Skip to main content

Story of Kohinoor Diamond in Urdu

کوہ نور ہیرا۔۔۔۔

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں  پر  کلامِ نرم و نازک بے اثر

بھرتری ہریعلامہ اقبال.

 دنیا میں کسی اور ہیرے کو اتنی شہرت نہیں ملی ہے جتنی کہ اس ہیرے کو شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ بیش بہا قیمتی ہونے کے باوجود اسکی شہرت کاروباری اہمیت کے بجائے سیاسی و تاریخی وجوہ کی بناء پر ہے ۔اس ہیرے نے دنیا کے بہت سے عظیم بادشاہوں اور سلطنتوں کے ساتھ رھ کر انکے عروج و زوال کو بڑے قریب سے دیکھا ہے اس ہیرے کو مردوں کے حق میں تاریخی طور پر منحوس جبکہ عورتوں کیلئے خوشبختی تصور کیجاتی ہے اس لئے تو انگریزوں نے اس کو اپنے ملکہ کے تاج کا حصہ بنایا ہے ۔ساتھ ہی ھندوستان افغانستان پاکستان ایران اور سیکھ برداری اس ہیرے کی ملکیت کی دعویدار ہیں۔ کوہ نور ہیرا درحقیقت دنیا کا کوئی بڑا ہیرا نہیں ہے بلکہ اسکا نمبر اس حیثیت سے 90 ویں نمبر پر آتا ہے کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں اسکا وزن 174 قیراط تھا جو گھٹتے گھٹتے اب 105 قیراط رھ گیا ہے جو کہ اندازاً 21 گرام ہے ۔ کوہ نور کا ذکر ھند کے منظوم حماسہ ،مہا بھارت، میں بھی آیا ہے۔ یہ ہیرا مختلف ادوار میں ،ھندی راجاؤں ، پختون غلجی و لودھی بادشاہوں، تغلق حکمرانوں ، راجپوت حکمرانوں ، مغل ،ایرانیوں، افغان ،اور سیکھ حکمرانوں سے ہوتا ہوا آخر میں برطانوی سلطنت کے ملکہ کے پاس پہنچ کر ملکہ برطانیہ کی تاج کی زینت بننے کے بعد اب  شاہی زیور کے طور پر ٹاور آف لندن میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے۔ اس ہیرے کے نکالنے کے وقت اور معدن کے حوالے سے بھی مختلف تاریخی روایات ہیں ایک روایت کے مطابق  اس ہیرے کو چار ہزار سال پہلے بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے ایک کان سے نکالا گیا تھا ۔ ایک اور روایت کے مطابق یہ ہیرا تیرویں صدی میں کلور کان گٹنور اندرا پردیش ھندوستان کے  کاکاٹیا خاندان کو ملا تھا۔ تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ یہ ہیرا 13ویں صدی عیسوی میں آندھرا پردیش کی کان سے نکالا گیا تھا۔کچھ یہ بھی خیال کرتے ہیں کوہ نور دراصل شیامنتک پتھر ہے جس کا ذکر ہندوؤں کے بھگوان کرشنا سے متعلق مذہبی کتاب بھگوت پران میں ملتا ہے ۔
ڈاکٹر مبارک علی کہتے ہیں کہ کوہِ نور کو 17ویں صدی میں مغل بادشاہ شاہ جہان کے دور میں حیدر آباد دکن کی ایک کان سے نکالا گیا تھا جس کے بعد یہ ایک لمبے عرصے تک مغلوں اور افغان حکمرانوں کے پاس رہا۔
وہ اس بات کی بھی تردید کرتے ہیں کہ یہ ہیرا رنجیت سنگھ نے ملکہِ برطانیہ کو خود تحفے میں دیا تھا وہ کہتے ہیں کہ 1849 میں پنجاب پر قبضے کے بعد انگریزوں نے اسے اُن کے کم سن پوتے سے زبردستی لیا تھا۔ ڈاکٹر لطیف یاد کہتے ہیں کہ یہ ہیرا اندرا پردیش میں ،ورنگل، کے مقام سے ملا تھا اور پہلی دفعہ یہ ھند کے افسانوں پہلوان ہیرو ،کارنا ،کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ پھر یہ ہیرا مالوہ کے راجا کے خزانے میں پڑا تھا۔ پھر بکر ماجیت کے ساتھ رہا تھا اور پھر پختون حکمران علاؤ الدین غلجی کو یہ ملا ۔علاوء الدین غلجی کے ایک جنرل ملک کافور نے اسکو حاصل کیا تھا اور یہ برسوں تک غلجی خاندان کے پاس رہا۔لیکن بعد میں ریاستوں کے درمیان جنگ و جدل کے دوران مختلف راجاؤں کے ہاتھوں سے ہوتا ہوا 16ویں صدی میں سلطان ابراہیم لودھی کے پاس پہنچا جبکہ 1526 میں پانی پت کی لڑائی میں فتح کے بعد پہلے مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر تک پہنچا۔ابراہیم لودھی کی والدہ ، بوا بیگم ، نے مغل شہزادے ہمایوں کو ایک وقت میں نذرانے میں یہ دیا اور اس طرح یہ ہیرا دہلی کے مغل بادشاہوں کے پاس رہا۔
1739ء میں نادر شاہ افشار نے جب ہندوستان فتح کیا تو وہ اسے اپنے ساتھ تخت طاؤس کے ساتھ ایران لے گیا اور غالباً اسی نے اس ہیرے کا نام اس کی چمک دمک دیکھ کر کوہ نور رکھا جبکہ بعض روایات کے مطابق ظہیرالدین بابر نے اسکو یہ نام دیا تھا۔ پختون حکمران احمد شاہ ابدالی ایک زمانے میں نادر شاہ کا جرنیل تھا نادر شاہ کے قتل کے بعد افغانستان کا علاقہ احمد شاہ ابدالی کے قبضہ میں آ گیا اور یہ ہیرا بھی احمد شاہ ابدالی کے قبضہ میں رہا احمد شاہ ابدالی پہ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ نادر شاہ کے قتل کے بعد اس نے قندھار جاتے ہوئے اس کے ہاتھ سے شاہی مہر اور کوہ نور ہیرا اتار لیا جو اس کے ہاتھ کے گرد بندھا ہوا تھا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کوہ نور ہیرا خود نادرشاہ ایرانی 1739ء میں دہلی کی لوٹ مار کے بعد برصغیر سے چرا کر لے گیا تھا اور 1747ء میں نادرشاہ کے قتل کے بعد یہ اس کے پوتے کی تحویل میں آیا جس نے اس کو 1751ء میں احمد شاہ ابدالی کے حوالے کر دیا۔ لہٰذا یہ بات مکمل جھوٹ ہے کہ احمد شاہ ابدالی نے یہ ہیرا نادرشاہ کے قتل کے بعد غصب کر لیا تھا۔ اس کی موت کے بعد اس کے بیٹے شاہ تیمور اور اس کے بعد احمد شاہ ابدالی کے پوتے شاہ شجاع کے پاس رہا جب اس کے مخالفین نے اسے تخت سے معزول کر دیا تو وہ بھاگ کر ہندوستان آیا تو یہ ہیرا اس کے ساتھ 1813 تک تھا جسکو رنجیت سنگھ نے شاہ شجاع کی سیاسی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاکر اسکو زبردستی حاصل کیا۔ احمد شاہ ابدالی کے خاندان میں یہ ہیرا کس کس کے پاس مختلف ادوار میں رہا اسکی تفصیل یہ ہے کہ دہلی کے حکمران محمد شاہ سے ایک ڈرامائی انداز میں ہیرا بادشاہ نادر شاہ نے حاصل کیا۔ اس کے بعد نادر شاہ کے بیٹے شارُخ نے ہیرا حاصل کرنے کی خاطر بہت اذیتیں اٹھائیں۔ بلآخر 1751ء میں شہزارہ شارُخ نے مرنے سے پہلے ہیرا بادشاہ احمد شاہ درانی کے حوالے کر دیا۔ ان کی وفات کے بعد یہ ہیرا احمد شاہ درانی کے بیٹے بادشاہ تیمور کے پاس آیا۔ 1793ء میں تیمور کی وفات ک بعد ،کوہِ نور ،ہیرا اُن کے بیٹے شاہ زمان کے پاس آیا۔ 
شاہ زمان کے بھائی شاہ شجاع ہیرے کے خاطر اپنے بھائی کو اندھا کر کے قید کر دیا۔ پھر شاہ شجاع کے بھائی شاہ محمد نے شاہ شجاع سے زبردستی  ،کوہِ نور، ہیرا چھین لیا۔ پھر شاہ زمان اور اس کے بھائی شاہ شجاع نے مل کر اپنے تیسرے بھائی کے خلاف سکھ مہاراجہ رنجیت سنگھ سے مدد طلب کی۔ 
مہاراجہ رنجیت سنگھ نے شاہ محمد کو شکست دینے کے بعد بدلےمیں شاہ شجاع سے ،کوہِ نور ، ہیرا مانگا۔ 
شاہ شجاع نے یکم جون 1813ء کو شاہدرہ نزد لاہور میں راجہ رنجیت سنگھ کو ،کوہِ نور ،ہیرا پیش کیا۔ انگریز مؤرخ الفنسٹن جب 1809 کو بالا حصار پشاور میں شاہ شجاع کے دربار میں حاضر ہوا تو اس نے یہ ہیرا شاہ شجاع کے بازو میں بند ٹکا ہوا دیکھا تھا ۔مہاراجہ رنجیت سنگھ نے 1839 میں اپنے انتقال سے قبل یہ ہیرا خود ملکہ برطانیہ کو تحفے کے طور پر دیا تھا جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ 1849 میں برطانیہ کے پنجاب پر قبضے کے بعد انگریزوں نے یہ ہیرا رنجیت سنگھ کے کم سن پوتے دلیپ سنگھ سے ہتھیایا تھا۔لیکن تاج برطانیہ تک اس ہیرے کے پہنچنے کی حقیقت یہ ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کوہِ نور ہیرا اپنے پاس رکھ لیا تھا اور 1839 میں مرنے سے پہلے اس نے وصیت کی کہ اس کی موت کے بعد وہ ہیرا اڑیسہ کے جگن ناتھ مندر کو دان کر دیا جائے۔ لیکن اس کی وصیت پر عمل نہ ہو سکا۔ 1848 میں پنجاب پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا اور لاہور کے قلعہ پر برطانیہ کا جھنڈا لہرانے لگا۔ میثاقِ لاہور میں جو شرائط تحریر کی گئی تھیں  ان میں ایک واضح شرط یہ تھی کہ کوہِ نور ہیرا انگلینڈ کی ملکہ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔ 16 اپریل 1850 کو ہندوستان سے روانہ ہونے والا جہاز تقریباً 86 دن کے سفر کے بعد انگلینڈ پہنچا۔ اُس وقت کے ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوسی نے ہیرے کی انگلینڈ پہنچنے کی خبر ملتے ہی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے تخت نشین بیٹے دلیپ سنگھ کو لندن روانہ کر دیا۔ اس نے لندن پہنچ کر کوہِ نور ہیرا ملکہ وکٹوریہ کو پیش کیا۔ اسی سال یعنی 1851 میں کوہِ نور ہیرے کو ہائیڈ پار میں رکھا گیا تاکہ عوام اس کا دیدار کر سکیں ۔ سلطنت برطانیہ اس ہیرے کو اب کسی کو واپسی کیلئے اس لئے بھی تیار نہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ ہیرا ہمیں سکھوں کے ساتھ ایک باقاعدہ ،ایگریمنٹ، کے تحت دیا گیا ہے۔ اس ہیرے کی واپسی کے حوالے سے مختلف اوقات میں مطالبات کئے گئے ہیں مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے ۔1976 میں پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اُس وقت کے برطانوی وزیراعظم جیمز کالاہان سے مطالبہ کیا تھا کہ کوہِ نور ہیرا پاکستان کو لوٹایا جائے لیکن انہوں نے حامی نہیں بھری تھی۔سال 1997 میں برطانیہ کی ملکہ بھارت کی آزادی کی پچاسویں سالگرہ پر نئی دہلی ٓمیں آٗئیں تو بھارتیوں کی بہت بڑی تعداد نے ہیرے کی واپسی کا مطالبہ کہا۔ ماضی میں  مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی سمیت  انڈیا، پاکستان افغانستان اور ایران کی کئی اہم شخصیات بھی برطانیہ سے کوہِ نور کو واپس کرنے کا مطالبہ کر چُکے ہیں۔
اس کے علاوہ کچھ بھارتی نژاد برطانوی اراکین پارلیمان بھی کوہِ نور انڈیا کو لوٹانے کا کہہ چُکے ہیں۔ ان کے نزدیک انڈیا اس کا اصل حقدار ہے اور برطانوی حکومت نے اسے غیر قانونی طور پر حاصل کیا تھا۔
اسی طرح 2015 میں لاہور کے ایک وکیل بیرسٹر اقبال جعفری نے برطانیہ سے کوہِ نور کی واپسی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی تھی۔ 
دوسری جانب برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے 2013 میں اپنے انڈیا کے دورے کے دوران واضح کر دیا تھا کہ کوہِ نور ہیرا واپس نہیں کیا جائے گا۔
انڈیا میں دئیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ہیرے کی واپسی کے مطالبے کا صحیح جواب یہ ہے کہ برطانیہ کے عجائب گھر دنیا بھر کے دوسرے عجائب گھروں کے ساتھ بات کر کے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ برطانیہ نے جن نایاب چیزوں کو جتنے بہترین طریقے سے سنبھال کر رکھا ہے ان کو پوری دنیا کے لوگوں کے ساتھ شيئر کیا جائے۔ نوادرات کے حوالے سے عالمی قوانین بھی ہیں یونیسکو کے ایک کنونشن کے مطابق ثقافتی اہمیت کی حامل اشیا کی واپسی ممکن ہے۔ 1954 کے ہیگ کنونشن کے مطابق کسی مسلح تنازعے کے نتیجے میں لوٹی جانے والے ثقافتی ورثے کے تحفظ کا قانون موجود ہے۔ یہ قانون دوسری جنگ عظیم میں ثقافتی اہمیت کی اشیا کی بڑے پیمانے پر لوٹ مار کے باعث بنایا گیا تھا۔1970 میں یونیسکو نے اس قانون کو مزید بہتر بناتے ہوئے بین الحکومتی کمیٹی تشکیل دی جس کا مقصد ثقافتی اہمیت کی اشیا کی ان کے اصل ملک واپسی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ کمیٹی 22 ملکوں پر مبنی ہے جس کا انتخاب یونیسکو کی جنرل کانفرنس نے کیا تھا۔ اس قانون کا اطلاق زیادہ تر مغربی ملکوں پر ہوتا ہے جن پر دوسرے ملکوں کی ثقافتی اشیا چرانے کا الزام ہے۔ ان ملکوں میں انگلینڈ، جرمنی ، فرانس اور امریکا شامل ہیں۔ جنوری 2008 میں نیویارک کے میوزیم سے ڈھائی ہزار سال پرانا گلدان اٹلی کو واپس کیا گیا۔ نومبر 2010 میں جاپان کی حکومت جنوبی کوریا کے ایک ہزار فن پارے واپس کرنے پر رضامند ہوگئی۔ یہ فن پارے 1910 سے 1945 تک جاپان کے قبضے کے دوران حاصل کیے گئے تھے، مصر میں محکمہ آثار قدیمہ کے سابق سربراہ زاہی حواص نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے اپنی مدت ملازمت کے دوران پانچ ہزار سے زیادہ اشیا واپس حاصل کی ہیں اور اب وہ برطانیہ سے اپنے تاریخی پتھر روزیٹا اسٹون (rosetta stone ) اور فرانس سے (zodiac of dendera) کی واپسی کیلیے مہم چلا رہے ہیں۔ ہیرا ہوتا کیا ہے ؟
کسی بھی دوسرے مادے کی نسبت ہیرے سب سے زیادہ سخت اور سب سے زیادہ حرارتی موصل ہوتے ہیں۔ ان خصوصیات کی وجہ سے ہیروں کو کاٹنے اور چمکانے والے اوزاروں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ۔ انتہائی سخت ڈھانچے کی وجہ سے اس میں بہت کم ملاوٹیں ممکن ہیں۔ اس کے علاوہ قدرتی طور پر ہیرے انتہائی بلند درجہ حرارت اور انتہائی زیادہ دباؤ کے نتیجے میں زمین کی سطح سے 140 تا 190 کلومیٹر نیچے بنتے ہیں۔ فحم رکھنے والی معدنیات سے ہیرا بنتا ہے اور اس کے بننے کا عرصہ ایک ارب سے تین اعشاریہ تین ارب سال تک ہوتا ہے۔ آتش فشاں کے پھٹنے کے وقت لاوے کی حرکت سے ہیرے سطح زمین کے قریب آ جا تے ہیں۔ ہیروں کو مصنوعی طور پر انتہائی بلند درجہ حرارت اور انتہائی زیادہ دباؤ کے تحت بھی بنایا جا سکتا ہے جو اصل عمل کی نقالی ہوتی ہےشفاف ہونے کی وجہ سے ہیرا عموماً بے رنگ ہوتا ہے۔ تاہم انتہائی معمولی ملاوٹ کی وجہ سے ہیرے کا رنگ نیلا، پیلا، بھورا، سبز، جامنی، گلابی، مالٹائی یا سرخ بھی ہو سکتا ہے۔ہیروں کے بارے کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے ان کو ہندوستان میں نکالا اور پہچانا گیا۔ ہندوستان میں ہیروں کے متعلق کم از کم 3000 سال سے لے کر 6000 سال قبل تک انسان جانتا تھا۔ آج ہیروں کا سب سے زیادہ استعمال بطور جواہرات کیا جاتا ہے۔ ان کی چمک دمک کی وجہ سے ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین کے نزدیک ہیرے کی چار بنیادی خصوصیات اس کی اہمیت یا اس کی قیمت کا تعین کرتی ہیں۔ یہ چار خصوصیات قیراط، کٹائی، رنگ اور شفافیت ہیں۔

مولانا خانزيب...
Kohinoor hera complete story in Urdu


کوہ نور ہیرا۔۔۔۔

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں  پر  کلامِ نرم و نازک بے اثر

بھرتری ہریعلامہ اقبال.

 دنیا میں کسی اور ہیرے کو اتنی شہرت نہیں ملی ہے جتنی کہ اس ہیرے کو شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ بیش بہا قیمتی ہونے کے باوجود اسکی شہرت کاروباری اہمیت کے بجائے سیاسی و تاریخی وجوہ کی بناء پر ہے ۔اس ہیرے نے دنیا کے بہت سے عظیم بادشاہوں اور سلطنتوں کے ساتھ رھ کر انکے عروج و زوال کو بڑے قریب سے دیکھا ہے اس ہیرے کو مردوں کے حق میں تاریخی طور پر منحوس جبکہ عورتوں کیلئے خوشبختی تصور کیجاتی ہے اس لئے تو انگریزوں نے اس کو اپنے ملکہ کے تاج کا حصہ بنایا ہے ۔ساتھ ہی ھندوستان افغانستان پاکستان ایران اور سیکھ برداری اس ہیرے کی ملکیت کی دعویدار ہیں۔ کوہ نور ہیرا درحقیقت دنیا کا کوئی بڑا ہیرا نہیں ہے بلکہ اسکا نمبر اس حیثیت سے 90 ویں نمبر پر آتا ہے کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں اسکا وزن 174 قیراط تھا جو گھٹتے گھٹتے اب 105 قیراط رھ گیا ہے جو کہ اندازاً 21 گرام ہے ۔ کوہ نور کا ذکر ھند کے منظوم حماسہ ،مہا بھارت، میں بھی آیا ہے۔ یہ ہیرا مختلف ادوار میں ،ھندی راجاؤں ، پختون غلجی و لودھی بادشاہوں، تغلق حکمرانوں ، راجپوت حکمرانوں ، مغل ،ایرانیوں، افغان ،اور سیکھ حکمرانوں سے ہوتا ہوا آخر میں برطانوی سلطنت کے ملکہ کے پاس پہنچ کر ملکہ برطانیہ کی تاج کی زینت بننے کے بعد اب  شاہی زیور کے طور پر ٹاور آف لندن میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے۔ اس ہیرے کے نکالنے کے وقت اور معدن کے حوالے سے بھی مختلف تاریخی روایات ہیں ایک روایت کے مطابق  اس ہیرے کو چار ہزار سال پہلے بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے ایک کان سے نکالا گیا تھا ۔ ایک اور روایت کے مطابق یہ ہیرا تیرویں صدی میں کلور کان گٹنور اندرا پردیش ھندوستان کے  کاکاٹیا خاندان کو ملا تھا۔ تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ یہ ہیرا 13ویں صدی عیسوی میں آندھرا پردیش کی کان سے نکالا گیا تھا۔کچھ یہ بھی خیال کرتے ہیں کوہ نور دراصل شیامنتک پتھر ہے جس کا ذکر ہندوؤں کے بھگوان کرشنا سے متعلق مذہبی کتاب بھگوت پران میں ملتا ہے ۔
ڈاکٹر مبارک علی کہتے ہیں کہ کوہِ نور کو 17ویں صدی میں مغل بادشاہ شاہ جہان کے دور میں حیدر آباد دکن کی ایک کان سے نکالا گیا تھا جس کے بعد یہ ایک لمبے عرصے تک مغلوں اور افغان حکمرانوں کے پاس رہا۔
وہ اس بات کی بھی تردید کرتے ہیں کہ یہ ہیرا رنجیت سنگھ نے ملکہِ برطانیہ کو خود تحفے میں دیا تھا وہ کہتے ہیں کہ 1849 میں پنجاب پر قبضے کے بعد انگریزوں نے اسے اُن کے کم سن پوتے سے زبردستی لیا تھا۔ ڈاکٹر لطیف یاد کہتے ہیں کہ یہ ہیرا اندرا پردیش میں ،ورنگل، کے مقام سے ملا تھا اور پہلی دفعہ یہ ھند کے افسانوں پہلوان ہیرو ،کارنا ،کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ پھر یہ ہیرا مالوہ کے راجا کے خزانے میں پڑا تھا۔ پھر بکر ماجیت کے ساتھ رہا تھا اور پھر پختون حکمران علاؤ الدین غلجی کو یہ ملا ۔علاوء الدین غلجی کے ایک جنرل ملک کافور نے اسکو حاصل کیا تھا اور یہ برسوں تک غلجی خاندان کے پاس رہا۔لیکن بعد میں ریاستوں کے درمیان جنگ و جدل کے دوران مختلف راجاؤں کے ہاتھوں سے ہوتا ہوا 16ویں صدی میں سلطان ابراہیم لودھی کے پاس پہنچا جبکہ 1526 میں پانی پت کی لڑائی میں فتح کے بعد پہلے مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر تک پہنچا۔ابراہیم لودھی کی والدہ ، بوا بیگم ، نے مغل شہزادے ہمایوں کو ایک وقت میں نذرانے میں یہ دیا اور اس طرح یہ ہیرا دہلی کے مغل بادشاہوں کے پاس رہا۔
1739ء میں نادر شاہ افشار نے جب ہندوستان فتح کیا تو وہ اسے اپنے ساتھ تخت طاؤس کے ساتھ ایران لے گیا اور غالباً اسی نے اس ہیرے کا نام اس کی چمک دمک دیکھ کر کوہ نور رکھا جبکہ بعض روایات کے مطابق ظہیرالدین بابر نے اسکو یہ نام دیا تھا۔ پختون حکمران احمد شاہ ابدالی ایک زمانے میں نادر شاہ کا جرنیل تھا نادر شاہ کے قتل کے بعد افغانستان کا علاقہ احمد شاہ ابدالی کے قبضہ میں آ گیا اور یہ ہیرا بھی احمد شاہ ابدالی کے قبضہ میں رہا احمد شاہ ابدالی پہ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ نادر شاہ کے قتل کے بعد اس نے قندھار جاتے ہوئے اس کے ہاتھ سے شاہی مہر اور کوہ نور ہیرا اتار لیا جو اس کے ہاتھ کے گرد بندھا ہوا تھا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کوہ نور ہیرا خود نادرشاہ ایرانی 1739ء میں دہلی کی لوٹ مار کے بعد برصغیر سے چرا کر لے گیا تھا اور 1747ء میں نادرشاہ کے قتل کے بعد یہ اس کے پوتے کی تحویل میں آیا جس نے اس کو 1751ء میں احمد شاہ ابدالی کے حوالے کر دیا۔ لہٰذا یہ بات مکمل جھوٹ ہے کہ احمد شاہ ابدالی نے یہ ہیرا نادرشاہ کے قتل کے بعد غصب کر لیا تھا۔ اس کی موت کے بعد اس کے بیٹے شاہ تیمور اور اس کے بعد احمد شاہ ابدالی کے پوتے شاہ شجاع کے پاس رہا جب اس کے مخالفین نے اسے تخت سے معزول کر دیا تو وہ بھاگ کر ہندوستان آیا تو یہ ہیرا اس کے ساتھ 1813 تک تھا جسکو رنجیت سنگھ نے شاہ شجاع کی سیاسی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاکر اسکو زبردستی حاصل کیا۔ احمد شاہ ابدالی کے خاندان میں یہ ہیرا کس کس کے پاس مختلف ادوار میں رہا اسکی تفصیل یہ ہے کہ دہلی کے حکمران محمد شاہ سے ایک ڈرامائی انداز میں ہیرا بادشاہ نادر شاہ نے حاصل کیا۔ اس کے بعد نادر شاہ کے بیٹے شارُخ نے ہیرا حاصل کرنے کی خاطر بہت اذیتیں اٹھائیں۔ بلآخر 1751ء میں شہزارہ شارُخ نے مرنے سے پہلے ہیرا بادشاہ احمد شاہ درانی کے حوالے کر دیا۔ ان کی وفات کے بعد یہ ہیرا احمد شاہ درانی کے بیٹے بادشاہ تیمور کے پاس آیا۔ 1793ء میں تیمور کی وفات ک بعد ،کوہِ نور ،ہیرا اُن کے بیٹے شاہ زمان کے پاس آیا۔ 
شاہ زمان کے بھائی شاہ شجاع ہیرے کے خاطر اپنے بھائی کو اندھا کر کے قید کر دیا۔ پھر شاہ شجاع کے بھائی شاہ محمد نے شاہ شجاع سے زبردستی  ،کوہِ نور، ہیرا چھین لیا۔ پھر شاہ زمان اور اس کے بھائی شاہ شجاع نے مل کر اپنے تیسرے بھائی کے خلاف سکھ مہاراجہ رنجیت سنگھ سے مدد طلب کی۔ 
مہاراجہ رنجیت سنگھ نے شاہ محمد کو شکست دینے کے بعد بدلےمیں شاہ شجاع سے ،کوہِ نور ، ہیرا مانگا۔ 
شاہ شجاع نے یکم جون 1813ء کو شاہدرہ نزد لاہور میں راجہ رنجیت سنگھ کو ،کوہِ نور ،ہیرا پیش کیا۔ انگریز مؤرخ الفنسٹن جب 1809 کو بالا حصار پشاور میں شاہ شجاع کے دربار میں حاضر ہوا تو اس نے یہ ہیرا شاہ شجاع کے بازو میں بند ٹکا ہوا دیکھا تھا ۔مہاراجہ رنجیت سنگھ نے 1839 میں اپنے انتقال سے قبل یہ ہیرا خود ملکہ برطانیہ کو تحفے کے طور پر دیا تھا جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ 1849 میں برطانیہ کے پنجاب پر قبضے کے بعد انگریزوں نے یہ ہیرا رنجیت سنگھ کے کم سن پوتے دلیپ سنگھ سے ہتھیایا تھا۔لیکن تاج برطانیہ تک اس ہیرے کے پہنچنے کی حقیقت یہ ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کوہِ نور ہیرا اپنے پاس رکھ لیا تھا اور 1839 میں مرنے سے پہلے اس نے وصیت کی کہ اس کی موت کے بعد وہ ہیرا اڑیسہ کے جگن ناتھ مندر کو دان کر دیا جائے۔ لیکن اس کی وصیت پر عمل نہ ہو سکا۔ 1848 میں پنجاب پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا اور لاہور کے قلعہ پر برطانیہ کا جھنڈا لہرانے لگا۔ میثاقِ لاہور میں جو شرائط تحریر کی گئی تھیں  ان میں ایک واضح شرط یہ تھی کہ کوہِ نور ہیرا انگلینڈ کی ملکہ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔ 16 اپریل 1850 کو ہندوستان سے روانہ ہونے والا جہاز تقریباً 86 دن کے سفر کے بعد انگلینڈ پہنچا۔ اُس وقت کے ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوسی نے ہیرے کی انگلینڈ پہنچنے کی خبر ملتے ہی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے تخت نشین بیٹے دلیپ سنگھ کو لندن روانہ کر دیا۔ اس نے لندن پہنچ کر کوہِ نور ہیرا ملکہ وکٹوریہ کو پیش کیا۔ اسی سال یعنی 1851 میں کوہِ نور ہیرے کو ہائیڈ پار میں رکھا گیا تاکہ عوام اس کا دیدار کر سکیں ۔ سلطنت برطانیہ اس ہیرے کو اب کسی کو واپسی کیلئے اس لئے بھی تیار نہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ ہیرا ہمیں سکھوں کے ساتھ ایک باقاعدہ ،ایگریمنٹ، کے تحت دیا گیا ہے۔ اس ہیرے کی واپسی کے حوالے سے مختلف اوقات میں مطالبات کئے گئے ہیں مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے ۔1976 میں پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اُس وقت کے برطانوی وزیراعظم جیمز کالاہان سے مطالبہ کیا تھا کہ کوہِ نور ہیرا پاکستان کو لوٹایا جائے لیکن انہوں نے حامی نہیں بھری تھی۔سال 1997 میں برطانیہ کی ملکہ بھارت کی آزادی کی پچاسویں سالگرہ پر نئی دہلی ٓمیں آٗئیں تو بھارتیوں کی بہت بڑی تعداد نے ہیرے کی واپسی کا مطالبہ کہا۔ ماضی میں  مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی سمیت  انڈیا، پاکستان افغانستان اور ایران کی کئی اہم شخصیات بھی برطانیہ سے کوہِ نور کو واپس کرنے کا مطالبہ کر چُکے ہیں۔
اس کے علاوہ کچھ بھارتی نژاد برطانوی اراکین پارلیمان بھی کوہِ نور انڈیا کو لوٹانے کا کہہ چُکے ہیں۔ ان کے نزدیک انڈیا اس کا اصل حقدار ہے اور برطانوی حکومت نے اسے غیر قانونی طور پر حاصل کیا تھا۔
اسی طرح 2015 میں لاہور کے ایک وکیل بیرسٹر اقبال جعفری نے برطانیہ سے کوہِ نور کی واپسی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی تھی۔ 
دوسری جانب برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے 2013 میں اپنے انڈیا کے دورے کے دوران واضح کر دیا تھا کہ کوہِ نور ہیرا واپس نہیں کیا جائے گا۔
انڈیا میں دئیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ہیرے کی واپسی کے مطالبے کا صحیح جواب یہ ہے کہ برطانیہ کے عجائب گھر دنیا بھر کے دوسرے عجائب گھروں کے ساتھ بات کر کے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ برطانیہ نے جن نایاب چیزوں کو جتنے بہترین طریقے سے سنبھال کر رکھا ہے ان کو پوری دنیا کے لوگوں کے ساتھ شيئر کیا جائے۔ نوادرات کے حوالے سے عالمی قوانین بھی ہیں یونیسکو کے ایک کنونشن کے مطابق ثقافتی اہمیت کی حامل اشیا کی واپسی ممکن ہے۔ 1954 کے ہیگ کنونشن کے مطابق کسی مسلح تنازعے کے نتیجے میں لوٹی جانے والے ثقافتی ورثے کے تحفظ کا قانون موجود ہے۔ یہ قانون دوسری جنگ عظیم میں ثقافتی اہمیت کی اشیا کی بڑے پیمانے پر لوٹ مار کے باعث بنایا گیا تھا۔1970 میں یونیسکو نے اس قانون کو مزید بہتر بناتے ہوئے بین الحکومتی کمیٹی تشکیل دی جس کا مقصد ثقافتی اہمیت کی اشیا کی ان کے اصل ملک واپسی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ کمیٹی 22 ملکوں پر مبنی ہے جس کا انتخاب یونیسکو کی جنرل کانفرنس نے کیا تھا۔ اس قانون کا اطلاق زیادہ تر مغربی ملکوں پر ہوتا ہے جن پر دوسرے ملکوں کی ثقافتی اشیا چرانے کا الزام ہے۔ ان ملکوں میں انگلینڈ، جرمنی ، فرانس اور امریکا شامل ہیں۔ جنوری 2008 میں نیویارک کے میوزیم سے ڈھائی ہزار سال پرانا گلدان اٹلی کو واپس کیا گیا۔ نومبر 2010 میں جاپان کی حکومت جنوبی کوریا کے ایک ہزار فن پارے واپس کرنے پر رضامند ہوگئی۔ یہ فن پارے 1910 سے 1945 تک جاپان کے قبضے کے دوران حاصل کیے گئے تھے، مصر میں محکمہ آثار قدیمہ کے سابق سربراہ زاہی حواص نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے اپنی مدت ملازمت کے دوران پانچ ہزار سے زیادہ اشیا واپس حاصل کی ہیں اور اب وہ برطانیہ سے اپنے تاریخی پتھر روزیٹا اسٹون (rosetta stone ) اور فرانس سے (zodiac of dendera) کی واپسی کیلیے مہم چلا رہے ہیں۔ ہیرا ہوتا کیا ہے ؟
کسی بھی دوسرے مادے کی نسبت ہیرے سب سے زیادہ سخت اور سب سے زیادہ حرارتی موصل ہوتے ہیں۔ ان خصوصیات کی وجہ سے ہیروں کو کاٹنے اور چمکانے والے اوزاروں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ۔ انتہائی سخت ڈھانچے کی وجہ سے اس میں بہت کم ملاوٹیں ممکن ہیں۔ اس کے علاوہ قدرتی طور پر ہیرے انتہائی بلند درجہ حرارت اور انتہائی زیادہ دباؤ کے نتیجے میں زمین کی سطح سے 140 تا 190 کلومیٹر نیچے بنتے ہیں۔ فحم رکھنے والی معدنیات سے ہیرا بنتا ہے اور اس کے بننے کا عرصہ ایک ارب سے تین اعشاریہ تین ارب سال تک ہوتا ہے۔ آتش فشاں کے پھٹنے کے وقت لاوے کی حرکت سے ہیرے سطح زمین کے قریب آ جا تے ہیں۔ ہیروں کو مصنوعی طور پر انتہائی بلند درجہ حرارت اور انتہائی زیادہ دباؤ کے تحت بھی بنایا جا سکتا ہے جو اصل عمل کی نقالی ہوتی ہےشفاف ہونے کی وجہ سے ہیرا عموماً بے رنگ ہوتا ہے۔ تاہم انتہائی معمولی ملاوٹ کی وجہ سے ہیرے کا رنگ نیلا، پیلا، بھورا، سبز، جامنی، گلابی، مالٹائی یا سرخ بھی ہو سکتا ہے۔ہیروں کے بارے کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے ان کو ہندوستان میں نکالا اور پہچانا گیا۔ ہندوستان میں ہیروں کے متعلق کم از کم 3000 سال سے لے کر 6000 سال قبل تک انسان جانتا تھا۔ آج ہیروں کا سب سے زیادہ استعمال بطور جواہرات کیا جاتا ہے۔ ان کی چمک دمک کی وجہ سے ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین کے نزدیک ہیرے کی چار بنیادی خصوصیات اس کی اہمیت یا اس کی قیمت کا تعین کرتی ہیں۔ یہ چار خصوصیات قیراط، کٹائی، رنگ اور شفافیت ہیں۔

مولانا خانزيب...

Comments