Elmi Aur Fikre Inqilabat. The Theories Which Changed The World. Urdu Blog
علمی و فکری انقلابات
By Farooq Azam Abro
انسان نے زبان، کلچر اور عقل کی بنیاد پر ہمیشہ خود کو دوسری مخلوقات سے بہتر اور برتر گردانا ہے جو بہت ہی دلکش تصور ہے۔ مذاہب نے بھی انسان کی بہت ہی خوش نما تصویر کشی کی ہے جیسے عیسائیت میں ہے کہ خدا نے انسان کو اپنی شبیہ پہ خلق کیا ہے اور اسلام میں بھی آدم کے پتلے میں روح پھونکنے والی بات بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان ازل سے ہی اپنی ساخت اور ہیئت میں ایسا ہی ظہور پذیر ہوا جیسا وہ اب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی برتر حیثیت کی وجہ سے زمین کی بھی حیثیت کائنات میں بہت اہمیت کی حامل رہی ہے یا یوں کہیں کہ زمین ہی کائنات کا مرکز و محور متصور رہتی آئی ہے کیونکہ زمین پر زندگی اور خاص کر انسان کا وجود برپا ہوا۔ یہ کائنات، زمین اور اس پر انسان کی بَرتر حیثیت پہلے والے انسان کی خام خیالی / speculation تھی جس کی جدید عُلوم خاص کر سائنسی، سماجی اور نفسیاتی علوم سے تائید نہیں ہورہی بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ان خوشنما تصورات_ زمین و انسان کو نیچے دیئے گئے بڑے دَھچکے لگے ہیں جو عِلمی و فِکری انقلابات سےکم نہیں:
1. پہلا دَھچکا: جب کیپلر اور گلیلیو نے ثابت کیا کہ زمین کائنات کا مرکز و مَحور نہیں اور نہ ہی سورج اس کے گرد گھومتا ہے بلکہ اس وسیع و عریض کائنات میں زمین کی کوئی حیثیت نہیں یہ سمندر میں ایک چھوٹی سی کَنکری کی مانند ہے اور خود زمین اور دوسرے سیارے سورج کے گرد گھوم رہے ہیں. اس کے علاوہ جدید تحقیق کے مطابق ہمارا سورج خود ہماری کہکشاں کا ایک ادنیٰ سا ستارہ ہے اور کائنات میں اربوں کی تعداد میں کہکشائیں ہیں جو ہماری کہکشاں سے بھی بڑی ہیں. جب اتنی وسیع کائنات میں ہمارے سورج کی ہی کوئی حیثیت نہیں تو ہماری زمین کی کیا حیثیت ہوگی۔ کچھ سائنسدان تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر انسان نے زمین پر ہی پیدا ہونا تھا تو باقی ساری کائنات کی فضول خرچی کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔
2. دوسرا دَھچکا: جب ڈارون نے کہا کہ انسان ازل سے بنا بنایا اشرف المخلوقات نہیں بلکہ ایک ارتقا پذیر جانور ہے جو زمین کی پَستی سے دوسرے حیوانوں کی طرح ارتقا کرتا ہوا آج انسان کی شکل و صورت اختیار کر گیا ہے جس کی تصدیق fossil records اور DNA سے ہوئی ہے. مزید یہ کہ انسان جیسی بیسیوں Homo-species جیسے Homo-habbilus, Homo-neanderthals وغیرہ زندگی کی دوڑ میں اپنی بقا قائم نہ رکھ سکیں اور معدوم ہوگئیں۔ ہم جنہیں Homo-sapiens sapiens کہا جاتا ہے، اپنی بقا کی جنگ احسن طریقے سے لڑکے، حالات سے مطابقت رکھتے یہاں تک پہنچے ہیں۔ مزید یہ کہ ارتقا ہنوز جاری ہے اور انجامِ ارتقا کیا ہوگا، کس سمت میں ہوگا یہ حَتمی طور پر اِس لئے نہیں کہا جاسکتا کیونکہ ایک جاندار اپنے ماحول کے مطابق خود کو ڈھالتا ہے تاکہ وہ زندہ رہ کر اپنی نَسل بڑھائے. آج سے لاکھوں بَرس بعد کیسے حالات ہونگے، جاندار بشمول انسان کیسے ان حالات میں خود کو ڈھالیں گے یا اثر انداز ہونگے، کون سی انواع نیست و نابُود ہوجائیں گی اور کون سی زندہ اور کس ہیّت میں ہونگی یہ تو وقت ہی بتائے گا.
3. تیسرا دَھچکا: جب سماجی ماہرینِ علوم نے کہا کہ انسانی سماج سادہ سے پیچیدہ ہونے کے مراحل طے کرکے یہاں تک پہنچا ہے اور اس کی ارتقا میں طبقاتی چپقلش اور باہمی تعاون نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ Karl Marx کارل مارکس ہی تھا جس نے کہا کہ انسانی سماج ارتقا کرکے آگے بڑھا ہے اور اس کے پیچھے مُحرکات مادی ہیں. یہ سارا مادی وسائل پہ دسترس اور قبضے کی بات ہے جو ہاتھ بدلتے رہتے ہیں. تقدیر محض ایک قِصّہ ہے جو اوپر والے / حُکمران طبقے نے لوگوں کو اپنے حالات پہ خوش رہنے کے لئے گَھڑا ہے تاکہ وہ بغاوت نہ کر سکیں اور اپنے موجودہ حالات پہ خوش رہ سکیں۔ یا دوسرے الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ لوگ خود ہی اپنی تقدیر بناتے ہیں محنت سے، بغاوت سے اور ذرائع پیداوار پہ قابض ہوکے. اس فلسفے کی رو سے تبلیغ، مذہب یا کوئی نظریہ خواہ آسمان سے ہی کیوں نہ اترا ہو، وہ لوگوں کو تھوڑی تسکین تو دے سکتا ہے مگر ان حالات نہیں بدل سکتا۔ تقدیر یا قسمت کے تصور کو ہی لے لیں جو محکوم کو ہمیشہ اپنی محکومی پہ راضی رکھنے کے لئے امرآ نے بنایا۔ مگر مارکس نے بتایا کہ کچھ بھی ازلی و ابدی نہیں ہے انسان اپنی جدوجہد سے حالات اور اپنی تاریخ بدل سکتا ہے۔
4. چوتھا دَھچکا: جب سگمنڈ فرائڈ نے کہا کہ انسان جسے عقل و شعور کی وجہ سے اَشرف المخلوقات مانا جاتا ہے دراصل اس کے شعور پہ جِبلی خصلتیں حاوی ہیں. روز مرہ کی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات زیادہ تر انسان کی جبلی و نفسانی خواہشات کا مظہر ہیں اور عقل تو جیسے ان خواہشات کی لونڈی ہے جو ان کی تسکین و تشفی کے لئے راہ ہموار کرتی ہے. انسانی ذہن ان جِبلی قوتوں، جن کا منبع سیکس ہے، کی آماجگاہ ہے جو فرد کے اندر سے معاشرے میں اپنی رونمائی چاہتی ہیں. ان کے بِلا روک ٹوک باہر آنے سے تہذیب کو خطرہ ہے اور ان کو بے جا دَبانے سے انسانی شخصیت / ذہن کو خطرہ ہے. اس لئے عقل وقتاً فَوقتاً کوئی نہ کوئی راہ نکالتی رہتی ہے جس سے ان جِبلی خواہشات کی تسکین ہوتی رہتی ہے. مزید یہ کہ نئی نفسیاتی تحقیقات ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ ہم اپنے فیصلوں / Judgement میں غلط یا biased ہوتے ہیں اور یہ biases ہمارے لاشعور میں چھپے رہتے ہیں۔
5.پانچواں دھچکا: جب Evol: psychology, Neuroscience اور cognitive science نے تحقیق سے ثابت کیا کہ انسانی ذہن ہمیشہ اپنے ماحول کو اپنے حساب سے ترتیب structure دیتا ہے، واقعات میں کوئی مقصد نہ ہوتے ہوئے بھی مقصد ڈھونڈھ لیتا ہے اور چیزوں میں مخصوص ترتیب patterns دیکھتا ہے جیسے کہ آسمان میں چہرے دیکھنا، دیواروں پر سائے میں سے کسی کی تصویر تلاش کرنا وغیرہ یعنی یہ سب انسانی ذہن کی کرشما سازی ہے جسے ارتقا نے ایسے بنایا ہے. اس حساب سے انسانی ذہن ایک ترتیب ساز، شبیہ نواز اور مقصد ڈھونڈھنے والا حیوان ہے اور اسی لئے وہ ہمیشہ، ہر جگہ اور ہر مظہر میں کوئی نہ کوئی مقصد ڈھونڈھ ہی لیتا ہے جس سے وہ حالات کو سمجھ سکے۔ دراصل تشکیک اور غیریقینیت انسانی ذہن کو خائف رکھتی اور بےچین کرتی ہیں اس لئے انسانی ذہن ہمیشہ فطری مظاہر کو مخصوص تراتیب دیتا ہے اور ان میں مقاصد ڈھونڈھ کر خود کو تسلی و تشفی دیتا ہے۔
We are hard-wired to believe, see purpose in and attribute cause(s) to natural phenomena
اعظم
Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.