Ghani Khan and God
غني خان کاتصور خدا
دوسرا اور اخري حصه
فېصل فاران
غني خان اپنے استاد ٹيگورکي طرح خدا پرست تھے اور ان کي خدا پرستی معرفت سے عبارت تھي افراسياب خٹک کے بقول انہوں نے ايك دفعه خداکاتصور واضح كرتے ھوئے مٹھی کھول کر کہا پانچ مختلف انگلياں پکڑاورگرفت کااتناعمدہ ڈيزائن اور اسكا ميكنزم اس بات كاثبوت هے کہ ايك انجینئر اسكے پيچھے موجود ہے ايك دوسري جگہ مثال دي كه
آگر بلين حروف تہجی ڈبے میں ڈال کر بلين مرتبه زمین پر پھینک دیں تو کیا اس سے عمرخيام كي ايك رباعي بن سكتي هے۔؟
تو کائنات اور حيات كا پيچيده ترين اور باریک بین عمل خود بخود کیسے سرزد ہو سکتا ہے
۔ نظريه امكان کے روسےاگر حروف کو لاکھوں بار گھمایا جائے تو لاکھ میں سے ایک فیصد چانس ہے کہ يه عمل سمجھ آسکنے والے الفاظ کو تشکیل دے ليكن اس نظريه كي رو سے بھي إمكان بالکل نهيں کہ عمرخيام كي رباعي أن متشكل بامعني الفاظ سے بن سکے
اس قسم کي فلسفيانه معرفت سب سے ذھين فلاسفر ايمانوئيل كانٹ کے ھاں ملتي هے انکے ھاں میٹافزکس اف مورل کا معمہ یہ تھا کہ ایک طرف اس نے فرد کی بے محاباآزادی مان لي اوراسے نnon determistic behaviou کا نمونه قرار ديأجو ناگفتہ معروضی حالات سے مغلوب هوكر hypothetical importives بھی کر سکتا ہےتو اب اخر فرد اخلاقيات کی کیوں کرمانے ؟ اپنے مفاد کو معروضی اصول كے تحت کیوں نہ مانے ؟ کیونکہ اب ادهر خدا كا تصور تو ہے هي نہیں .لہذا یہاں اسکو خدا مانا پڑا تاکہ افراد اپنی طبعي ٲزادي گڈ ویل کے مطابق پہچان كرسكيں،كانٹ دوسري جگہ بھي خدا كو الگ تصورسے مانتاھے يه تصوركائنات كي ترتيب توازن سے مربوط هے جو غني خان کے تصور خدابواسطہ حسن سے بھت قريب هے اسلئے کہ کانٹ کي فلاسفي ميں دنيا كي حقيقتAs a representation of reality نہیں بلکہAs a regulative concept هے اس سے مراد یہ ہے کہ دنياكواگر بطور نومينا ہم نہیں جانتے لیکن ہماري حسیات اور فهم کے تجربے (appearances ) کو ممکن کرتے ہیں اور اسكے مطابق موجود موضوعی تجربہ ( phenomenon) بنکرسامنے اتاھے ليكن یہ صرف ریگولیٹیو تصور ہے
کانٹ کو موجودات کا ترتيب وتوازن اب بچانا بھي ضروری تھاجو nomena کی وجہ سے معمہ بنا اب اس باترتیب وباتوازن کائنات کو scepticism سے بچانے کے لیے خدا کو مانا پڑ گیا ہے کیونکہ كائنات کی ابدیت یا تخليق کوئی یونیفائی تجربہ نہيں دے سکی اور ذھن ایک یونیفائی یونیورسل تجربہ چاہتا ہےاسی طرح دنياکی ابديت یا تخلیق کے انٹی نومیز کا کوئی ٹھوس حل نہیں تھااوراسطرح ذهن تجربے ميں مربوط نھيں ھوسکتاتھاتو پھرکانٹ کو اسے بےربطگي سے نکالنا تھا لہذا اسکے ھاں تصور خدا کا مطلب یہی ہے کہ کائنات کی تخلیق ہو چکی ھے يعني يه كه موجودات کو تشکیک سے بچانے کے لیے کانٹ نے خدا کو مانا ہے ,,
اس ترتيب وتوازن كے متعلق سپي نوزا کابيان بہت خاصے کاہے کہ کائنات کے اشکال، ان کا ایک دوسرے سےموجودتعلق، اور اس طورسے انکاہونا ناگزیر تھا۔۔۔
کائنات کی گتھیاں سلجھانے والے سائنسدانوں میں اس طرح کا فکر پایا جاتا ہےکہ ہماری کائنات جس شکل اور وجود میں قائم ہے اس علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔
خدا کو دوست کی صورت دیکھنے کے لیے ملا لوگ سے برآشفتگی بھی ضروری لہذا وہ ملا نہ لوگ اور مروجہ مذاھب کو بھی عقل و دانش سے بھر پور سوال اٹھا اٹھا کر مسمار کرتے ہیں۔ فقیر کی زبان کس نے کیلی کے مصداق وہ ان مذھبی تصورات کی بھی اسی سوالیہ اسلوب میں بیخ کنی کرتے ہے جن کی پاسداری کی توقع میں آج بھی پختون کھبی فضل اللہ جیسے وہابیت نجدیت کے شکار مولوی تو کھبی کسي گانٹھ کے پکے سیاستدان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ۔
غني خان خیر و شر کی مروجہ مذہبی تفہیم سے انکاری ہے۔ وہ خدا اور انسان کا تعلق معبود و بندے کی نسبت سے نہیں دوست کی دوست سے نسبت کی بناء پر دیکھتے ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر پختون صرف ان کی شاعری میں پیش کردہ نکات کی بنیاد پر ملا و مذہب کی جانچ پڑتال شروع کردے تو ان کا معاشرہ بہت کچھ فرسوده تصورات بدل کر رہ جائے لیکن حیرت انگیز امر تو یہ ہے کہ ان سب خلاف عقائد متصور ہونے والے نکات کے بعد وہ پختون ملت کے راج دلارے ہے عوام ان کی شاعری کی قسما قسم تشریحات کرتے ہیں۔ ان سے منسوب مطائبات، حکایات، لطائف جو ان کی رند مشرب، سرمستی بے باکی جراًت و ذہانت سے مرکب ہوتے ہیں ہر جگہ ہر بار انکو دھرا کر ان کی عظمت کا اقرار کیا جاتا ہے ان کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ ان سے محبت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ حلانکہ پرانے بزرگوں کی طرح ان کا تعارف تقدس مآبی، کرامت گزیدگی کی بناء پر بھی نہیں نہ وہ گئے وقتوں کے کوئی افسانوی یا اساطیری کردار ہے یہ کردار جسکی رو سے غنی خان پختون ملت کے دل میں بسیرا لے چکے ہے
Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.