خان اف سلطنت جندول غازی عمرا خان کے برٹش افواج کے خلاف جہاد کا مختصر جائزہ ۔
1860ء کو حاکم جندول امان خان کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عمراخان رکھا گیا۔یہ خاموش طبع لڑکا مذہب سے خوب لگاو رکھتا تھا۔فارسی تعلیم عبدالجلیل اور قرآن پاک کا علم حافظ عبدالمنان سے حاصل کی۔22 سال کی عمرمیں ہی سلطنت جندول کا حکمران بنا اور بہت سے علاقے جندول میں شامل کیے ۔
برٹش سامراج اپنی فارورڈ پالیسی کے تحت روس کے خطرے کو بہانہ بنا کر چترال تک علاقے اپنے کنٹرول میں لانا چاہتا تھا لیکن انھیں اپنے مقاصد کی راہ میں غازی عمرا خان ایک بڑی رکاوٹ نظر اتے تھے ۔ اس خطرے کے سدباب کے لیے انگریز نے اپنے CID کی مدد سے دیر ۔چترال سوات باجوڑ کے بعض بااثر مذہبی گھرانوں اور بڑے خوانین کو اعتماد میں لے کر انکے لیے ماہانہ رقوم مقرر کی تاکہ انھیں عمرہ خان کی انگریز کے خلاف مدد سے روکا جاسکے ۔انگریز کی پرانی کتابوں میں ہر علاقے کے غدار کا باقاعدہ نام اور ماہانہ وظیفے کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا۔Who is who نامی کتاب میں ایسے لوگوں سے پورا پردہ اٹھایا گیا۔ انگریز راج کے خاتمے پر ان غداروں کی اولاد نے اپنے اسلاف کے ان کارناموں کا یہ تمام ریکارڈ حاصل کرکے فنا کرڈالا ۔ طوطہ کان نامی گاوں کی ایک معروف شخصیت نے اپنی معلومات میں کہا ہے کہ اس زمانے میں سپین خڑو ملا نامی شخص میرا قریبی دوست تھا جس نے مجھے ایک خفیہ رجسٹر نکال کر دیر ۔سوات ۔باجوڑ اور چترال کے بااثر اور مذہبی گھرانوں کی ایک فہرست دکھائی جس میں انکو غازی عمرا خان کے خلاف کام کرنے کے عوض رقم کی ادائیگی کی تفصیل تھی ۔اس طریقے سے عمرا خان کو تنہا کرنے کی کوشش کی گئی ۔
لیکن پھر بھی کچھ مشہور غیرت مند بزرگوں جیسے بونیر کے سرتور فقیر وغیرہ نے عمرا خان کی حمایت کا اعلان کرکے ملاکنڈ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔
مارچ 1895ء کو موبلائزیشن ڈویژن فوج نوشہرہ سے جنرل سرجان لو (General Sir John low)، میجر جنرل سر رابرٹ لو (Major General sir Robert low) اور جنرل باڈن بلڈ (Genral Badon Blood) کی سرکردگی میں جندول کے لیے روانہ ہوئی۔ لڑائی سے پہلے انگریزوں نے باجوڑ، مہمند، بونیر، ناوگئی اور علاقے کے دیگر طاقت رکھنے والے خوانین سے بات چیت کی کہ وہ لڑائی کے دوران میں غیر جانب دار رہیں۔ نوابِ دیر شریف خان انگریزوں کا حمایتی تھا۔
ایچ سی تھامس لکھتے ہیں کہ 3 اپریل 1895 کو جب برٹش افواج ملاکنڈ پر نموندار ہوئی تو ہمیں دور سے سفید کپڑوں میں ملبوس جھنڈے تھامے قبائلیوں کا سیلاب نظر ایا ۔12 ہزار کے اس لشکر میں صرف 3 ہزار کے ساتھ پٹاخدار بندوقیں اور باقی کے پاس چھرے ۔تلوار اور غلیل وغیرہ تھے ۔جبکہ انگریز کے پاس توپ خانہ اور جدید اسلحہ تھا ۔5 گھنٹوں کی خونریز لڑائی میں ہر طرف خون ہی خون نظر اتا تھا ۔ چرچل نے اپنی کتاب میں اس لڑائی کو Malakand storm کے نام سے یاد کیا ہے ۔
ایک انگریز لکھتے ہیں کہ یہ بہادر لوگوں کی سرزمین ہے ۔ قبائلیوں کا سالار ایک قبائلی سکندر شاہ بابا المعروف سپین شھید تھا جس نے بڑی بہادرئ سے مجاہدین کی کمان کی ۔ایک انگریز لکھتا ہے کہ 9 گولیاں لگنے کے باوجود بھی یہ فولادی انسان ہماری طرف بڑھ رہا تھا ۔ یاد رہے کہ سکندر شاہ عرف سپین شھید کی قبر ملاکنڈ پاس میں سڑک کے کنارے واقع ہے ۔انگریز کئ مزاحمت اماندرہ نامی گاوں میں بھی ہوئی جبکہ عمرا خان کے حکم پر اسکا چھوٹا بھائی محمد شاہ خان نے 4 ہزار لشکر کے ساتھ 5 گھنٹوں تک 20 ہزار کی برٹش افواج کا راستہ روکے رکھا۔
کافی ساری شہادتوں کے بعد بالاخر انگریز پل تعمیر کرکے تالاش منڈہ کی طرف پیش قدمی کرنے لگے ۔
بحوالہ ( The story of minor seige page 186 )
انگریزوں کو شاہ کوٹ (پلئی درہ)، ملاکنڈ پاس، چکدرہ، راموڑہ اور کاٹکلہ میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ آخری لڑائی جندول کی وادی میں لڑی گئی۔
عمرا خان نے جب 1895ء کو چترال پر قبضہ کیا تو گلگت کے پولیٹیکل ایجنٹ میجر جارج سکاٹ رابٹ نے عمرا خان کو دھمکی دی کہ وہ چترال سے نکل جائے۔ اس کے جواب میں اس غیرت مند پشتون مسلمان عمرا خان نے پولیٹیکل ایجنٹ کو خط لکھ دیا کہ وہ خود یہاں سے نکل جائے۔ عمرا خان چترال کے قلعہ پر قبضے کے لیے آگے بڑھے اور قلعہ کو فتح کرنے کے لیے ڈھیر سارے حملے کیے۔ لڑائی میں فریقین کو کافی جانی نقصان اُٹھانا پڑا۔ دو انگریز فوجی افسر بھی گرفتار ہوئے جنہیں دروش کے قلعہ منتقل کرکے وہاں رکھا گیا۔ لڑتے لڑتے عمرا خان نے چترال پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے چچازاد بھائی مجید خان کو اپنا فوجی افسر مقرر کیا۔ اسی دوران میں نوابِ دیر “شریف خان” انگریزوں کی حمایت حاصل کرنے کے بعد واپس دیر آگئے، تو عمرا خان نے مجید خان کو پیغام بھیجا کہ “فوج کو اکھٹا کرکے دیر کی طرف روانہ ہو جاؤ۔ کیوں کہ نوابِ دیر انگریزوں کی حمایت سے واپس دیر آچکے ہیں اور اس کی گوشمالی ضروری ہے۔ اس سے کوئی رعایت نہ کرنا۔ اس لے کہ وہ مسلمانوں کا دشمن ہے۔” مجید خان کو جب یہ پیغام ملا، تو اُس نے نوابِ دیر اور انگریزوں سے ساز باز کرتے ہوئے چالیس ہزار روپے رشوت وصول کی۔ مجید خان نے فوج، گھوڑے، اسلحہ، گولہ بارود اور ساز و سامان حکومت یا انگریز حکمران کے حوالے کیا۔ جب اس بارے میں حسن خان کو علم ہوا، تو وہ عمرا خان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں حالات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آج یا کل مجید خان جندول کو برباد کرنے والا ہے۔ کیوں کہ اُس نے نوابِ دیر اور انگریزوں سے معاہدہ کرکے چالیس ہزار روپے رشوت لی ہے۔ عمرا خان کا بیٹا عبدالمتین جو کہ اب جوان ہوچکا تھا نے عمرا خان سے پوچھا کہ “ابا جی، آپ آج اتنے پریشان کیوں ہیں؟ عمرا خان نے اسے جواباً کہا کہ “بیٹا، انگریزوں سے ہوشیار رہنا۔ آج سے چودہ سال پہلے جب تمام علاقے گلگت سمیت میرے قبضے میں تھے، تو رشتے کے ناتے مجید خان کو مَیں نے اپنی فوج کا افسر مقرر کیا، تاکہ وہ لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کرے، لیکن مجید خان نے اپنا ضمیر بھیج کر ملک کو انگریزوں کے حوالے کردیا۔ اس نے میرے ساتھ بہت بڑا دھوکا کیا ہے۔”
ملاکنڈ کے محاز پر غداریوں اور مجاہدین کئ بڑی تعداد میں شہادتوں اور نقصان نے غازی عمرا خان کو دل برداشتہ کردیا تھا اور ایک شام ایک جرگہ منعقد کرکے اپنے قبائلی لشکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
"اگر میرے پاس مالاکنڈ میں سولہ سو بہادر سپاہی ہوتے تو انگریز مالاکنڈ سے کبھی پار نہ آسکتے تھے ۔اس شکست سے مجھ سے تو اقتدار گیا لیکن لوگوں سے ایمان گیا ۔
مجھے انگریزوں نے نہیں بلکہ دوستوں اور رشتہ داروں نے شکست دی ۔میں افغانستان جاکر وہاں سے افغان لشکر لاونگا اور آخر وقت تک دشمن کے خلاف لڑوں گا۔یہ الفاظ
کہتے ہوئے انھوں نے ایک لیڈر کی وہ پرچی دکھائی جسمیں عوام کو جہاد میں حصہ لینے سے روکنے کا پیغام تھا ۔یہ پیغام دے کر وہ چالیس سواروں کے ساتھ اپنے دیس
کو خیر آباد کہ کر روانہ ہوا ۔روایت مشہور ہے کہ میاں کلی کے پاس ہنہناتے گھوڑے روک کر عمرا خان نے منڈہ قلعہ کا نظارہ کیا اور آہ بھرتے ہوئے دوبارہ لگام کھینچی ۔
غازی عمرا خان کے ساتھ اپنوں کی بے وفائی نے انگریز کو چترال تک آگے بڑھنے کی راہ صاف کردی جس کے راستے میں عمرا خان نے اسی طرح مزاحمت کی تھی جس طرح ماضی میں جلال الدین خوارزم شاہ نے چنگیز خان کے مقابلے میں کی تھی ۔
انگریز فوج فاتحانہ انداز میں براول سے دیر خاص پہنچی وہاں شریف خان کو اقتدار کی کرسی پر بٹھایا اور خود لواری سے ہوکر چترال شاہی قلعے کی راہ لی ۔دیر جندول کی سرزمین پر فرنگی لشکر کی یہ فاتحانہ پیش قدمی دیکھ کر ان دنوں یہ پشتو مصرہ مشہور ہوا " چرتہ انگریز چرتہ چترال دے ۔۔بے ننگے زور شوہ انگریزان چترال تہ زینہ۔ چترال کے حاکم امیر الملک کو گرفتار کرکے 14 سالہ شجاع الملک کو مہتر چترال مقرر کردیا ۔
اور اس طرح سلطنت جندول کا خاتمہ ہوا جس کی سرحدیں چترال سے لے کر سخاکوٹ تک اور وادی سوات ۔نورستان ۔باجوڑ۔ ارنگ برنگ اسمیں شامل تھے ۔جسکا رقبہ 30 ہزار کلومیٹر تھا اور اسلام کا شرعی نظام نافذ تھا ۔ غازی عمرا خان تحریک مزاحمت کا وہ آخری کردار تھا جس نے 1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریز سے ٹکر لی ۔ برطانوی کمانڈروں نے اپنی کتابوں میں عمرا خان کی بہادری کا اعتراف کیا ۔جبکہ مالاکنڈ فیلڈ فورس کے کمانڈر چرچل نے ہی اپنی کتاب میں انھیں افغان نیپولین کا خطاب دیا۔
غازی عمرہ خان کا انتقال 11 ستمبر 1904 میں افغانستان کے ضلع چاردہ میں ہوا اپکی وفات پر وہاں 2 دن سرکارئ تعطیل کی گئی ۔
افسوس کہ نئی نسل کی اکثریت اپنے اسلاف کی تاریخ سے بالکل بے خبر ہے ۔ حالانکہ ماضی کے یہ واقعات موجودہ صدئ میں جدید انداز میں اب بھی جاری و ساری ہیں اور تاریخ کا اچھی طرح مطالعہ کیے بغیر موجودہ دور کے ان کرداروں کی پہچان نہیں ہوسکتی ۔
حوالہ جات کتب ۔
1۔ گمنام ریاست۔2 ملاکنڈ فیلڈ فورس کی کہانی
3. The relief of Chatral
ترتیب ۔زاہد سعید
Pashto Times
History of Dir state
Umara khan Jandooli
Mast khel khan

Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.