Skip to main content

Doctrine of necessity in Pakistan. History Of Constitution

Doctrine of necessity in Pakistan. History Of Constitution By Iqbal Latif. Urdu Blog



 کی آئینی سمت کو کس نے ختم کر کے ګ اصول

 Doctrine of necessity 

کو متعارف کرایا؟


چیف جسٹس محمد منیر کو باآسانی دستوریت کا قاتل اور "ناجائز" کو جائز قرار دینے والا شخص ٹھہرایا جا سکتا ہے۔  جسٹس منیر کے فیصلے نے تین آمروں کو کلی اختیار تقویض کیے۔  ان ججوں کا خیال رکھیں جو درآمد شدہ بریکسٹن اصول اور رومن مقولے کی جابرانہ بیہودگی کا حوالہ دیتے ہیں۔ چیف جسٹس منیر نے بعینی یہی مکروہ کام کیا!  یہ زیبائی اور حیوان کی کہانی ہے، جس میں زیبائی مولوی تمیزالدین خان اور حیوان چیف جسٹس محمد منیر ہیں۔


پاکستان میں آئین کے تحت مارشل لاء کا کوئی تصور نہیں  پایا جاتاتھا۔  چیف جسٹس محمد منیر وہ شخص تھا جس نے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کو تحلیل کئے جانے والے غیر آئینی فعل کو "نظریہ ضرورت" کے تحت قانونی حیثیت دی۔  اس اسمبلی کو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے گریجویٹ گورنر جنرل غلام محمد نے 24 اکتوبر 1954 کو تحلیل کیا تھا


قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی اجازت دینے کے باوجود جسٹس منیر کا ذکر بہت کم کیا جاتا ہے ، اس تحلیلیت کے پیچھے بھی آج کل کی طرح کے غیر منتخب سیاستدان تھے جنہوں نے اس کو توڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔ متناقضانہ بات یہ ہے کہ پاکستان میں سدا بہار سوگوار جمہوریت کے ذمہ داران غلام محمد ، اسکندر مرزا ، ایوب ، یحییٰ ، ضیاء اور مشرف جیسے ڈکٹیٹروں کی ممنوعہ بالادستی کے ہاتھ ہمیشہ اعلی عدلیہ نے ہی مضبوط کئے ہیں۔


ہماری اعلی عدالتوں نے مسلسل اس کی توثیق کی ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ نئی حکومت مسلسل حالت ابتری میں ہے لہذا اسے #ناگزیریت کی انتہا کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔ لوگوں کے لئے نجات دہندہ کے بھیس میں اس ناجائز مجرمانہ نظریے کو پہلی مرتبہ 21 مارچ 1955 کو مولوی تمیزالدین کیس میں پیش کیا گیا ، جب جسٹس منیر کی سربراہی میں وفاقی عدالت نے بیمار معذور گورنر جنرل غلام محمد کے حکم پر پوری اسمبلی کو تحلیل کیے جانے کی توثیق کی۔  جنرل غلام محمد۔  چیف جسٹس محمد منیر نے یہ موقف تراشا کہ "ضرورت کسی قانون کو نہیں جانتی" اور رومن مقولے کی تشریح ان الفاظ میں پیش کی کہ حتمی طور پر "دنیا میں سب سے بڑا قانون عوام کی بہبود کا قانون ہے۔"  جسٹس کارنیلیس وہ واحد جج تھے جنہوں نے جسٹس منیر کی رائے سے اختلاف کیا۔


مولوی تمیزالدین خان (درخواست گزار) بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان (جواب دہ نمبر 1) اور دیگر (جواب دہندگان) 1954 ایس ایچ سی81


 https://pakistanhorizon.files.wordpress.com/2014/11/tamizuddin-khan-hc-sindh.pdf


کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے والا جسٹس منیر الدین کا فیصلہ اعلی عدلیہ کے منصفوں کی آمرانہ سوچ کی ایک مثال ہے ۔ سندھ ہائی کورٹ کے جس فیصلے کو معطل کیا گیا وہ ایک تاریخ ساز فیصلہ تھا جس نے قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کا ایک بہت اونچا معیار طے کیا۔  کاش اس آئین کے قاتل نے اس فیصلے کو معطل نہ کیا ہوتا، تو پاکستان کا مستقبل بہت تابناک ہوسکتا تھا۔ دستور کی حفاظت کی بجائے جسٹس منیر بریکسٹن اصول اور رومن مقولے کو درآمد کر کے یہ جابرانہ بیہودگی لے آیا کہ حتمی طور پر "دنیا میں سب سے بڑا قانون عوام کی بہبود کا قانون ہے


 جسشس منیر نے قرار دیا کہ ضرورت کے اصول مُتعارفَہ کو بریکسٹن اصول جیسے قوانین کی تائید حاصل ہے ، "جو چیز عام حالات میں قانونی نہیں ہے، اسے ضرورت کے پیش نظر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے


جسٹس منیر نے اس ساری دستوری بیہودگی کا استعمال گورنر جنرل غلام محمد کی جانب سے دستور ساز اسمبلی کو برخاست کرنے کے غیر آئینی فعل کو جائز قرار دینے کے لئے کیا،  لیکن جب 1958 میں جنرل ایوب خان نے 1956 کے آئین کو منسوخ کر کے مارشل لاء نافذ کرتے ہوئے حکومت سنبھال لی تو اس حرامزدگی کی میراث کا ایک نئے انتقامی جذبے کے ساتھ قوم کا سامنا ہوا۔ 


27 اکتوبر 1958 کو ریاست 'بمقابلہ ڈوسو'  نامی مقدمے میں جسٹس منیر کا 'ضرورت' سے متعلق مکمل تصور منظر عام پر آیا ، جس میں جسٹس منیر نے اسکندر مرزا اور ایوب خان کی فوجی بغاوتوں کی توثیق کی ، اور اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ "کامیاب فوجی بغاوت ' آئین کو تبدیل کرنے کا داخلی طور پر تسلیم شدہ قانونی طریقہ ہے۔ جسٹس منیر کے "قانونی غیرقانونیت"  والے فیصلے نے واحد فوجی شخص کے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر عوامی امنگوں کو پامال کرنے کے قبیح اقدام کو قانونی حیثیت دی۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جسٹس منیر کا ’نظریہ ضرورت‘ والا فیصلہ 1978 میں جنرل ضیاءالحق کے فوجی قبضے کو قانونی قرار دئیے جانے کی بنیاد بنا۔  اسی طرح سنہ 2000 میں اس فیصلے نے جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جمہوری حکومت کا تختہ الٹائے جانے کے غیر قانونی اقدام کو قانونی قرار دینے میں ایکبار پھر اپنا خوفناک کردار ادا کیا


پاکستانی اعلی عدلیہ کے فیصلوں کو #دنیائے_قانون میں کیوں کہیں بھی سراہا اور نظیر کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا ہے؟


اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے عصری عدلیہ میں نظریہ ضرورت (5-6 بار اطلاق) کا تصور اور منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کو متعارف کرایا۔  جدید دور میں یہ نظریہ سب سے پہلے 1954 کے متنازعہ فیصلے میں استعمال ہوا تھا جس میں پاکستانی چیف جسٹس محمد منیر نے گورنر جنرل غلام محمد کی جانب سے ہنگامی اختیارات کے ماورائے آئین استعمال کی توثیق کی تھی۔


پاکستان کے بعد دولت مشترکہ کے چند ممالک میں اس نظریہ ضرورت کا اطلاق کیا گیا ہے ، اور 2010 میں نائیجیریا میں غیر قانونی اقدامات کے جواز کے لئے اسے استعمال کیا گیا تھا۔


پاکستان ، 1954: پہلا استعمال


گریناڈا ، 1985: دوسرا استعمال


نائیجیریا ، 2010: نائیجیریا کی پارلیمنٹ نے قائم مقام صدر منتخب کیا، تیسرا استعمال


اپنے فیصلے میں چیف جسٹس نے بریکٹن کے اس مقولے 'جو چیز عام حالات میں قانونی نہیں ہے اسے ضرورت کے پیش نظر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے' ، کا حوالہ دےیتے ہوئے وہ عنوان فراہم کیا جو آگے چل کر اس فیصلے اور نظریے سے منسلک ہوا، جو اسکے نتیجے میں قائم ہوا۔


اقبال لطیف

13 جولائی 2017

Shehzad Nasir Editor

Doctrine of necessity in Pakistan. History Of Constitution by Iqbal Latif USA. Urdu Blog about Doctrine of Neccesity in Pakistan.


Comments