مشترکہ خاندانی نظام کے فوائد اور نقصانات کا مختصراً جائزہ ہ
!خاندانی نظام کا تاریخی پسِ منظر
انسان نے جب ہوش سنبھالا اور شعور کی دنیا میں قدم رکھا تو ارد گرد کے ماحول سے سیکھنا شروع کیا۔قبل از تاریخ کا انسان چھوٹے چھوٹے گروہوں کی صورت میں رہتا جہاں خوراک کی تلاش اور بچوں کی کفالت سب کا مشترکہ مطمع نظر ہوتی تھی۔شکار پر گزارا تھا جسے سب مل بانٹ کر کھاتے تھے۔قبیلے کا ایک بڑا بزرگ ہوتا جو سب کے فیصلے کرتا اور قانون بناتا۔جوں جوں انسان نے وسائل کا استعمال سیکھا تو آبادی بھی بڑھتی گئی اور خوراک میں اضافہ ہوتا گیا۔انسان نے خوراک حاصل کرنے کے نت نئے طریقے سیکھے۔میعار زندگی بلند ہوتا گیا۔ پھر انسانی عہد زراعت کے دور میں داخل ہوتا ہے۔انسان نے فصلیں کاشت کرنا سیکھا اور اب وہ خوراک ذخیرہ بھی کر سکتا تھا۔اب اُسے روز شکار کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔جانور سدھائے گئے۔مویشی پالنا سیکھے۔ اب انسان کو انفرادی سطح پر چیزیں اور خوراک جمع کرنے کہ شوق ہوا۔ قبیلے موجود تھے لیکن انفرادی سطح پر خود غرضی میں اضافہ ہوا۔اب قبیلے کی بجائے اس کا خاندان اُس کی پہلی ترجیح ٹھہرا۔
زراعت کے ساتھ ہی جاگیرداری نظام کا آغاز ہوا۔ زمینیں جاگیریں بن گئیں اور انسان مختلف طبقات میں بٹ گیا۔اب اُس کی خود غرضی میں اضافہ ہوا۔ انسان نے شہر بنائے اور تہذیب کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ۔ بادشاہت وجود میں آئی۔مذاھب کا جنم ہوا۔انسان نے اپنے رہی سہن کو بہتر بنانے کے لیے مختلف قوانین بنائے۔حمورابی کے قوانین اس کی واضح مثال ہیں۔مذاھب نے بھی زندگی گزارنے کے طور طریقوں کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ بادشاہتیں سلطنتوں میں بدلتی ہیں اور سلطنتیں سامراجوں میں بدلتی ہیں۔خاندانی نظام بدرجہ اُتم موجود رہا۔ مذاھب نے بھی مشترکہ خاندانی نظام پر زور دیا اور اِس کی پشت پناہی کی۔ کیونکہ مل کر رہنے میں ہی انسان کی بقا تھی۔ کسی ایک فرد کی کمی کوتاہی کو اُس کا خاندان کور کر لیتا تھا ۔ بچوں کی پرورش اور کفالت میں سبھی خاندان کے افراد اپنا حصہ ڈالتے تھے۔
تہذیب نے چھلانگ ماری اور زرعی،جاگیرداری،بادشاہت،،سلطنت،اور سامراج سے ہوتے ہوئے انسان نے صنعتی انقلاب کو جنم دیا۔مشینیں کافی سارا کام زیادہ تیزی سے کر سکتی تھیں۔اُن کو چلانے کے لئے کم افراد کی ضرورت تھی۔ نئی نئی سہولتیں پیدا ہوتی گئیں۔ اب شہروں میں جگہ کی کمی ہونے لگی۔سہولتوں کی استعمال کرنے کے لئے آمدنی میں اضافہ ناگزیر ٹھہرا۔مقابلے کی فضا پیدا ہوئی۔ اب خاندانی نظام پر دھیرے دھیرے زک لگنی شروع ہوئی۔ صنعتی انقلاب نے معاشرے کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا۔سرمایہ داری عہد کا آغاز ہوا۔اب طبقہ اشرافیہ میں شامل ہونے کے لیے بادشاہ،سرکاری امالدار،جاگیردار،مذہبی پروہت ہونا ضروری نہ تھا۔بلکہ ایک صنعت کار بھی طبقہ اشرافیہ کا رکن بن سکتا تھا ۔ مقابلے اور سہولیات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی وجہ سے مشترکہ خاندانی نظام بھی دھیرے دھیرے ٹوٹنے لگا۔ اور اب ترقی یافتہ ممالک میں یہ نا ہونے کے برابر ہے ۔
ترقی یافتہ ممالک میں خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ اور ریاست کا کردار!
اب ہم جائزہ لیتے ہیں ترقی یافتہ ممالک میں خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کی وجوہات اور اِس ٹوٹ پھوٹ کو ریاست کس طرح سنبھالتی ہے۔ مغرب کے معاشرے کا جائزہ لیں تو وہاں خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ چکا ہے۔ حتیٰ کہ شادی کا ادارہ بھی تنزل کا شکار ہے۔ لیکن ریاست نے سوشل ویلفیئر کے تصور کو اپنا کر کافی حد تک خاندانی نظام کے ٹوٹنے کے نقصانات کو کم کیا ہے ۔ بچے ایک خاص عمر کے بعد آزاد ہیں جو مرضی کریں۔وہ والدین کے محتاج نہیں۔اگر بیروزگار ہیں تو مختلف قسم کے الاؤنس دیئے جاتے ہیں۔ اور روزگار تلاش کرنے میں مدد بھی کی جاتی ہے۔ اگر آپ با روزگار ہیں تو آپ کو آسان قسطوں پر گھر گاڑی اور دوسری سہولیات مل سکتی ہیں۔ وجیز معقول ہیں۔ایک انسان آرام سے اپنی الگ زندگی شروع کر سکتا ہے۔بن بیاہی ماؤں کے لیے بےشمار سہولتیں موجود ہیں۔ اگر ماں یا باپ دونوں بچے کو قبول نہ کریں تو ریاست موجود ہے۔ریاست بچے کی کفالت کی پوری ذمےداری لیتی ہے۔ اسی طرح والدین کے لیے اولڈ ہومز موجود ہیں جہاں اُن کی بھرپور دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ہیلتھ سسٹم لاجواب ہے۔اگر آپ گھر میں اکیلے بھی ہیں تو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوراً طبی امداد پہنچانے کی سہولت موجود ہے۔ سیکیورٹی کی صورت حال بھی بہتر ہے اور ایک اکیلا انسان بھی گھر میں محفوظ طریقے سے رہ سکتا ہے۔ غرض کہ کوئی ایسی وجہ نہیں جس میں اُسے مجبوراََ مشترکہ خاندانی نظام اپنانا پڑے۔آپ اکیلے اپنی زندگی پر سکون طریقے سے جی سکتے ہیں۔چاہے تو اپنی فیملی کا خیال رکھیں اور اگر نا چاہیں تو کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ریاست اِس کام کے لیے موجود ہے ۔ اگر آپ میں قابلیت ہے تو آگے بڑھنے سے آپ کو کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ کوئی آپ کی ٹانگیں نہیں کھینچ سکتا آپ سولو فلائٹ بھی کر سکتے ہیں۔ غرض کہ خاندان کے افراد کا ایک دوسرے پر انحصار بُہت کم ہے۔ جب تک آپ خود کو سنبھال سکتے ہیں تو ٹھیک لیکن اگر آپ خود کو نہیں سنبھال سکتے تو ریاست اس کام کے لیے موجود ہے۔ صحت کی سہولیات جو اشرافیہ کے لیے ہیں وہی کم و بیش عام آدمی کے لیے ہیں۔ لیکن صرف ایک نقصان ہے کہ خاندان کے افراد کی جذباتی وابستگی ایک دوسرے کے ساتھ کم ہے۔
تیسری دنیا کے ممالک میں خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ اور ریاست کا منفی کردار۔
اب آتے ہیں ترقی پذیر اور تیسری دنیا میں خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ اور معاشرے اور فرد پر اِس کے منفی اثرات پر۔تیسری دنیا میں بھی مشترکہ خاندانی نظام اب شدت سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔شادی ہوتے ہی الگ رہنے پر زور دیا جاتا ہے چاہے وسائل ہوں یا نہیں۔ لڑکی والوں کی شرائط میں یہ پہلی شرط ہوتی ہے کہ اِن کو وکھرا کر دو۔ نیوکلیئر فیملی میں سارا معاشی بوجھ لڑکے پر اور گھریلو کام کاج کا بوجھ لڑکی پر آ جاتا ہے۔ریاست نے ہر قسم کے معاملات کے لیے ہاتھ کھڑے کیے ہوئے ہیں۔اُس نے معاشرے کے ہر فرد کی ذمے داری نا لینے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔تیسری دنیا کے ممالک کی ریاست نے صرف طبقہ اشرافیہ کے تحفظ اور اُن کی ناجائز دولت کو ٹھکانے لگانے میں مدد دینے کے لیے سر توڑ کوشش کرنے کا حلف اٹھایا ہوا ہے۔عام فرد کی زندگی سے اُس کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ طبقہ اشرافیہ کی طرف سے خیرات کی جاتی ہے صرف شہرت حاصل کرنے کے لیے اور معاشرے میں عزت حاصل کرنے کے لیے اور ریاست سے ٹیکس اور مختلف مد میں چھوٹ لینے کے لیے اور کسی حد تک ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی دولت جو لوگوں کا استحصال کرکے حاصل کے جاتی ہے اُس سے ہوئے بےچین ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے۔
نیوکلیئر فیملی میں چھوٹے بچوں کی پرورش میں کوئی مدد نہیں ملتی ہے۔خاوند کو روزگار میں اضافے کے لیے ڈبل ٹرپل شفٹ کرنی پڑتی ہے۔جس کا صحت پر منفی اثر پڑتا ہے اور ہیلتھ بل میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ خاتون خانہ کو گھر کے کام کاج کے لیے ملازمہ رکھنی پڑتی ہے یا پھر سارا خود کرنا پڑتا ہے۔جس کے منفی اثرات صحت پر پڑتے ہیں۔اگر ملازمہ ہو تو بجٹ پر اثر پڑتا ہے ۔ اگر گھر رینٹ کا ہو تو گھر کا بجٹ شدید مصائب و آلام کا شکار ہو جاتا ہے ۔ بچے گھر میں خاتون خانہ کو خوب کھپاتے ہیں اور جب مناسب توجہ اور نگرانی نہیں ملتی تو آوارہ ہو جاتے ہیں۔
سسرال سے تعلقات اچھے نا ہونے کی وجہ سے وہاں سے کوئی مدد کو نہیں آتا ہے۔بیماری کی صورت میں خود ہی ایک دوسرے کو سنبھالنا پڑتا ہے۔لوگ تیمار داری کرنے آتے ہیں اور چائے پی کر اور کھانا کھا کر چلے جاتے ہیں۔اور اگر صاحب خانہ بیمار ہو جائیں اور ہسپتال داخل ہو جائیں تو مدد کرنے والوں کی عقابی نگاہیں خاتون خانہ اور بیٹیوں پر ہوتی ہیں۔اور اگر خاتون خانہ بیمار ہو جائیں تو گھر کا تمام نظام رک جاتا ہے اور شوہر کے لیے کام اور تیمار داری دونوں بہ یک وقت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جس سے بیچاری عورت کی جان چلی جاتی ہے۔ ایک ڈاکٹر صاحب جو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ڈیوٹی کرتے ہیں راقم کو ایک واقعہ سناتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔فرمایا کے زچگی کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ایک خاتون آئی سی یو میں داخل ہوئیں صرف ایک شوہر اُن کے ساتھ تھا۔جو صرف کچھ گھنٹوں کے لیے آتا اور چلا جاتا۔کوئی اٹینڈنٹ اُس خاتون کے ساتھ نا تھا اور حالت انتہائی دگر گوں۔دوائیوں اور ٹیسٹ کے لیے بھی عملے کو نہایت دشواریوں کا سامنا تھا۔خاتون مصنوعی سانس والی مشین پر تھی۔ایسے میں کیئر کی بُہت ضرورت ہوتی ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اس کے شوہر سے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ کوئی ان کے ساتھ نہیں ہے تو بولا ڈاکٹر صاحب میں رکشا چلاتا ہوں اور اگر ایک دن نا چلاؤں تو گزارا نہیں ہوتا۔تین چھوٹے بچے ہیں جو بہن کے گھر چھوڑے ہیں۔گھر کرائے کا ہے۔ اس کے میکے سے بھی کوئی نہیں آ سکتا ہے ۔اب بتائیں میں اکیلا کیا کروں بچے سنبھالوں یا اس کے ساتھ رہوں یا روزگار کماؤں۔خیر بعد میں اُس خاتون کی وفات ہو گئی۔اسی طرح کا ایک ملتا جلتا واقعہ اور سنایا کہ ایک وین ڈرائیور آئی سی یو میں داخل ہوا جس کی انتڑیاں ٹائفائیڈ سے پھٹ گئیں۔آپریٹ ہوا اور مصنوعی سانس کی مشین پے چلا گیا۔ اُس کے ساتھ ایک چھوٹی بچی اور اُس کی بیوی تھی۔اور کوئی اٹینڈنٹ نا تھا۔اور بیوی کی مدد کرنے کے لیے موجود تھے دوسرے مریضوں کے اٹینڈنٹ۔سسرال سے تعلقات اچھے نا ہونے کی وجہ سے کوئی بھائی بہن نا آیا۔میکے سے کچھ لوگ آئے اور ایک دو گھنٹے بعد تیمار داری کرکے چلے گئے۔ڈاکٹر صاحب کو اُس کی آٹھ سالہ بیٹی میں اپنی بیٹی کی جھلک نظر آئی۔انہوں نے اُس کی ذاتی مدد کرنے کہ فیصلہ کیا۔جی توڑ محنت کی اور جب وہ مصنوعی سانس والی مشین سے آؤٹ ہو رہا تھا تو اُس کی بیٹی کو اُس کے سامنے کھڑا کر دیا اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے اُس نے ہمت کی اور مشین سے آؤٹ ہوا اور بچ گیا۔اس طرح کے بےشمار واقعات تھے جو اُن کے پاس تھے۔
مشترکہ خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے والدین آخری عمر بُہت نظر انداز ہوتے ہیں۔جب تک خود کو سنبھال سکیں تو ٹھیک اور جب شدید بیمار ہو جائیں تو سر کاری ہاسپٹل میں داخل ہو کر ملک راہی عدم ہو جاتے ہیں۔کوئی اولڈ ہومز نا ہونے کی وجہ سے بڑھاپا میں شدید کسمپرسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
مشترکہ خاندانی نظام کی مخالفت میں دلائل دینے والے کہتے ہیں کہ اس کی اپنی بُہت قباحتیں ہیں ۔ جن میں ساس بہو کی لڑائی اور بچوں کے بالغ ہونے کے بعد اُن کے آپس میں غلط تعلقات شامل ہیں۔روز کی چخ چخ پخ پخ بھی اِس میں شامل ہے۔ جس سے حسد اور نفرت روز بہ روز بڑھتی ہے۔اس لیے بہتر الگ ہو جانا ہے ۔
نتیجہ!
ترقی پذیر ممالک کے حالات کو دیکھتے ہوئے جب تک ریاست اپنی ذمےداریاں پوری کرنا شروع نہیں کرتی تب تک مشترکہ خاندانی نظام کے زیادہ فوائد اور کم نقائص ہیں۔ جب تک ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہو جا تے جس کی امید بُہت ہی کم ہے موجودہ حالت کو مدِ نطر رکھ کے تب تک مشترکہ خاندانی نظام کچھ تبدیلیوں کے ساتھ اس معاشرے کے لیے مفید ہے۔ بچوں کی ایک خاص عمر تک اکھٹے رہیں اور اُس کے بعد آہستہ آہستہ سب الگ ہوتے جائیں۔حسد اور بغض نا رکھیں اور خوشی غمی میں ایک دوسرے کے کام آئیں۔
آزاد
Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.