں کرتے ۔ ان کا خیال ہےکہ لوگوں کو اسپتالوں اور مدرسوں کی ضرورت نہیں ۔ شاید ان کے ہاں لوگ بیمار نہیں ہوتے ۔ میں نے وہاں یہ بھی سنا تھا کہ یہاں تب دق کا مرض بہت عام ہے ۔
ساری ریاست میں کوئی اسپتال نہیں ۔ صرف نواب صاحب کے کتوں کے لیے اسپتال ہے ۔ اور میں نے یہ بھی سنا ہے کہ اس کے حرم سرا میں چھ بیویاں اور دو سو کنیزیں ہیں ***
نواب شاہ جہاں خان کے چار بیٹے تھے ۔ بڑا بیٹا محمد نواز خان ریاست کا ولی عہد تھا ۔ لیکن اس پر نواب کا عتاب نازل ہوا ۔ اور وہ وہاں سے بھاگ کر مردان چلا گیا تھا ۔ دوسرے بیٹے کا نام خسرو شاہ تھا۔ اور وہ ولی عہد مقرر کیا گیا ۔ وہ اپنے باپ کی مرضی کے مطابق چل رہا تھا ۔ دو بیٹے اور بھی ہیں ایک خان جندول ہے ۔ اس کا نام ہے شہاب الدین خان تھا ۔
نواب صاحب کی تین بیٹیاں تھی ۔ ایک بیٹی چترال کے مہتر ناصر الملک سے بیاہی ہوئی تھی ۔ دوسری بیٹی مردان کے نواب کے ساتھ بیاہی تھی۔ اور تیسری بیٹی دیر ہی میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں بیاہی گئی تھی ۔
نواب شاہ جہان خان ایک انتہائی ظالم شخص تھا اس نے اپنے قوم کا جینا حرام کر رکھا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ کچھ دنوں کے بعد اپنے نوکر بھیجواتا تھا اور ہر گھر سے گھی ، مرغے ، لکڑیاں اور چیزیں لیتا تھا۔ اور کسی کے پاس قلم نہیں رہنے دیتا تھا۔ اس نے دیر کے لوگوں کو علم سے دور رکھا ورنہ پورے پاکستان میں دیر والوں جیسے ذہین لوگ بہت کم پائے جاتے ہیں۔ نواب شاہ جہان نے دیر کے لوگوں کو اس ڈر کی وجہ سے علم سے دور رکھا کہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ اگر یہ لوگ پڑھ لکھ گے تو میری نوابی ختم ہو جائے گی۔
جیسے کہ دیر کے عوام میں آزادی کا جذبہ تھا وہ ظالم نواب سے نجات چاہتے تھے اور ویسے بھی ان کا پاکستان میں شمولیت کا ایک جزبہ تھا۔ اس لیے دیر کے کچھ سردار راتوں رات صدر مملکت پاکستان ایوب خان کے پاس گئے اور درخواست پیش کی کہ دیر کو پاکستان میں شامل کیا جائے تب پاکستانی حکومت نے دیر پر اپنا قبضہ جمایا اور نواب
شاہ جہاں کو گرفتار کرکے ہیلی کاپٹر کے ذریعے نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔ دیر کی رہنے والی ایک خاتون کا بیان ہے کہ جب نواب شاہ جہان کو ہیلی کاپٹر میں لے گئے تھے تب اور ہیلی کاپٹر آئے اور بے شمار چھیٹیاں(پیغامات) کے کاغذ نیچے پھینکے جس میں بہت سی باتیں لکھی ہوئی تھی جن میں یہ بھی تھا کہ آج سے آپ لوگ آزاد ہیں اور پاکستان کی گورنمنٹ یہاں پر سکول اور دیگر سہولیات فراہم کرے گی ۔
اس طرح دیر مملکت پاکستان کا ایک بہت اہم حصہ بن گیا ۔تحریر ماریہ سلیم
Maria Saleem

Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.