سعادت خان مورچہ خیل وہ بد قسمت پختون ھیرو ھے جن کا زکر دشمن کی تاریخ میں تو موجود ہے لیکن ہم پختونوں کے لیے اجنبی انگریز مورخین کی تحریرو ں روزنامچوں اور ڈائریوں میں اس شجاع وطن پرست کی بہادری کی بے شمار داستانیں رقم ہیں سعادت خان مورچہ خیل کا تعلق مہمند قبیلے سے تھا اپ لالپورہ کے جدی پشتی خان تھے یہ خاندان مغلوں کے زمانے سے لالپورہ کے خان چلے آرہے تہیں 1841 کو جب انگریزوں نے افعانستان پر حملہ کیا تو سعادت خان کی جانب سے انگریز کو زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا 1849 کے بعد سعادت خان اور انگریزوں کے درمیان کئ خونریز معرکے ہویے انگریز نے لارڈ سرکولن کلائیڈ کی قیادت میں میچنی پر حملہ کیا تو سعادت خان مقابلے کے لیے سامنے آیا اور تین مہینے تک مسلسل جنگ جاری رہی آخر کار انگریز وں کو پیچے ہٹنا پڑا. 1853کو سعادت خان مہمند نے پشاور پر قبضہ کرنے کے لیے میچنئ میں اجتماع کیا انگریز بہی مقابلے کے لیے آگے بڑے مقابلے شروع ہو گئے سعادت خان انگریزوں پر بھاری تہے اس دوران انگریزوں نے چند قبائلی سرداروں کو بھاری رشوت دے کر سعادت خان سے الگ کر دئیے سعادت خان کے پشاور پر قبضے کا مشن ناکام بنا دیا 1854 اگست میں سعادت خان نے ایک بار پھر انگریز کو للکارہ سعادت خان اور انگریز کرنل سرمنڈی کے درمیںان زبردست مقابلے ہوے یہ گمسان کی رن کئ دنوں تک جاری رہی اور انگریز کو شکست کا سامنا تھا کہ عین وقت پر انگریزوں نے چند قبائلی سرداروں کو خرید کر سعادت خان مہمد کو پہر تنہاکردیا یہ وہ وقت تھا کہ انگریز پشاور پر قبضہ برقرار رکھنے کی صلاحیت کھو چکے تہیں لیکن قبائلی سرداروں کی غداری نے انگریزوں کی قبضے کو دوام بخش دی ورنہ سعادت خان مورچہ خیل کب کا پشاور سے انگریز وں کو نکالنے میں کامیاب ہو چکا ہوتا سعادت خان نے صرف مہمد کے علاقعے میں انگریز کے خلاف جہاد نہیں کیا بلکہ 1864میں سرکاوی میں بہی انگریز کے خلاف میدان میں یوسفزئ قبائل کے ساتھ کھڑے تہے یہ مرد میدان زندگی بھر وطن کی آزادی کے خاطر انگریز سے میدان جنگ میں لڑتے رہے انگریز تمام تر کوششوں کے باوجود اس وطن پرست بہادر کو خریدنے میں کامیاب نہ ہوسکے افسوس جن لوگوں نے وطن کی آزادی ک خاطر سب کچھ قربان کیا ان کے نام سے کوئ واقف نہیں (((گمنام پختون ھیرو))

Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.