Skip to main content

Yousafzai, Utmankhel in Ranizai

1749ء میں جب افغانستان کا بادشاہ احمد شاہ درانی ہندوستان میں مغل سلطنت کو مرہٹوں سے بچانے کے لئے دہلی جا رہا تھا تو سوات، بونیر وغیرہ کے قبیلوں نے اپنی مرضی سے احمد شاہ درانی کی بیعت کی اور جنگ میں ان کے ساتھ شامل ہوئے۔1823ء میں جب سردار عظیم خان گورنر کشمیر نے سکھوں پر حملہ کیا تو یوسف زئی قبیلوں کے لشکر نے درانی لشکر کی معیت میں اس کا ساتھ دیا۔اس جنگ کے بعد امیر دوست محمد خان کے بھائیوں کے درمیان تختِ کابل کے سلسلے میں کش مکش پیدا ہو گئی جن کی وجہ سے کشمیر اور پشاور پر سکھ قابض ہو گئے۔ یوسفزئی قبیلے کابل کے سرداروں سے بد ظن ہو کر خود مختار ہو گئے اور سکھوں کے خلاف صف آرا رہے۔درانیوں کے چلے جانے کے بعد پشاور میں شہید سید احمد بریلوی بر سرِ اقتدار آ گئے۔انہوں نے سکھوں کے خلاف لڑائی کا اعلان کیا۔ پشاور اور مردان میں لوگ ہزاروں کی تعداد میں ان کی حلقہ ارادت میں آ گئے۔ انہوں نے اپنے مریدوں کا با قاعدہ لشکر بنایا اور سکھوں پر بڑے زور و شور سے حملے شروع کر دیئے۔ یوسفزئی قوم کا لشکر سید احمد بریلوی کے ساتھ مل گیا لیکن بد قسمتی سے سید احمد بریلوی کے ساتھ مذہبی عقائد میں اختلاف کی وجہ سے سوات کے قبیلوں نے سید احمد بریلوی سے علیحدگی اختیار کر لی۔ ان کے متعلق یہ مشہور ہو گیا کہ وہ ’’و ہابی‘‘ ہیں۔ سید احمد بریلوی کے شہید ہونے کے بعد سوات اور بونیر میں اخون صاحب (سیدو بابا) کا تسلط قائم ہو گیا۔1839ء میں جب مہاراجہ رنجیت سنگھ مرگیا تو سکھوں پر یک دم زوال آنا شروع ہوا۔ ان میں اتنی طاقت نہ تھی کہ سوات پر حملہ کر سکتے۔1849ء میں جب سکھ شاہی ختم ہو گئی اور انگریز قابض ہو گئے تو سوات کی اُتمان خیل قوم نے انگریزوں پر حملہ کیا۔1852ء میں اتمان خیل اور سوات کے ’’رانڑی زی‘‘ قبیلوں نے درہ ملاکنڈ سے انگریزوں پر دوبارہ حملہ کیا۔ اس حملہ کا جواب انگریزوں نے سختی سے دیا۔ جس کی تاب مقامی کا لشکر نہ لا سکا۔٭…٭…٭
 تحریر فضل راہی    بحوالہ روزنامہ دنیا


Comments