Ahmad Nadeem Qasmi Describes himself.
احمد ندیم قاسمی اپنے الفاظ کے آئینے میں
میں نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جس کے افراد اپنی روایتی وضع داری نباہنے کے لئے ریشم تک پہنتے تھے اور خالی پیٹ تک سو جاتے تھے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مدرسے جانے سے پہلے میرے وہ آنسو بڑی احتیاط سے پونچھے جاتے تھے جو اماں سے محض ایک پیسہ حاصل کرنے میں ناکامی کے دُکھ پر بہہ نکلتے تھے لیکن میرے لباس کی صفائی، میرے بستے کا ٹھاٹ اور میر ی کتابوں کی ’’گیٹ اپ‘‘ کسی سے کم نہ ہوتی تھی۔ گھر سے باہر احساسِ برتری طاری رہتا تھا اور گھر میں داخل ہوتے ہی وہ سارے آبگینے چوُر ہو جاتے تھے جنہیں میری طفلی کے خواب تراشتے تھے۔ پیاز، سبز مرچ یا نمک مرچ کے مرکب سے روٹی کھاتے وقت، زندگی بڑی سفاک معلوم ہونے لگتی تھی والد گرامی پیر تھے۔ یادِ الہیٰ میں کچھ ایسی استغراق کی کیفیتیں طاری ہونے لگیں کہ مجذوب ہوگئے اور جن عزیزوں نے ان کی گدی پر قبضہ جمایا،اُنہوں نے ڈیڑھ روپیہ ماہانہ وظیفہ مقرر کیا۔ تین پیسے روزانہ کی اس آمدن میں اماں مجھے روزانہ ایک پیسہ دینے کے بجائے میرے آنسو پونچھ لینا زیادہ آسان سمجھتی تھیں گھرانے کی اس عزت کے احساس نے مجھے وقت سے پہلے حساس بنا دیا اور ممکن ہے اسی گداز نے مجھے فن کار بنایا ہو۔ اگر بچپن میں مجھے ماں کی محبت نہ ملتی تو ممکن ہے آج میں نہایت کلبی و قنوطی ہوتا۔ لیکن عالم یہ تھا کہ جب ہم بہن بھائی اپنی اماں کا ہاتھ بٹاتے، وہ چرخہ کاتتیں اور ہم پوُنیاں بناتے، وہ چکی پیستیں اور ہم مل کر گیت گاتے، وہ کوٹھے کی لپائی کرتیں اور ہم سیڑھی سے چمٹے کھڑے رہتے ۔۔۔۔۔ وہ زیرِ لب کوئی آیت کریمہ پڑھتیں اور ہم تینوں (بڑی بہن، بڑا بھائی اور ندیمؔ ) پر ’’چھوُ‘‘ کرتیں اور یہ ’’ چھوُ‘‘ ہوتے ہی زندگی کی ڈالیاں پھولوں سے لد جاتیں
’’عمر کے ابتدائی نو برس گاؤں میں گزارے۔ پانچواں سال گاؤں کی مسجد کا درس لیتے گزرا۔ 1923ء میں والد گرامی چل بسے۔ 1925ء میں ابتدائی چار جماعتیں پاس کر کے اپنے چچا جان خان بہادر پیر حیدر شاہ مرحوم کے ہمراہ کیمبل پور چلا گیا۔ وہ ان دنوں اٹک میں ایکسٹرا اسٹنٹ کمشنر تھے۔ وہاں ناز و نعم میں پلا اور آرام و آرائش سے زندگی بسر ہونے لگی۔ مگر اس نئے پلٹے نے میری ذہنی دنیا پر بجلی گرادی۔ دس مہینے نہایت ٹھاٹ سے گزار کر جب میں ہر سال گاؤں آتا تو اچانک جیسے سدریٰ کی بلندیوں سے تحت الثری میں پٹخ دیا جاتا۔ حالات کا تضاد شدید صورت اختیار کر چلا تھا اور جذبات اتنے گداز ہو گئے کہ معمولی سے معمولی واقعہ بھی ایک ابدی نقش چھوڑے بغیر نہ گزر سکا۔
’’عمر کے ابتدائی نو برس گاؤں میں گزارے، پانچواں سال گاؤں کی مسجد میں قرآن مجید کا درس لیتے گزرا۔ 1923ء میں والد گرامی چل بسے۔ 1925ء میں ابتدائی چار جماعتیں پاس کر کے اپنے چچا جان، خان بہادر پیر حیدرشاہ کے ہمراہ کیمبل پور چلا گیا۔
’’۔۔۔۔۔ چچا جان عربی فارسی دونوں کے عالم تھے لیکن ان کی طبیعت کا رجحان زیادہ تر عربی کی طرف تھا۔ عربی اور فارسی کے علاوہ اُردو میں بھی خاصے رواں شعر کہہ لیتے تھے۔ قیمتی کتابوں سے ٹھُنسی ہوئی الماریاں ان کے کمرے کی زینت ہوا کرتی تھیں۔ میں پانچویں میں تھا کہ اُنہوں نے ہم سب بھائیوں کو ’’تفسیر حقانی‘‘ کا درس دینا شروع کیا۔ درس کے دوران میں جگہ جگہ حساؔن بن ثابت، سعدیؔ، حافظؔ، غالبؔ، حالیؔ، اقبالؔ کے اشعار سے مطلب واضح فرماتے، تلفظ درست کرتے، اشعار سے صحیح طور پر محظوظ ہونے کے طریقے بتاتے، امیرؔ، داغؔ کی شاعری سے بے زارتھے۔ کتب خانہ کا ایک حصہ مرحوم و مغفور نے ہمارے لئے وقف کر رکھا تھا۔ اس حصہ میں قرآن مجید کی تفاسیر کے علاوہ مسلمان فلسفیوں کی کتابیں تھیں، اصفیائے کرام کے ملفوطات تھے، ساتھ ہی اقبالؔ کی اُردو فارسی تصانیف اور ’’ہمایوں‘‘ اور ’’صوفی‘‘ کی فائلیں تھیں۔ اس علمی اور ادبی ماحول کا میری طبیعت پر اتنا گہرا اثر پڑا کہ چھٹی جماعت ہی سے میں نے ایک بیاض میں اُردو کے پاکیزہ اشعار لکھنے شروع کر دیئے۔ مجھے اب تک یاد ہے کہ ان دنوں بھی مجھے غالب کا یہ شعر آج ہی کی طرح پسند تھا
سراپاینِ عشق و ناگزیرِ اُلفت ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
’’دس گیارہ برس کی عمر میں اس بے پناہ شعر کے معانی کا شعور چچا جان کی ہمہ گیر اور ہمہ صفت شخصیت کا معجزہ ہے۔ سیالکوٹ میں چچا جان شمس العلماء میر حسن مرحوم کے شاگرد رہ چکے تھے اور ڈاکٹر اقبالؒ کے ہم سبق تھے۔ شاید اسی لئے بچپن سے اقبالؔ کی شاعری سے اُنس پیدا ہوا جو اب تک اسی شدت سے قائم ہے۔
’’بارہ برس کی عمر میں مَیں نے 80 صفحات کا ایک ناولٹ لکھا جو میرے ہم جماعتوں میں بہت پسند کیا گیا۔ اس عمر میں مجھے چند اشعار موزوں کرنا بھی یاد ہے۔ 1930ء کے اواخر میں چچا جان کے ہمراہ شیخوپورہ آنا پڑا۔ لاہور قریب ہی تھا۔ یہاں کے لڑکے کیمبل پور کے لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ شوخ اور معلومات کے معاملے میں تیز تھے۔
’’چچا جان کا ارادہ تھا کہ حکومتِ پنجاب کی ملازمت سے فارغ ہو کر ریاست بہاول پور میں مشیرِ مال کا عہدہ سنبھال لیں گے۔ اسی خیال کے تحت اُنہوں مجھے بہاول پور کالج بھیج دیا۔ مگر اس کالج میں ’’کالجیت‘‘ کم تھی اور ’’مکتبیت‘‘ زیادہ تھی ۔۔۔۔۔ اسی لئے مزاج میں جو تڑپ تھی، وہ ماحول کے جمود میں دبی پڑی رہی اور اگر اُبھری تو سلجھ نہ سکی کہ اچانک علی گڑھ یونیورسٹی سے ایک خوش اخلاق اور وسیع المطالعہ پروفیسر پیرزادہ عبدالرشید صاحب جو ان دنوں کالج کے پرنسپل ہیں، اس کالج سے منسلک ہو گئے۔ اتفاق سے میرا نام انہی کے گروپ میں آگیا اور سپاہیوں (سولجرز) کا یہ گروپ ان کی زیرِ نگرانی چند ہی مہینوں میں کالج کی زندگی میں نت نئی تحریکوں کا منبع بن گیا۔ ڈرامے، مباحثے، مشاعرے اور ادبی جلسے غرض کالج میں زندگی اور حرکت کی لہروں پر لہریں دوڑنے لگیں اور میری شاعری نے انہی دنوں پر پُرزے نکالنے شروع کئے۔
’’انہی ایام میں میرے ایک نہایت عزیز دوست محمد خالد (جنہیں ادیب بننا چاہیئے تھا لیکن جو آج کل انجیئنرنگ کی اعلی تعلیم کے لئے انگلستان میں مقیم ہیں) نے مجھے آر ایل اسٹیوونسن اور رائڈر ہیگرڈ کے ناولوں کی روشنی میں مہماتی کہانیاں لکھنے کی ترغیب دی۔ ان کے پاس انگریزی کتابوں کا ایک ذخیرہ تھا جو میرے مطالعے کے لئے وقف کر دیا گیا اور میں نے شاعری کے علاوہ افسانہ کی طرف بھی توجہ دینی شروع کی
’’1934ء میں چچا جان مرحوم مشیرِ مال مقرر ہو کر بہاول پور تشریف لائے۔ تقرر کے فوراً بعد رُخصت پر گاؤں چلے گئے اور وہیں حرکتِ قلب بند ہو جانے کی وجہ سے وفات پائی۔ زندگی کے بحرِ ذخار میں یہ تنہا منارہء نور بھی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ مخدومی پیر زادہ عبدالرشید صاحب کی دستگیری اور کچھ اپنی ہمت سے مرمٹ کر 1935ء میں بی۔اے کا امتحان پاس کیا
’’میں کٹرمذہبی تو کسی صورت نہیں ہوں۔ میں تو بڑا فراخ دل مسلمان ہوں اور ہر اس نیک آدمی کو سینے سے لگانے کو تیار ہوں جو چاہے کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا ہو مگر عملاً نیک ہو۔ پکا ’’ترقی پسند‘‘ یقیناً ہوں۔ میرا مذہب میری ترقی پسندی سے کسی طرح بھی مزاحم نہیں ہے بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ خود اسلام بے حد ترقی پسند مذہب ہے
’’میری زندگی پر سب سے عظیم اثر میری ماں کا ہے۔‘‘
’’3
جولائی 1939ء کو میں نے ملتان کے دفتر آب کاری میں کام کرنا شروع کیا 20 ستمبر 1942ء کو یہ اکبوس میرے سینے سے اُترا۔ 25 ستمبر 1942ء کو میں نے دارالاشاعت پنجاب (لاہور) میں بحیثیت ایڈیٹر’’تہذیبِ نسواں‘‘ اور ’’پھول‘‘ کام کرنا شروع کیا۔ 1943ء میں مشہور ترقی پسند رسالہ ’’ادبِ لطیف‘‘ (لاہور) کی ادارت سنبھالی۔ 1944ء میں سالنامہ’’ ادب لطیف ‘‘کے ایک مضمون سے خفا ہو کر حکومتِ پنجاب نے ڈیفنس آف انڈیا رولز کے تحت گرفتار کر لیا۔ یہ مقدمہ ایک برس چلتا رہا۔
’’پھر جب میری منہ بولی بہنیں ہاجرہ مسرور اور خدیجہ مستور ترکِ وطن کر کے لکھنؤ سے لاہور آگئیں تو میں اُن کی سر پرستی کی خاطر پشاور (ریڈیو) سے مستعفیٰ ہو کر لاہور آگیا۔ یہاں ہاجرہ بہن نے اور میں نے محمد طفیل صاحب کے تعاون سے رسالہ ’’نقوش‘‘ کا اجراء کیا۔ 1949ء کے آخر تک یہ سلسلہ چلا۔ ہماری ترقی پسندانہ انتہا پسندی سے گھبرا کر ہمارے دوست محمد طفیل نے ہمارے ساتھ چلنے سے معذرت کر لی۔ ظاہر ہے ہم تو خالی ہاتھ تھے۔ اُن کے بغیر رسالہ چلانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس لئے ’’نقوش‘‘ اُن کے سپرد کردیا اور خود بے روزگاری کے صحرا میں داخل ہو گئے
’’میں آج بھی حضرت عمرؓ کا قصیدہ تک لکھنے کو تیار ہوں۔ میں عمر بن عبدالعزیز کے زہد وتقوی کا معترف ہوں اور ٹیپو کی وطن دوستی سے پیار کرتا ہوں
’’اختلافِ رائے کا بھی ایک سلیقہ، ایک قرینہ ہوتا ہے جبکہ نارمل روّیوں کے حامل دانش وروں نے مستقل غیر جانب داری کو ناممکن بتایا ہے اور کچھ نے اسے مفاد پرستی اور منافقت کا نام دیا ہے کیونکہ واضح نتیجے تک پہنچنے کے لئے اور گومگو کی کیفیت سے نکلنے کے لئے کسی ایک رائے کا انتخاب تو کرنا ہی ہوتا ہے۔ سو مثبت اور منفی پہلو جانچ کر اچھے پہلوؤں کی وضاحت اور حمایت کرنا ضروری ہو جاتا ہے
’’میرے مخالفین بھی بہت سے ہیں۔ میرے خلاف مضامین بھی لکھتے ہیں لیکن، اُن میں سے نوے فیصد معافی مانگ لیتے ہیں اور میں معاف کر دیتا ہوں۔ یہی میرا معیار اختلاف ہے۔ سوچتا ہوں عین ممکن ہے میرے معاف کرنے سے میرے مخالف کی شخصیت میں ایسا تغیر پیدا ہو کہ آئندہ وہ اس قسم کی حرکت کسی اور کے ساتھ نہ کرے‘‘
’’ذاتی طور پر میرا کوئی گروپ نہیں، میرا گروپ کوئی اگر ہے تو اچھے لوگوں کا، اچھے ادب کا گروپ ہے، اچھے شاعروں، اچھے افسانہ نگاروں کا ہے اور میں نے اپنے رسالے میں بھی انہی لوگوں کو شائع کیا ہے جن کی تخلیقات میرے معیار کے مطابق ہوتی ہیں، چاہے وہ کسی بھی گروپ سے تعلق رکھتے ہوں۔ افسوس یہ ہے کہ جب میں دوسرے ملکوں میں جاتا تھا تو مجھ سے پہلا سوال یہی پوچھا جاتا کہ آپ کیوں گروہ بندیاں کر رہے ہیں اور میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ میں ہر گز ایسا نہیں کر رہا اور جو کر رہے ہیں وہ اُلٹا مجھ پر ہی الزام دھرتے ہیں کہ میرا کوئی گروپ ہے۔ باقی جہاں تک دوستیاں ہیں، ایسے لوگوں سے بھی ہیں جو دوسرے نظریئے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن بحیثیت انسان مجھے پسند ہیں تو اس لئے اُن سے میری دوستیاں ہیں اس سے یہ غلط فہمی پیدا ہونا کہ میں نے کوئی گروپ بنا لیا ہے، سراسر غلط بات ہے۔‘‘
میں اعلان کرتا ہوں کہ میرا یا میرے احباب کا یا میرے رسالے کا کوئی گروپ نہیں ہے۔ ’’فنون‘‘ کے مندرجات گواہ ہیں کہ گزشتہ برسوں میں اس کا طرزِعمل کاسموپالیٹن رہا ہے۔ ’’فنون ‘‘ کو نظریاتی یا شخصی یا گروہی وابستگیوں سے بلند ہو کر مرتب کیا جاتا ہے۔ اس ادبی مجلے کاایک معیارمقررہے۔ اگر کوئی تحریر اس معیار پر پوری اُترتی ہے تو یہ معلوم کیئے بغیر کہ اس کا مصنف کون ہے اور کہاں کا رہنے والا ہے اور کس کا دوست یا دشمن ہے؟ اس معیاری نظم یا غزل یا افسانے یا مضمون کو درج کردیا جاتا ہے۔‘‘
’’مجھے ہمیشہ اپنے کام سے کام رہا ہے میرے پاس جماعت سازیوں اور حلقہ بندیوں کا وقت بھی نہیں ہے اور اتنا روپیہ بھی نہیں ہے کہ کسی گروہ یا کسی فرد کو خرید سکوں۔ پھر مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ زندگی کی مہلت کو کشیدگیوں اور دشمنیوں میں ضائع کرتا پھروں؟
’’مجھے زندگی میں بے انتہا محبت میسر آئی ہے، بھائی کی محبت، محبوبہ کی محبت، دوستوں کی محبت، میری ادبی کاوشوں کو سراہنے والوں کی محبت، لیکن ماں کی محبت کا میں اس لئے سب سے زیادہ سپاس گزار ہوں کہ اس محبت نے مجھے پتھر نہیں بننے دیا۔ اگر میرے ادب میں “پیتھوز” کا کہیں وجود ہے تو یہ میری ماں کی دین ہے اور اگر میں انفرادی دُکھ کے حصار سے نکل آیا ہوں، تو یہ بھی انہی کی دین ہے
’’میرا نظریہ انسان دوستی کا ہے۔ اس میں کوئی تغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔ ہزار نظریئے بدل جائیں، ہزار عقیدے بدل جائیں، انسان دوستی اور انسانی محبت کا نظریہ اپنی جگہ قائم ہے۔۔۔۔۔ مساوات تو ہونی چاہیئے، انصاف تو ہونا چاہیئے۔ اگر یہ سب چیزیں ہمیں مل بھی جائیں تب بھی انسان تو موجود ہوں گے اور انسان کو دوستی کی کی ضرورت ہمیشہ ہو گی
’’اگرچہ میں ایک بہت ہی قدامت پسند گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں مگر میرے نزدیک عورتوں کو گھروں میں پابند رکھنے سے بڑا ظلم کوئی نہیں۔ ہماری چودہ کروڑ کی آبادی ہے، جس میں بڑا حصہ خواتین کا ہے۔ اس حصے کو نظر انداز کرنا درست نہیں۔ اسلام نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ عورت اور مرد دونوں کے حقوق مساوی ہیں، اسی لئے میرے نزدیک پاکستانی عورت کو بھی اپنی رائے کے اظہار کی آزادی ہونا چایئے
’’آخر ہم اس زمین سے دور رہ کر صرف کارخانوں اور آمد وخرچ کے حسابوں اور مردم شماریوں وغیرہ میں کیوں کھو جائیں، زمین، ہوا اور خلا اور خلا سے پرے بے شمار دنیائیں اور ان دنیاؤں کی بے کنار خلائیں، یہ سب کچھ انسان کا ہے۔ ہم پرواز کرتے ہوئے بھی زمین سے کیوں وابستہ نہ رہیں یہی ربط و آہنگ ہماری انسانیت کا محافظ ہے
’’ممکن ہے فنکار کا، اپنے فن کی خصوصیات گنانا ایک حد تک اس کی خود اعتمادی کی دلیل بھی سمجھا جاتا ہو مجھے تو یہ کہتے ہوئے بھی تکلف ہوتا ہے کہ میں اہم ہوں۔ اگر میں اہم ہوں تو میرا نقاد اور میرا قاری آج نہیں تو کل اِس اہمیت کا احساس ضرور کر لے گا۔ اور اگر میں کچھ ایسا اہم نہیں ہوں تو خود اپنی طرف سے ڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود بھی میں غیر اہم ہی رہوں گا۔ کوئی فنکا ر یہ کہنے سے رہا کہ مجھ میں فلاں خامی ہے فن کی دنیا میں حرفِ آخر کا کوئی وجود ہی نہیں۔ فن حقیقت و صداقت کی تلاش کا نام ہے۔ یہ ایک مسلسل اور مستقل عمل ہے جس میں انسانی ذہن ابد تک مصروف رہے گا
’’جب میں اپنی تخلیقات پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے احساسِ ندامت نہیں ہوتا، احساسِ آسودگی ہوتا ہے اور میرا ضمیر خوش ہوتا ہے کہ میں نے اپنی تخلیقی قوت سے کوئی بددیانتی نہیں کی۔ میں نے اپنے ماضی سے کچھ لیا ہے تو اپنے مستقبل کو کچھ دیا بھی ہے اور انسانی فکرواحساس کے عظیم اور لامتناہی کارواں کے رستے پر سے میں نے بھی چند کانٹے ہٹائے ہیں اور چند کلیاں بچھائی ہیں
’’میں فنکار کو اُس معاشرے، اُس ملک اور اُس عصر کا ایک حصہّ سمجھتا ہوں جس میں وہ سانس لے رہا ہے۔ یوں فن کو ایک معاشرتی فعل قرار دیتا ہوں اور فن کار کی ذات اور اُس کی انفرادیت اور اُس کی اناء کا معترف ہونے کے باوجود میں اُس سے انسانیت دوستی کا مطالبہ بھی کرتا ہوں
’’ جب میں تخلیقِ فن کو ایک سماجی فعل کہتا ہوں تو اِس سے میرا مقصد محض یہ ہے کہ فنکارکو اپنے اوپر چند ذمہ داریاں عائد کرنا پڑتی ہیں اور بس۔ جبکہ فنکار کے فکر و احساس کی حد بندی کی بجائے میں اس کا قائل ہوں کہ:
خدا نکردہ کسی قوم پہ یہ وقت آئے
کہ خواب دفن رہیں شاعروں کے سینوں میں
’’فن کا طرہ امتیاز ہی بے ساختگی ہے۔ یہ بے ساختگی اس سے چھن جائے تو فن تخلیق نہیں ہوتا، گھڑا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ میں تو فن کو، خاص طور پر فنِ شعر کو انسانی شعور کا قافلہ سالار سمجھتا ہوں اور قافلہ سالاروں کے قدموں میں بیڑیاں نہیں ہوتیں
’’پھر میں انسان اور اس کی زندگی کو فن کا بنیادی موضوع قرار دیتا ہوں۔ اگر انسان موجود ہے اور اس کرّے پر زندگی موجود ہے تو پھر سب کچھ موجود ہے۔ انسان اور خدا، ذات اور کائنات، حقیقت اور مابعد الطبیعات کے رشتوں اور مسئلوں پر بھی انسان اور زندگی کی ہی موجودگی میں غور ہو سکتا ہے۔ سو میری نظر میں انسان اہم ہے اور فن اسی صورت میں اہم ہے جب وہ انسان کو حسن و توازن حاصل کرنے میں مدد دے اور انسان کو منفی اندازمیں اُداس نہ کرے
’’فن کی صورت میں حیات آموزی ایک ایسا دشوار مرحلہ ہے کہ اگر فن کار کو اپنے فن پر پوری گرفت نہ ہو تو وہ منبر کے سب سے بلند پائے پر کھڑا ہو جاتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ وہ تو حسن کار ہے۔ اسے تو لفظوں سے چراغ جلانے ہیں اور پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کاٹنا ہے۔ فن کار کی اس سماجی آگاہی کا اظہار اس حسن و جمال اور اس بے نام سی ایک طلسماتی کیفیت کے ساتھ ہونا چاہیے کہ جس کے دم سے سینکڑوں تقریریں اور ہزاروں تلقینین شاعر کے صرف ایک شعر کا منہ دیکھتی رہ جاتی ہیں
’’۔۔۔۔۔ میرے نزدیک فن، رائے کا اظہار نہیں ہے، جذبے کا اظہار ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جہاں میں فکر کو شاعری کی عظمت اور گہرائی کے لئے ناگزیر سمجھتا ہوں، وہیں اس فکری شاعری کی میرے دل میں کوئی قدر نہیں ہے، جس میں صرف علم ہو اور احساس جسے چھو کر بھی نہ گیا ہو۔ میں صرف اور محض فکر کی شاعری کو برداشت نہیں کر سکتا، فکرِ محض میں جو کرختگی اور درشتی ہوتی ہے اس کی میرے نظریہء فن میں کوئی گنجائش نہیں۔ مگر ساتھ ہی اگر فن فکر سے خالی ہو گا تو یکسر سطحی ہو گا۔ اس کا حسن مصنوعی پھولوں کا سا حسن ہو گا۔ سو میں سمجھتا ہوں کہ بڑے فن، بڑی شاعری کے لئے خیال و احساس کی یکجائی ضروری ہے
’’۔۔۔۔۔ میرے نزدیک غم انسان کی ایک تخلیقی قدر ہے، کیونکہ اس غم سے ہی تو اُن حالات کو ختم کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جنہوں نے یہ غم بخشا ہے۔ پھر جب اُداس ہونا ہی پڑے گا تو اسے ایک تخلیقی قدر کیوں نہ بنا لیا جائے
ہم نے ہرغم سے نکھاری ہیں تمہاری یادیں
ہم کوئی تم تھے کہ وابستہء غم ہو جاتے
ظلمت گہہ حالات کے ویران اُفق پر
جو چاند چمکتا ہی رہا، وہ میرا غم تھا
’’یہا ں یہ بھی عرض کردوں کہ میں کسی بڑے پیغام کا شاعر ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا، میں تو صرف ایک نقطۂ نظر کا شاعر ہوں اور یہ نقطۂ نظر صرف اتنا سا ہے کہ میں ایک خاص ملک اور ایک خاص ماحول کی پیداوار ہونے کے باوجود کسی انسان کو اجنبی نہیں سمجھتا۔ نقطۂ نظر کی اس عالمگیریت کے باوجود مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں پاکستانی ہوں کیونکہ مجھے اسی مٹی نے پیدا کیا اور انہی ہواؤں نے پالا ہے۔ میں امن و آشتی کا پرستار ہونے کے باوجود اس کے ناموس و تحفظ کے لئے لڑ بھی سکتا ہوں اور اس کی آن پر مر بھی سکتا ہوں
’’اشاریت کا حسن بے پناہ ہے لیکن ابہام اور اشاریت میں امتیاز کرنے کی بصیرت نہایت ضروری ہے۔‘‘
’’فن کی نوعیت کو میں بہت اونچی یا بہت گہری یا بہت دھندلی فلسفیانہ موشگافیوں میں لپیٹنے کا عادی نہیں ہوں۔ میرا نقطۂ نظر سیدھا، صاف اور واضح ہے۔ فن میرے نزدیک ایک معاشرتی فعل ہے۔ گُپھا میں بیٹھے ہوئے کسی بیراگی کی کراہ نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ فن کو محض پند و نصائح کا ملغوبہ ہونا چاہئے۔ بنیادی طور پر فن اظہار حسن ہے، اظہارِ خیر اور اظہار صداقت ہے، رمز اس کا بے پناہ موثر ہتھیار ہے اور دلوں کی ظلمتوں میں خیر برکت کے اور انقلاب و ارتقاء کے چراغ جلائے جانا اس کا منصب ہے۔ اگر کوئی فن انسان اور زندگی کا اثبات نہیں کر سکتا تو وہ منفی فن ہے۔ یہ فن بھی خوبصورت ہو سکتا ہے۔ مگر بالکل اس طرح جیسے سانپ خوبصورت ہوتا
’’میں نے ماہنامہ ’’ہیرلڈ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ ان جابروں کے حق میں لکھی ہوئی ایک سطر، میرا ایک لفظ ہی دکھا دیجئے۔ میں نے ضیاء الحق کے دورِ اقتدار ہی میں اس ماہنامے کو بتایا تھا کہ ضیاء الحق صاحب کا ریفرنڈم اعلی پیمانے کے ایک فراڈ کے سوا کچھ نہ تھا اور جو نوّے دنوں کے لئے آئے تھے انہیں نوّے مہینوں سے بھی زیادہ مدت گزر چکی ہے۔ کیا کسی اور’’مہا ترقی پسند‘‘ کو یہ کہنے کی توفیق ہوئی
’’میں 1953 سے 1959ء تک روزنامہ ’’امروز‘‘ کا مدیر رہا۔ اس دوران میں ایوب خان نے حکومت سنبھالی اور مارشل لاء لگ گیا۔ مجھے محکمہء اطلاعات کی جانب سے ایک مضمون ملا۔ اس کا عنوان تھا ’’کیا یہ مارشل لاء ہے؟‘‘ مطلب یہ تھا کہ یہ تو نعمتِ خداوندی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میں یہ مضمون نہیں چھاپ سکتا۔ اس پر مجھے اوپر سے پیغام ملا، ’’ہم اپنے آدمی بھیج دیں؟‘‘ میں نے کہا:’’جناب بھیج دیجئے ۔‘‘ چنانچہ ادھر ایک آدمی مضمون واپس لے کر گیا اور اُدھر دوسرا آدمی میرے وارنٹ گرفتاری لے آیا اور مجھے پکڑ کر اندر کر دیا گیا۔ رہائی کے کچھ روز بعد میں نے دوبارہ ’’امروز‘‘ کی ادارت سنبھال لی۔ یہ مارچ 1959ء کی بات ہے۔ جب صبح کو مجھے گھر پر ٹیلی فون ملا کہ پولیس اور فوج نے پروگریسو پیپر لمیٹڈ پر قبضہ کر لیا ہے۔ میں نے وہاں کے ایڈمنسٹریٹر سے کہہ دیا کہ ’’میں یہاں پر کام نہیں کروں گا۔‘‘ اُنہوں نے کہا:’’اس صورت میں آپ کو پکڑ لیا جائے گا۔‘‘ میں نے کہا:’’جناب یہ کتنی عجیب بات ہے کہ میں جو آزادی سے اخبار کے اداریئے لکھتا رہا ہوں، اب پولیس والے آکر مجھے ڈکٹیشن دیں گے کہ یہ لکھو وہ نہ لکھو۔ یہ تو مجھ سے نہیں ہو سکے گا
’’1980ء میں جو کانفرس منعقد ہوئی اس میں مجھے کلیدی خطبہ پڑھنے کی دعوت دی گئی۔ اس کا موضوع ’’ادیب اور مملکت‘‘ تھا۔ میں نے حق بات کے اعلان کے لئے یہ موقع غنیمت جانا۔ میرے کلیدی خطبے میں مارشل لاء حکومت کی غیر مشروط اور صد فی صد نفی کی گئی تھی۔ اس اجلاس کی صدارت مارشل لاء حکومت کے وزیرِ تعلیم نے کی تھی۔ میں خطبہ پڑھ رہا تھا تو اکادمی کے اُس وقت کے ڈائریکٹر صاحب نے جب یہ محسوس کیا کہ یہ شخص حکومت کو کھری کھری سُنا رہا ہے تو اُنہوں نے مجھے ٹوکا اور کہا کہ اپنے خطبے کا خلاصہ پڑھیئے۔ میں نے عرض کیا میرا خطبہ ہے ہی مختصر اور اس لئے آپ کو پریشان نہیں ہونا چاہیئے۔‘‘
’’پانچ برس بعد 1985ء میں ایک اور اہلِ قلم کانفرنس اسلام آباد ہی میں منعقد ہوئی۔ یاد رہے کہ وہ زمانہ بھی مارشل لاء ہی کا تھا۔ اس میں بھی مجھے کلیدی خطبہ پڑھنا تھا، سو میں نے پڑھا۔ مگر اس کے ساتھ ہی ایک عجیب سا حادثہ ہوگیا۔ کانفرنس کے انعقاد سے پہلے میرا یہ مختصر ساخطبہ اکادمی ادبیات کے اس وقت کے چیئرمین کی وساطت سے صدر صاحب کی خدمت میں پیش کیا گیا چنانچہ اُنہوں نے غصے سے بھرا ہوا اپنا ردعمل اپنی افتتاحی تقریر میں ارشاد کر دیا اور ان اہلِ قلم کی ایسی تیسی کردی جو ملکی حالات و واقعات پر کھل کر تنقید کرتے تھے۔ چونکہ میں نے اپنا خطبہ صدر صاحب کی تقریر کے بعد پڑھا تو دوستوں نے یہ سمجھا کہ میں ان کی تقریر کا جواب دے رہا ہوں جبکہ وہ تو مجھے میرے خطبے کا نہایت ناگوار جواب پہلے ہی دے گئے تھے
’’اپنے نقطہء نظر کی عالمگیریت کے باوجود مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں پاکستانی ہوں کیونکہ مجھے اسی مٹی نے پیدا کیا اور انہی ہواؤں نے پالا ہے۔ پھر میں جس حُسن و توازن کا پجاری ہوں۔ اس کا تصور مجھے یہیں سے ملا ہے۔ اس لئے مجھ پر اس سر زمین کے خاص حقوق ہیں اور میں امن و آشتی کا پرستار ہونے کے باوجود اس کے ناموس اور تخفظ کے لئے لڑ بھی سکتا ہوں اور اس کی آن پربھی مر سکتا ہوں۔ حد سے بڑھی ہوئی عالمگیریت والے مجھ پر تنگ خیالی کا الزام بھی دھر سکتے ہیں مگر میں اس ماں کو کیسے بھولوں جس نے مجھے جنم دیا اور جس کے قدموں میں میری جنت ہے
’’میں ’کٹر مذہبی‘ تو کسی صورت نہیں ہوں۔ میں تو بڑا فراخ دل مسلمان ہوں اور ہر اس نیک آدمی کو دل سے لگانے کو تیار ہوں جو چاہے کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا ہو مگر عملاً نیک ہو۔ ’’پکا ترقی پسند‘‘ یقیناً ہوں۔ میرا مذہب میری ترقی پسندی میں کسی طرف سے مزاحم نہیں ہے بلکہ میں تو کہتا ہوں خود اسلام بے حد ترقی پسند مذہب ہے جس نے گورے کالے، عربی عجمی، امیر غریب اور بڑے چھوٹے کی تفریق ہی سرے سے ختم کر ڈالی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج کا مسلمان بیشتر محض برائے نام مسلمان ہے۔ میرا ایک شعر ہے:
یوں مسلماں تو بہت ہیں، مگر اب تک نہ سُنا
اک مسلماں سے بھی، اک پیرو اسلام کا نام
ایک اور شعر ہے
بھیک مانگے کوئی انساں تو میں چیخ اُٹھتا ہوں
بس یہ خامی ہے میرے طرزِ مسلمانی میں
اس صورت میں میری مذہبیت اور میری ترقی پسندی کے ضمن میں احباب کا تذبذب اور گومگو میں مبتلا ہونا میری سمجھ میں نہیں آتا۔ کیا ترقی پسندی کے لئے کافری ضروری ہے؟ کیا ترقی پسند کہلوانے کے لئے کمیونسٹ ہونا ضروری ہے؟ یقیناً نہیں، پھر یہ تذبذب چہ معنی ندارد۔
’’جب تک عوام میں تعلیم عام نہیں ہوگی اور عوام ہماری تحریر نہیں پڑھیں گے، ہم اُن کی سوچ پر کیسے اثر انداز ہوں گے۔
’’جس طرح عوام کے جذبات کی نمائندگی میں نے کی ہے۔ میرا تو یہ دعویٰ ہے کہ اس جیسی نمائندگی کسی اور نے کی ہی نہیں۔ آپ میرے افسانے اور نظمیں پڑھ کر دیکھ لیجئے آپ کو اس کا ثبوت مل جائے گا ۔۔۔۔۔ (میری اگر کہیں مخالفت ہوئی ہے تو) اُس کی وجہ صرف یہ ہے کہ میں عوام الناس کے جذبات، احساسات، مسائل اور ان کی امنگوں کا ترجمان ہوں۔ میں نے اپنی نظموں، غزلوں، افسانوں اور کالموں میں ہر جگہ عوام کی نمائندگی کی ہے۔‘‘
’’میں نے پندرہ برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کئے تو مناظرِ فطرت کے حُسن اور اسلامی روایات کے طنطنے کے ساتھ مجھے اس معاشرتی اور معیشی تفاوت نے بھی متاثر کیا اور میں رومانوں میں اٹے ہوئے ذہن کا وہ چور دروازہ بند نہ کر سکا جس میں سے آنکھوں دیکھی سفاک حقیقتیں اندر سرک آتیں تھیں مگر اس وقت مجھ پر یہ حقیقتیں محض رقت کی کیفیت طاری کر سکتی تھیں اور میں اسی کیفیت کو اپنی کہانیوں میں منتقل کر دیتا تھا۔ بہت بعد میں مجھے یہ سوچنے کا خیال آیا کہ فلاں غریب ہے تو آخر کیوں غریب ہے؟ وغیرہ اور جب میں نے یہ سب کچھ سوچا تو ہر حقیقت کے پیچھے مجھے روپوں کی تھیلی چھنچھناتی سُنائی دی۔ میں اخلاقی اور روحانی قدروں کا منکر نہیں ہوں۔ میں داڑھی مونچھیں منڈا دینے یا کوٹ پتلون پہن لینے کو مشرقی اخلاق کی بے حرمتی نہیں سمجھتا، لیکن انسان سے محبت کرنے، خلوص برتنے اور سچ بولنے، بے تعصب اور بے ریا رہنے، نڈر ہو کر سچائی کا اعلان کرنے اور ظالم کی طرف بر سرِ بازار اُنگلی اُٹھا کر اسے ظالم کہہ دینے کو بہترین اخلاق تصور کرتا ہوں۔۔۔۔۔ میں تو ابھی کھل کر بات کرنے کا انداز ہی سیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ کہ ایک خوش گوار صُبح کو میرے گھر کے دروازے پر پولیس کے ایک انسپکٹر نے کہا:’’یو آر انڈر اریسٹ!‘‘۔ تو کیا اپنا شہ پارہ لکھ کر مجھے پھانسی کا منتظر رہنا چاہیئے؟
’’میں یہ سوچ کر ایک عجیب سی تسکین محسوس کرتا ہوں کہ میں اس معیادِ حیات میں نہ کسی کو فریب دینے کا مرتکب ہوا ہوں اور نہ میں نے کبھی اپنے ضمیر کو فریب دینے کی کوشش کی ہے۔ یقیناًاس مدت میں بعض لغزشیں بھی ہیں، بعض کوتاہیاں بھی ہیں، بعض نادانیاں بھی ہیں اور ان کا جواز بھی نہیں ہے مگر یہ عام انسانی فروگزاشتیں ہیں بلکہ میرا مؤقف تو یہ ہے کہ مجھ سے یہ فروگزاشتیں سرزد نہ ہوتیں تو بحیثیت انسان میری تکمیل ہی معرضِ خطر میں پڑ سکتی تھی
’’میں آج کے ادیب کے مثبت رجحانات کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ اگر نئی نسل کے ہاں نیا پن نہ ہو تو وہ مجہول نسل ہو گی۔ ہم لوگ اپنے زمانے میں نئے تھے۔ آج کے نوجوان اپنے زمانے میں نئے ہیں۔ اگر ہم نے اپنے عصر کے حوالے سے نئے رویے اختیار نہ کئے ہوتے تو اب تک مر چکے ہوتے۔ ادیبوں کی نئی نسل اگر محض تقلید وپیروی کے چکر میں گرفتار ہو جائے تو وہ نئی نسل کہاں ہو گی! بعض نوجوانوں میں زندگی کی نفی کے رجحان بھی موجود ہیں یہ ’’عارضی‘‘ لوگ ہیں۔ سو اِن کا نوٹس نہیں لینا چاہئیے۔ میں تویہ دیکھ کر خوش ہوتا ہوں کہ نوجوان نسل میں ایسے ایسے توانا عناصر نمایا ں ہو رہے ہیں کہ ہمارے ادب و فن کے ارتقائی سفر کے بارے میں کسی تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
’’مستثنیات ہر جگہ ہوتی ہیں۔ ان سے قطع نظر کیجئے تو ہمارا ادب آگے بڑھ رہا ہے اور اس کا مستقبل بے حد روشن ہے۔ اور اس مستقبل کے امین وہ نوجوان اہلِ قلم ہیں جن سے عموماً مایوسی کا اظہار کیا جاتا ہے مگر مجھے ان پر پورا اعتماد ہے۔‘‘
’’مجھے جب بھی نوجوانوں کے کسی اجتماع سے خطاب کرنے کی عزت حاصل ہوئی ہے، مجھے ہمیشہ یوں محسوس ہوا ہے جیسے میں اپنے مستقبل سے مخاطب ہوں۔ آپ کی سرگرمیاں، آپ کا ذوق وشوق، زندگی کے بارے میں آپ کے اندازے ا ور نظریئے، اپنے سے بڑوں اور اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ آپ کا برتاؤ، اپنے ملک اور اپنی زمین کے بارے میں آپ کا نقطہء نظر، یہ سب چیزیں مجھے اپنے مستقبل کے خدوخال کو واضح کرنے اور انہیں متعین کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ پھر جب میں ’’اپنے مستقبل‘‘ کے الفاظ استعمال کرتا ہوں تو ان کا مطلب میری ذات کا مستقبل نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ بلکہ پوری قوم سے، بلکہ پوری انسانیت سے ہے۔ اس طرح وقت نے ایک بہت بڑی امانت آپ کی تحویل میں دے دی ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ صحیح معنوں میں ذمہ دار، امین اور دیانت دار ثابت ہوں گے اور جب بھی کوئی فیصلہ کریں گے تو اس جذبے کے تحت کریں گے کہ یہ صرف آپ کا فیصلہ نہیں، ہمارے پورے مستقبل کا فیصلہ ہے
’’ہماری نسل کے سپرد یہ کام تھا کہ ہم غیر ملکی سامراج سے آزادی حاصل کریں۔ یہ کام ہم نے حسبِ استطاعت مکمل کرلیا۔ اب آپ کی نسل کے ذمے اس کی آزادی کے تحفظ کا کام ہے اور یہ کام ہمارے کام سے کہیں زیادہ مشکل ہے مگر مجھے اعتماد ہے کہ آپ بھی ہماری طرح سُر خرو ہوں گے۔‘‘
’’جہاں تک عوام کا تعلق ہے ہمارے ہاں خواندگی بارہ چودہ فی صد سے زیادہ نہیں ان میں سے بھی دس فی صد کو اردو کتاب تو پڑھنا کیا دیکھنا بھی گوارا نہیں۔ باقی رہ گئے دو چار فی صد، وہ مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے لوگ ہیں جو کتاب خرید کر پڑھتے ہیں لیکن کتابیں بھی اتنی مہنگی ہو گئی ہیں کہ خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس طرح بھلا ہم (ادیب شاعر) کیا انقلاب لائیں گے۔ جب تک تعلیم عام نہیں ہو گی اور عوام ہماری تحریر نہیں پڑھیں گے، ہم ان کی سوچ پر کس طرح اثر انداز ہوں گے۔‘‘
’’آئندہ زندگی میں آپ کا طریقہء کار ایسا ہوکہ آپ میں سے ایک ایک فرد پر ہماری پوری تاریخ فخر کر سکے، کرّہء ارض پر آج جو شکست خوردگی اور خوف زدگی سے پیدا ہونے والی تحریکیں چل رہی ہیں، ان سے ہمیشہ اپنا دامن بچائے رکھئے گا، کیونکہ آپ ایک ایسی قوم کے فرد ہیں جسے مایوس ہونا آتا ہی نہیں ہے اور جسے خوف و شکست کی عیاشی میں مبتلا ہونے کی بجائے سعی اور کوشش سے زندگی کو زندہ رہنے کے قابل بنانا ہے۔‘‘
’’آرزو اگر تھی تو یہ تھی کہ میں انسانی برادری کو بے احتیاج دیکھوں اور وہ کسی کی محتاج نہ ہو۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا وقت ضرور آئے گا جب ہر انسان باوقار قرار پائے گا
’’میں نے شدید حالات میں بھی نہایت مطمئن زندگی گزاری ہے۔ دراصل میں نے جو کچھ لکھا ہے اور جو کام کئے ہیں وہ اپنے ضمیر کی رہنمائی میں کئے ہیں اور ضمیر کے اطمینان سے بڑی نعمت کے بارے میں سو چا بھی نہیں جا سکتا۔ مجھے اگر کوئی قلق ہے تو صرف یہ کہ انسانوں کو ان کا وقار واپس نہیں مل رہا اور کرّہ ارض کی ہر حکومت انہیں بے وقار کئے جا رہی ہے۔
’’اگر مجھے زندہ رہنا ہے تو میرا لفظ مجھے زندہ رکھے گا۔ اس لفظ میں جان نہیں ہے تو میں کیوں کسی کو یاد رہوں گا۔ چنانچہ میری کسوٹی وہ لفظ ہے جو میرے فن میں وارد ہوتا ہے۔‘‘
( یہ اقتباسات مختلف مضامین، انٹرویوز، تقاریر، رسائل سے اکٹھے کئے گئے ہیں)
بشکریہ ahmednadeemqasmi.com

Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.