میں ماما قدیر بلوچ، کوئٹہ میں پی ڈی ایم نے اپنے مداری پن کا مظاہرہ کیا لاپتہ افراد کا مسئلہ یا بلوچستان کا مسئلہ بلوچی کپڑوں کے پہنے سے حل نہیں ہوگا، یہ بلوچوں کا روایات ہے کے مہمان کو عزت دیتے ہیں، مسلم لیگ کے ہر دور میں بلوچوں کو لاپتہ کیا گیا ان کے مسخ شدہ لاشیں ملی اجتماعی قبریں ملی پیپلز پارٹی کی دور میں اس سے بھی زیادہ لوگ لاپتہ ہوئے اور مسخ شدہ ناقابل شناخت لاشیں ملی اس وقت مریم نواز اور بلاول زرداری کہا تھا اور آج وہ اسٹیج پر اپنے آپ کو شہید اور دودھ میں دھلے ہوئے کہتے ہیں جب لاپتہ افراد کے لواحقین معصوم بچے خواتین اپنے پیاروں کے بازیابی کیلیے 3000 کلو میٹر طویل لانگ مارچ کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد تک کیا تو اس وقت مسلم لیگ کی حکومت لانگ مارچ میں ہمیں اتنا پریشان اور دھمکیاں دی گی اور ہمارے قافلے پر ٹرک چڑھایا گیا اس میں بچے اور خواتین زخمی ہوئے، ہمیں ہسپتال تک کوہی نہیں لے گیا مجبورا انہیں کراچی بھیج دیا اس وقت ہم لاہور کے قریب تھے، کہاں تھی مریم صاحبہ بلاول بھٹو زرداری آپ لوگوں کے دور ء حکومت میں بلوچستان کے گیس بجلی پانی تعلیم صحت یاد نہیں آیا، آپ لوگوں کو اگر بلوچوں سے ہمدردی تھیں 12 سالوں سے لاپتہ افراد کا بھوک ہڑتالی کیمپ لگا ہوا ہے، جس میں بوڑھی ماہیں معصوم بچے اپنے پیاروں کی بازیابی کے منتظر ہیں، اگر کیمپ ان کے آنسوؤں اپنے مبارک پہلو سے پونجھتے اور معصوم بچوں کے سر پر شفقت بھری ہاتھ پھیرتے کہ میں کوشش کرونگی تو ان کا دل کتنا خوش ہوتا، یہ اسٹیج پر کہنا ایک دکھاوا تھا، یہ اپنے بینک ووٹ بڑھانا اور اپنے گند کو صاف کرنا تھا، بلوچستان کے مسئلے اور لاپتہ افراد آپریشن میں سب حمام میں ایک ہیں، جس طرح یہ جمہوریت اور ووٹ کو عزت دو کو ہر جلسے اور کانفرس میں زور دیتے ہیں، وہی جمہور کے ساتھ ناانصافی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی جن میں سرفہرست لوگوں گمشیدگی اور مسخ شدہ لاشیں شامل ہیں، ان کو شامل اور مذمت کیے بغیر کوہی بھی نعرہ اور دعوا کھوکھلا ہے، جمہور کی عزت سے ہی ووٹ اور جمہوریت کی عزت منسوب ہے۔

Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.