Skip to main content

Utmankhel Tribal Leader. Pashtun Heros

اتمان خیل قبیلے کے بزرگ شخصیت شیخ عطااللہ بابا کا مزار
گوہر علی گوہر
کسی بھی قوم کی عروج و زوال کا داستان ان کے اپنے اسلاف کے نقش و قدم پر چلنے اور انہیں یاد رکھنے سے جُڑے ہوئے ہیں، جس قوم نے اپنے ابا و اجدا اور اسلاف کے نام، کام اور کارناموں سمیت ان کی نقش و قدم پر چلنے کو قائم و دائم رکھا، وہی قومیں تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیگی اور جن اقوام نے اپنے اسلاف کو بلا دیا، تاریخ میں ان کا ذکر تک باقی نہیں رہتا، پختون قوم اس حوالے سے انتہائی بدقسمتی کا شکار رہا ہے، کہ وہ اپنے ابا و اجدا اور اسلاف کے کارناموں کو قلبی سطح پر تو قائم و دائم رہ سکنے میں کوئی کسر نہ چھوڑ سکیں، مگر انہیں تحریر میں لانے کے لئے کوئی موقع نہیں ملا، اور انہیں ہمیشہ کبھی اپنے بھائیوں کے ساتھ او رکبھی دوسرے اقوام کے ساتھ جنگ و جدل میں مصروف رکھ کر تعلیم و تعلم کا موقع نہیں دیا گیا۔ یہی وجہ سے کہ اج بھی پختون قوم کے محقیقین و مؤرخین پختون کے اصل نسل کے بارے میں پریشاں و سرگرداں ہیں، کوئی انہیں بنی اسرائیل گرادنتے ہیں تو کوئی انہیں سامع النسل قرار دیتے ہیں، بعض انہیں اریائی اور بعض انہیں ایرانی نسل کہلاتے ہیں اور اب بھی اس پر تحقیق جاری ہے، پختونوں میں پھر مختلف قبیلے ہیں ان قبیلوں میں بھی بعض کی تاریخ تو صدیوں سے معلوم چلا آرہا ہے اور بعض اب بھی تاریخی گمگشتوں میں گم ہوچکی ہیں، مگر گزشتہ کئی عشروں میں پختونوں اور پختون قبیلوں میں درس و تدریس سے دلچسپی اور وابستگی نے اس طرف خصوصی توجہ دیا ہے۔ اب بھی بہت سے قبیلے ایسے ہیں جن کا کردار تو ہمیشہ سے بہتر چلا آرہا ہیں مگر معلوم تاریخ میں ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا، جن میں ایک قبیلہ اتمان خیل بھی ہے، اتمان خیل قبیلہ کی تاریخ اس قدر گہری اور دلچسپ ہے جس قدر دیگر قبییلوں کی تاریخ، مگر پہاڑوں میں رہنے اور تعلیم سے دوری کی وجہ سے اتمان خیل قبیلہ کی تاریخی کردار پر اب بھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ یہ تو خوش قسمتی ہے کہ قبیلہ اتمان خیل میں بھی گزشتہ دو تین عشروں سے ایسے تعلیم یافتہ اور تاریخ سے دلچپسی رکھنے والے جوان پیدا ہوئے جنہوں نے انتہائی محنت و لگن سے اتمان خیل قبیلے کی تاریخ کو کہیں نہ کہیں سے اکٹھے کرنا شروع کردئے ہیں، اتمان خیل کی تاریخ پر کام کرنے والے ایسے بہت سے نوجوان موجود ہونگے جن کے بارے میں راقم الحروف کو علم نہیں، مگر جن کے نام اور کام سے راقم کسی نہ کسی طریقے سے واقف ہوچکے ہیں ان میں پولیس میں اعلیٰ پوسٹ پر ڈیوٹی انجام دینے والا فصیح الدین ہے جن کی کوشش سے ہم اخبارات کے علاوہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی اگاہ ہورہے ہیں، امجد علی خان اتمان خیل ہے جو ایک عرصہ سے اس قبیلے کے تاریخی شخصیات اور تاریخی کردار کے بارے میں سرگرم عمل ہے، ایک نوجوان طارق اتمان خیل ہے جو کہ اس حوالے سے انتہائی فعال کردار ادا کررہے ہیں، خاد شموزے ایک نوجوان شاعر و ادیب نے بھی اتمان خیل قبیلہ کے حوالے سے کافی معلومات اکٹھے کرلئے ہیں، مذکورہ چاروں افراد میں سے دو افرادطارق اتمان خیل اور امجد علی خان اتمان خیل کے ساتھ راقم کی بات چیت ہوئی ہے۔ اور انہیں دونوں افراد کی کوششوں اور دلچپسی کی وجہ سے راقم کو اس تاریخی مضمون لکھنے کا موقع فراہم ہورہاہے۔ مذکورہ دونوں محترم شخصیات کے ذریعے راقم کو ضلع ملاکنڈ کی الہ ڈھنڈ ڈھیری میں سڑک کنارے اتمان خیل قبیلہ کے انتہائی اہم شخصیت شیخ ملک عطاء اللہ بابا کی مزار کے بارے میں معلومات فراہم ہوئی جوکہ نذر قارئین ہے۔
پشتونوں کی تاریخی قبیلہ اتمان خیل کے محققین نے الہ ڈھنڈ ڈھیری میں مبینہ 487 سال پہلے دفن ہونے والے شیخ عطاء اللہ بابا اتمان خیل کی مزار کی نشاندہی کردی ہے، جو یوسفزئی قبیلہ کے جد امجد ملک احمد بابا یوسفزئی کے مزار سے کچھ فاصلے پر دفن ہے، اتمان خیل قبیلہ نے مزار پر گنبد کی تعمیر اور اس کے آس پاس سے تجاوزات ہٹانے کا فیصلہ کردیا ہے، اتمان خیل قبیلہ کے محقق اور 1897 میں انگریزوں کے خلاف لڑنے والے عظیم مجاد ”سرتور فقیر“ پر تاریخی کتاب مرتب کرنے والے محقق امجد علی خان اتمان خیل کے مطابق ”اتمان خیل قبیلے کا شمار پختونوں کے بڑے قبیلوں میں ہوتا ہے انگریز مصنف ہیروڈٹس نے اٹومان کے نام سے جس قبیلے کا ذکر کیا ہے وہ آج کے اتمان خیل ہے بھادر شاہ ظفر نے اتمان پر اساکینی جسکا ذکر بھی ہیروڈٹس نے کیا ہے کا قیاس اتمان خیل قبیلے پر کیا ہے.اتمان خیل کرلانی پختون مانے جاتے ہیں اور کرلانی پختونو ں کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں.آج کل اتمان خیل دیر،سوات،باجوڑ، ملاکنڈ،درگئی، سخاکوٹ، کاٹلنگ،گومل۔ٹانک، مردان، پشاور،ضلع مومند، ضلع اورکزئی، شمالی وزیرستان، ضلع لورلایی بلوچستان اور ایران افغانستان تک آباد ہیں.اتمان خیل قبیلے نے مغل اور انگریزوں کے خلاف لڑایاں لڑکر اپنے وطن کا دفاع کیا.شیخ عطااللہ اتمان خیل قبیلے کا ایک نامور تاریخ ساز، قانون ساز صوفی اور برگذیدہ شخصیت رہ چکا ہے.لفظ شیخ ان لوگوں کیلئے مستعمل ہیں جو شریعت اور طریقت و حقیقت میں کمال درجہ رکھتا ہوں.شیخ عطااللہ نے پندرویں صدی میں اتمان خیل قبیلے کی قیادت کی چونکہ اس دور میں زندگی قبائلی روایات کے مطابق تھی اور مختلف قبائل نے ایک دوسرے کے خلاف لڑایاں لڑی شیخ عطااللہ نے اس وقت یوسفزئی قبیلے کے رہنما ملک احمد کا ساتھ دیا اور بہت سارے قبائلی جھگڑوں میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا تھا.شیخ عطاء بابا کی تاریخِ وفات 1533 عیسوی اندازتاً سمجھی جاتی ہے۔شیخ عطاء بابا کا ایک اور بھائی سردار اُتمانخیل تھا جو گاؤں آلہ ڈھنڈ ملاکنڈ سے ہجرت کرکے سوات شانگلہ میں جاکر آباد ہوئے. سردار اُتمانخیل کی اولاد اب بھی سوات سیدو شریف کے مضافات شاہین آباد،فیض آباد،شگئی، چیل شگئی،مینگورہ پانوتکئی اور چارباغ میں آباد ہیں جبکہ شانگلہ میں بازار کوٹ, چینہ سر گاڈوا اُتمانخیل,سوکی سر اُتمانخیل، بہرام درہ اُتمانخیل، یخ تنگی اُتمانخیل,سپینو اوبو اتمانخیل کے علاقوں میں آباد ہیں،شیخ عطاء اور سردار بابا کی اولاد میں سید عمبر اُتمانخیل نامی گرامی شخصیت گُزرے ہیں جنکی اولاد آج سوات سیدو شریف میں رہائش پزیر ہیں“.
انہوں نے کہا کہ شیخ عطاء بابا کا مزار ڈھیری چوک آلہ ڈنڈھ ڈسٹرکٹ ملاکنڈ میں موجود ہے جو بہت خستہ حال ہے، جبکہ قریبی ابادی نے اس پر تجاوزات قائم کردی ہے اس لئے اتمان خیل قبیلہ کے مشران نے فیصلہ کیا ہے کہ مزار کو تجازات سے صاف کرکے اس پر گنبد تعمیر کریں گے، ان کا کہنا تھا کہ قبیلہ کی نمائندہ وفدنے اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ ریحان خٹک سے ملاقات کرکے انہیں مزار کی تاریخی حیثیت سے آگاہ کرکے تجاوزات ہٹانے میں ان سے تعاون کی گزارش کی ہے جس پر ڈی سی ملاکنڈ انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، امجد اتمان خیل کے مطابق شیخ عطاء اُتمانخیل بابا جسکا پورا نام شیخ عطاء اللہ اتمانخیل ہے اور عُرف آٹے بابا کے نام سے مشہور ہے تاریخ کی مستند کتب”تواریخِ حافظ رحمت خانی“اور”تاریخِ باجوڑ“کے مطابق شیخ عطاء بابا کی سرکردگی میں قبیلہ اُتمانخیل نے یوسفزئی کے ساتھ شانہ بشانہ مل کر دلزاک سلاطینِ سوا کے خلاف لڑائیاں لڑی.تواریخِ حافظ رحمت خانی کے مطابق قبیلہ اُتمانخیل نے سب سے پہلے چمڑے کے زرہ بند کا استعمال جنگِ کاٹلنگ میں کیا،اس لڑائی میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد شیخ ملی نے ملاکنڈ، دیر، سوات،باجوڑ وغیرہ کے علاقوں کی تقسیم کی جس میں شیخ عطاء بابا کی خواہش پر قبیلہ اُتمانخیل کو باجوڑ، دیر اور ملاکنڈ کے علاقے دے دئے گئے، جس پر اب بھی اتمانخیل قبیلہ اباد ہے۔
شیخ عطاء بابا بڑے زیرک انسان تھے شیخ عطاء بابا اور قبیلہ یوسفزئی کے رہنما ملک احمد بابا دونوں بھائیوں جیسے تھے.انکی دوستی کی انتہاء یہ رہی کہ دونوں جب وفات پاگئے تو ان دونوں گاؤں آلہ ڈھنڈ ڈھیری ڈسٹرکٹ ملاکنڈ میں قریب دفنایا گیا“
امجد علی خان اتمان خیل نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے گزشتہ مخلوط حکومت نے یوسفزئی قبیلہ کے جد امجد ملک احمد خان بابا کی مزار پر سرکاری سطح پر گنبد تعمیر کیا گیا،
مگر ان کے قریب مدفن شیخ عطا اللہ بابا کی مزار پر کوئی توجہ نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے شیخ عطا بابا کا مزار تجاوات میں آکر آہستہ آہستہ زمین بوس ہورہا ہے اس وجہ سے اتمان خیل قبیلہ کے مشران نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت مزار پر گنبد تعمیر کریں گے تاکہ اتمان خیل قبیلہ کی تاریخی شخصیت کا مزار باقی رہ سکیں، انہوں نے کہا کہ اتمان خیل قبیلہ کا نمائندہ جرگہ بہت جلد اس حوالے سے الہ ڈھنڈ ڈھیری میں اباد علی خیل جرگہ سے ملاقات کریں گے تاکہ انتظامیہ سمیت مقامی ابادی کو بھی اس حوالے سے اعتماد میں لیا جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کوٹ مینہ ضلع ملاکنڈمیں اتمان خیل قبیلے کی ایک اور تاریخی شخصیت عبدالطیف افندی جنہوں نے 1922 میں خدائی خدمت گار تحریک کے تحت ضلع ملاکنڈ میں پہلا آزاد مدرسہ قائم کیا تھا کا مزار بھی خستہ حالی کاشکار ہے جرگہ اس کی تعمیر کا بھی ارادہ رکھتی ہیں۔

Comments

Post a Comment

Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.