مارکسی عقائد کا تنقیدی جائزہ - قسط نمبر 1
تاریخی مادیت اور ارتقا
سابقہ سوویت روس سے چھپنے والی کتابوں میں اکثر ایک تصویر بالخصوص دیکھنے کو ملتی تھی۔ اس تصویر میں بندر کو مختلف مدارج طے کر کے انسان بنتے دکھایا جاتا تھا۔ اس سے ملتی جلتی تصاویر آج بھی انٹرنیت پر مل جاتی ہیں۔ اس تصویر اور اس سے وابستہ مواد کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو ان کتابوں میں ارتقا کو ”سیدھی لکیر“ کی صورت نمو پاتے دکھایا جاتا تھا۔ یہ تصویر مارکسی نظریہء تاریخی مادیت کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ اسی نکتہء نظر کے مطابق انسانی سماج قدیم اشتمالیت، غلام داری، جاگیرداری، اور سرمایہ داری کے مدارج سے گزرتا ہوا لازماً سائنسی اشتراکی سماج میں تبدیل ہو گا اور بقول مارکس ”تاریخ اپنا چکر مکمل کر کے پہلے سے زیادہ جدید اور عظیم اشتمالی معاشرہ تشکیل دے گے“۔ تاریخی مادیت کا یہ پہلو بھی دراصل رسمی منطق یا ”سیدھی لکیر“ پر مشتمل ہے کہ تاریخ کا ایک نقطہء آغاز تھا اور یہ لازماً اپنے نقطہء انجام کی طرف سفر کرے گی جہاں جا کر بقول مارکس ”اس تاریخ کا خاتمہ ہو گا اور اصل انسانی تاریخ کا آغاز ہو گا جو آزاد انسان کی تاریخ ہو گی“۔ ایسی باتیں وہی لوگ کر سکتے ہیں جو تاریخ کی جدلیاتی حرکت کو بس دور ہی سے سمجھ پاتے ہیں اور جدلیات جدلیات کی گردان کے باوجود اس کی اصل یا ایسنس تک نہیں پہنچ پاتے۔ آج کی جدید تحقیق کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ نہ تو بندر چار پانچ مدارج میں انسان بنے اور نہ ہی ہر تہذیب انہی مخصوص مدارج سے گزری ہے جن کا ذکر مارکسی کتابوں میں ملتا ہے۔ درحقیت انسان کا طبعی اور سماجی ارتقا مختلف ادوار میں مختلف صورتیں اختیار کرتا رہا ہے اور آج جو صورت ہمارے سامنے ہے اس میں تمام گزشتہ اشکال ہر گز شامل نہیں۔ کئی ایسی انسانی انواع ہیں جو جدید انسان سے بہت پہلے جدا ہو کر پروان چڑھیں اور ختم بھی ہو گئیں اور کئی ایسے انسانی معاشرے ہیں جو کبھی غلام داری اور جاگیرداری کے مدارج سے نہیں گزرے یہاں تک کہ سامراجی عہد میں بیرونی مداخلت کے باعث مجبور نہ کر دیے گئے ہوں۔
تاریخ کا جبر
اس سے ایک اور مارکسی عقیدہ یعنی تاریخ کا جبر بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جب یہ بات طے ہو جاتی ہے کہ تاریخ کی حرکت بذاتِ خود مخصوص مدارج کی پابند نہیں بلکہ جدید ترین سماج پسماندہ سماجوں کو اپنی لیٹ میں لے کر ان کی معاشرت بدلنے کی قدرت رکھتے ہیں تو تاریخی مادیت کا مدارج والا نظریہ اور تاریخی جبر کا اشتراکی لازمیت والا نظریہ دونوں غلط ہو جاتے ہیں۔ اس کی ایک اور خوشگور مثال وہ جواب ہے جو عام طور پر مارکسیوں کی طرف سے ملتا ہے جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ”آپ خود کیا کر رہے ہیں؟“ یا ”آپ انقلاب کیوں نہیں کر سکے؟“ تو جواب میں ”حالات کا جبر“ یا ”تاریخ کا جبر“ ہی سننے کو ملتا ہے۔ یعنی وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں تو کمبل کو چھوڑو ہوں مگر کمبل مجھے نہ چھوڑے ہے۔ ان بزرگوں سے یہی گزارش ہے کہ یا تو تاریخی جبر کا نظریہ غلط ہے یا پھر کم از کم یہ لوگ غلط وقت پر کوششیں کرتے رہے ہیں۔ اگر دوسری بات بھی درست ہے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ بزرگ تاریخ کی حرکت کے اصول سے بلکل نابلد تھے۔ تاریخ کا جبر تو ایک روحانی تصور معلوم ہوتا ہے جس کا کوئی سرا سوائے کامیاب انقلابیوں کے کسی کے ہاتھ نہیں آیا البتہ آلاتِ پیداوار یا ٹیکنالوجی اور اس سے جڑے سماجی تانے بانے کے جبر کا تصور زیادہ بامعنی اور مادی معلوم ہوتا ہے۔
مقدار کی معیار میں تبدیلی
سب سے پہلے تو لطف کی بات یہ ہے کہ ”جدلیاتی مادیت“، جس کی گردان کرتے ہوئے مارکسی تھکتے نہیں، کی اصطلاح اس مارکسی کی تخلیق کردہ ہے جسے حضرتِ لینن نے سب سے زیادہ گالیاں اپنی تحریروں میں دی ہیں۔ اس عظیم مارکسی کا نام کارل کاؤتسکی ہے۔ لہٰذا تمام لیننسٹ مارکسیوں سے گزارش ہے کہ لینن کی تقلید میں اس غریب کو گالیاں بکنے سے پہلے اس کی کوئی تحریر بھی پڑھ لیں یا پھر کم از کم ”جدلیاتی مادیت“ کی تخلیق کا کریڈت اسے ضرور دے دیا کریں۔ بہرحال یہاں مارکسیوں کی ٹانگ کھینچنے کی بجائے انکی ”جدلیاتی مادیت“ کا تنقیدی جائزہ لینا مقصود ہے۔ سو جدلیاتی مادیت کے اصولوں میں سے ایک اصول ”مقدار کی معیار میں تبدیلی“ ہے۔ سب سے پہلے تو یہ واضح کر دیا جائے، بہت سے مارکسیوں کو اس کا بھی علم نہیں، کہ مقدار اور معیار کی بحث کا موجد مارکس ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ بحث قدما یعنی قدیم یونان سے آغاز ہوتی ہے۔ دوسری اور انتہائی اہم بات یہ ہے کہ مقدار کی معیار میں تبدیلی بذاتِ خود یک طرفہ اور غیر جدلیاتی تصور ہے۔ جدلیاتی منطق کی رو سے اگر مقدار معیار میں تبدیل ہوتی ہے تو معیار کا مقدار میں تبدیل ہونا بھی لازمی ہے۔ تیسری اور سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مقداری تبدیلی کی جو مثال عام طور پر مارکسی تحریروں میں دیکھنے کو ملتی ہے وہ پانی کا انتہائی درجہء حرارت پر پہنچ کر بھاپ میں بدل جانا ہے۔ اگر اس مثال پر ذرا سے غور کر لیا جائے تو انتہائی پُر لطف انکشاف سامنے آتا ہے۔ بات یہ ہے کہ پانی کو برف بنا دیں یا بھاپ تینوں صورتوں میں اس کا کیمیائی فارمولا H2O ہی رہتا ہے۔ یعنی لاحول ولاقوت! درجہء حرارت کی تبدیلی سے مادے کی حالت تو تبدیل ہوتی ہے مگر اس سے مادے کے معیار میں کوئی کیمیائی تبدیلی نہیں آتی۔ اس ضمن میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ مقدار کی معیار میں تبدیلی کا یک طرفہ اصول اپنی بنیاد میں ردِ تنوع تصور ہے۔ یہ وہ ظلم ہے جو نام نہاد روسی مارکسزم نے مارکسزم پر کیا ہے۔ یعنی اس یکطرفہ اصول کے ماننے والے عام طور پر ہر قسم کی تبدیلی کو خارج از امکان نہیں سمجھتے۔ اور شاید اسی کے باعث ہر وقت انقلاب انقلاب کے نعرے لگاتے نہیں تھکتے۔ گزارش یہ ہے کہ مقدار کی تبدیلی مادی دنیا میں اپنی حدود قیود کی پابند ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر آپ ہاتھ سے منٹس والی سوئی کو کئی چکر دے کر دن کا کوئی بھی وقت اپنی گھڑی پر سیٹ کر سکتے ہیں مگر گھڑی اگر خودبخود خراب ہو جائے یا اس کی بیٹری کمزور ہو جائے تو ایک ایک سیکنڈ کے فرق سے وقت کی رفتار کم ہوتی ہے اور گھنٹوں بعد آپ کو گھڑی میں گھنٹے یا دو گھنٹے تاخیر ہونے کا پتا چلتا ہے۔ اسی طرح ستاروں میں موجود ہائڈروجن جل کر ہیلیئم ہی بن سکتی ہے اس سے نہ تو آکسیجن بن سکتی ہے اور نہ ستاروں کو پانی لگ سکتا ہے۔ گویا حقیقی یا مادی دنیا میں تبدیلی کا عمل مارکسی خوشخیالوں کی سوچوں کی طرح شترِ بے مہار نہیں ہوتا بلکہ اس کے اپنے قوائد و ضوابط ہوتے ہیں۔ مگر مارکسی لوگ چونکہ اس کی سمجھ نہیں رکھتے اس لیے کائنات میں موجود مختلف النوع معیار بھی ان کی نظروں سے احتراز ہی برتتے ہیں کہ مبادا بھینس کے آگے بین بجانے والا محاورہ ان پر صادق نہ آ جائے۔
Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.