مارکسزم۔۔۔ ایک مختصر نوٹ(1)
کارل مارکس کہتا ہےکہ دولت کے سماج نے دنیا کو تہہ و بالا کر دیا ہے۔ اسے ایک "بیگانگی" کی دنیا بنا دیا ہے۔ اجنبیوں کی دنیا۔۔۔ جس میں انسان کا انسان سے تعلق نہیں رہتا۔ پیسے کا پیسے سے تعلق ہوتا ہے۔ جس میں پیسے کا حصول ہی زندگی کا بنیادی مقصد بن جاتا ہے۔ حقیقی انسانیت کی نشوونما کی بجائے چیزوں کی نشوونما ہوتی ہے۔ پیسہ ایک انسان کو اس کی ضروریات زندگی کا خریدار بنا دیتا ہے۔ انسان ایک صارف بن کر رہ جاتا ہے۔ ایک کنزیومر بن جاتا ہے۔ انسان کا زندگی کے بارے میں پورا رویہ ہی ایک گاہک کا رویہ بن جاتا ہے۔ انسان خود اپنی زندگی کا محور نہیں رہتا بلکہ چیزیں ہی اس کی زندگی کا محور بن جاتی ہیں۔ بجائے اس کے کہ انسان چیزوں کا پیمانہ بنے چیزیں انسان کا پیمانہ بن جاتی ہیں۔ انسان کی صلاحیتوں کی جگہ مادی دولت اور چیزیں لے لیتی ہیں۔
الیکس علی
اگست 2021
Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.