School days Memories and Teachers In Peshawar. Urdu Blog
شکایتوں کا اعتراف
یوم اساتذہ کے موقع پر میرے پاس کچھ اچھی یادیں نہیں ہیں۔ مسجد ہو پرائمری یا پھر ہائی اسکول اس دوران جن استادوں کے رو برو ہوا ان میں سے کسی نے کچھ خاص متاثر نہیں کیا اور نا ہی مجھ پر کوئی خاص آثر چھوڑا۔ مسجد میں قاری ومولوی درندگی دکھاتے اوپر سے مار پیٹ پر کہا جاتا جسے جہاں ڈنڈا پڑتا ہے اس جگہ پر قیامت کے دن جہنم کی اگ اثر نہیں کرے گی۔ پرائمری سے لیکر میٹرک تک مارپیٹ ہی دیکھی گو کہ تھوڑا بہت لائق ہونے کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں کم مار پیٹ سہی۔ پرائمری کے استاد نیک عمل بونے اور موٹے تھے روز کلین شیو کرکے اتے ہر وقت ماتھے پر بارہ بجائے دیکھائی دیتے۔ کبھی اسے مسکراتا نہیں دیکھا۔ بات بات پر کسی نہ کسی کی پٹائی کرتے دکھائی دیتے۔ ایک دن ہمارے دوست نے ان سے انتقام لینے کیلئے ٹوٹی کرسی لاکر رکھ دی وہ جیسے براجمان ہوئے تو کرسی میں دھنس گئے پورا کلاس بے اختیار ہنس پڑا۔ وہ گالی بکتے مدد کیلئے ہاتھ بڑھا رہے تھے کلاس انچارج فوری جی حضوری میں اگے بڑھے اور انہیں کھینچ کر باہر نکالا۔ رستم ویسے بھی سرخ سے تھے اس کے بعد جو پٹائی اس کی ہوئی اس سے وہ کئی دنوں تک مزید سرخ پڑے رہے۔
ہائی اسکول پہنچے تو پہلے سے بدتر صورتحال دیکھنے کو ملی۔ بات بات پر ڈنڈے برسا کر توڑے جاتے۔ لیٹ پہنچنے پر تازہ سبز ڈنڈے برسائے جاتے جو ٹوٹ جاتے تھے پر دوسرا ایکسٹرا کے طور پر موجود ہوتا۔ ایک لمبوترے پی ٹی کے استاد تھے وہ بڈھے تھے مگر چاک وچوبند سو یہ کام اس کے ذمے تھا۔ میرے خیال سے اسے مار پیٹ کا زیادہ شوق تھا تبھی روز دیر سے پہنچنے والوں کا اس سے گیٹ پر سامنا ہوتا۔ ہم پانچ میل دور سے بھاری بستے کے ساتھ پیدل چل کر اتے۔ ایک دن میں دیر سے پہنچا لائن میں سب پر ڈنڈے برسائے جارہے تھے میں نے سردی میں ڈنڈوں کی بارش سے بچنے کیلئے گھر واپسی کا رخ کیا اور اگلے دن جرمانے کے ساتھ مار منتظر تھی وہ بھی خشک سخت ڈنڈے سے۔
ایک عربی کے استاد تھے نور حسن۔ اس قدر رزیل کے جمائی لینے تک پر ڈنڈا برساتے۔ اس کے سامنے جمائی کیلئے جو انجانے میں منہ کھول لیتا وہ ڈنڈا لیکر اس کے منہ میں گھسانا شروع کردیتے۔ یا پھر دور سے ڈنڈا اس پر دے پھینکتے۔ غرض جو چیز اس کے ہاتھ میں ہوتی۔ کبھی کبھار تو وہ چاک سے وار کرتے۔ بھلے کسی دوسرے کی انکھ پر جا لگتی۔ نور حسن شور پر برا مناتے جب استاد کلاس سے باہر ہوتے تو عموما کلاس ازاد سا فیل کرتی بات چیت شروع ہوجاتی پر وہ چھاپہ مار کر سب کو باہر نکال کر مرغا بنا کر پچواڑے پر ڈنڈے برسانا شروع کرتے۔ ڈنڈا اس قدر تیزی سے چلاتے کہ ڈنڈے کا ہوا کو چھیڑنے کی اواز تک کانوں سے ٹکراتی۔ ایک بار یونہی سب کے ساتھ میں بھی لائن میں مرغا بنا تھا وہ بلند اواز سے سب کو تشریف اوپر اٹھانے کا کہتے مارتے جاتے جو پچواڑہ جھکا ہوا ملتا اس پر لاتعداد ڈنڈے برساتا۔ مجھ سے پہلے ایک افریدی دوست تھے جس نے پچواڑہ بلند کیا مگر ڈنڈے سے ڈر کر وہ تھوڑا سا جھکا یوں اس کے انڈے بھی ساتھ جھولتے ہوئے پیچھے کی طرف ہوئے اور اس دوران اس رذیل نے ڈنڈا گھما دیا جو کہ دو انڈوں کو ہٹ کرگیا۔ ہمارے افریدی دوست وہی پر ڈھیر ہوگئے۔ خبیثت جو مجھے اس کے بعد مجھے مارنے والے تھے اس کی حالت غیر دیکھ کر مجھکو ہی کہنے لگے دیکھو اسے کیا ہوا ہے میں نے کہہ دیا اس کے انڈے اپ سے لگ گئے ہیں یہ سن کر اس کے ہاتھ لڑزنے لگے ڈنڈا پرے پھینک کر وہ بوکھلاہٹ میں پیچھے ہولیے۔ ہم کچھ دوست اس کے پورے بدن کا مالش کرنے لگے۔ اس کی انکھیں ٹھیڑھی تھیں اس سے کچھ بولا نہیں جارہا تھا۔ درد کی شدت کی وجہ سے اس کے انڈوں کو مساج کے واسطے ہاتھ بھی نہیں لگا پا رہے تھے۔ میں نے ان کے پیٹ کا مساج شروع کردیا۔ اسے پانی پلایا۔ مساج جاری رہا۔ کچھ دیر میں وہ اتنے بہتر ہوئے کہ ہم اسے اٹھا کر کلاس لے ائے۔ بہت دیر بعد جب وہ خبیث کلاس ائے تو اسے کچھ بہتر پاکر کہنے لگے افریدیوں اپ کے اتنے بڑے انڈے ہوتے ہیں کہ پیچھے کی طرف اپ لوگوں سے نکلے ہوتے ہیں۔ اس بات پر کلاس ہنس پڑا میں اور کچھ دوست اسے زیر لب گالیوں سے نواز گئے۔ بہرحال اس کے بعد اس نے مرغا بنانا چھوڑ دیا مگر ہاتھ پر مار برابر پڑتی رہی۔ ان دنوں ایک عجیب سی بے بسی کا احساس ہوتا کہ کوئی کیوں ان درندوں کو نہیں پوچھتا جو ڈنڈا لیکر چڑھ دوڑتے ہیں۔ گھر پر نہ ہماری بتانے کی ہمت پڑتی نہ یہ امید تھی کہ ہمارا پوچھا جائے گا۔ ایک دن تو میں نے اس دوست کو مزاق میں کہا کہ باقی بدن پر تو ویسے بھی ہر جگہ مار پڑی بس ایک جگہ باقی تھی اور اپ نے تو وہاں پر بھی مار کھا لی ہے چونکہ عربی کے استاد ہیں اس لیے اب جہنم کی اگ اپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔ مجبورا وہ نیم مسکرائے۔
خیر وحشیانہ تشدد کا نشانہ میں بھی ایک بار بنا۔ انگریزی کے استاد تلاوت شاہ کا خوف ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ مقررہ وقت پر کلاس لینے پہنچتے پوری کلاس بت بن جاتی۔ اس نے کلاس کو گروپوں میں تقسیم کیا تھا ہفتے میں ایک بار گروپ لیڈر کاپی چیک کرتا جس نے کام نہیں کیا ہوتا اس کا نام اسے بتایا جاتا پھر وہ بورڈ کے سامنے اسے مرغا بنا کر تب تک مارتے جب تک وہ ہانپنا نہ شروع کرتے۔ ہمارے گروپ لیڈر کا نام سرفراز تھا میں نے اسے کاپی سب سے پہلے پیش کی پر اس نے بعد میں چیک کرنے کا بہانہ بنایا وہ یسو پنجو کھیلتا رہا۔ میں نے اسے بعد میں بھی یاد دلایا پر وہ پھر ٹرخانے میں کامیاب رہا۔ جس دن چیکنگ رپورٹ پیش ہونی تھی اس نے سب سے کاپیاں لیکر کام دیکھنا شروع کیا میں منتیں کرتا رہا وقت کم ہے میں نے کب سے کاپی پیش کی تھی پہلے میرا کام چیک کرلیں وہ نہیں مانے اخری وقت پر وہ کاپی میری ڈیسک پر پھینک کر بری الذمہ ہوگئے میں نے کاپی کھول لی تو چیک کا سائن نہیں موجود تھا۔ مجھے خوف سے گھٹن ہونے لگی اتنے میں تلاوت شاہ مردار کمرے میں داخل ہوگئے سب سے پہلے کاپی کی مانگ کی کہ جس نے کاپی چیک نہیں کی انہیں باہر نکالا جائے سب گروپ لیڈر کھڑے ہوئے کہ ہمارے گروپ کا کام مکمل ہے سرفراز نے کہا صرف صفی رہ گیا ہے اج اس نے دیر سے کاپی دی میں نے نہیں چیک کی۔ میں نے اسے جھوٹ بولنے پر ٹوکا تو تلاوت شاہ مجھے ٹوکنے اگئے اور اس دن بورڈ کے سامنے مرغا بنانے کے بجائے مجھے کلاس روم کے گیٹ میں مرغا بنا کر وحشیانہ پیٹنے لگے پچواڑہ ہو یا پھر کندھا یا پھر ٹانگیں غرض ہر جگہ ڈنڈے سہے۔ میں ویسے بھی کمزور سا تھا پر اسے ترس نہیں ایا۔ ڈنڈوں کے نشان بہت دنوں تک رہے۔ مجھ سے کئی دنوں تک درد سے کرسی پر بیٹھا تک نہیں جارہا تھا۔ گھر پیدل چلنا بھی محال تھا اوپر سے بستہ کمر سے لگتا تو درد سے چیخ نکلتی مجبورا ہاتھ میں لیکر چل پڑتا۔ گھر اکر روز باتھ روم جاکر برہنہ ہوکر ڈنڈوں کے نشان چیک کرتا جو سرخ سبز و نیلے رنگ کے تھے۔ اس رزیل نے اپنا ایک قول بھی بنایا تھا جو اکثر وہ دہراتا تھا کہ جو استاد شاگرد کے سامنے ہنسا یا شاگرد استاد کے سامنے ہنسا تو استاد سے استادی گئی اور شاگرد سے شاگردی۔ وہ استاد اور شاگر کے درمیاں مسکراہٹ کے تبادلے کو حرامی پن سے تشبیہہ دیتے تھے۔ کوئی دو سال پہلے تلاوت شاہ ایک دن مجھے بنک میں ملے ہمارا امنا سامنا ہوا تو نجانے کیوں میرا ہاتھ سلام کرنے کو بڑھا۔ بعد میں اپنے ہی ہاتھ کو تکتا رہا کہ اب جب میں بڑا ہوگیا ہوں تو نجانے معصوم بچپن کا انتقام کا جذبہ جانے کہاں اڑن چھو ہوگیا ہے۔
ایک اور استاد تھے گل زمان۔ ہم اٹھویں میں پہنچے تو اس کا تبادلہ ہمارے اسکول ہوا۔ وہ ناصح شاندار تھے سائنس کم پڑھاتے پر کلاس کا دورانیہ نصیحتوں میں گزار دیتے اکثر قدیم دور کے اخلاقی قصے و کہانیاں بھی سناتے رہتے۔ غربت میں پلنے والوں کی اکثر مثال دیتے جو پڑھنے کے بعد کامیاب بن چکے تھے۔ وہ کافی شریف انسان تھے کلاس سے باہر کم گو تھے۔ شکل اور لباس سے پورے فقیر لگتے۔ پرانے کپڑے پہنتے اکثر بال پوائنٹ کی سیاہی اس کے جیب میں لیک ہوتی۔ پر ایک دن اسے بھی دورہ پڑا اور وہ بھی مارنے پر اگئے گو کہ مجھے کبھی نہیں مارا مگر ایک دن میرے دوست کو کلاس کے دوران بات کرنے پر وحشیانہ پیٹنے لگے۔ اس کا تکیہ کلام تھا کہ اپ لوگ انٹرنیشنل حرامی ہیں۔ میرے دوست کی برداشت بہت بڑی تھی وہ مار پیٹ کے دوران انٹرنیشنل گالی کا جواب ہاں جی سے دینے لگے اس پر گل زمان مزید غصہ ہوئے انہوں نے اتنے ڈنڈے برسائے کہ ہانپتے ہوئے کلاس سے نکل گئے۔ اس دن سے وہ بھی دل سے اتر گئے۔ بعد میں میرے اس دوست کی ایک حادثے میں ٹانگ کٹ گئی پر وہ نقلی ٹانگ کے ساتھ بھی بائیک چلا لیا کرتے ایک دن نقلی ٹانگ پر بائیک چلاتے جب اسے پھر حادثہ پیش ایا تو اس کی نقلی ٹانگ دور جاگری ایک راہ گیر اسے ٹانگ اٹھا کر لائے وہ ٹانگ فٹ کرکے پھر بائیک پر سوار ہوکر چل دیئے۔ ایسے شاندار کردار میں نے بہت کم دیکھے۔ گل زمان مجھ سے پیار سے پیش اتے شاید وجہ یہی رہی ہو کہ میں انہیں فرنٹ پر بیٹھنے کی وجہ سے انہماک سے سنتا تھا۔ خیر اس مار پیٹ واقعے کے بعد میں ان سے ناراض سا رہنے لگا تھا۔ پر اکثر لائبریری میں ہمارا سامنا ہوتا۔ وہ مجھے دیکھ کر حال احوال ضرور پوچھتے۔ کالج کا دور خوشگوار رہا کوئی مارپیٹ یا ڈانٹ ڈپٹ دیکھنے کو نہیں ملی۔ کچھ سال بعد جب میں بی اے کے پیپر دینے کیلئے امتحانی ہال کیلئے اپنے ہائی اسکول واپس گیا تو اسکول کے گیٹ پر ایک چارٹ لگا دیکھا جس پر درج تھا کہ گل زمان انتقال کرگئے ہیں جنازہ کا وقت دوپہر بارہ بجے درج تھا۔ تاریخ کے مطابق چارٹ تین دن پرانا تھا مجھے گل زمان کے والد کا جنازہ یاد اگیا جب پرنسپل نے کہا تھا کہ سب اسٹوڈنٹس گل زمان کے والد کے جنازے میں شرکت کریں گے۔ زیادہ اسٹوڈنٹس تو گھر کو سیدھے چل بھاگ نکلے۔ مگر میں کچھ دوستوں کے ہمراہ جنازے میں شریک ہوا تھا گل زمان کے والد کا پہلا اور اخری دیدار کیا تو مجھ پر کھلا کہ گل زمان شکل وصورت سے ہو بہو اپنے والد جیسے ہی تھے سفید داڑھی سوکھا سا چہرہ۔ گل زمان انٹکلیچول تھے ہر وقت ان کی انکھوں میں کوئی داستان ہوتی اسکول اسٹاف سے بھی الگ تھلگ رہتے تھے وہ فرصت کا وقت لائبریری میں گزارتے۔ مجھے ان کی موت کا بہت افسوس ہوا اج بھی جب کبھی اس قبرستان سے گزرتا ہوں تو سینکڑوں نامعلوم قبروں میں ان کی نامعلوم قبر کی طرف ہاتھ بلند کردیتا ہوں۔ نجانے اس دن اسے کیا ہوا تھا جیسے اس کے اندر برسوں کا غصہ باہر امڈ ایا تھا میرے دوست کو مارتے سمے میں نے نوٹ کیا اس کی انکھوں میں غصے سے انسو بھی چھلک رہے تھے۔ بہرحال گل زمان کی موت کی خبر جب بھی کسی کلاس فیلو سے ملنے پر شیئر کی تو ہر ایک نے گہرے دکھ کا ضرور اظہار کیا اور انہیں اچھے لفظوں کے ساتھ یاد کیا۔
اب تو اسکولوں میں مارپیٹ قانونی طور سے بند ہے مگر پھر بھی اسکولوں میں مارپیٹ کے واقعات رونما ہوجاتے ہیں جبکہ مدرسوں اور مسجدوں میں مار پیٹ پہلے کی طرح بدستور جاری ہے کیونکہ بچوں کو مار پیٹ کے ساتھ یہ بتایا جاتا ہے کہ مار پیٹ کی جگہ کو جہنم کی اگ کچھ نہیں کہہ سکے گی۔ کیا سادہ تھے ہم بھی۔ کبھی یہ سوال تک نہیں کرسکے کہ پھر ہم جہنمی کیوں ہوں گے اگ نے تو ویسے بھی اثر نہیں کرنا ہوگا۔ خیر میں ڈگری پانے کے دوران بہت کم استادوں سے کچھ سیکھ پایا ہوں جن سے مجھے شکایت نہیں رہی۔ ان کا ذکر پھر کسی دن سہی۔ چونکہ اج سبھی اساتذہ کو یاد کررہے ہیں تو میرے استاد فنون لطیفہ ادب اور سائنس سے وابسطہ لوگ ہی ہیں کبھی روبرو تو کبھی ان کی غائبانہ شاگردی نصیب ہوئی۔ کچھ دنیا میں ہیں اور کچھ نہیں رہے۔ ان سب کی وجہ سے میں نفرتوں کے دائرے سے نکل کر انسانیت کے دائرے میں داخل ہوسکا۔ میرے نزدیک یہی لوگ میرے اصل استاد کہلانے کے حقدار رہیں گے ❤️
صفی سرحدی
Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.