Skip to main content

Human evolution in Urdu. Urdu blog about human evolution.

 Human evolution in Urdu. Urdu blog about human evolution.

انسانی نسل کا اچھوتا سفر 

Human evolution

 (انسانی ارتقاء)


✍ جدید انسان کہاں سے آٸے؟

Where did modern humans come from?


ہومو سیپیَنس یعنی انسان زمین کے طول و ارض پہ پائے جاتے ہیں مگر انسانی ارتقاء کے موضوع پر اس سوال پر سب سے ذیادہ بحث ہوتی ہے کہ ہم آخر آئے کہاں سے ہیں؟


اس حوالے سے کئی دلچسب نظریات پیش کیٸے گٸے ہیں جن میں Multi-Regional Model اور 

"Out Of Africa Model" اہم ہیں


ملٹی ریجنل ماڈل 

یہ نظریۂ پیش کرتا ہے کہ ہمارے آباؤ و اجداد قریباً بیس لاکھ سال پہلے اس سیارے میں پھیلے اور ان ابتدائی انسانوں نے اپنے اپنے علاقائی گروہ یا ریجنل گروپس بنائے بعد ازاں انہی گروہوں میں سے جدید انسان ارتقاء پذیر ہوئے


آوٹ آف افریقہ ماڈل

اس وقت سب سے مقبول نظریۂ یہی ہے۔اس کےمطابق جدید انسان افریقہ میں پائے جانے والے ایک واحد گروہ سے گزشتہ دو لاکھ برسوں میں ارتقاء پذیر ہوئے اور پھر وہاں سے ہوتے ہوتے دنیا بھر میں پھیل گئے۔


ان نظریات کی موجوگی کے باوجود جدید انسانوں کی حقیقی ابتداء کا سوال آج بھی بحث طلب ہے۔

___________


✍ انسانی جسم پر ”فر“ کیوں نہیں؟

Why Did Humans Lose Their Fur?


ہمارے پاس اسکا حتمی جواب نہیں ہے کہ انسانی جسم میں چمپینزیز کی طرح پژم یا فر کیوں نہیں ہوتی، البتہ اس کی ممکنہ وجوہات کیلیے کچھ نظریات پیش کیٸےگٸے ہیں،مثال کے طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ انسانی جسم سے فر کا اس دور میں خاتمہ ہو گیا جب اس نے مختصر عرصے کیلیے پانی کی زندگی سے مطابقت پیدا کی، تاہم ناکافی ثبوت کی بناء پر اس نظریۂ کو سائنسی حلقوں میں مقبولیت حاصل نہیں۔


سائنسی حلقوں میں جس نظریۂ کو مقبولیت حاصل ہے اس کےمطابق ہمارے آباؤ واجداد نے جنگلات چھوڑ کر جب سوانا میں رہاٸش اختیار کی تو وہاں کے گرم ماحول میں 'فر' ختم ہوگیا، اور ایسا اسلیے ہوا کہ انسانی جسم اپنا درجہ حرارت کنٹرول میں رکھتے ہوٸے وہاں کی زندگی (آب و ہوا) سے مطابقت اختیار کر سکے۔


اس کے علاوہ بھی اور نظریات موجود ہیں تاہم اس کے حتمی جواب کی جستجو جاری ہے۔

____________


✍ انسانی دماغ اس قدر پیچیدہ کیوں ہے ؟

Why is the human brain so complex?


ترقی یافتہ جانداروں میں انسانی دماغ سب سے بڑا اور پیچیدہ شمار کیا جاتا ہے۔ اس دماغ کی وجہ سے ہمیں اس سیارے میں پائے جانے والے دیگر جانداروں پر ایک طرح سے برتری حاصل ہے۔مگر یہ سوال اپنی جگہ پر اہم ہے کہ انسانی کزن یعنی چمپینزیز کے مقابلے میں ہمارے (انسانی) آباؤ اجداد کا دماغ کیوں کر اتنا ترقی یافتہ ہوگیا؟ 


ایک نظریہ یہ ہے کہ ایک بڑا دماغ جو نئی انفارمیشن کو پروسیس کرنے کی قابلیت رکھے کسی بڑی یا غیر متوقع ماحولیاتی تبدیلی کے موقعے پر کارآمد رہتا ہے۔


دوسرا نظریہ یہ ہے کہ اضافی ذہانت کی موجودگی میں نت نٸے ہتھیار بنا کر ذیادہ موثر طریقے سے شکار کرنا ممکن ہوا۔ یا یہ کہ ترقی یافتہ دماغ کی بنا پر ہمارے اجداد کیلیے آپس میں باہمی تعلق قاٸم کرنا آسان ہوا اور انہیں اپنی بقاء میں بھی مدد ملی۔


بڑا دماغ کے ہونے کہ بہرحال کچھ نقصانات بھی ہیں اور وہ  یہ کہ بڑا دماغ ہمارے آکسیجن سپلاٸی کا قریباً بیس فیصد استعمال کرلیتا ہے اس طرح یہ ہمارے خون کا بھی بیس فیصد صَرف کرتا ہے ایسے دماغ کی وجہ سے دوسرے جانداروں کی برعکس انسانی ماں کیلیے بچے کی پیداٸش کا عمل زیادہ مشکل اور زیادہ تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔


یہ بات ابھی تک درست طور پر سمجھی نہیں جا سکی کہ کس بنا پر انسانی دماغ اس قدر پیچیدہ اور ترقی یافتہ ہے۔


____________


✍ ہمارے قریبی ارتقائی رشتے دار کیوں ختم ہوگٸے؟

Why did the Neanderthals die out? 


خیال کیا جاتا ہے  کہ آج سے تقریبًا تیس ہزار برس پہلے نینڈرتھال، ہوبٹس زمین پر آزادنہ پھرا کرتے تھے مگر آج روٸے زمین پر صرف ہم پاٸے جاتے ہیں کیا وجہ ہے کہ ہمارے دوسرے قریبی جنیاتی رشتے دار صفا ہستی سے مٹ گٸے؟


ایک نظریہ یہ ہے کہ جدید انسانوں نے نینڈرتھال کی رہائش گاہوں پر قبضہ جما لیا جس کی وجہ سے وہ بکھر گٸے اور رفتہ رفتہ ان کا وجود ہی مٹ گیا۔ ہوبٹس غالباً کسی قدرتی آفت کی نذر ہو گٸے کیونکہ وہ ایک چھوٹے سے جزیرے پر رہائش پذیر تھے اور اس بنا پر پہلے ہی غیر محفوظ تھے۔


یہ ہماری نسل کی خوش قسمتی ہی ہوگی جو اپنی بقاء کے قابل ہوسکے، ہوسکتا ہے کسی روز ہم دوسری نسلوں کے مٹ جانے کا حتمیً راز پا سکیں تاہم یہ ابھی تک ایک حل طلب سوال ہے۔

https://amp.theguardian.com/science/2013/jun/02/why-did-neanderthals-die-out


✍ کیا انسانی ارتقاء ابھی بھی جاری ہے؟


ایک طرف کے نظریات یہ خیال پیش کرتے ہیں کہ انسانی ارتقاء سست رو ہوگیا ہے یا تھم گیا ہے۔


دوسری طرف سائنسی حلقوں میں مقبولیت ان نظریات کی ہے جن کی روشنی میں یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ نا صرف انسانی ارتقاء جاری و ساری ہے بلکہ اس میں مزید تیزی آئی ہے۔ ساٸنسدانوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ہزار سالوں میں انسانی ارتقاء کی رفتار میں اس سے پہلے کے لاکھوں سالوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی آئی ہے، اور اس کا تعلق ممکن ہے کہ آبادی کے اضافے سے ہو جسکے نتیجے میں کسی سودمند جینیاتی تبدیلی یا جینیٹک میوٹیشن کے رونما ہونے اور پھیلنے کا امکان پڑا ہے۔

ایسے کئی شواہد ملتے ہیں جو باور کراتے ہیں کہ ہم آج بھی ارتقاٸی مراحل سے گزر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک نئی جین کا سامنے آنا جو بالغ افراد یا Adults میں لیکٹوس کے ہاضمے میں کردار ادا کرتی ہے جو چینی کی قسم ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی دریافت ہوئی ہے کہ ہمارا دماغ گزشتہ تیس ہزار برس میں سکڑ گیا ہے۔ یہ تبدیلیاں ایک طویل عرصے میں رونما ہوٸی ہیں اور امید ہے کہ ہمارے مقابلے میں مستقبل کا انسان ان کی حقیقت کے بارے میں زیادہ بہتر جان سکے گا۔

 

تحریر: Eqbal Ahmed Centre for Public Education 

YouTube Channel  سے اخذ شدہ ہے۔




Comments