Sir Sayyed Ahmad Khan, Jang e Ghaddar And British Imperialists
سر سید نے 1857ء کی جنگ آزادی میں انگریز سے وفاداری کرتے ہوئے قابض افواج کو ناصرف بچایا بلکہ اسلحہ تھام کر پوری رات ان کے گھر کے باہر پہرہ دیا۔ اس وفاداری کے بدلے انگریز حکومت نے جنگ کے بعد سرسید کو ایک ہزار روپے انعام اور 200 روپے ماہوار کی پینشن دو نسلوں تک مقرر کی!
جنگ آزادی کو انہوں نے غدر اور بغاوت کا نام دیا کیونکہ ان کے مطابق یہ غداری تھی۔ انہوں نے لکھا:
جن مسلمانوں نے سرکار کی نمک حرامی اور بد خواہی کی، میں ان کا طرفدار نہیں ہوں، میں ان سے بہت ناراض ہو ں اور ان کو حد سے زیادہ بُرا جانتا ہو ں
[The Loyal Muhammadans of India ]
اسی طرح 28جو لا ئی1859ء کو ہزاروں لوگوں کو جمع کر کے سر سید نے ملکہ برطانیہ کے لیے اجتماعی دعا کی جس میں ان کے حکومت کی تعریف کے ساتھ ساتھ ہندوستان پر اس کے قبضے کو مستحکم اور طول دینے کی دعائیں کی شامل تھی
اسی سال سرسید نے علی گڑ ھ سکول قائم کیا ، آج یوں باور کرایا جاتا ہے جیسے وہ نشاط ثانیہ کا قدم تھا جبکہ یہ سب انگریز حکومت کے ماتحت ہی تھا۔ حکومت کی اجازت سے 1877ء میں اس کو کالج کا درجہ ملا اور اس کا افتتاح بھی 18جنوری 1877ء میں قابض انگریز حاکم لارڈ لٹن سے کرایا گیا تھا۔
علی گڑھ کے لئے نہ صرف سرکار نے خطیر رقم دی بلکہ انگریز اساتذہ بھی مہیا کیے۔انگریز کا مقصد تھا کہ سرسید اردو کے ذریعے انگریزی افکار اور تصورات عام کریں تاکہ مسلمان انگریز کی نظروں سے دنیا کو دیکھیں، ان کی طرح سوچیں اور ان کی طرح عمل کریں۔
سرسید کی ذہنی غلامی اس حد تک تھی کہ انہوں نے اسلام کے بنیادی تصورات بھی بدلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے فرشتوں، جنات، جنت جہنم کے وجود اور انبیاء کے معجزات کا انکار ''تفسیر القرآن '' اور ''خطبات احمدیہ'' میں کیا۔ اس کے بعد سید احمد خان کو کس طرح قوم کا ہیرو کہا جاسکتا ہے؟
Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.